فوجی دستہ جنگ نہیں ، تربیت دینے سعودیہ جا رہا ہے
11 مارچ 2018

پاک فوج کی طرف سے سعودی عرب میں ایک ہزار فوجیوںپر مشتمل تازہ دستے کی تعیناتی پر بعض سیاستدان اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب کہ ہر ایک کو علم ہے کہ یہ فوجی کسی باقاعدہ جنگ کا حصہ بننے نہیں بلکہ سعودی افواج کی تربیت کے لیے جا رہے ہیں تو اس کی مخالفت کی وجہ کیا ہے ؟
کیوں عوام میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ پاک فوج پارلیمنٹ کی پاس کی گئی اس قرارداد کا احترام نہیں کررہی جسے2015 میں پارلیمنٹ نے اس وقت پاس کیا تھا جب یمن میں جنگ کا آغاز ہوا تھا اور پاکستان سے باقاعدہ فوج بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی؟ خطے اور عالمی سیاست کے موجودہ حالات میں پاک فوج کی سعودیہ میں تعیناتی کے مخالف احمق ہیں۔
پاک فوج کے تازہ دستوں کی سعودی عرب میں تعیناتی پر ایسی حالت میں عوام کے اندر تشویش بڑھ گئی ہے کہ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان دستوں کو یمن بھیجا جائیگا۔ حالانکہ یہ فیصلہ وزیر اعظم کی منظوری سے کیا گیا ہے ۔
اس وقت پاکستانی افواج کے 1379 اہلکار سعودی عرب میں تعینات ہیں جن میں سے بیشتر کا تعلق پاک فوج سے ہے جبکہ کچھ پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کے حکام بھی ان میں شامل ہیں۔ نئی تقرریوں کی تعداد1000 اہلکاروں سے کچھ اوپر بتائی جاتی ہے ۔ پاکستانی فوجیوں کی سعودی عرب میں تقرری کوئی نئی بات نہیں کیونکہ سعودی عرب کے ساتھ فوجی تعاون 1982ء میں ہونے والے تربیتی اور مشاورتی معاہدے کے تحت ہو رہا ہے ۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی قربت اتنی زیادہ ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے عہدے کے پہلے سال کے دوران پانچ بار سعودی عرب کا دورہ کر لیا ہے ۔
سعودی عرب فوج بھیجنے کا مسئلہ متنازعہ نہ بنایا جائے۔ پاکستان کی طرف سے تربیتی اور مشاورتی مشن پر سعودی عرب فوج بھجوانے کا فیصلہ قابل تحسین ہے ۔ جب بھی سعودی عرب فوج بھجوانے کی بات ہوتی ہے بعض سیاستدان پروپیگنڈہ کرکے ایک طوفان اورانتشار کی کیفیت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایک مخصوص لابی پاک سعودی تعلقات کو خراب کرنا چاہتی ہے اور کچھ حلقے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مضبوط اور مستحکم تعلقات نہیں دیکھنا چاہتے۔ پاکستان حرمین الشریفین کے تحفظ کیلئے اپنی افواج وہاں بھیجے۔
ایک آزاد اور خود مختار ملک اور پوری مسلم دنیا کے دوست ہونے کے ناطے پاکستان کا یہی کردار بنتا تھا کہ وہ برادر مسلم ممالک کے مابین کسی تنازعہ میں فریق بننے کے بجائے مسلم امہ کے اتحاد کی خاطر تنازعہ ختم کرانے کی کوشش کرے۔ اس قرارداد کی بنیاد پر پاکستان نے سعودی عرب اور ایران دونوں کو یمن کے تنازعہ میں مفاہمت کی پیشکش کی اور اس کے لئے عملی اقدامات بھی اٹھائے جن کے تحت وزیراعظم اور آرمی چیف نے سعودی عرب کے دورے بھی کئے۔
حکومتوں اور خارجہ پالیسی کے تغیر ات بین الاقوامی تعلقات پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں، لیکن پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کی تاریخ میں دوام تابناکی کا عنصر ہمیشہ نمایاں رہا ۔ اگرچہ چند مواقع پر یہ تعلقات معمولی اتار چڑھائو کا شکار بھی ہوئے لیکن یہ خفگی وقتی ثابت ہوئی اور زیادہ دیر برقرار نہ رہی۔ دونوں برادر ممالک میں دوستی کا پہلا معاہدہ شاہ ابن سعود کے زمانے میں 1951ء میں ہوا۔
