اگرایجنسیوں سے تعلقات کو پبلک کرنے کا شیڈول بنالیا جائے!
11 مارچ 2020 2020-03-11

دوسری جنگ عظیم کے بعد سرد جنگ کا آغاز ہوا۔ یہ اپنی نوعیت کی انوکھی جنگ تھی جس میں فوجیں آمنے سامنے نہیں تھیں بلکہ اس جنگ میں لڑنے کے لیے منتخب افراد پہلے چڑیلوں اور بھوتوں کی عادات سیکھتے تھے پھر انسانی روپ دھار کر عام انسانوں میں گھل مل جاتے تھے۔ اس جنگ کی خصوصیت ہوتی تھی کہ ٹارگٹ مخالفین کی فوجیں نہیں بلکہ اکثر غیر فوجی اور عام انسان ہوتے تھے۔ جن کا تعلق بیشتر اوقات اپنی ہی سوسائٹی سے ہوتا تھا۔سرد جنگ کی نظر نہ آنے والی ان فوجوںکو منظم کرنے کے لیے ادارے بنائے گئے جو سرد جنگ کے خاتمے کے بعد بھی قائم دائم ہیں۔ انہیںخفیہ ادارے یا ایجنسیاں کہا جاتا ہے۔ ایجنسیوں میں کام کرنے والوں کو تربیت دی جاتی ہے کہ ان کا کام صرف اورصرف دیا گیا ٹارگٹ حاصل کرنا ہے اور انھیں تربیت کے دوران یقین دلایا جاتا ہے کہ جو ٹارگٹ انھیں دیا جائے گا وہ انتہائی قومی مفاد میں ہوگا۔ ایجنسیاں اپنے مشن مکمل کرنے کے بعد نہ صرف نتائج کی ذمہ دار نہیں ہوتیںبلکہ ان کے ایکشن کا کسی کو باقاعدہ ذمہ دار بھی نہیں ٹھہرایا جاسکتااور معاملہ کنفیوژن کا شکار ہوجاتا ہے۔ عوام غیر یقینی کے ساتھ بحث وتکرار میں الجھتے جاتے ہیں۔ یہ بات خفیہ منصوبہ بنانے والوں کے لیے بونس کا کام کرتی ہے۔ اس بونس کے لیے میڈیا کو بہترین ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ چنگاری جنگل کی آگ بن جاتی ہے لیکن جب خفیہ منصوبہ چلانے والے بگ باس اس ایشو کو میڈیا سے لپیٹ لیتے ہیں تو کچھ عرصے بعد عوام ان ایشوز کو بالکل بھول چکے ہوتے ہیں۔ ان اداروں کے رازوں کا راز کوئی نہیں جانتا۔ان میں کام کرنے والے خود بھی اس سے ناواقف ہوتے ہیں۔ بعض اوقات قومی مفاد میں مکمل کیے جانے والے مشن سے کوئی دوسرا فائدہ اٹھا رہا ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں فساد

