گھوڑوں کی رسہ کشی
11 مارچ 2018 2018-03-11

منڈی لگ گئی گھوڑے تیار ہیں بقول سیف الدین سیف، ’’لگا ہے مصر کا بازار دیکھو‘‘ ذرا سا فرق ہے مصر کے بازار میں حسن و جمال کا پیکر بے دام بک گیا تھا یہاں کروڑوں کا سودا ہے سینیٹ کے انتخابات میں کروڑوں کمالیے، چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے لیے منہ مانگی قیمت طلب، لگام والے گھوڑے مالک کے حکم کے تابع، جدھر موڑ دے مڑ جائیں جو نہ مڑیں ان کے لیے قواعد و ضوابط کے چابک تیار لیکن بے لگام اور آزاد امیدوار سودے بازی میں مصروف، پس پردہ تیاریاں مکمل، آج چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب بھی مکمل ہوجائے گا منتخب ارکان پہلے حلف اٹھائیں گے کہ وہ آئین، ضمیر اور قومی مفادات کی سربلندی کے لیے کوشاں رہیں گے، لیکن حلف اٹھاتے ہی تمام حدود و قیود سے آزاد ہو کر طے شدہ معاہدوں کے تحت ’’حق نمک‘‘ ادا کریں گے آئندہ دنوں میں آئین کی پکار ضمیر کی آواز اور قومی مفادات کی جھنکار سب بے معنی ہوجائیں گی کیا یہی جمہوریتکاحسن ہے؟ سینیٹ انتخابات میں ’’لوٹ سیل‘‘ کے بعد جو چند روز ملے ان میں ’’مفاد پرستوں‘‘ نے منتخب سینیڑوں کی منہ مانگی قیمت دی اور انہیں خرید لیا ایک محترم تبصرہ نگار نے لکھا کہ آصف زرداری اسٹیبلشمنٹ کی آشیر واد سے سیاسی فتوحات کر رہے ہیں کیمپ آفس اسلام آباد میں بنایا ہرکارے صوبوں میں دوڑا دیے ابتدا بلوچستان سے ہوئی جہاں پارٹی کی ایک بھی سیٹ نہیں تھی۔ وہاں سے تیرہ سیٹوں کی آس امید، گھوڑوں کی قیمت میں جانے کیا خرید لائیں گے قوم آئندہ 6 سال تک اسی جنس کو بھگتے گی، سینیٹ انتخابات میں مسلم لیگ (ن) 33 نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری پیپلز پارٹی 20 نشستوں کے ساتھ دوسرے اور پی ٹی آئی تیسرے نمبر پر رہی اس کی نشستوں کی تعداد 12 تھی جمہوری روایات کیا کہتی ہیں؟ ان روایات کے مطابق اکثریتی پارٹی سے کہا جاتا ہے کہ وہ مقررہ مدت تک اپنی اکثریت ثابت کرے اور اپنا چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین منتخب کرالے وہ اکثریت ثابت نہ کرسکے تو نمبر 2 اور نمبر 3 پارٹیوں کو موقع دیا جاتا ہے پاکستان میں ما شاء اللہ پورا جمہوری نظام بے لگام، نمبر 2 پارٹی نے پہلے دن سے دعوے شروع کردیے کہ انہیں 57 ارکان کی حمایت حاصل ہوگئی، کیسے حاصل ہوئی یہ بھی جمہوریت کا حسن ٹھہرا، حالانکہ یہ جمہوریت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے ایوان بالا سب سے اہم ادارہ، دیگر ممالک میں اسے خواص کا ادارہ ہائوس آف لارڈز کہا جاتا ہے، جہاںذہین ، قانون پر عبور رکھنے والے دانشور ترین لوگ بیٹھ کر قانون سازی کرتے ہیں، کروڑوں، اربوں کا سودا کر کے آنے والے صرف ہاتھ کھڑا کرنے کے گناہگار ہوں گے۔ سوچئییصداقت، دیانت، امانت مفقود، امامت کے لیے مستحق کیسے ٹھہرے، کعبہ دل میں لات و منات رکھے ہیں کہاں سے آئے صدا لا الہالا اللہ۔
معاف کیجیے ہمارے 75 فیصد ارکان آئین سے ناواقف قومی مفادات سے نابلد اور ضمیر کی آواز سے نا آشنا، قانون سازی کیا ہوگی ،1970ء کے انتخابات میں ایک لیڈر سے پوچھا گیا تھا محترم آئین اور دستور میں کیا فرق ہے محترم نے چند لمحے سوچا اِدھر اُدھر دیکھا اور فرمایا ’’جاہلو آئین آئین ہوتا ہے دستور دستور۔