پولیس کا ہے فرض
11 مارچ 2018 2018-03-11

کسی بھی معاشرے میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے کتنے بھی قانون بنا لیے جائیں جب تک ان پر انصاف کے تقاضوں کے مطابق عمل درآمد نہیں کروایا جاتا وہ محض کاغذ کے ٹکڑے ہیں اور بس …اور پھر ایسا معاشرہ جہاں مظلوم کی داد رسی مشکل ہو… قانون نافذ کرنے والے ادارے کرپٹ جاگیرداروں اور سیاستدانوں کی جیب میں ہوں وہاں بے گناہ افراد اپنے حق کی خاطر لڑتے لڑتے اکثر زندگی کی بازی ہار جاتے ہیں، کبھی اپنے ہاتھوں کبھی قانون کے رکھوالوں کے ہاتھوں… ایسا کیوں ہے ؟ حصول انصاف جنوبی ایشیا خصوصاً پاکستان اور بھارت میں اتنا گراں کیوں ہے ؟ اس کے لیے ذرا پولیس کی تاریخ پر نظر ڈالنی پڑے گی ۔
مغلوں کے زمانے میں مختلف علاقوں کے زمینداروں کواپنی اپنی جاگیروں میں امن عامہ کو کنٹرول کرنے کے اختیارات دئیے گئے تا کہ مرکز پر بوجھ کم ہو سکے …اس مقصد کے لیے کوتوال مقرر کیے گئے…جو قانون میونسپل اور ریوینیو کے معاملات دیکھتے تھے …گاؤں کے چوکیدار اور چپراسی پٹرولنگ پولیس کا کردار ادا کرتے تھے…گروہی یا متشدد جرائم کو نپٹنا فوج کی ذمے داری تھی …مجموعی طور پر امن و امان کی صورت حال تسلی بخش ہوتی تھی کہ کسی بھی مسئلہ کی صورت میں علاقے کے کوتوال اور زمیندار سے سختی سے نپٹا جاتا تھا …
موجودہ پولیس نظام کا بنیادی ڈھانچہ برطانوی راج کا تحفہ ہے …جس کے تحت زمیندار کو اس ڈیوٹی سے فارغ کر کے ہر علاقے کا الگ الگ مجسٹریٹ اور داروغہ مقرر کر دیا گیا ، ماتحت عملے سمیت …
اس کے بعد پولیس کے نظام کو تھوڑا مزید ماڈرن کرتے ہوئے پنجاب پولیس کو ملٹری پریونٹو پولیس اور سول ڈیٹیکٹو پولیس کی صورت میں دو بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا مختلف اختیارات کے ساتھ …مگر یہ نظام کامیاب نہ ہو سکا تو گورنمنٹ آف انڈیا نے گورنمنٹ آف پنجاب کو پولیس نظام کو بہتر انداز میں تشکیل دینے کی ہدایت کی … مرکزی حکومت نے کمیشن بنایا جس کے ذمے پورے برٹش انڈیا کے لئے ایک فعال اور مربوط پولیس نظام بنانا تھا…اسی سال کلکتہ پولیس کمیشن نے پولیس کے ملٹری حصے کو ختم کرنے کے علاوہ صوبے میں انسپکٹر جنرل اور ڈسٹرکٹ میں ڈسٹرکٹ سپرینٹنڈنٹ کے تحت پولیس کا نظام چلانے کی سفارشات پیش کیں… ان سفارشات کی روشنی میں گورنمنٹ آف انڈیا نے ایکٹ 1861 (5) پاس کیا… پولیس کا وہی بنیادی ڈھانچہ آج بھی ہمارے ہاں قائم ہے …البتہ پنجاب پولیس رولز میں 1934ء میں کچھ نئی اصلاحات ضرور کی گئیں جس کی وجہ سے اس زمانے میں پنجاب پولیس نے خاصا مؤثر کردار ادا کیا…علاوہ ازیں 1937ء اور 1938ء میں مہاجرین کے مسائل کونئے وطن میں احسن انداز میں حل بھی کیا گیا …
1955ء میں تمام صوبوں کی مشترکہ پاکستان پولیس کا قیام عمل میں لایا گیا… آئی جی پاکستان کو ڈی آئی جی مغربی پاکستان اور ڈی آئی جی مشرقی پاکستان نے رپورٹ کرنا ہوتی تھی…اس دوران اصلاحات کی بہت ساری کوششیں بارآور نہ ہو سکیں… 1960ء کے بعد تک یونہی معاملات چلتے رہے… آخر 2001ء اور 2006ء کے درمیانی عرصے میں devolution of power plan کی وجہ سے پولیس کے قانونی ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں لائی گئیں…جن کے تحت صوبائی پولیس کو کسی حد تک اختیارات کے ساتھ ساتھ عوام کو بھی پولیس کے محاسبے کا اختیارتفویض کیا گیا…( جس کا عملی مظاہرہ شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آیا ہو گا ۔
