پولیس مدعی سے پیسے کیوں مانگتی ہے ؟
11 مارچ 2020 2020-03-11

پولیس ریفارمز کے حوالے سے کئی منصوبے بنے اور ٹوٹ گئے ، بہت سی تجاویز پر عمل درآمد ہوا اور بہت سی چیزیں کلرک بادشاہ کے فائل ورک تک محدود رہیں لیکن اس پر سبھی متفق ہیں کہ جب تک تھانوں کے مالی معاملات حل نہیں کئے جائیں گے تب تک عوام کو ریلیف کے نام پر تکلیف اٹھانی پڑے گی ۔ پنجاب میں پولیس کلچر کی تبدیلی کے حوالے سے مجھ سمیت کئی لوگوں کو خاص طور پر ان پڑھے لکھے نوجوانوں سے بہت سی امیدیں ہیں جو 2014 کے بعد بھرتی ہوئے ۔ یہ نوجوان اعلی تعلیم یافتہ ہیں اور ان میں سے کچھ ایم فل ڈگری کے حامل ہیں اور پی ایچ ڈی کی جانب اپنا تعلیمی سفر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ان میں انجینئر اور سافٹ ویئر کے شعبے میں بھی تعلیم حاصل کر چکے ہیں ۔اعلی تعلیم کے ساتھ ساتھ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف فرض کی ادائیگی کے دوران بھی انہوں نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے اور انہی میں سے کچھ سب انسپکٹرز جام شہادت نوش کر چکے ہیں اور کچھ ڈاکوئوں کی گولیوں سے زخمی ہوئے ۔ میری ان میں سے کئی ایک سے پولیس ریفارمز اور تھانہ کلچر کی تبدیلی کے حوالے سے گفتگو رہی ہے ۔ مجھے اچھا لگا کہ اعلی تعلیم یافتہ یہ نوجوان نہ صرف تھانہ کلچر کی تبدیلی کے لئے متحرک ہیں بلکہ کسی قسم کا ناجائز کام نہ کرنے کے اصولوں پر بھی اس طرح ڈٹے ہوئے ہیں کہ بعض اوقات کسی اہم شخصیت کی جانب سے دبائو ڈالنے یا پولیس وردی کی توہین پران بااثر شخصیات کے خلاف بھی رپورٹ درج کر چکے ہیں ۔ یقینا اپنے اصل مقصد سے جڑے رہنے والے یہ نوجوان پولیس کلچر میں تبدیلی کے لئے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح پرانے اور تجربہ کار تفتیشی افسران سے بھی پولیس ریفارمز خصوصا تھانہ کلچر کی تبدیلی پر نشستیں رہی ہیں ۔ مجھے ان نشستوں میںایک بات مشترکہ نظر آئی کہ پرانے اور تجربہ کار تفتیشی افسران سے لے کر نوجوان اور قدرے نئے تفتیشی افسران سمیت سبھی اس بات پر متفق تھے کہ تھانہ میں فنڈز کی کمی کی وجہ سے رشوت نہ لینے کے باوجود ان پر کرپٹ ہونے کا ٹیگ لگ جاتا ہے ۔ ایسی ہی ایک نشست میں ایک نوجوان سب انسپکٹر نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ میری چند ہزار تنخواہ ہے لیکن مجھے تفتیش کے لئے جو بجٹ ملتا ہے وہ ایک ہزار روپے بھی نہیں ہے ۔ مجھے بتایا جائے کہ اگر کسی تفتیش کے لئے مجھے دوسرے شہر جانا پڑے یا پھر اپنے ہی شہر میں مختلف جگہ چھاپے مارنے