‘‘ اور گاڑی میں بیٹھ کر چلے گئے ان ہی قانون سازون کا بویا ہوا اب تک کاٹ رہے ہیں صورتحال پچاس سال بعد بھی کہاں بدلی ہے گھوڑوں کی رسہ کشی جاری ،ہارس ٹریڈنگ میں پہلے سے زیادہ شدت گھوڑوں کی قیمتیں مارکیٹ ریٹ کی مناسبت سے 40، 50 کروڑ تک پہنچ گئیں سودے بازی یعنی بارگیننگ پاور آزاد ارکان کے ہاتھ چھوٹی جماعتیں مذاکرات پر یقین رکھتے ہوئے کسی حد تک قومی مفادات کو ترجیح دیتی ہیں لیکن "آزاد گھوڑے " دولت کے حصول کی جدوجہد میں سب کچھ بھلا بیٹھتے ہیں بلوچستان کی مثال سامنے ہے سینیٹ انتخابات سے قبل اچانک کیا افتاد پڑی کہ بنا بنایا کھیل بگڑ گیا اسے آصف زرداری کی ’’کرامت‘‘ شمار کیا گیا لیکن سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے اب تک انگشت بدنداں ہیں کہ بلوچستان اسمبلی میں ن لیگ کے 21 ارکان کو کیا ہوا کہ دو کے سوا سب نے اپنی وفاداریاں تبدیل کرلیں مولانا فضل الرحمان پانچ سال تک وفاقی حکومت کے اتحادی رہے برے بھلے وقت کے ساتھی لیکن اس محاذ پر انہوں نے بھی یہ کہہ کر آنکھیں پھیر لیں کہ ان کی صوبائی تنظیم اپنے فیصلوں میں آزاد ہے ,چشم فلک نے دیکھا کہ سیاسی تاریخ میں سب سے کم یعنی 540 ووٹ لے کر منتخب ہونے والا رکن اسمبلی وزیر اعلیٰ بن گیا اتنا مقبول وزیر اعلیٰ کہ عمران خان نے اپنے 13 ارکان اس کی جھولی میں ڈال دیے جبکہ اس نے اپنی جھولی آصف زرداری کے سامنے ڈھیر کردی، سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی کی بد ترین مثال , زمانہ بدل گیا ہے، پندرہ بیس سال پہلے تک ارکان اسمبلی ’’ٹریک‘‘ بدلتے ہوئے شرم محسوس کرتے تھے وفاداریاں بدلنے والوں کو بے پیندے کے لوٹے کہا جاتا تھا اب گدھے گھوڑے سب برابر، فاٹا کے ارکان تجارت میں سب سے آگے یہاں ایک ووٹ کی قیمت 32 کروڑ سے چالیس پچاس کروڑ تک پہنچی، قارون کا خزانہ کہاں رکھیں گے کہتے ہیں کفن کی جیب نہیں ہوتی، لیکن دینوی جاہ و مال کے طلبگار ایک سے زائد جیبیں لگوا کر رخصت ہوں گے ایک محترم نے سوال پوچھا کہ کروڑوں روپے لے کر ایوان بالا تک پہنچنے والے عوام کے مسائل کیا حل کریں گے؟ لیکن بقول غالب
مے سے غرض نشاط ہے کس رو سیاہ کو
اک گو نہ بے خودی مجھے دن رات چاہیے
شاید اتنی دولت سے ’’اک گونہ بے خودی‘‘ حاصل ہوجائے۔
سینیٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کا انتخاب ماشاء اللہ آج مکمل ہو جائے گا، ن لیگ کے لیے اکثریت ثابت کرنا زندگی موت کا مسئلہ ہے گزشتہ پانچ سالوں کے دوران اسے قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت حاصل تھی لیکن اس اکثریت کے باوجود وہ مطلوبہ قانون سازی اس لیے نہ کرسکی کہ سینیٹ میں پیپلز پارٹی کو ایک ووٹ کی برتری حاصل تھی اس ایک ووٹ کی برتری نے ن لیگ کو یہ روز بد دکھایا ہے کہ اس کے وزیر اعظم کو پہلے وزیر اعظم ہائوس سے اور اس کے بعد مسلم لیگ ہائوس سے نکال دیا گیا دونوں ایوانوں پر ناگہانی افتاد آن پڑی، بریت کا سرٹیفکیٹ کسی کے پاس نہیں نیب نے جس تیزی سے انکوائریوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے مدد شامل حال رہی تو ان شاء اللہ تمام منتخب ارکان شکنجے میں کسے جائیں گے صرف چند لاڈلوں کو گرین سگنل ملے گا نواز شریف کی کشتی بھنور میں ہچکولے کھا رہی ہے مگر ان شاء اللہ اور ما شاء اللہ کے قائل سابق وز یر اعظم کو اب بھی یقین ہے کہ
کشتی کو میری تیرا سہارا ہے خدایا
ہوتی ہے تو ہوجائے ملاقات بھنور سے
شاید اسی یقین کی بنیاد پر وہ 70 سالوں کے نظام سے بغاوت کا اعلان کر رہے ہیں مقدمات، ریفرنسز بلکہ کبھی نہ ختم ہونے والے ریفرنسز کا سامنا کرنا کیسا لگتا ہے یہ کوئی ن لیگ کے قائد سے پوچھے شاید اسی لیے ان کو سینیٹ میں اکثریتی پوزیشن کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور شاید اسی لیے ان کے مخالفین باگ دوڑ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لییمنڈی سجانے پر مجبور ہوئے ہیں سارے خم ٹھونک کر اسلام آباد میں ڈیرے ڈالے بیٹھے ہیں اے ٹی ایم مشینیں ساتھ ہیں کروڑوں اربوں کی تجارت کرپشن ثبوت کوئی نہیں، گھوڑوں کی رسہ کشی ۔ ’’یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین، پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ‘‘


ای پیپر