شاہ فیصل کے عہد میں پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات مثالی رہے۔ سعودیہ پاکستان کو بلاشبہ خاص اہمیت دیتا ہے ۔ وطن عزیز پر جب کوئی مشکل آئی سعودی عرب نے حتی المقدور پاکستان کی مدد کی۔ پاکستان جنگوں میں الجھایا اس پر افغان مہاجرین کا بوجھ پڑا تو سعودی عرب نے پاکستان کا دامے، درمے، قدمے، سخنے ساتھ دیا۔
پاکستان نے 1998ء میں بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کرنے کا فیصلہ کیا تو مغربی اتحادیوں نے سعودی عرب کی وساطت سے پاکستان پر دبائو بڑھانا چاہا لیکن اس کے برعکس سعودی عرب نے پاکستان کی ہمت بندھائی کہ وہ ایٹمی دھماکے ضرور کرے۔ سعودی عرب نے اگر پاکستان کا ہمیشہ ساتھ دیا تو پاکستان نے بھی اس کے لئے بہت کچھ کیا۔ خاص طور پر دفاعی حوالے سے پاکستان نے اْسے مضبوط کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ 1967ء میں پاکستان اور سعودی عرب کا فوجی معاونت کا معاہدہ ہوا جس کے تحت سعودیہ کی بری، بحری اور فضائی افواج کا کام پاکستان کو سونپ دیا گیا۔ عراق کے کویت پر حملے کے بعد امریکہ کے عراق پر حملے کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کی معتدبہ تعداد مقاماتِ مقدسہ اور دیگر تنصیبات کی نگرانی پر مامور رہی۔
جب سعودی عرب اور یمن کے مابین جنگ چھڑ ی تو اْس نے پاکستان سے فوج بھیجنے کی درخواست کی، معاملہ چونکہ دو مسلمان ملکوں کے مابین تھا چنانچہ پارلیمان نے اس مسئلے میں مداخلت کی سخت مخالفت کی۔ پاکستان نے فوج تو نہ بھیجی البتہ یہ ضرور یقین دلایا کہ اگر سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو پاکستان اپنے تمام تر وسائل بروئے کار لائے گا۔ کچھ عرصہ قبل قطر کے معاملے میں بھی پاکستان نے یہی طرز عمل اپنایا تاہم اب حالات مختلف ہیں۔ پاکستان کسی کی جنگ خود لڑنے کی بجائے تربیت کا فریضہ سرانجام دے رہا ہے کہ برادر اسلامی ملک ناقابل تسخیر دفاع کا حامل ہو سکے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے مابین سیکورٹی تعاون جاری ہے اور پاک فوج کے مزید دستے سعودی عرب بھجوائے جا رہے ہیں جو سعودی فورسز کو ٹریننگ دیں گے۔یہ اور پہلے سے موجود دستے سعودی عرب سے باہر تعینات نہیں کئے جائیں گے۔ پاک فوج خلیج اور دیگر ممالک کے ساتھ بھی سیکورٹی تعاون کر رہی ہے ۔ پاکستان کا حالیہ اقدام اس لئے بھی قابل اعتراض نہیں ہونا چاہئے کہ پاکستان کی مسلح افواج سعودی فورسز کو تربیت دینے کے لئے بھیجی جا رہی ہیں اس کے سوا ان کا کوئی اور مقصد نہیں ۔ پاکستان کو اس سے البتہ یہ فائدہ ہو گا کہ دونوں ملکوں میں سردمہری گرم جوشی میں تبدیل ہو جائے گی اور سعودی فورسز بھی اپنے دفاع کے قابل ہو جائیں گی۔
دو سال قبل سعودی عرب اور یمن کے مابین جنگ کی فضا پیدا ہونے پر برادر سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے فوجی تعاون طلب کیا گیا تو ملکی سلامتی اور قومی مفادات کے تقاضوں کے حوالے سے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں زیر بحث آ گیا تھا اور پھر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں برادر سعودی عرب کو حجاز مقدس کے تحفظ کے لئے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا گیا تاہم یمن کے خلاف سعودی جنگ کا حصہ بننے سے معذرت کر لی گئی اور اس حوالے سے بھی پیشکش کی گئی کہ فریقین کے مابین کسی قسم کے تنازعہ کے تصفیہ کے لئے پاکستان مصالحانہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے ۔


ای پیپر