میں… اور… میری مرضی!
11 مارچ 2020 2020-03-11

اَنبیا ، اَولیا… اور انسانی معاشرے پرغور و خوض کرنے والے مصلحین و مفکرین اِسی تگ و دو میں رہے کہ انسان کسی طرح جنگل کی زندگی سے نکل کر ایک مہذب زندگی میں داخل ہو جائے، وہ ایک دوسرے پر ظلم نہ کرے، حق کا ساتھ دے، کمزوروں کے حق میں کھڑا ہو جائے، اس کی زندگی میں طاقت کی بجائے محبت حکمران ہو جائے، وہ ایسے قانون کو قبول کرے جو سب کیلئے یکساں ہو، جس میں کمزور اور طاقور میں فرق روا نہ رکھا جائے۔ ظلم سے انصاف اور پھر انصاف سے عدل کا سفر انسانی تہذیب کے عروج کا سفر ہے، اس کے برعکس اختیار کیا گیا کوئی بھی فکری سفر‘ سفرِ معکوس ہے۔

انسانی عقل کی رسائی صرف ظلم سے انصاف تک ممکن ہے۔ انصاف سے عدل اور پھرعدل سے احسان کا پیغام انسانی ذہن کی استعداد سے باہر ہے۔ عدل ہر چیز کو اس کے اصل مقام پر رکھنے کا نام ہے۔ کس چیز کا کیا مقام ہے، اس کا بنانے والا بہتر جانتا ہے۔ ہم کائنات میں بنی ہوئی چیزوں کے استعمال کنندہ USERS ہیں، خالق نہیں، ہم جوڑ توڑ کر کے ایک نئی چیز بنا لیتے ہیں، لیکن کسی خام میٹریل کے بغیر کوئی چیزتخلیق نہیں سکتے، یعنی ہم کسی حد تک مجازی خالق تو ہو سکتے ہیں، لیکن کسی صورت ’’ بدیع‘‘ نہیں ہو سکتے، بدیع ایسے خالق کو کہتے ہیں جو create کرتا ہے، out of nothing اس لیے کسی شئے کا کیا مقام ہے‘ اس کیلئے اس کے خالق کی طرف رجوع ہی کرنا پڑتا ہے۔ ہم کسی شئے کی ماہیت کی بات نہیں کر رہے، بلکہ اس کے استعمال کی بات ہو رہی ہے۔ انصاف حسابی کتابی عمل ہے، اس کیلئے ذہانت کافی ہوتی ہے۔ عدل کی سطح پر پہنچنے کیلئے دانائی کی ضرورت ہوتی ہے… اور احسان کے درجے تک رسائی کیلئے جسم سے ماورا ایک اور سطح ِ شعور یعنی روح تک پہنچنا ضروری ہے۔ اس لیے انصاف سے عدل اور پھر عدل سے احسان کے درجے تک پہنچنے کیلئے ہمیں انبیا اور پھر ان کے وارثین علمائے ربانئین اور صوفیا سے رابطہ کرنا ہوتا ہے۔

ہاں! اگر انسان زعمِ عقل میں بہت بری طرح گرفتار ہو چکا ہو… اور کسی الہامی کلام و ہدایت کی ضرورت محسوس نہ کرے تو یہ اس کی اپنی مرضی ہے… وہ اپنی "میں" اور پھر اس سے برآمد ہونے والی ہر خواہشِ نفس " میری مرضی " کے نعرے پر چلے گا۔ مساوات اور برابری ظلم کے مقابلے میں اچھی ہے ، لیکن انصاف کے مقابلے میں ایک کمتر موقف ہے، ہر کسی کو ایک روٹی دے دی جائے تو جسے تین روٹیوں کی بھوک ہے‘ اس پر ظلم ہو جائے گا… یعنی ہم مساوات کے نام پر ظلم کا بازار گرم کر سکتے ہیں۔ انصاف بہت اچھی چیز ہے، لیکن عدل کے مقابلے میں یہ بھی ایک نامکمل بات ہے۔ سونے کو پیتل کے بھاؤ نہیں بیچا جا سکتا۔ سب کو ایک لائین میں کھڑا نہیں کیا جا سکتا۔ ایمرجنسی مریض کو پہلے نہ دیکھا جائے تو یہ انصاف اور میرٹ کے نام پر ظلم ہے۔ یہاں عدل کی ضرورت پیش آتی ہے۔ بیمار اور کمزور وجود سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔

مہذب معاشروں میں سینئر سیٹیزن کیلئے الگ قطار اور کاؤنٹرز بنائے جاتے ہیں، اسی طرح لیڈیز کی قطاریں اور کاؤنٹر الگ کر دیے جاتے ہیں تاکہ انہیں زیادہ تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ صنف نازک یا صنف ِ لطیف کا احترام حسِ لطیف رکھنے والے مرد ہی کر سکتے ہیں۔ لیڈیز فرسٹ کا مقولہ کم و بیش ہر معاشرے میں بولا جاتا ہے… یہ ان کی تکریم respect ہے‘ تحقیر نہیں۔ اسلام دینِ فطرت ہے، یہ اسی خالق و مالک کا دیا ہوا نظریۂ حیات ہے جس نے حیات و کائنات تخلیق کی۔ وہ بہتر جانتا ہے ‘کس کیلئے کیا اور کتنا حصہ مختص کیا جائے۔ گھر بھی اک پوری کائنات ہے، جس میں آنے والی نسل پرورش پا رہی ہے۔ اس کائنات میں بھی ذمہ داریوں کی تقسیم کائنات بنانے والے نے خود ہی کر دی ہے۔ نا ن ونفقہ کی ذمہ داری ، یعنی بیوی بچوں کو کھلانے پلانے اور پہنانے کی تمام تر ذمہ داری اُس نے مرد پر ڈال دی، کوئی مرد گھر بیٹھے کھائے گا تو اسے لعن طعن سننا پڑے گی، اس کے برعکس لاکھوں کروڑں خواتین ماشااللہ گھر بیٹھے کھاتی ہیں، کسی میں جرأت میں نہیں کہ انہیں ہڈحرام کہے، کام چور کہے، یا خاندان کا عضو ِ معطل سمجھے۔