ڈپٹی کمشنر کا عہدہ ختم کر کے ڈسٹرکٹ گورنمنٹ سسٹم لاگو کر دیا گیا ۔ 2001ء پنجاب لوکل گورنمنٹ آرڈی ننس اور پولیس آرڈر 2002ء نے پولیس ایکٹ 1861ء کی جگہ لے لی…جس کے تحت پولیس کے نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں رونما ہوئیں جن میں پبلک سیفٹی کمیشن کا قیام ، ڈسٹرکٹ ، صوبائی اور قومی سطح پرپولیس کو خودمختاری بھی دی گئی… مشاورتی گروپ بنائے گئے تاکہ عوام پولیس اور دوسرے اداروں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا پیدا ہو سکے ۔(جس کا آج بھی انتظار ہے )… انسپکٹر جنرل پولیس کومزید اختیارات دے دیے گئے …تحقیقاتی حصے کو پولیس کے دوسرے محکمات سے الگ کرنے کے علاوہ پولیس میں انسداد دہشت گردی کا بھی ایک الگ حصہ بنایا گیا…
موجودہ پنجاب پولیس کے نظام میں سی پی او لاہور میں بیٹھتا ہے جس کے ماتحت قانون، فنانس، ویلفیئر، اسٹیبلشمنٹ آپریشن ٹریننگ ریسرچ اور ڈویلپمنٹ آتے ہیں… جبکہ علاقائی پولیس افسر براہ راست انسپکٹر جنرل کو رپورٹ کرتے ہیں سی پی او سے ان کا کوئی واسطہ نہیں ہوتا…
یہ ہے ہمارا پولیس نظام ، خصوصا پنجاب پولیس کی تاریخ اور حال…
اب ذرا اس حساب کتاب پر غور کیجیے
پاکستان کی کل آبادی 20 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے اور کل رقبہ ہے 796096 کلو میٹر ۔
موجودہ حالات کے تناظر میں جبکہ سرحدوں پر خطرات بڑھ چکے ہیں ..اندرونی امن و امان کی بدترین صورت حال کے علاوہ ملک کے طول و عرض میں قوم کو دہشت گردی کا سامنا ہے ……جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح میں منشیات ، اسلحے اور انسانی سمگلنگ کا بہت بڑا ہاتھ ہے …اداروں میں کرپشن کی بھرمار اوپر سے لے کر نیچے تک جاری ہے … جن میں خود پولیس کا ادارہ بھی شامل ہے …لا تعداد دوسرے چیلنجز کا الگ سامنا ہے … ایسے میں پورے ملک میں محض 1680 پولیس سٹیشن موجود ہیں… جن میں بدعنوان عملے کی بہتات اور سہولیات کی کمی ہے …کہیں عمارت مخدوش ہے تو کہیں دوسرے وسائل کا فقدان… جہاں موجود ہیں وہاں مقامی عملے کے ذاتی استعمال میں ہیں…
پولیس عوام کے لئے کیا کر رہی ہے ؟ پولیس کی اپنی کیا مجبوریاں ہیں؟
ان کی کیا شکایات ہیں ؟
عوام کو پولیس کتنا تحفظ فراہم کر رہی ہے ؟ عوام کی کیا شکایات ہیں ؟ پولیس واقعی با اختیار ہے یا اس کے ہاتھ کچھ نادیدہ قوتوں نے باندھ رکھے ہیں ؟ وہ قوتیں کونسی ہیں ؟
ڈھیروں سوال کلبلاتے ہیں ذہنوں میں ، جب پولیس کے ہاتھوں ان کاؤنٹر یا حوالات میں تشدد کے باعث ہلاکتیں ہوتی ہیں… جب مجرم دن دیہاڑے سنگین ترین جرائم کے بعد ہاتھ نہیں آتے…جب پولیس محض چند افراد یا حکومتی طبقے کی ذاتی غلام نظر آتی ہے … ان سوالات کے کچھ جوابات پولیس کو بھی اسی قوم کے مجبور افراد سمجھ کر دیے جا سکتے ہیں…اور کچھ جوابات میں پولیس بھی مجرموں کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے مفادات کی دوڑ میں…سو کچھ باتیں کسی اگلے کالم میں ہوں گی…


ای پیپر