ہوں ،کسی گرفتار ملزم کو نشاندہی کے لئے ساتھ رکھنا ہو یا پھر اپنی ٹیم کو ساتھ لیجانے کے لئے گاڑی کا انتظام کرنا پڑے تو میں گاڑی کے پیٹرول سے لے کر وہاں ملزم کو گرفتار کرکے واپس لانے یا عدالتوں میں پیش کرنے تک کے سارے مراحل کے اخراجات کیسے ادا کروں ؟ اس نے صاف کہا کہ میں کسی سے رشوت نہیں لیتا اور نہ کسی کا دبائو برداشت کرتا ہوں لیکن تفتیش کے تمام تر اخراجات کے لئے مدعی کو کہتا ہوں کہ وہ اخراجات ادا کرے کیونکہ میں اپنی پچیس تیس ہزار کی تنخواہ سے یہ اخراجات ادا نہیں کر سکتا۔ اس کا کہنا تھا کہ اگر میں اپنی ذات کے لئے کسی سے ایک روپیہ بھی لوں تووہ حرام ہے لیکن اگر فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے کیس کے اخراجات مدعی کو ادا کرنے کے لئے کہوں تو وہ میری مجبوری ہے ۔ ایک اورپرانے تفتیشی آفیسر نے بھی وجوہات بتاتے ہوئے کہا کہ اکثر تفتیش کے مراحل میں تاخیر کی ایک بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ اس دوران ہونے والے اخراجات کے لئے رقم نہیں ملتی۔ یہ ہمارے تھانوں کا اوپن سیکریٹ ہے کہ تھانوں میں اکثر کام صرف فنڈز کی عدم موجودگی کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوتے ہیں ۔ تفتیشی افسران چاہتے ہیں کہ انہیں کیس کے اخراجات حکومت ادا کرے تاکہ وہ محنت اور فرض شناسی کے باوجود مدعی کی نظر میں برے نہ بنیں ۔تفتیش کے نظام کی اس بڑی خرابی کے ساتھ ساتھ آپریشنز کے حوالے سے بھی یہی بات سا منے آئی کہ اکثر تھانوں میں جو گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں وہ اس قدر خستہ حال اور پرانی ہیں کہ مسلسل خرابی کا شکار رہتی ہیں ۔ محکمہ پولیس گاڑیوں کی کمی کا بھی شکار ہے جس کی وجہ سے مسائل بڑھتے ہیں ۔ اب تک پولیس ریفارمز یا تھانہ کلچر کی تبدیلی کے حوالے سے جتنے بھی اقدامات کئے گئے ان میں اس پہلو کو نظر انداز کیا گیا کہ اگر پولیس کے پاس تفتیش کے لئے بجٹ ہی نہیں ہو گا تو پھر شفافیت کیسے آئیگی ؟ اب حکومت نے اس جانب توجہ دی ہے اور اگلے روز وزیر قانون راجہ بشارت نے اپنی پریس کانفرنس میں بتایا کہ پہلے پنجاب پولیس کے تفتیشی کو قتل کے مقدمے کی تفتیش کے لئے 525 روپے دیئے جاتے تھے جسے بڑھا کر 30 ہزار روپے کیا جا رہا ہے ۔ یقینا اس سے تفتیش کے دوران ہونے والے گھپلے بھی ختم ہوں گے اور مدعی کو بھی اخراجات ادا کرنے سے نجات مل جائے گی ۔ یہ خبر ان تفتیشی افسران کے لئے حبس میں بہار کے جھونکے کی مانند ہے جو ایمانداری سے فرائض بھی سر انجام دیتے ہیںلیکن فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے تفتیش کے اخراجات اپنی جیب سے ادا نہیں کر سکتے تھے ۔ اسی طرح تھانوں میں مدعی سے پیسے مانگنے والا کلچر بھی ختم ہو گا کیونکہ اب وہی رقم حکومت ادا کرے گی۔ میں اس سے قبل بھی متعدد بار لکھ چکا ہوں کہ جب تک تھانوں کے مسائل حل نہیں ہوں گے تب تک لوگوں کو بہتر پولیس میسر نہیں آ سکے گی ۔ دوسری جانب پٹرولنگ اور آپریشنل پولیس کو نئی گاڑیاں بھی دی جا رہی ہیں ۔ یہ بھی بہت ضروری تھا جس کے بعد کرائم میں کمی آئے گی ۔ یہاں یہ بات بھی بہت ضروری ہے کہ ان گاڑیوں کے ساتھ ساتھ حکومت خاص طور پر آپریشنز اور پٹرولنگ کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیوں کے پٹرول کا بجٹ بھی مزید بڑھائے اور قانون کے مطابق ان کی مدت مکمل ہونے کے بعد نئی گاڑیوں کو بھی شامل کرتی رہے تاکہ حالات بہتری کی جانب بڑھتے رہیں ۔ یہاں موجودہ آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کو بھی اس کا کریڈیٹ جاتا ہے کہ وہ بطور پولیس سربراہ حکومت کو اس صورت حال سے آگاہ کرتے رہے اور انہوں نے تھانے کے اصل مسائل کی جانب توجہ مبذول کروانے میں اہم کردار ادا کیا ۔ یہ آئی جی اس حوالے سے بھی شہرت کے حامل ہیں کہ ایک طرف اپنی فورس کی مانیٹرنگ پر توجہ دیتے ہوئے چیک اینڈ بیلنس کا نظام مزید سخت کر چکے ہیں تو دوسری طرف پولیس فورس کے حقیقی مسائل کو حل کرنے کے لئے بھی متحرک کردار ادا کر رہے ہیں ۔ موجودہ صورت حال میں کہا جا سکتا ہے کہ آئی جی پنجاب پولیس خصوصا تھانہ کلچرکے وہ مسائل ختم کروا رہے ہیں جن کی وجہ سے ایماندار پولیس افسران و اہلکار بھی مظلوم سے پیسے لینے پر مجبور تھے ۔ اگر حکومت حقیقی معنوں میں تبدیلی کی خواہش مند ہے تویقینا تھانہ کلچر کی تبدیلی کے اس بڑے فیصلے کو نشان منزل سمجھ کر اس سفر کا اختتام نہیں کرے گی بلکہ اس سلسلے میں مزید اقدامات بھی کیے جائیں گے ۔ پولیس اصلاحات سے ہمارے معاشرے کے متعدد مسائل حل ہو جائیں گے لیکن اس سے قبل پولیس کے مسائل خصوصا بجٹ کے مسائل حل کرنا بہت ضروری ہیں تاکہ جب کوئی مظلوم پولیس اسٹیشن جائے تو وہاں موجود تفتیشی افسران کو اس سے کیس کے اخراجات کی ادائیگی کا نہ کہنا پڑے ۔یقینا یہی حقیقی تبدیلی ہے جس سے عام شہری کوپولیس اسٹیشنز میں ریلیف ملے گا ۔


ای پیپر