اور افراتفری پھیلانا، قابل استعمال لوگوں میں روپیہ پیسہ تقسیم کرنا، قتل وغارت یا حادثات کروانا بہت معمولی باتیں ہوتی ہیں اور کئی مرتبہ ان واقعات کا شکار ہونے والے عام شہری نہیںبلکہ انتہائی اہم لوگ بھی ہوتے ہیں۔ مثلاً جیسے ہمارے ملک میں لیاقت علی خان کے قتل اور ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بارے میں بظاہر آلہ کار بننے والے افراد کو ہم جانتے ہیں۔ یعنی کس نے گولی چلائی؟ یا کیسے عدالتی مقدمے کے ذریعے پھانسی کا حکم دیا گیا؟ جبکہ ضیاء الحق اور بے نظیر کی حادثاتی اموات کے بارے میں ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ اس کے لیے آلہ کار کون کون بنے؟ یعنی ضیاء الحق کا طیارہ کیسے تباہ ہوا؟ یا بے نظیر کو کس نے گولی ماری؟ یہ بات کوئی بھی دستاویزی ثبوت سے نہیں کہہ سکتا کہ قتل کے یہ منصوبے کہاں اور کیوں بنے اور ان سے کن کن افراد اور ملکوں کو فائدہ ہوا۔ بس یہ کہیے کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ یہ صورتحال خفیہ منصوبہ بنانے والوں کی دہری فتح ہوتی ہے۔ ان اداروںسے ہمارا ملک ہی نہیں بلکہ اپنی اپنی اہمیت کے اعتبار سے پوری دنیا متاثر ہے۔ تاہم متاثر ہونے والے ملکوں کی درجہ بندی کی جاسکتی ہے کیونکہ سرد جنگ کے دوران میدان جنگ پوری دنیا تھی لیکن سوویت یونین کے ختم ہوجانے کے بعد میدان کار چند ملک رہ گئے تھے جن میں افغانستان اور پاکستان کا نام فہرست میں اوپر تھا۔ یہ وہی دونوں ملک تھے جنہوں نے بین الاقوامی ایجنسیوں کے کہنے پر سوویت یونین کو گرایا۔ جیساکہ ان ایجنسیوں کی فطری عادات کااُوپر ذکر کیا گیاہے کہ یہ اپنا کام بڑی سفاکی سے کرتی ہیں اور آپریشن میں مدد دینے والوں کو اُن کے حال پر چھوڑ کر بڑی طوطا چشمی سے چلی جاتی ہیں۔ ایسا ہی افغانستان اور پاکستان کے ساتھ ہوا جس کے اثرات اب تک موجود ہیں۔ اُس وقت بین الاقوامی ایجنسیوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے پاکستانی سیاست میں بھی طرح طرح کے پراجیکٹ شروع کیے۔ جو اَب کبھی مخالفوں کو نیچا دکھانے کے لیے یا کبھی انکشافات کی صورت میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ جیسا کہ بریگیڈئر (ر) امتیاز نے اپنی پرانی کارستانیاں بتاتے ہوئے کیا۔ ایک لمبا عرصہ چپ رہنے کے بعد مئی 2009ء میں بریگیڈئر (ر) امتیاز پاکستانی ایٹمی دھماکوں کی سالگرہ کے موقع پر اُس وقت بولے جب انھوں نے 80ء کی دہائی میں پاکستانی نیوکلیئر پروگرام کو نقصان پہنچانے والے ایک نوجوان سائنسدان کو اُس کی معشوقہ کے ذریعے پکڑنے کی داستان سنائی۔ اس کے بعد وہ دوبارہ نمودار ہوئے اور بتایا کہ انھوں نے سیاست دانوں میں کس طرح پیسے تقسیم کیے۔ ان کا یہ بیان ان ارادوں کے بعد سامنے آیا جس میں مسلم لیگ ن نے پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلانے کی ضد کی تھی۔ نواز شریف کو ردعمل سے ڈرانے کے لیے شاید بریگیڈئر (ر) امتیا زکو استعمال کیا گیا مگر بدنامی ایجنسیوں کے حصے میں آئی۔ ظاہر کی جانے والی یہ کاروائیاں 80ء کی دہائی کے اُس وقت کی تھیں جب بین الاقوامی ایجنسیاں جہاد ِ افغانستان کو کنٹرول کر رہی تھیں اور ہماری ایجنسیاں پاکستانی سیاست میں عمل دخل رکھتی تھیں۔ خبر لیک ہوجانے کے باعث اپنی بدنامی سے یقینا ان اداروں میں فکر اور غصے کی لہر آتی ہوگی۔ پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ایجنسیوں میں غصے کی لہر آئی تو اس کا زیادہ نقصان حکومت کو ہی ہوا۔ اگر ایجنسیوں کی خفیہ کاروائیوں کے انکشافات کا مقصد معاشرے میں سیاسی اصلاح لانا ہوتا ہے تو اس سلسلے میں تجویز ہے کہ برطانیہ امریکہ یا دیگر بعض ممالک کی طرح یہاں بھی ایک شیڈول بنا لیا جائے کہ ایک خاص مدت کے بعد ہمارے خفیہ ادارے قومی سلامتی کے امور کو چھوڑ کر سیاست دانوں، صحافیوں، ادیبوں اور دانشوروں سے لیے گئے کاموں اور دئیے گئے پیسوں کی تفصیل سرکاری طور پر جاری کردیں۔ اس کایہ فائدہ ہوگاکہ گھسے پٹے انداز میں ایجنسیوں کی کاروائی کو سستی شہرت کے لیے سیاسی شوشہ نہیںبنایا جاسکے گا۔


ای پیپر