اکثریت،اقلیت کیوں؟
11 مارچ 2018

اکثریت کا راستہ روکنے کی روش پاکستان میں نئی نہیں۔
ربع صدی کے صحافتی کیریئر میں ایوان بالا اور ایوان زیریں کے سپیکر،ڈپٹی سپیکر،چیئر مین،ڈپٹی چیئر مین کے انتخابات کا مشاہدہ بھی کیا۔ انتخابات سے پہلے لابنگ جوڑ توڑ سیاسی سودے بازی کے پیچیدہ مشکل عمل کو سڑکوں، بنگلوں کے گیٹوں پر کھڑے ہو کر کور کیا کبھی کیمرے کے ساتھ کبھی قلم کی مدد سے پاکستان ایسے ملک میں جہاں جمہوری سفر کا ابھی آغاز ہے۔ابھی جمہوری سفر کے نئے دور کو محض دس سال ہوئے ہیں۔ایسے معاشروں میں سچائیاں کاغذ پر لکھے اعدادو شمار سے مختلف ہواکرتی ہیں۔ریاضی کے فارمولے اکثر الٹ ہو جاتے ہیں۔منطق دلیل بے معنی ہو جاتی ہے۔اکثریت اقلیت میں تبدیل ہو کر رہ جاتی ہے۔مؤثر حلقوں کی ہلکی سی تھپکی ہو تو اقلیت جیت جایا کرتی ہے۔حقائق ہار جایا کرتے اور نظریہ ضرورت فاتح رہتا ہے۔1990ء کے عام انتخابات کے بعد وسیم سیمار کی چیئر مینی سے لیکر رضا ربانی کا اس اہم آئینی عہدے پر انتخابات دیکھے کئی ایسے صدارتی معرکے بچشم خود دیکھے دیکھے جہاں موثر سیاسی مینجمنٹ بارگیننگ لابنگ اور سیاسی سر پرستی کی وجہ سے غیر متوقع امید واروں نے فتح حاصل کی۔کئی مرتبہ ایسا بھی ہوا کہ تین صوبے متحد ہوئے اور ایک بڑا صوبہ اپنے منظر نظر فردکو نہ جتوا سکا۔جمہوریت میں آخری فیصلہ اکثریت کرتی ہے۔لیکن اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر دیا جائے تو اس کو پولیٹکل انجینئر نگ کہا جاتا ہے۔ایسی انجینئرنگ وقتی جیت کا راستہ ہموار کر دیتی ہے۔لیکن پس پردہ ایسے رخنے ایسے زخم چھوڑ جاتی ہے جو رفو نہیں ہو پاتے۔بات ذرا لمبی ہو گئی۔ لیکن اس تاریخی پس منظر کا تذکرہ اس لیے ضروری ہے کہ جب بھی اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا گیا نتائج منفی آئے۔فائدہ اٹھانے والوں نے وقتی طور پر فتح کے شادیانے بجائے لیکن منفی اثرات کو ساری قوم نے بھگتا۔پاکستان میں تقریباََساری سیاسی جماعتوں نے اکثریت کے باوجود ہار جانے کاتلخی بھرا جام پیا ہے سوائے پی ٹی آئی کے۔کون جانتا ہے کہ وہ کب اس کڑوے گھونٹ کی سزا وار ٹھہرے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی ماضی قریب میں ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوئیں۔پولیٹکل انجینئرنگ کا حصہ بنیں۔یہ حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن)
ماضی میں اس غیر سیاسی عمل میں حصہ دار بنی۔پیپلز پارٹی کا سکور ذرا کم ہے۔ 1990ء ،1997ء میں دو مرتبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس صوبہ سندھ میں واضح اکثریت تھی۔لیکن ریاستی ہتھکنڈے استعمال کر کے۔ مینڈیٹ چوری کیا گیا۔اس کو صوبائی حکومت سازی سے روکا گیا۔ایک مرتبہ جام صادق علی مرحوم اس کے بعد لیاقت جتوئی،منظر حسین شاہ،ارباب غلام رحیم اور علی محمدمہر کی شکل میں ایسے چیف منسٹر سندھ کے عوام پر مصلت کیے گئے۔جن کے پاس صوبائی اسمبلی میں مطلوبہ ارکان کی حمایت حاصل نہ تھی۔2002ء میں بھی ایسا ہی ہو ا تمام تر نامساعد حالات کے باوجود پیپلز پارٹی کے پاس سادہ اکثریت حاصل تھی۔لیکن حکومت سازی کی راہ میں ناقابل عبور رکاوٹیں کھڑی کر دی گئیں۔سرکار ی سر پرستی میں مسلم لیگ (ق) کو الیکشن جتوانے کے تمام ہتھکنڈے کا میاب نہ ہوئے۔ پھر نیب کی فائلیں دباؤ تر غیب ذاتی دو ستیوں کے ہتھیار استعمال کر کے پیٹریاٹس گروپ بنایا گیااور حکومت سازی کا نا ممکن مشن مکمل ہوا۔ 2008ء کے انتخابات کے بعد پہلی مرتبہ میچور سیاسی جماعتوں نے بالغ نظری کا مظاہرہ کیا۔ جمہوریت کی گاڑی پٹری پر چڑھی۔ یوں نئے سیاسی سفر کا آغاز ہو امرکز سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کے پی اور بلوچستان میں مخلوط حکومتیں۔ پیپلزپارٹی نے یہ آسانی آصف زرداری کی شکل میں اپنا صدر بھی منتخب کر ایا۔طویل عرصہ بعد موقع آیا تو پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی چیئر مین پھر تین مرتبہ لگاتار فاروق ایچ نائیک،سید نیئر حسین بخاری اور رضا ربانی کو چیئر مین سینیٹ منتخب کر ایا۔ان سیٹوں پر مقابلہ ہو ا۔ووٹ بھی مانگے گئے۔لابنگ بھی ہوئی لیکن رولز آف گیم کے مطابق سیاسی اور اخلاقی دائروں کے اندر رہتے ہوئے اس حوالے سے سب سے منفرد اعزاز سینیٹر رضا ربانی کے انتخاب کو ہوا صرف تین سال پہلے اسی موسم بہار کی رْت میں ایک تجویز آئی کے چیئر مین،ڈپٹی چیئر مین کے عہدے پر اتفاق رائے سے شخصیت کو لایا جا ئے۔رضا ربانی کا نام سامنے آیا تو سیاسی حالات کی الجھی ڈور یوں سلجھی کہ شروع میں تو ہم ایسوں کو بھی سمجھ نہ آئی۔کوئی معاملہ بغیر کسی پیچیدگی کے حل ہوتا نظر آئے تو شک ہوتا ہے۔لیکن پہر حال یہ تاریخی موقع تھا رضا ربانی کا نام چھوٹے صوبوں نسبتاََکم سیٹوں والی پارٹیوں کی جانب سے آیا۔پیپلز پارٹی نے موقع سے فائدہ اٹھایا اور اکثر یتی جماعت مسلم لیگ (ن) سیاسی اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا۔حالانکہ اس وقت کے سیاسی حالات میں مسلم لیگ (ن) اس پوزیشن میں تھی کہ وہ چیئر مین اور ڈپٹی چیئر مین دونوں عہدوں پر اپنے نامزد کردہ افراد کو با آسانی جتوا سکے۔آصف زرداری ان دنوں مفاہمت کی سیاست کا چورن بیچا کرتے تھے۔شاید بیچنے کیلئے کچھ اور میسر نہ تھا۔بہر حال وہ بابائے مفاہمت کہلائے۔سیاسی جماعتوں کی اس مفاہمانہ پالیسی کے نتیجہ میں جمہوریت پسند اور با اصول سیاسی ورکر رضا ربانی اس آئینی عہدہ پر فائز ہوئے۔ اٹھارہویں ترمیم کی ڈرافٹنگ صدیوں صوبوں کے حقوق کی جنگ اس ترمیم کی منظوری میں رضا ربانی نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔ان کو اس تاریخی رول کا صلہ ملا اور وہ تین سال اس عہدہ پر ان کا تین سالہ دور یادگار ہے گا۔سینیٹ میں ضابطہ اخلاق کی منظوری یادگارجمہوریت دستور گلی سینیٹ کے اختیارات میں اضافہ آرمی چیف اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کا دورہ سینیٹ اور ملاقاتیں۔اس دور کے یاد گار واقعات ہیں۔ عجیب بات ہے کہ اس اعلیٰ سیاسی کردار کی حامل شخصیت کو انکی اپنی جماعت بطور متفقہ امیدوار سامنے لانے سے انکاری ہے۔کم از کم آخری اطلاعات تک۔
ان سطور کو تحریر کرنے تک سینیٹ کیلئے امیدوار کا کوئی حتمی نام سامنے نہیں آسکا۔مسلم لیگ (ن)،پیپلز پارٹی،پی ٹی آئی جوڑ توڑ میں مصروف ہیں۔بلوچستان اور فاٹا کے سینیٹر ز انتہائی اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔لیکن اصل بحث یہ نہیں کہ کون جیتے گا کون ہارے گا۔فکر مندی کی بات یہ ہے کہ حالات کو ریورس گیئر لگتا نظر آتا ہے۔کئی ماہ پہلے سب پر بھاری نے نعرہ لگایا تھا کہ مسلم لیگ کو اکثریت حاصل کرنے دی جائے گی نہ ان کا چیئر مین سینیٹ لانے دیا جائے گا۔آج قائد تبدیلی عمران خان بھی ان کے ہم آواز ہیں۔مقابلہ اس بات کا نہیں کہ چیئر مین ہمارا ہو کوشش یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا چیئر مین منتخب نہ ہو۔کہیں ایسا تو نہیں کہ ماضی کی طرح اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کی کوشش کی جارہی ہے؟


ای پیپر