چلتی ساعتوں کا لمحہ فکریہ
11 مارچ 2019 2019-03-11

حکومت کو اب مودی بیچنا بند کر دینا چاہیے کیونکہ مودی اپنے ہی ملک میں بے توقیر ہو چکا ہے۔ انڈیا میں جاتے ہوئے وزیراعظم کی بات تو اس کی بیوی نہیں مانتی فوج کیا مانے گی۔وطن عزیز کی حفاظت کے لیے پاک فوج نام ہی کافی ہے۔

جبکہ عوام بھی افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ مودی کی ڈرامہ بازی میں پاک فوج نے دنیا کی طاقتور ترین فوج کا کردار ادا کیا اس سارے منظر نامے میں ذاتی طور پر مجھے میجر جنرل آصف غفور ڈی جی آئی ایس پی آر کا کردار، گفتار انداز، اطمینان، الفاظ اور بریفنگز میں بھارت اور دنیا کو دیے گئے پیغامات نے بہت متاثر کیا۔ اس سے پہلے میں نے پاکستان تو کیا دنیا کی کسی آرمی کا ترجمان ایسا نہیں دیکھا۔

حکومتی طریق کار اور کارکردگی پہلے کبھی ایسی نہیں دیکھی۔ پورا ملک ہی اپوزیشن بنا ہوا ہے اگلے روز بلاول بھٹو زرداری نئی نسل کا سیاست دان ہاتھ میں اپنی تقریر کے نوٹ پیپر پر رکھنے کی بجائے موبائل سے تقریر کے نوٹ دیکھ کر اسمبلی فلور پر بات کر رہے تھے۔

تقریر میں کوئی ایسی بات نہ تھی مگر اسد عمر موجودہ حکومت کے الہ دین کے چراغ نے جواب میں عجیب بے تکی بات کر دی کہ بلاول اپنے آپ کو زرداری کیوں نہیں کہتے یا لکھتے بھٹو کیوں لکھتے ہیں۔ اس غیر معیاری بات سے میں تو خوف زدہ ہو گیا کہ کس ذہنیت کے حامل لوگوں کو اتنے اعلیٰ عہدوں پر تعینات کر دیا گیا ہے۔ دوسری جانب فواد چوہدری کے لب ولہجے میں نعیم الحق کی وجہ سے ٹھنڈک اور فیاض الحسن چوہان کے فارغ الحسن چوہان ہونے کے بعد جناب عمران خان ’’وزیراعظم‘‘ کو پرانا لب و لہجہ اپنانا پڑ گیا اور وہ بھی بلاول کی انگریزی میں تقریر کو موضوع بنا بیٹھے اور یو ٹرن جس پر شرمندگی کا اظہار کرنا چاہیے تھا اپنا پولیٹکل سلوگن اور ایجنڈا کے طور پر پیش کر دیا اور ذوالفقار علی بھٹو شہید اور مادر جمہوریت محترمہ نصرت بھٹو کا نواسہ، میر مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو شہید کا بھانجا، باغی جاوید ہاشمی کے بقول مرد حر کے مخالفین کے بقول مرد آہن جس کے امیدوار کو جناب عمران خان چیئر مین سینیٹ بنا چکے، آصف علی زرداری کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری کو جدو جہد کا کہہ رہے ہیں یہ چندہ، انگلی ، چانس اور یو ٹرن کو جدو جہد سمجھتے ہیں۔ بد تمیز لہجے کو نو جوان ہونا جبکہ یو ٹرن کو تدبر سمجھتے ہیں، اگر سرجن ہوتے تو میرے خیال میں سرجری میں گردے کے آپریشن میں مشکل پیش آتی تو یو ٹرن لے کر پتہ نکال دیتے کہ اس میں بھی پتھری ہو گی موجودہ حکمرانوں نے عجیب انداز حکمرانی اپنایا ہے کہ سارا ملک ہی اپوزیشن بنا پڑا ہے۔ حکومت کی کوئی پالیسی واضح نہیں کوئی پروگرام نہیں کھٹمل مارنے کے لیے کلپس جلائے جا رہے ہیں گویا پٹرول سے آگ بجھانا اس حکومت سے کوئی سیکھے۔بلاول تو اسی دن میچو رتھا جب اس کا باپ جیل میں تھا نانا کی کہانی بطور لوری سنا کرتا تھا۔ گھر میں دیوار سے فٹ بال کھیلا کرتا تھا۔ نو عمری میں شہید والدہ کو سپرد خاک کیا۔

1970ء سے 2008ء تک پیپلز پارٹی کسی ملک کی سب سے بڑی جماعت تھی جس کی قیادت کے ساتھ اور ہر سطح کی قیادت کے ساتھ جو ہوا شاید دشمن ملک بھی نہ کر سکتا۔ نواز شریف کے چمکتے چہرے کے پیچھے اپنے کالے کرتوت چھپانے کے لیے بھٹو مخالف قوتیں میاں صاحب کو آگے لائیں تمام تر ذرائع جھونک دیئے گئے پوری طاقت سے سپورٹ کیا گیا۔ صرف پی پی کو ختم کرنے کے لیے۔ نواز شریف بقول حمید گل ایجنسیوں کا فخر ٹھہرے، بقول ضیاالحق انہوں نے پنجاب میں کلہ گاڑھا ہوا ہے اور دعا دی کہ میری عمر بھی ان کو لگ جائے۔ واحد سیاست دان ہیں جو اپنے رفاحی کاموں، دولت، سخاوت کے بل بوتے پر سیاست میں آئے ان کے حامی کہتے کہ نواز شریف کا نام نواز اس لیے ہے کہ نوازتا بہت ہے۔ آج نوازے گئے لوگ اُن سے منی ٹریل کا سوال کرتے ہیں۔ 80 کی دھائی کے آغاز میں وزیر اعظم، 81 میں وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیے گئے۔

