پاکستانیت کی تلاش
11 مارچ 2018

پاکستان ایک نظریاتی ریاست ہے یعنی اس کے قیام کی بنیادی وجہ ایک نظریہ تھا ۔ یہ نظریہ بہت واضح تھا اور ہے یعنی قیامِ پاکستان کی بنیادی وجہ ہمارا مہابیانیہ’ اسلام‘‘ ہے۔یعنی پاکستان سے مراد اسلام ہے اور اسلام کی سماجی معاشرتی اطلاقی صورت پاکستان ہے۔گویا پاکستانیت سے مراد اسلام تصور کیا جانا چاہیے۔ لیکن ستر برس گزر جانے کے بعد دانش کے حلقوں میں تخلیقِ پاکستان سے متعلق مرکزی مہا بیانیے کو متشکک کیا جا رہا ہے۔ یکم جو لائی ۱۹۴۸ کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کراچی میں سنگِ بنیاد رکھتے ہیں قائد اعظم رحمتہ اللہ علیہ نے بینکنگ سے متعلق جن رہنما اصولوں کی بنیاد رکھی ہم آج تک اس کی اطلاقی صورت کو ترس رہے ہیں ، قائد نے فرمایا’’مغربی معاشی نظریے اور اس کے اطلاقی طریقِ کار کو اختیار کرنے سے ہم ایک خوش اور قانع قوم کو تیار نہیں کرسکیں گے۔ہمیں اپنے مقدر کا فیصلہ اپنے انداز سے کرنا ہوگااوراسلام کے تصورِ مساوات اور سماجی انصاف پر مشتمل ایک معاشی نظام پیش کرنا ہوگا۔ اسی صورت میں ہم بطور مسلمان اپنے مشن کو مکمل کرسکیں گے اور نوعِ انسانی کو امن کا پیغام دے سکیں گے اور اسی میں نسلِ انسانی کی فلاح، خوشی اور ترقی کا راز پوشیدہ ہیــ‘‘۔قائدِ اعظم ایک بہت باشعور اور صاحبِ رائے شخصیت تھے انہوں نے جو بات بھی کی یقینا وہ اس کی اہمیت سے آگاہ تھے اور اسے سمجھتے بھی تھے۔مذکورہ بالا بیان کی لسانی گرہیں کھولی جائیں تو معنوی لحاظ سے یہ پاکستان کے مرکزی مہابیانیے ہی کی معاشی توضیح ہے۔ ایسے ہی ایڈورڈ کالج پشاور میں ۱۸ اپریل ۱۹۴۸کے اپنے خطاب میں آپ نے فرمایا، ’’ اس سے زیادہ ہم کیا توقع کرسکتے ہیں کہ اس عظیم سرزمین پر ایک قانون لاگو ہوتا ہے جو کہ اسلامی ہے اور اس اسلامی قانون کے تحت یہ ایک خود مختار ریاست ہے‘‘۔ عمومی طور پر نظریاتی ریاستوں کو آزاد ریاست نہیں کہا جاتا ، بظاہر ایک نظریے کی قید میں رہنے والی یہ ریاستیں اپنی روح میں آزاد ہوتی ہیں ۔ قائد ِ اعظم کے پشاور کے خطاب میں دو باتوں کی طرف واضح اشارہ ہے ایک نظریے کی بالادستی اور دوسری ریاست کی خود مختاری گویا اس وقت کے مروج ریاستی قیود سے الگ پاکستان کو ایک ایسے ریاستی ڈھانچے کی ضرورت تھی جس میں اس ملک کی خود مختاری نہاں تھی۔پاکستان کی بد قسمتی یہ ہوئی کہ اسلام کو محض مقدس دستاویز سمجھ کر شلیف میں رکھ دیا گیا ۔ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے، ایک نافذا لعمل دستور ہے جو کسی بھی خطے کے ہر ہر شعبے کے لیے رہنما اصول فراہم کرتا ہے۔ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ میں قائم ہونے والی اس آزاد ریاست کو اپنی کلی نظریاتی شکل متشکل کرنے میں تقریبا پونے دو برس کا وقت لگا اور قراردادِ مقاصد ۱۲ مارچ ۱۹۴۹ کو منظور ہوئی۔ اس قراردادِ مقاصد کاایک اہم نکتہ یہ تھا ، ’’جمہوریت ، آزادی ، مساوات ، برداشت ، اور سماجی انصاف کا بنیادی ماخذ اسلام کے متعین کردہ اصول ہوں گے‘‘۔