کامریڈ جام ساقی بھی چلے گئے
11 مارچ 2018

قحط الرجال کے اس عمر میں جب کوئی بڑا آدمی رخصت ہوتا ہے تو دکھ اور غم کی شدت اس لحاظ سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ ان کا خلاء پر کرنے کے لیے اس لگن، قدوقامت اور قربانی دینے کا جذبہ رکھنے والی شخصیات نظر نہیں آتیں۔ کامریڈ جام ساقی بھی ان بڑے لوگوں میں سے ایک تھے۔ جام ساقی جدوجہد، نظریاتی کمٹمنٹ ،قربانی اور عوامی حقوق کے دفاع کا استعارہ تھے۔ انہوں نے جیلیں کاٹیں، عقوبت خانوں میں بہیمانہ تشدد سہا، غداری اور کفر کے فتوے برداشت کئے مگر کبھی اپنے نظریات، جمہوری حقوق اور محنت کش طبقے کے اجتماعی مفادات کا سودا نہیں کیا۔ وہ اپنے محاذ پر ڈٹے رہے۔ کامریڈ جام ساقی اس عہد کے نمائندے تھے جب سیاست کا محور نظریات اور لگن ہوتی تھی۔ وہ اس نسل سے تعلق تھے جو بیک وقت خوش قسمت بھی تھی اور بدقسمت بھی ۔ خوش قسمت اس لحاظ سے کہ اس نسل نے نظریاتی اور سیاسی کشمکش اور جدوجہد کے عروج کے عہد میں میدان سیاست میں قدم رکھا۔یہ وہ عہد تھا جب دائیں اور بائیں بازو کی تقسیم بہت واضح تھی۔ یہ پاکستان اور دنیا بھر میں عوامی تحریکوں کا عہد تھا۔ طبقاتی شعور اور جدوجہد اپنے عروج پر تھے۔ پاکستانی سماج اگرچہ نظریاتی اور سیاسی طورپر تقسیم تھا مگر بہت متحرک تھا۔ محنت کش ، کسان ، طلباء، خواتین اور نوجوان سیاسی طورپر متحرک تھے۔
جام ساقی کی نسل اس لحاظ سے خوش قسمت تھی کہ تمام تر مشکلات، تکالیف، رکاوٹوں، ریاستی تشدد اور جبر کے باوجود انہیں ایک بھرپور سیاسی عہد میں سیاست کرنے کا موقع ملا مگر یہ نسل اس لحاظ سے بدقسمت رہی کہ انہیں ایک ایسا عہد بھی دیکھنا پڑا جب سیاست میں نظریات، قربانی اور کمٹمنٹ کی جگہ سرمائے، موقع پرستی اور مصلحت نے لے لی۔ اس نسل سے تعلق رکھنے والے بڑے لوگ اب رخصت ہوتے جارہے ہیں، عوامی اور جمہوری حقوق کے لیے بلند ہونے والی توانا آوازیں ایک ایک کرکے خاموش ہوتی جارہی ہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں منو بھائی، عاصمہ جہانگیر اور جام ساقی چلے گئے ۔ سماج میں پہلے سے موجود خاموشی اور سناٹے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مزاحمت اور جدوجہد کی علامتیں اور استعارے منوں مٹی تلے ابدی نیند سوچکے ہیں۔
جام ساقی بھی اس قافلہ حریت کے شریک سفر تھے جنہوں نے اپنے نظریات ، فکر اور سیاست کی بڑی
قیمت ادا کی۔ انہیں اپنے نظریات سے ہٹانے کی ہرممکن کوشش کی گئی۔ انہیں جسمانی اور ذہنی اذیتیں دی گئیں۔ ان پر جھوٹے اور بے بنیاد الزامات عائد کرکے انہیںلوگوں کی نظروں میں گرانے کی کوشش کی گئی۔ اپنی جوانی کے 15سال انہوں نے جیل میں گزارے۔ شاہی قلعے کے عقوبت خانے میں اس وقت کے دستیاب تشدد کے تمام حربے اور سامان آزمائے گئے مگر جام ساقی نے نہ تو اپنی سیاست تبدیل کی اور نہ ہی نظریات۔ پاکستانی سماج کی یہ شروع سے ہی بدقسمتی رہی ہے کہ وہ سب لوگ جو اس سماج کا حسن تھے، جنہیں ہمارے ماتھے کا جھومر اور سر کے تاج کے ہیرے ہونا چاہیے تھا انہیں غدار قرار دیا گیا۔ ان کی کردار کشی کی گئی اور چند ایک کو تو اس قدر اذیتیں دی گئیں کہ وہ اس دنیا سے ہی رخصت ہوگئے۔ ان سب کا ایک ہی جرم تھا کہ وہ انقلابی تھے۔ اس ملک میں جاگیرداری ، سرمایہ داری اور قبائلی نظام کا خاتمہ کرکے عوام کا راج قائم کرنا چاہتے تھے۔ وہ آمریت کا خاتمہ اور جمہوریت کو مضبوط دیکھنا چاہتے تھے۔ وہ ایسی جمہوریت چاہتے تھے جو صرف اشرافیہ کے مفادات کی محافظ نہ ہو بلکہ حقیقی عوامی اور شراکتی جمہوریت ہو جس میں محنت کش عوام کا بھرپور حصہ ہو۔ ان کا جرم یہ تھا کہ وہ پاکستان کو ایک فلاحی، جمہوری، روشن خیال اور ترقی پسند ریاست اور سماج دیکھنے کے متمنی تھے۔ وہ خواتین ، مزدوروں ،کسانوں ،غریب اور مظلوم طبقات، مذہبی اقلیتوں کے لیے برابری کے حقوق چاہتے تھے۔ وہ پاکستان میں برداشت ، رواداری اور جمہوری روایات کا فروغ چاہتے تھے۔ اس طرح کی خواہشات رکھنا اور ان کے حصول کے لیے عملی جدوجہد کرنا ایک سنگین جرم رہا ہے۔ اس جرم کی سزا ہمیشہ جسم اور روح پہ چرکوں کی صورت میں ملتی ہے۔ جام ساقی کا تعلق سندھ کے پسماندہ ترین علاقے تھرپارکر سے تھا۔ وہ ایک محنت کش گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنی متحرک سیاست کا آغاز کمیونسٹ پارٹی سے کیا۔ انہوں نے سندھ نیشنل سٹوڈنٹ فیڈریشن (SNSF) کی بنیاد رکھی۔ ان کی کمیونسٹ پارٹی کے ساتھ طویل رفاقت رہی۔ وہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل بھی رہے۔ طویل رفاقت کے بعد وہ 1993ء میں پیپلزپارٹی میںشامل ہوگئے۔
جام ساقی ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP)کے ساتھ بھی وابستہ رہے۔ ان پر آخری مقدمہ بھی HRCPکے لیے ایک مقدمے کے حقائق جاننے کی کوشش پر بنا تھا۔ ان پر ارباب غلام رحیم کی وزارت اعلیٰ کے دور میں زیورات کی چوری کا جھوٹا مقدمہ درج ہوا تھا۔ اس وقت ملک پر جنرل (ر) پرویز مشرف کی حقیقی جمہوریت کا سکہ چلتا تھا۔ ارباب غلام رحیم کی حکومت نے انہیں اتنا تنگ کیا کہ وہ مجبوراً لاہور میں پناہ لینے پر مجبور ہوگئے۔ میری ان سے آخری طویل ملاقات اسی عرصے میں ہوئی۔
وہ پیپلزپارٹی میں ضرور شامل ہوئے تھے مگر وہ جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے کاسہ لیس کبھی نہیں بنے۔ وہ پارٹی میں بھی محنت کشوں ، ہاریوں، خواتین اور پسے ہوئے محکوم طبقات کے لیے آواز اٹھاتے رہے۔ انہوں نے کبھی بھی سیاست کو اپنے ذاتی فائدے اور مفاد کے لیے استعمال نہیں کیا۔ ان کا شمار پاکستان میں بائیں بازو کے ان رہنمائوں میں کیا جاسکتا ہے جن پر سوویت یونین کے انہدام اور سوشلسٹ بلاک کے خاتمے کے بے پناہ اثرات مرتب ہوئے۔ جیلوں میں طویل عرصے تک بند رہنے اور عقوبت خانوں میں گزرے شب وروز نے بھی ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کیے۔
ان کے نظریات سیاست اور چند فیصلوں سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر ان کی نظریاتی لگن، جدوجہد، قربانی اور جرأت اظہار سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ایک سچے اور کھرے انقلابی تھے جو پوری جرأت اور بہادری سے لڑے۔ پاکستان کے محنت کش عوام اپنے ایک سچے اور جرأت مند رہنما، ساتھی اور اتحادی سے محروم ہوگئے ہیں۔ جام ساقی ایسے وقت میں ہم سے رخصت ہوگئے جب ہمیں ان جیسے رہنمائوں کی ضرورت ہے۔ پاکستان کے حالات تیزی سے ایسی صورت حال کی جانب بڑھ رہے ہیں جہاں سیاسی زمین ان سب لوگوں کے لیے تنگ ہوتی جارہی جو اس ملک میں امن، انصاف، جمہوریت ، برابری، ترقی پسندی اور رواداری کے علمبردار ہیں۔ جمہوری آزادیوں، اظہار رائے اور عوامی سیاست کے راستے بند کئے جارہے ہیں۔ سیاسی حبس بڑھ رہاہے ۔ آئین، جمہوریت اور سیاسی حکومت کی موجودگی کے باوجود سیاست سکڑتی جارہی ہے۔ جمہوری آزادیاں، بنیادی انسانی حقوق، شخصی آزادیاں محدودہوتی جارہی ہیں۔ ہم قبرستان کی سی گہری خاموشی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات میں کامریڈ جام ساقی اور بھی یاد آئیں گے۔


ای پیپر