ملاعمر افغانستان کے، اور محمد علی جناحؒ پاکستان کے قائداعظم“
11 مارچ 2020 2020-03-11

مجھے تو یوں لگتا ہے، کہ افغانستان پر چڑھ دوڑنے سے پہلے امریکہ کے صدور نے افغانستان کی تاریخ پہ غور کرنے کی عقل مندی نہیں کی، اور اندھا دھند سوچے سمجھے بغیر امریکی فوج اسلامی ملک میں اقوام متحدہ کے منشور کی صریحاً خلاف ورزی کرتے ہوئے داخل کردی اور یہ خیال نہیں کیا، کہ افغانستان پہ آج تک کوئی قابض نہیں ہوسکا، مگر افغانستان سے نکل کر بے نام اشخاص اپنی تلواروں کو بے نیام کرکے دوسرے ممالک پہ قابض ہوگئے ، مثلاً ظہیرالدین بابر بادشاہ، اور امیر تیمور وغیرہ وغیرہ۔ افغانوں کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہوئے حضرت علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں :

رہے گا توہی جہاں میں یگانہ ویکتا

اُتر گیا جو تیرے دل میں لا شریک لہ

ان کے بقول افغان محض جنگجوہی نہیں روحانیت، علمیت، راہ سلوک کے بھی ایسے مسافر ہیں، کہ وہ پاپیادہ، قدم بہ قدم چل کے اللہ سبحانہ وتعالیٰ اور اس کے محبوب کے ارشادات واحکامات انمول کی تبلیغ کے لیے، اور حصول تعلیم کے لیے بغداد سے برصغیر ہند تک پہنچ کر کروڑوں کافروں کو مسلمان بنانے کا موجب بن گئے۔

حدیث شریف میں مروی ہے، کہ جس شخص نے کسی ایک کو بھی مسلمان بنالیا، تو اس پہ جنت واجب ہوگئی، حضرت عثمان علی ہجویریؒ وہ شخصیت ہیں کہ جنہوں نے افغانستان سے ہندوستان آکر لاہور کو بالآخر اپنا مستقل مسکن بنالیا تھا، اور درس وتدریس میں بتدریج بڑھتے بڑھتے مستقل میں ایک مسلمان ملک بنوانے میں کامیاب ہوکر اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے آگے سرخروہوگئے۔ افغانستان کی لمبی کہانی ہے، جس کو ایک دفعہ کی تحریر میں سمویا نہیں جاسکتا، تاہم شاہ ظاہرشاہ کے دور ”رنگ برنگ“ میں کابل کے بازاروں میں سکرٹ پہنا جاتا تھا، ہندوستان وپاکستان سے بلکہ دنیا بھر سے سیاح کابل میں منہ پہ کالک لگانے کے لیے، اور پاکستان کے مسلمان ہندوستانی فلمیں دیکھنے کابل کی شاہراہوں پہ قائم سینما گھروں میں پہنچ جاتے تھے جبکہ شاہ ظاہر شاہ، بادشاہ افغانستان سال میں ایک دفعہ جشن تاجپوشی پہ ورنہ تہوار پہ، گلوکاراﺅں کو دعوت دادوسخن دیتے رہتے تھے، مگر اس کے باوجود افغانستان کے باسیوں کی اکثریت قدامت پسندی کی راہ پہ سختی سے گامزن تھی، اور اسلامی روایات پہ اُنہیں فخرومسرت کا سختی سے احساس تھا، مگر جب امریکہ اپنے بنائے ہوئے دنیا کے جدیدترین میزائلوں، راکٹوںکو طیاروں سے کارپٹ جنگ کرکے شہروں کو بلکہ ہسپتالوں، اور بارات سمیت معصوم باراتیوں کو موت کے منہ میں دھکیلناشروع ہوگیا، تو پھر سوئی ہوئی غیرت مسلم جاگ اٹھی، اور وہ یہ سوچنے پہ مجبور ہوگئے کہ بقول شاعر نیر