گویا دستوری ، سماجی ، ثقافتی اور بیانوی سطح پر اسلام اور پاکستان کے دستور کے مطابق کوئی ایسی جدلیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے قابلِ قبول نہ ہوگی جو اسلام یعنی ریاست کے مرکزی بیانیے سے متصادم ہو۔ بلاشک قراردادِ مقاصد ایک نہایت اہم دستوری دستاویز ہے باوجودیکہ تاریخِ پاکستان میں وقوع پذیر ہونے والی سماجی اور بیانوی تبدیلیاں ریاست کے مرکزی بیانیے سے ایک الگ رو میں چلتی دکھائی دیتی ہیں ۔ جنرل ایوب خان کے دور میں صنعتی ترقی اور امریکہ سے تعلقات میں ارتفاع جماعتِ اسلامی کے نزدیک میں اسلامی نظریے سے الگ ایک رو میں بہنے کا نام تھا۔ ظاہر ہے ایوب خان کا دور پاکستان کی معاشی ترقی میں ایک اہم عہد کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے لیکن یہی وہ دور ہے جس میں مغربی سرمایہ دارانہ نظام کو پاکستان میں جڑیں مضبوط کرنے کا موقع ملا۔مابعد نو آبادیاتی صورتِ حال میں سب سے زیادہ مسئلے کا شکار کسی بھی خطے کی ثقافت ہوتی ہے ، بعد از آزادی متبادل ثقافتی پالیسی اور ثقافتی بیانیے کی عدم موجودگی میں پاکستان میں عالم کاری کا رجحان بڑھا۔ اس ضمن میں اس عہد کے سب سے بڑے ناول نگار مستنصر حسین تارڑ کے دو ناولوں ’راکھ‘ اور ’ خس و خاشاک زمانے‘ کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ان دونوں ناولوں میں پیش کیا جانے والا سماج زمینی سطح پر بہت حقیقی دکھائی دیتا ہے۔ یہ ناول ہمیں ایک اور قسم کے سماجی بیانیے سے آگا ہ کرتے ہیں اور وہ بیانیہ ہے Mother Earth اور Sons of Soil کا ۔ یعنی جب ہندوستان کے بڑے شہروں میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر تھیں اور نظریاتی سطح پر ہندوستانی سماج تقسیم ہو رہا تھا تو ان بڑے شہروں سے دور چھوٹے دیہات میں وہ سماجی اکائیاں جن کے ہاں مذہبی عملیت محض نام کی تھی ، کو محض ایک چیز متحد رکھے ہوئے تھی اور وہ تھی زمین ۔ یہی وہی زمین کا بیانیہ ہے جسے ہم منٹو کے افسانے ٹوبہ ٹیک سنگھ کے بشن سنگھ جو کہ ایک پاگل ہے کے لسانی اظہاریے یعنی ’’ اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین ‘ میں دیکھتے ہیں جو لالٹین سے ’’ منگ دی دال آف گورنمنٹ آف پاکستان ‘‘ اور آخر میں ’’ منگ دی دال آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ ‘‘ میں تبدیل ہوگیا۔ یاد رہے کہ یہ بشن سنگھ وہ پاگل کردار ہے جسے دن ، مہنیے ، سال کا تصور تک نہیں لیکن اس کے ہاں بھی ’’ پاکستانیت ‘‘ کا تصور موجود ہے بھلے اس کا مرکزی بیانیہ مہابیانیہ نہ سہی زمین سہی۔ ایسے ہی ایک اور کردار مستنصر حسین تارڑ کے ناول خس و خاشاک زمانے میں ہے جس کا مرکزی بیانیہ زمین سے جڑا ہُوا ہے ۔ سرو ایک سانسی ہے جس کی سماجی حیثیت قبل از تقسیم ایک اچھوت یا Other یعنی بیگانے کی ہے ۔ جس کی گزر اوقات زمین پر رینگتے جانوروں کا گوشت ہے۔ بعد از تقسیم اس کردار کی معاشی حالت بدل جاتی ہے اور اس کی ذات بھی سانسی سے بدل کر ارفع سماجی حیثیت اختیار کرلیتی ہے ، باوجودیکہ سرو سانسی زمین پر رینگتے جانوروں کا متلاشی رہتا ہے اس کے لیے یہ زمین محض ایک جائے مقام نہیں بلکہ Mother Earth ہوتی ہے ۔ ایسے ہی ہم میں ہر کوئی کسی نہ کسی سطح پر زمین زاد کے بیانیے سے جڑا ہے بالکل ویسے ہی جیسے مرکزی آفاقی آدرش سے۔ لیکن بدقسمتی سے پاپولر ادب اور بصری بیانیوں میں متشکل ہونے والی پاکستانیت ایک ایسی ہائی پر رئیل اختراع ہے جو موجود نہ ہو کر بھی موجود ہے کم از کم ڈسکورس کی حد تک یہ ضرور موجود ہے ۔ یہ بصری بیانیے( ٹی وی ڈارمے اور فلم وغیرہ) اور ادب چونکہ سماجی جمیعت سے نمائندگی کا چھین چکے ہوتے ہیں اس لیے ان کی طاقت کو مقامی اور عالمی سامراجی قوتیں Subscribe کر لیتی ہیں اور پھر اپنے ایجنڈا کی تکمیل کے لیے ان اظہاریوں کا استعمال کرتی ہیں ۔ اردو اور انگریزی ادب میں پیش کیا جانے والے پاکستان میں بنیادی فرق بورژوا اور پرولتاریہ کا ہے۔ انگریزی ادب خاص کر Diaspora یعنی تارکین ِ وطن کا پاکستانیت کا بیانیہ بین الاقوامی قارئین کے سامنے پاکستان کا وہ منظر نامہ پیش کرتا ہے جو پاکستان کی کلی جمیعت کا نہایت قلیل نمائندہ پہلو ہوتا ہے ، مغربی دانش کے حلقے ان کا اطلاق پاکستان کی کلی صورتِ حال پر کرتے ہیں جس کا فائدہ انگریزی ادب تخلیق کرنے والے مالی طور پر اٹھاتے ہیں ۔ اور پھر ادبی میلوں میں بطور ادبی نمائندوں کے مخصوص سیاسی اور ثقافتی فکر کا پرچار کرتے دکھائے دیتے ہیں ۔ پاکستانیت کی بدلتی ہوئی صورتِ حال میں سیاسی رہنمائوں اور آمروں نے اپنا حصہ سب سے زیادہ ڈالا ۔ ہر سیاسی پارٹی کسی نہ کسی بیانیے کو اپنا سینٹر مانتی ہے باوجودیکہ یہ سیاسی جماعتیں اس سینٹرکو حاشیے پر رکھتی ہیں اور سرمایہ دارانہ فکر کے تتبع میں دکھائی دیتی ہیں ۔ بھلے بھٹو کی پیپلز پارٹی ہو ، جماعتِ اسلامی ہو ، مسلم لیگ نون ہو یا تحریکِ انصاف بیانیوں کے لنڈے بازار میں سرمایہ داری کے اترن کو سینے سے لگائے ہوئے مفادات کی منڈی میں گھومتی دکھائی دیتی ہیں ۔۱۹۷۱ کا سانحہ ، جنرل ضیا کی اسلامی کروٹ ، پیپلز پارٹی کا ثقافتی اچھلو ، مسلم لیگ نون کا کاسموپولیٹن نیم شعور ، مشرف بہ روشن خیالی کی بند گلی ، اور ٹرکش ماڈل سے ہوتا ہوا چین ماڈل کی ثقافتی یلغار میں تڑپتا پاکستان ،یہ سب بیانیہ در بیانیہ بدلتی صورت ِ حال عام پاکستانی کے لیے ناقابلِ فہم ہے۔ اور حال ہی میں ایک بھارتی چینل Kids Discovery کی پاکستان میں نمائش جس پر ہندومت کے مذہبی کردار کرشنا کو مبلغانہ انداز میں دکھایا جارہا ہے جس سے رہی سہی کسر بھی نکل گئی اب پاکستانی بچوں کے بیانیے میں کرشنا اور ہنومان بھی شامل ہوگئے ہیں ۔ کیا یہ سب Developments پاکستان کے مرکزی بیانیے سے ایک الگ رو میں بہنے کا نام نہیں ؟ کیا قراردادِ مقاصد محض ایک تاریخی بھول تھی؟ یا ہم انتظار کررہے ہیں کہ کب ہمارے سماج میں منی سکرٹس کو رواج ملے اور کب ہم اپنے بچوں کے نام کرشنا اور ہنومان رکھ سکیں…ہے کوئی جواب؟؟؟؟
اور اب آخر میں اپنے پسندیدہ ترین شاعر ظفر اقبال کا ایک شعر
جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اُس پر ظفر
آدمی کو صاحبِ کردار ہونا چاہیے


ای پیپر