پا کستا ن اور کرپشن اب سا تھ نہیں چل سکتے
11 مارچ 2018

مو ت بر حق ہے۔ بے شک مر نے کے بعد سزا ا و ر جزا کا اختیا ر مالکِ حقیقی کے پا س ہے۔مگر اِس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ ہم مرنے وا لے کے کیئے گئے ا چھے کا مو ں کو یہ کہہ کر بھلا د یں کہ اِس کی جزا تو ما لکِ حقیقی دے گا، لہذا ہما را اس سے کو ئی سر و کار نہیں ۔ بعین ہی ہم کسی کے اِس دنیا میں کیئے گئے برے ا قدا ما ت کو یہ کہہ کر بھلا د یں کہ سزا اس کو سزا تو آخر ت میں مل جا ئے گی۔ اگر ایسا ہو جا ئے تو دنیا میں جر ائم اور کر پشن کو کبھی بھی لگا م نہ دی جا سکے گی۔ یہاں یہ سب لکھنے کی ضر ر ورت اِس لیئے پیش آ ر ہی ہے کہ اس ملک کے خو د سا ختہ ٹھیکے دا ر ا ب ا یڈ مر ل منصو ر ا لحق کی مو ت کے بعد ان کی اس غر یب ملک میں 300 ارب روپے کی کر پشن کو معا ف کر نے کا تہیہ کر تے نظر آ ر ہے ہیں۔ ایڈمرل منصورالحق پاکستان نیوی کے سربراہ تھے۔ یہ 10 نومبر 1994ء سے یکم مئی 1997ء تک نیول چیف رہے۔ منصورالحق پر ایک محتاط اندازے کے مطابق 300 ارب روپے کی کرپشن کا الزام تھا۔ میاں نواز شریف نے انہیں 1997ء میں نوکری سے برخواست کردیا اور ان کے خلاف تحقیقات شروع کروادیں۔ جبکہ منصورالحق 1998ء میں ملک سے فرار ہوگئے اور امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر آسٹن میں رہائش پذیر ہوگئے۔ اس دوران ملک میں ان کے خلاف تحقیقات اور مقدمات کا عمل جاری رہا۔ پھر جنرل مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد نیب کا محکمہ تشکیل دیا۔ یوں منصورالحق کے خلاف مقدمات نیب میں منتقل ہوگئے۔ یہی وہ وقت تھا جب امریکہ میں اینٹی کرپشن قوانین میں ترمیم کی گئی۔ جس کے مطابق دنیا کے کسی بھی ملک کا باسی اگر امریکہ میں رہائش اختیار کرنے کے بعد اپنے ملک میں کرپشن کا مرتکب پایا گیا تو امریکہ میں اس کے خلاف مقدمہ چلے گا۔ اس قانون کا فائدہ اٹھاتے ہوئے نیب نے امریکی حکومت کو منصورالحق کی کرپشن کے بارے میں آگاہ کیا اور اس سے منصورالحق کے خلاف مقدمہ چلانے کی استدعا کی۔ چنانچہ امریکی حکومت نے 17 اپریل 2001ء میں انہیں آسٹن سے گرفتار کرلیا۔ ان کے خلاف مقدمے کی ابتدائی کارروائی کے فوراً بعد انہیں جیل میں بند کردیا گیا۔ جیل میں انہیں عام قیدیوں کے سے کپڑے اور چپل پہنائے گئے۔ کمرہ عدالت میں بھی انہیں ہتھکڑی لگا کر پیش کیا جاتا۔ یہ سب منصورالحق کی برداشت سے باہر تھا۔ تب انہوں نے امریکی عدالت میں درخواست کی کہ مجھے پاکستان کے حوالے کردیا جائے۔ میں اپنے ملک میں مقدمات کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں۔ ان کی یہ درخواست منظور کرلی گئی۔ لیکن انہیں جہاز میں بھی ہتھکڑی لگا کر سوار کیا گیا۔ پھر سفر کے دوران ان کے ہاتھ سیٹ سے باندھ دیئے گئے۔
مگر اس کے بعد اپنے ملک کا پروٹوکول دیکھئے کہ پاکستان پہنچتے ہی ان کی ہتھکڑی کھول دی گئی، اور انہیں عام مسافروں کی بجائے وی آئی پی لائونج کے راستے باہر لایا گیا۔ ایف آئی اے، نیب اور پویس کے افسروں نے انہیں سیلوٹ کیا اور پھر ایک نیوی کی لگژری کار انہیں لے کر روانہ ہوگئی۔ انہیں سہالہ ریسٹ ہائوس میں رکھا گیا۔ قانونی کارروائی کا پیٹ بھرنے کے لیے سہالہ ریسٹ ہائوس کو سب جیل کا درجہ قرار دے دیا گیا۔ سہالہ ریسٹ ہائوس میں انہیں اے سی سمیت ہر قسم کی سہولت بہم پہنچائی گئی۔ یہاں تک کہ کھانا پکانے اور اسے میز پہ چننے کے لیے خانساماں بھی مہیا کیا گیا۔ ان کے اہل خانہ کو ان سے ملنے کی مکمل آزادی تھی۔ منصورالحق ریسٹ ہائوس کے لان میں معمول کی ورزش کیا کرتے یہاں انہیں پیشی کے لیے نیب اور ایف آئی اے کے دفتر نہیں حاضر ہونا پڑتا تھا، بلکہ ایف آئی اے اور نیب کے اہلکار بذاتِ خود ان سے تفتیش کے لیے ریسٹ ہائوس حاضر ہوتے۔ مختصر یہ کہ منصورالحق نے پلی بارگین کے تحت کرپشن کی رقم کا 25% حصہ واپس کرنے کی آفر کی۔ جنرل مشرف نے ان کی یہ آفر منظور کرلی۔ پھر کرپشن کی رقم کے 75% حصے کے ساتھ وہ سہالہ ریسٹ ہائوس سے اپنے عالی شان محل نما گھر میں منتقل ہوگئے۔ اس کے بعد انہیں سابق نیول چیف کا مکمل پروٹوکول میسر ر ہا ۔ وہ اہم شخصیات کی مانند ہر قسم کی نجی تقریبات میں شرکت کرتے رہے۔۔ پرانے دوستوں کے ساتھ گالف اور برج کھیلتے رہے۔ غرض یہ کہ مزے کر تے رہے ۔
پھر ا س ملک کو ا ندھا د ھند لو ٹنے کی کا ر و ا ئی صر ف ا یڈ مر ل منصو ر ا لحق تک ہی محد و د نہیں ۔ سفیدپو ش با بواس ملک کو ا ب تک ا یک محتا ط اندا زے کے مطا بق کر پشن کی صو ر ت میں 250ارب ا مر یکی ڈا لر کا نقصا ن پہنچا چکے ہیں۔ تا ہم مقا مِ شکر یہ ہے کہ عدا لتِ عظمیٰ اب ان بیو ر و کر و ٹو ں کا کچھا چٹھا نکا لنے پہ ما ئل نظر آ رہی ہے۔ سوا ل پیدا ہو تا ہے کہ آ یا ان لو ٹیرو ں کو کیا صر ف جیل کی ہوا لگوا نا کا فی ہو گا ؟ نہیں ، ہر گز نہیں یہ ہر گز کا فی نہ ہو گا۔ بلکہ ضر و ر ت اس امر کی ہے کہ ان با بو ئو ں سے لو ٹے گئے 250 ار ب ڈ ا لر کی ایک ایک پا ئی و صو ل کی جا ئے۔ کیا کو ئی بتا ئے گا کہ پی آ ئی ا ے کا خسا ر ہ جو ا ب سے قر یباً دس بر س پہلے چا لیس ار ب روپے تھا وہ اب پا نچ سو ار ب روپے کیسے پہنچ گیا؟ کو ئی کیو ں تحقیق نہیں کر تا کہ ا س میں کو ن کو ن با بو ملو ث ہیں ؟ لکھنے کی ضر و رت پیش آ رہی ہے کہ یہ کہانی اس ملک کی ہے، جس کے با نی قائد اعظم محمد علیؒ جناح نے ایک جوڑا جرابوں کا اس لیے واپس کردیا تھا کہ وہ مہنگا تھا۔ سرکاری اجلاس میں چائے تک پینے کی ممانعت تھی۔ جب سیکرٹری نے چائے پیش کیے جانے کے بارے میں پوچھا تو الٹا آپ نے پوچھ لیا کہ کیا یہ لوگ اپنے گھر سے چائے پی کر نہیں آتے۔ ان کی ہمشیرہ فاطمہ جناح کو بیکری سے خریدی گئی ڈبل روٹی پہ دکھ ہوتا کہ ہم دو افراد کے لیے پوری ڈبل روٹی فضول خرچی ہے۔ گھر میں تہمد اور بنیان پہنے رکھنے والا حکیم الامت علامہ اقبال کیا بڑی بڑی جائیدادیں نہیں بناسکتے تھے؟ قائد ملت لیاقت علی خان تقسیم سے پہلے کے ہندوستان میں 300 گائوں کے مالک تھے۔ پاکستان بنا تو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر خالی ہاتھ کراچی آباد ہوگئے۔ دہلی میں ذاتی حویلی پاکستانی سفارت خانے کو عطیہ کردی۔ جب لیاقت باغ راولپنڈی میں شہید ہوئے تو پائوں میں پھٹی ہوئی جرابیں تھیں اور بینک بیلنس کل 47 ہزار روپے نکلا۔اسی ملک کے با بوئو ں نے لو ٹ ما ر کر کے فرا ر ہو نے کے طر یقے پہلے سے سو چ رکھے ہیں۔ چنا نچہ یہ دہر ی شہریت اختیا ر کیئے ہو ئے ہیں، مگر ظا ہر کر نے سے گر یز کر تے ہیں۔ اب دیکھ لیجئے کہ چیف جسٹس آ ف سپریم کو رٹ نے سر کا ری افسر و ں کودو ہری شہر یت رکھنے کی صو ر ت میں اسے ظا ہر کر نے پر ر عا ئت د یتے ہو ئے کہا کہ ایسے افسر و ں کو کو ئی سز ا نہیں دی جا گی۔ اس کے با و جو د 3500 سر کا ری افسر و ں میں سے صر ف 13ا فسر ایسے تھے جنہو ں نے اپنی دہر ی شہر یت ظا ہر کی۔ اب جب کہ عد ا لتِ عا لیہ کر پٹ با بو ئو ں کو کٹہر ے میں لا نا چا رہی ہے تو فو ج کے سا تھ سا تھ سیا ست د ا نو ں او ر عو ا م سے بھی گذ ا رش ہے کہ وہ ملک سے کر پشن کی لعنت ہمیشہ کی بنیا د و ں پر ختم کر نے کے لیئے یک جا ہو جا ہیںتا کہ بتا سکیں کہ پاکستا ن اور کر پشن اب سا تھ سا تھ نہیں چل سکتے ۔


ای پیپر