صنفی تفریق کو ظلم کیوں سمجھ لیا گیا، اسے تکریم کیوں نہیں سمجھا جاتا۔ یہ صنفی تفریق تو اولمپک گیمز میں بھی روا رکھی جاتی ہے، بلکہ علی الاعلان روا رکھی جاتی ہے، مردوں کی دوڑ الگ ہے ، عورتوں کی الگ، مردوں کے میڈل الگ ہیں ِ خواتین کے الگ۔ یعنی اگر کھیلوں کے میدان میں صنفی تفریق روا رکھی جائے تو …درست اور زندگی کے کھیل میں یہ تفریق ظلم؟ یہ کیسا انصاف ہے؟ عدالت کے میدان میں آدھی گواہی عورت کی تحقیر نہیں‘ بلکہ تحفظ ہے۔ مردوں کو بنانے والا خوب جانتا ہے کہ اکیلی عورت کو ڈرایا دھمکایا جا سکتا ہے۔ وراثت میں بیٹی کا حصہ آدھامقرر کرنے والا جانتا ہے کہ اس نے عورت کے دو گھر بنائے ہیں، ایک میکہ اور ایک سسرال… اس نے سسرال میں جا کر بھی بطور ماں اور بیوی کے وراثت میں اپنا حصہ الگ وصول کرنا ہے۔ صرف کند ذہن اور مغرور صفت لوگ ہی اللہ کے دین میں حکمتوں کا انکار کر سکتے ہیں۔ پابندیاں ،حدوو اور قیود… تو ماننے والوں کی سردردی ہے، نہ ماننے والے تو اپنی مرضی کے مالک ہیں۔

آمدم برسر مطلب، جنگل سے مہذب معاشرے آباد کرنے کا سفر اُس وقت شروع ہوا جب انسان نے اپنی مرضی کو قربان کرنے کا ہنر سیکھ لیا۔ دوسروں کے حق کا خیال اور اپنے فرائض کا احساس ایک مہذب معاشرے کی نشانی ہے۔ حقوق و فرائض کی تقسیم میں " میری مرضی " کا نعرہ ایک نری تخریب کاری ہے۔ یہ خود غرضی اور بے حسی کی ایک انتہائی شکل ہے۔ اپنی مرضی کی قربانی دینے سے گھر اور پھر معاشرے تشکیل دیے جاتے ہیں۔ مائیں قربانی نہ دیں ‘ تو گھر آباد نہ ہو سکے ‘ بچوں کی پرورش نہ ہو سکے۔ یہاں ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر ہم اپنے اپنے فرائض پوری دیانتداری سے ادا کرنے لگیں تو کسی کو حق کے لیے باہر نہ نکلنا پڑے۔ ایک عورت عدالت کا دروازہ تب کھٹکھٹاتی ہے ‘ جب اسے گھر میں انصاف بھی

نہیں ملتا، چہ جائکہ اسے عدل اور احسان ملنا چاہیے تھا۔ حقوق کے باب میں مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ لکھتے ہیں " ایک کامیاب معاشرہ وہی ہے کہ چپکے سے فرائض ادا ہوتے رہیں اور چپکے سے ہی حقوق ادا ہوتے رہیں۔ جس دور میں انسان کو حقوق کے حصول کے لیے جہاد کرنا پڑے ‘ اُسے جبر کا دور کہتے ہیں اور اگر حقوق کے حصول کیلئے صرف دُعا کا سہارا ہی باقی رہ جائے تو اُسے ظلم کا زمانہ کہتے ہیں، اور وہ زمانہ جس میں کچھ لوگ حق سے محروم ہوں اور کچھ حق سے زیادہ حاصل کریں‘ اُسے افراتفری کا زمانہ کہتے ہیں۔ جہاں ہر شے، ہر جنس ، ایک ہی دام میں فروخت ہونے لگے ‘ اسے اندھیر نگری کہتے ہیں" اب سوال یہ درپیش ہے کہ مساوات اور برابری کے نام پر ہم کسی اندھیر نگری کی طرف جا رہے۔ اندھیر ظلم ہے… ظلم اندھیرا ہے۔ اندھیرے سے روشنی کی طرف سفر انسان کی پہچان ہے۔ ہم یہ پہچان کھو رہے ہیں یا کسی پہچان کے سفر پر ہیں؟

روشنی کی انتہا نور ہے… نور ‘ نورِ معرفت ہے، اور ظلمت ‘عدم معرفت… اور یہ نورِ معرفت درحقیقت معرفت ِ انسانِ کامل ؐ ہے … اور یہ معرفت اتباعِ کردارِ مصطفوی ؐسے ممکن ہوتی ہے۔ معرفتِ نورِ محمدیؐ کی طرف سفر کرنے کیلئے ہمیں اپنی مرضی سے نجات حاصل کرنا ہوتی ہے… اپنی مرضی سے اُس کی رضا کا سفر ہی بندگی ہے… زندگی ہے …اورحاصلِ زندگی ہے۔ اپنی مرضی سے نکل کر اپنے رب کی رضا میں داخل ہونے میں جو لوگ کامیاب ہو گئے ‘ وہی فلاح یافتہ ہیں… بلکہ انعام یافتہ ہیں!!


ای پیپر