چین : کرپشن کے خلاف مرد آہن شی جن پنگ تاحیات صدر
11 مارچ 2018

چین نے صدر کے عہدہ ٔ صدارت کی حد پر عائد پابندی ختم کر دی ہے جس کے بعد سے موجودہ صدر شی جن پنگ ممکنہ طور پر تاحیات صدر رہ سکتے ہیں۔اس آئینی تبدیلی کی منظوری نیشنل پیپلز کانگریس نے 11مارچ 2018 ء کو اپنے سالانہ اجلاس کے موقع پر دی۔کل 2964 ارکان پر مشتمل اس ادارے کے2 ارکان نے اس تبدیلی کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ3نے رائے شماری سے اجتناب کیا۔ باخبر حلقے جانتے ہیں کہ شی جن پنگ 2012 ء میں صدر بنے تھے اور جیسے جیسے چین علاقائی سپر پاور کے طور پر ابھرتا چلا گیا، شی جن پنگ اپنی سیاسی قوت بڑھاتے چلے گئے۔انہوں نے بدعنوانی کے خلاف سخت مہم چلائی ہے اور پارٹی کے10 لاکھ سے زیادہ ارکان کو سزا دی ہے۔ اس سے ان کی مقبولیت میں خاصا اضافہ ہوا۔ انہیں چین میں بدعنوانی کے خلاف ایک علامت اور استعارے کی حیثیت سے جانا جاتا ہے۔ بدعنوانی کے خلاف یہ جنگ انہوں نے انتہائی غیر جانبداری اور آہنی عزم کے ساتھ لڑی۔ ان کا نقطہ نظر ہے کہ دنیا میں کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی ،جب تک بر سر اقتدار جماعت اپنے ہی عہدیداروں اور سرکاری ملازمین کے خلاف آہنی اور بے رحمانہ احتساب نہیں کرتی۔ چینی عوام کی اکثریت انہیں کرپشن کے خلاف جنگ میں مرد ِ آہن کی حیثیت سے جانی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ انہوں نے بد عنوانی کی سرکوبی اور بدعنوان عناصر کو کڑی سزائیں دے کر چین کیقومی اور بین الاقوامی معیشت کو انتہائی مضبوط بنادیا ہے۔ سب مانتے ہیں کہ غربت اوربیروزگاری کے خاتمے اور ترقی و خوشحالی کا سفر اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک بدعنوانی کا مکمل سدباب نہیں کیا جاسکتا۔ بد عنوانی کے خلاف جنگ میں شی جن پنگ کے کارہائے نمایاں کی وجہ سے چینی قوم انہیں بابائے قوم مائوزے تنگ کے حقیقی جانشین کا درجہ اور مقام دیتی ہے۔ چین کے شہری اس حوالے سے انہیں ایک عظیم ریفارمر حکمران تسلیم کرتے اوہر اس محاذ پر ان کی کامیابیوں کو سراہتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کے اقدامات قابل تعریف ہیں۔ یقیناً کرپٹ عناصر کا قلع قمع کرکے انہوں نے چین کو اقتصادی لحاظ سے عالمی سپر پاور بنادیا ہے۔ ان کے دور میں چین کے زر مبادلہ کے ذخائر میں لائق رشک رشک اضافہ ہوا۔ یوں ایک مدبر حکمران کی حیثیت سے عالمی حکمرانوں کی صف میںانہوں نے اپنی اہلیتوں اور صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ انہی کے دور میں ون بیلٹ ون روڈ کے عظیم الشان منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے تاریخ ساز پیش رفت کی گئی۔
