امریکہ کی ڈوبتی معیشت
11 مارچ 2019 2019-03-11

ٍٍڈونلڈ ٹرمپ کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کے 45ویں صدر کی حیثیت سے وائیٹ ہاﺅس میں رہائش اختیار کئے دو برس بیت چکے ہیں اور انکی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک پے در پے انتظامی احکامات کے ذریعے امریکہ کی شناخت قرار دی جانے والی سیاسی ، معاشی اور انتظامی پالیسیوں کو تہہ وبالا کر نے کا سلسلہ جاری و ساری ہے ۔ ©©پہلے امریکہ کے نعرے پر دنیابھر کی معاشی طاقتوں خصوصاً چین سے تعلقات میں بگاڑ اور مختلف اقتصادی معاہدوں سے امریکہ کے اخراج سے امریکی معیشت کو پے در پے بحرانوں سے دوچار کرچکے ہیں جبکہ میکسیکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لئے کانگریس سے پانچ کھرب ڈالرز مالیت کے فنڈز کے حصول میں ناکامی پر امریکی تاریخ کے طویل ترین شٹ ڈاﺅن کے بعد معاشی ایمرجنسی کا نفاذ امریکہ کو بڑے اقتصادی بحران کی جانب دھکیل سکتا ہے جسے پندرہ بڑی امریکی ریاستوں نے ملک کے سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ ادھر متعدد امریکی اور بین الاقوامی ماہرین معیشت سمیت بڑے عالمی مالیاتی ادارے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت سے آنے والے دنوں میں ایسے مزید کئی اقدامات کی توقع کر رہے ہیں۔ جبکہ ان اقدامات کی وجہ سے امریکہ کے اندر اور مغربی دنیا میں امریکی صدر کے خلاف شدید غم و غصے کے اظہار کا سلسلہ بھی بدستور جاری ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے دور اقتدار کے دوبرس مکمل ہونے پر دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کواپنی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی خسارے کا سامنا ہے جس کا حجم سال 2018ءمیں 779ارب ڈالر ز تک پہنچ چکا ہے اور رواں سال 2019ءمیں اسکا حجم 980ارب ڈالرز سے تجاوز کر جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ ایک جانب امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی معاشی طاقت کا درجہ حاصل ہے تو ساتھ ہی دنیا کا سب سے بڑا مقروض ملک ہونے کا امتیاز بھی امریکہ ہی کے پاس ہے جس کا مجموعی وفاقی قرضہ 220کھرب ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے جبکہ اس میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کو اسکا موجودہ وجود دینے والی ریاستوں اور مقامی حکومتوں کے قرضوں کی رقوم شامل نہیں ہیںجنکی مالیت بھی 40 کھرب ڈالر کے قریب ہے اور جاری سال 2019ءمیں انکا حجم بھی بڑھ کر44کھرب ڈالر ز کے قریب پہنچ جائے گا۔

معاشی، معاشرتی اور سیاسی ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی آئین کے تحت صدر کو حاصل اعلیٰ انتظامی اختیارات بروئے کار لاتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے اپنے منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ امر تو سبھی کے علم میں ہے کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں شامل 50ریاستوں کے ایک وفاق کے تحت یکجا ہونے کا عمل ایک صدی کے قریب عرصہ پر محیط ہے جس میں ان ریاستوں کے ایک دوسرے سے منسلک معاشی مفادات نے کلیدی کردار ادا کیا تھا اور ان میں قدرتی وسائل سے مالا مال مگر مالی طور پر غریب ریاستیں اور دوسری جانب صنعتی ترقی کی معراج کو چھوتی ہوئی امیر ریاستیں شامل ہیں۔ مگر اب موجودہ امریکی صدر کی معاشی پالیسیوں سے ملک کی امیر اور غریب ریاستوں کے مابین قائم اس توازن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔اور اسکا ادراک تمام ذی شعور امریکیوں کے ساتھ ساتھ مغربی دنیا کے شہریوں کو بھی ہے۔

یہی وجہ ہے کہ امریکہ کے صدر کو سب سے زیادہ تنقید کا سامنا اپنی کثیر القومی معاشرت پر فخر کرنے والے امریکہ کودنیا سے الگ تھلگ کر دینے والے اقدامات کی بنا پر خود انکے اپنے ملک کے اندر سے ہی ہے۔ جن کا آغاز انہوں نے دو برس قبل 20جنوری 2017ءکو اپنا عہدہ سنبھالنے کے ساتھ ہی کردیا تھا ۔ سب سے پہلا صدارتی حکم امریکہ کے ٹرانس پیسیفک پارٹنرشپ (ٹی پی پی )کے نام سے بحیرئہ اوقیانوس کے کنارے پر واقع دنیا کی 40فیصد تجارت کے حامل2 1بڑے تجارتی ملکوں کے مابین اشتراک عمل کےلئے طے پانے والے مجوزہ معاہدے سے امریکہ کے انخلاءکا تھا۔ جس نے امریکہ کے لئے اپنے تجارتی اثرورسوخ میں اضافے کے امکانات کو ختم کر دیا ۔ پھر چین اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی توازن اورمحصولات کی شرحوں کو لیکر جاری تنازعہ بھی ٹرمپ کے دور حکومت کا امتیازی نشان بن گیا ہے۔ جس کے حل کے لئے جاری مذاکرات کا اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔ اس سے بھی آگے صدر ٹرمپ نے توچھ دہائیوں سے امریکہ کے لے پالک بھارت کو بھی آنکھیں دکھا دی ہیں اور امریکی مصنوعات کی اپنے ملک میں رسائی کی راہ میں روڑے اٹکانے پر اسکی امریکہ میں خصوصی تجارتی حیثیت کے خاتمے کے درپے ہو گئے ہیں۔