1990 ء میں وزیر اعظم پاکستان بنے اور 1993 ء میں نواز شریف کی حکومت توڑ دی گئی اس سے پہلے بھٹو مخالف قوتوں کے اتحاد بنتے رہے۔ 1993ء میں حکومت ٹوٹنے پر نواز شریف کی اسحق خان کے خلاف تقریر نے ان کو بھٹو مخالف لوگوں کا مسلمہ راہنما بنا دیا۔ پھر اس کے بعد نوا زشریف اور اسٹیبلشمنٹ کی آنکھ مچولی جاری ہو گئی جو آج بھی جاری ہے۔ اب نواز شریف کو کیوں نکالا چوہدری نثار کہتے ہیں میری بات مانی جاتی تو آج بھی (ن) لیگ کی حکومت ہوتی۔ فروغ نسیم کہتے ہیں ججز کو ناراض نہیں کرنا چاہیے۔ نوا زشریف کے ہمدرد کہتے ہیں اداروں سے ٹکراؤ بہتر نہیں تو پتا چل جانا چاہیے کہ ان کو کیوں نکالا گیا۔ اب وہ جیل میں ہیں اور بیمار ہیں۔ کیا کوئی رسوا کیا گیا ہو گا جو دل کے مریض کو جنرل ہسپتال اور سروسز ہسپتال گھما پھرا کر رسوا کیا گیا۔ PIC اچھا ہسپتال ہے۔ جہاں تک میری معلومات ہیں میاں صاحب کی دیگر پیچیدہ امراض قلب کے ساتھ ایک ڈیکا کارڈیا بھی ہے جس کے لیے Cardiac Electro physicianچاہئیں اور وطن عزیز کے مایا ناز ڈاکٹروں میں سے کوئی بھی ماہر Cordio Electro Physician نہیں ہے۔ راولپنڈی RIC میں جناب بریگیڈیئر قیصر صاحب لاہور میں مسیحائے شہر جناب ڈاکٹر شہریار احمد شیخ جیسے لوگ موجود ہیں لیکن وہ اس حوالہ سے پروسیجر نہیں کرتے۔ پچھلے دنوں میرے ایک پیرو مرشد کا مسئلہ تھا تو ڈاکٹروں کی رائے میں مجھے پاکستان میں کسی پر اس حوالہ سے اعتماد نہیں ہے۔ پنڈی میں بھی ڈاکٹر اس کو ہاتھ نہیں ڈالتے یہ باریک آرٹریز کے مل جانے سے چنگاری ٹائپ پیدا ہوتی ہے جو دل کی دھڑکن کو جان لیوا حد تک تیز کر دیا کرتی ہے۔ میاں صاحب پہلے بھی اس کے پروسیجر کے دوران لندن میں گوروں کے ہاتھوں دوسری آرٹری کٹ جانے کی وجہ سے جان سے جانے لگے تھے پھر اوپن ہارٹ سرجری کر کے کنٹرول کیا گیا یہ فارغ الحسن چوہان، فواد چوہدری حتیٰ کہ (ن) لیگ کے ترجمان بھی اس سے واقف نہیں ہیں۔

حقیقت میں انگلینڈ میں بھی صرف ایک ہسپتال ہے اور امریکہ میں بھی ایسا ہی ہے۔ پاکستان میں اگر کوئی اس مرض کے پروسیجر کا ماہر ہے تو سینے پر ہاتھ مار کر دعویٰ کرے اور میاں صاحب کا علاج کرے۔ لہٰذا میاں صاحب کے حامیوں جو ٹی وی پر آتے ہیں وہ ماحول کی بات کرتے ہیں کو خود علم نہیں کہ میاں صاحب کی دل کے پیچیدہ مرض کے معاملے میں پروسیجر کرنا پاکستان میں کسی ڈاکٹر کے بس کی بات نہیں ہے۔ دوائیوں سے چل سکتے جب تک چلیں لیکن پروسیجر کے لیے وطن عزیز اس سہولت سے محروم ہے لہٰذا یہ کہہ کر بات گول نہیں کرنی چاہیے کہ جہاں سے کہتے ہیں البتہ ڈاکٹروں کی ٹیم پورے کا پورا یونٹ مع انسٹرومنٹ کے اگر پاکستان میں مہیا ہو تو ہزاروں لوگوں کا بھلا ہو جاتا ورنہ ملک متحمل نہیں ہے کہ ایک لیڈر کے عدالتی قتل کے بعد اب میڈیکل قتل کا سانحہ بھگت سکے نوا زشریف چلتے لمحے میں مقبول ترین راہنما ہیں اور یہ حقیقت ہے حکومت چلتے لمحے کے لمحہ فکریہ پر غور کرے۔ میاں صاحب جب اتفاق فونڈری والوں کا منڈا مشہور تھے، ان کو گورنر جیلانی نہیں بریگیڈیئر قیوم صاحب گورنر تک لائے تھے اور بلاول نے جیل میں میاں صاحب سے ملاقات کر کے اعلیٰ انسانیت کی قدروں کا بھرم رکھا ہے نہ کہ معاملہ پیسے اور موج مستی کا تھا ویسے بھی وہ وزیراعظم نہیں اپنے خاندان کے مخالف قیدی سے ملنے گئے تھے۔ اس رویے کی تحسین ہونا چاہیے نہ کہ تنقید۔


ای پیپر