یہاں اس امر کا ذکر بے جا نہ ہوگا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے 25 اکتوبر 2017ء کو اپنے سیاسی نائبین کے ناموں کا اعلان کیا تھا جس سے ان کی ملک پر انتظامی و سیاسی گرفت کی مزید مضبوطی کے امکانات کا تأثر پیدا ہوا تھا۔اس موقع پر عالمی سطح پر یہ پیغام گیا تھا کہ چین کیسینیئر قیادت کمیٹی اور چین کے صدر شی جن پنگ نے جن ناموں کا اعلان کیا ہے ، وہ سیاسی نائبین ہیں لیکن روایت کے مطابق ان کے جانشین کا اعلان نہیں کیا گیا تھا۔ البتہ چین کے7 رکنی فیصلہ ساز ادارے پولٹ بیوور سٹینڈنگ کمیٹی میں پانچ نئے نام شامل کیے گئے تھے۔اس کمیٹی کے کسی رکن کی عمر میں 60سال سے کم نہیں ہے۔ یہ تمام تجربہ کار، جہاندیدہ اور علاقائی و عالمی امور پر گہری نگاہ رکھتے ہیں۔ ان کی بصیرت اور دانائی ہر شک و شبہ سے بالا ہے۔خیال رہے کہ سٹینڈنگ کمیٹی، پولٹ بیوو کے 25 ارکان کے ناموں کا اعلان چین کی کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا جو ملک کی اہم ترین سیاسی میٹنگ ہوتی ہے۔اس اجلاس میں 2000ء سے زیادہ اراکین نے شرکت کی۔تب ہی مغربی تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ ’ چین کی کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے در شی جن پنگ کے نظریات کو آئین کا حصہ بنانے کے حق میں ووٹ دے کر انہیں کمیونسٹ چین کے بانی ماؤزے تنگ کی صف میں شامل کرلیا گیا تھا۔ یہ امر پیش نظر رہے کہ اکتوبر 2017ء میںکمیونسٹ پارٹی نے شی جن پنگ کے نظریات کی منظوری دی تھی۔ اب سکول، کالجوں اور سرکاری کارخانوں میں یہ نظریات پڑھائے جائیں گے۔ کمیونسٹ پارٹی اس فیصلے کو جدید چین کے نئے باب کے آغازسے تعبیر کرتی ہے۔
ادھر امریکی صدر ٹرمپ نے اس تبدیلی کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے کہا تھا:’’ تاحیات صدر …میں سمجھتا ہوں کہ یہ بہت زبردست بات ہے،ہمیں بھی اس پر غور کرنا چاہیے‘‘۔تاہم بعد میں جب اس پر سخت تنقید ہوئی تو ٹرمپ نے کہا کہ میں تو مذاق کر رہا تھا۔سیاسی مبصرین کی رائے ہے کہ کانگریس بظاہر چین کا سب سے طاقتور قانون ساز ادارہ ہے اور اس کی حیثیت دوسرے ملکوں کے پارلیمان کی طرح ہے لیکن عملی طور پر اسے 'ربر سٹامپ' ادارے کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور اسے جو کہا جائے، وہ منظور کر دیتی ہے۔تاہم شی جن پنگ کو تاحیات صدر مقرر کرنے کا معاملہ کسی حد تک متنازع بھی رہا ہے لیکن چین میں عائد سینسر کی وجہ سے اس موضوع پر ہونے والی بحث سامنے نہیں آ رہی ہے۔تاہم ایک ناقد نے ایک کھلا خط لکھ کر اس آئینی تبدیلی کی تجویز کو 'مذاق' کہا ہے۔ایک سرکاری اخبار کے سابق مدیر لی داتونگ نے کہا کہ ’ صدر اور نائب صدر کے عہدے کی حد ختم کرنے سے انتشار جنم لے گا‘۔ انہوں نے یہ خط نیشنل کانگریس کے بعض ارکان کو بھیجا ہے۔انہوں نے بی بی سی چائنا کو بتایا: 'میں اسے مزید برداشت نہیں کر سکتا، میں اپنے دوستوں سے بات کر رہا تھا اور ہمیں اس پر سخت غصہ ہے، ہمیں اپنی مخالفت کی آواز اٹھانا ہو گی۔البتہ سرکاری میڈیا نے اس تبدیلی کو ایسی اصلاحات قرار دیا ہے جن کی ایک مدت سے ضرورت تھی۔


ای پیپر