امریکہ کو دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت قرار دیا جاتا ہے۔ دسمبر 2018 ءکے تازہ اعدادوشمار کے مطابق امریکہ کی آبادی کا لگایا گیا تازہ ترین تخمینہ 32کروڑ 80 لاکھ افراد ہے۔جس میں گورے امریکیوں کی تعداد 54فیصد کے قریب ہے۔ امریکہ کے جی ڈی پی کا مجموعی حجم 180کھرب 55ارب ڈالر ہے ۔ فی کس آمدن 56ہزار ڈالر سالانہ ہے ۔اور فی کس قرض کا حجم 64ہزار ڈالر سے زائد ہے۔ ملک کے جی ڈی پی میں اضافے کی شرح ایک اعشاریہ چھ (1.6) فیصدسالانہ اور صنعتی ترقی کی شرح1.8فیصد سالانہ ہے جو اسکے مدمقابل دنیا کی دوسری بڑی معیشت چین کے مقابلے میں باالترتیب پانچ فیصد اورچار فیصد تک کم ہے۔اسی طرح امریکہ میں بیروزگاری کی شرح 4.8فیصد اور قومی بچتوں کی شرح جی ڈی پی کے 17فیصد کے برابر ہے۔اور لیبر فورس 16کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔

امریکی معیشت کی بگڑتی صورتحال کا احاطہ کرنے کے لئے تین ما قبل اپنے اختتام کو پہنچنے والے مالی سال 2018ءکے اعدادوشمار کا جائزہ لیں تو کئی دلچسپ حقائق سامنے آتے ہیں۔ بجٹ میں کل آمدن کا تخمینہ 33.3کھرب ڈالر اور اخراجات کا تخمینہ 41.1کھرب ڈالر تھا۔یوں بجٹ خسارا 779ارب ڈالر رہا۔جبکہ بجٹ کا خسارہ 2.9فیصد ہے۔ خوفناک حقیقت یہ ہے کہ امریکہ کے حکومتی قرضوں کی مالیت ملک کے جی ڈی پی کے 73.8فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک پر بیرونی قرضوں کی مالیت 228کھرب ڈالر کے قریب پہنچ چکی ہے۔ملک میں افراط زر کی شرح ایک اعشاریہ تین فیصد ہے ۔ اور اندرون ملک بنکاری نظام کے قرضوں کی مالیت بھی230 کھرب ڈالرتک پہنچ چکی ہے جو ملک کے جی ڈی پی سے بھی زیادہ ہے۔

ان حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے ماہرین معیشت کا یہ قیاس بالکل درست معلوم ہوتا ہے کہ امریکی معیشت کا تمام تر انحصار اب "قرض کی مے"پر ہی ہے۔ اور جس روز قرض کا یہ سلسلہ متاثر ہوا وہ دن امریکہ کی عالمی ساکھ کا جنازہ اٹھنے کادن ہوگا۔ اس ضمن میں یہ بات بھی ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ امریکی معیشت کو آج سب سے بڑا سہارا اسکے ہاں عرب ملکوں ، چین اور جاپان کی سرمایہ کاری اور کئی سو کھرب ڈالر مالیت کے اثاثوں کے ساتھ عالمی بنک اور عالمی مالیاتی فنڈ جیسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں میں اسکے اکثریتی حصص ہیں جنکی بد و لت اسے یہ استحقاق حاصل ہے کہ وہ ان اداروں سے جب چاہے اور جتنا چاہے ارزاں نرخوں پر قرض حاصل کر سکتا ہے۔یہیں پر بس نہیں امریکہ بھی دیگر امیر ملکوں کی طرح ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے انتہائی ارزاں نرخوں اور آسان ترین شرائط پر بھاری قرض لیکر اسے دنیا میں اپنا اثر ونفوذ قائم رکھنے کے لئے مہنگے داموں اور من مانی شرائط کے ساتھ غریب ملکوں کو ان پر احسان کرتے ہو ئے فراہم کرنے کے مکروہ دھندے میں ملوث ہے ۔ مگر اس سب کے باوجوداقتصادی اعتبار سے آج امریکہ کے لئے سب سے زیادہ قابل توجہ معاملہ اسکی 15فیصد سے تجاوز کرتی ہوئی خط غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والی آبادی اور گھر کی کسی بھی شکل میں سہولت سے محروم افرادکی 20فیصد سے بھی زیادہ شرح ہیں۔جنہیں اقتصادیات کے ماہر دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے چہرے پر بدنما دھبہ قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح ساری امیر دنیا سمیت امریکہ پر قدرت کی نا مہربانیاں بھی اب اپنا اثر دکھانے کوہیں اور وہاں شدید موسمی تغیرات کے معاشی نقصانات بھی اگلے چند برسوں میں بتدریج سامنے آنے کے تخمینے بھی منظر عام پر آچکے ہیں۔


ای پیپر