شہر کی ویرانیاں

کچھ تو ہے، ان کا سبب

اور پھر انہوں نے تہیہ کرلیا کہ غیر سے مانگو نہ کچھ

روک لو دست طلب

بن کہے دامن بھرے

وہ میرا رحمن رب

اور پھر انہوں نے دنیا کی سب سے بڑی واحد طاقت کے جدید ترین اسلحے کا مقابلہ ” درے “ کی بنی دقیانوسی بندوقوں سے کرنا شروع کردیا، اور ان کو یہ حوصلہ اور یہ جذبہ جہاد فلسطینیوں کو دیکھ کر ہوا، جو اسرائیل اور امریکی اسلحہ کا مقابلہ غلیلوں اور پتھروں سے کررہے ہیں، اور یہی کنکریاں ان کے لیے ”اصحاب فیل“ کی وہ کنکریاں ثابت ہو جاتی ہیں، جنہوں نے کافروں کے ہاتھیوں کو سرپٹ دُم دبا کے بھاگنے پہ مجبور کردیا تھا، اور رسول خدا محمد کے دادا حضرت عبدالمطلب، کے خدا پہ توکل ویقین پہ قربان ہو جانے کو دل کرتا ہے، جنہوں نے کہا تھا، کہ مجھے سیدھا سا جواب دو، کہ میری چیزیں کہاں ہیں، جہاں تک ابراہہ تمہاری دھمکی کا تعلق ہے، کہ میں خدا کے گھر پہ قبضہ کرلوں گا، اور حملہ کردوں گا، وہ خدا جانے اور خدا کا گھر جانے، اور پھر خدا نے اپنے گھر کی حفاظت کرکے دکھا دی، قارئین ظاہر شاہ افغانستان کو ببرک کارمل نے تخت افغان چھوڑنے پر مجبور کردیا، اور پھر یہ سلسلہ چل کر ملا عمر تک آکرتھوڑی دیر کے لیے رک گیا، اور یہی وقت تھا، امریکیوں کو پسپائی، اور ہزیمت کے خلفشار، اور ندامت کے ساتھ یوٹرن لینے پہ اور اب افغانستان پر اپنی ”دکھ بھری“ کہانی کے ہیرو کو امن کا نوبل پرائز دینے کا بھی عندیہ مل رہا ہے ، اگر ملالہ یوسف زئی کو دنیا بھر کے ایوارڈ امریکہ دے اور دلواسکتا ہے، چنائے کی ہرفلم کو ایوارڈ دے سکتا ہے، مگر ہرمذہب اور ہرمسلک کے تعصبات سے بالاتر ہوکر انسانیت کے علمدار ایدھی امین جو مرتے دم تک ایک ہی کمرے میں مکین رہے، مگر کروڑوں لوگوں کو انہوں نے آسانیاں دیں، اور ساری عمر ایک جوڑے ملیشیا کے کپڑوں میں ملبوس رہے ، میں حیران ہوں، کہ ہندوستان کی مدرٹریسا کو امریکہ ایوارڈ دے سکتا ہے، مگر ایدھی امین صاحب کے بارے میں اس کے منہ میں گھنگیاں پڑ جاتی ہیں، افغانستان کے جب ملا عمر، امیر یعنی حکمران بنے تو امریکہ کے لیے وہ پیغام مرگ تھا کہ انہوں نے یعنی طالبان حقیقی نے پہلے تو روس کو افغانستان سے پسپائی پہ مجبور کردیا، بلکہ جنرل ضیاءالحق مرحوم کی کامیاب جنگی حکمت عملی کی بدولت روس کو حصوں بخروں میں تقسیم کردیا، اور پھر اب افغانستان نے اسے پاکستانی اداروں کی راہ نمائی کی بنا پر ویت نام کے بعد افغانستان سے بھی بوریا بستر گول کرنے پر مجبور کردیا، قارئین

اگر ہو اذن گویائی

سناﺅں حال دل میں بھی

ان شاءاللہ، اگلے کالم میں، میں افغانستان کے ملاعمر ، اور پاکستان کے بارے میں کچھ صحافتی ، سیاست پہ روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا کہ امریکہ کے امن معاہدے کا شوشہ کیوں چھوڑا گیا۔ (جاری ہے)


ای پیپر