کرپٹ عناصر:قانونی و عدالتی جنگ لڑنے کے مجاز نہیں
11 مارچ 2018 2018-03-11

سخن شناس دوستو! میرے مطابق من پسند احتساب، مقدس گائے کا نظریہ اور دوہرا معیار بھی بدترین قسم کی کرپشن ہے۔میرے نزدیک ’دانش کی کرپشن‘‘ کے معاملہ سے بھی عدالت عظمیٰ، ارباب حکومت اور احتسابی اداروں کو آگے بڑھ کر نبٹنا چاہیے۔ وہ لوگ جنہوں نے ملک پر ڈکٹیٹروں کے قبضہ کی توثیق کی ا، ملکی سلامتی کو دائو پر لگایا، سول حکمرانوں کے قصیدے لکھ کر کروڑوں کے فائد اٹھائے ان سب لوگوں کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔ وہ سیاستدان ہوں، میڈیا ہائوسز کے مالکان ہوں،صحافی ہوں، قلم کار ہوں، کالم نگار ہوں یا اینکر پرسنز۔

یوں تو پاکستان میں ہر سیاستدان آئین، اصولوں، ووٹ کے تقدس، پارلیمان کی بالادستی اور جمہوریت کے تسلسل کی مالا تو ہر کوئی جپتا ہے لیکن اکثر سیاستدان اپنے عمل سے خود جمہوریت کی نفی کرتے ہیں۔ ووٹ کو عزت دو کے نعرے لگاتے اور ووٹ کی تقدیس کا ورد تو کرتے ہیں لیکن جب اقتدڈار کے ایوانوں میں پہنچتے ہیں تو نہ تو عوام سے رابطہ برقرار رکھتے ہیں اور نہ ہی پارلیمان کے اجلاسوں میں شرکت کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں نہ غربت ، بیروزگاری،بدعنوانی، اقربا پروری کرتے ہیں بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں قلعہ بند ہوکر رہ جاتے ہیں۔ جب سڑکوں پر نکلتے ہیں توسکیورٹی کے نام پر 72,72 گاڑیوں کے موٹر کیڈ ان کے آگے پیچھے اور دائیں بائیں ہوٹر بچاکر ہٹو بچوں کا شور مچاتے ہیں۔ جدھر سے یہ گزرتے ہیں، سڑکوں اور بستیوں پر کرفیو کا گماں گزرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی بات کرنا ہر سیاستدان اپنے ایمان کا حصہ سمجھتا ہے مگر بھول جاتا ہے کہ اصل معاملہ اپنی کہی ہوئی باتوں پر عملدرآمد ہے۔ ناگوار صورت حال یہ ہے کہ حکمران جماعتوں کے سیاستدان پاکستان میں آئینی اور جمہوری اصولوں کی بات صرف اس وقت کرتے ہیں، جب وہ خود ان سے کوئی فائدہ لینا چاہتے ہیں۔

میری خواہش ہے کہ ہماری قوم اب یہ فیصلہ کرے کہ اصول و ضوابط پر سب نے عمل کرنا ہے۔ اس میں افراد کو استثنیٰ حاصل ہے نہ اداروں کو۔ ملک میں احتساب کڑا اور بلاامتیاز ہونا چاہیے۔ اس میں یہ تفریق نہ کی جائے کہ کرپشن میں مبتلا فرد کا تعلق کس جماعت، پارٹی یا ادارے سے ہے بلکہ سب کے یکساں احتساب کے لیے جمہوری حکومتوں کا پہلا فرض خود احتسابی کا نظام وضع کرنا ہوتا ہے۔ یہ کام نہ پیپلز پارٹی نے کیا اور نہ ہی پاکستان مسلم لیگ ن نے۔ دونوں اپنے عہد اقتدار میں غیر ضروری تفریحی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ ساڑھے چار سال نواز شریف وزیر اعظم رہے اور وہ ایک خود مختار ، غیر جانبدار اورآزاد احتسابی ادارے کا قیام عمل میں نہیں لاسکے۔ یقیناً یہ مجرمانہ تغافل تھا، جس کا خمیازہ آج انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اور وہ مجھے کیوں نکالا کی دہائی دے رہے ہیں۔

سب سے تو بڑا سچ ہے کہ ماضی میں سوئس بینکوں میں پڑے اربوں ڈالر، این آئی سی ایل سکینڈل ، قومی دولت کی لوٹ مار،کرپشن، کمیشن اور قرضوں کی معافی کی ہوشربا داستانوں کے بارے میں بھی قوم جاننا چاہتی ہے اور ان کا بھی حساب ہونا چاہئے کیونکہ یہ احتساب کا وقت ہے۔ قوم کو علم ہے کہ ماضی میں کرپشن اور لوٹ مار کس نے کی ہے؟ نام نہاداشرافیہ المعروف بد عنوان بد معاشیہ کے ہاتھوں ہماری قوم زخم خوردہ ہے،ملک کی ابتر صورت حال کے ذمہ دار پنجاب، سندھ، بلوچستان، خیبر پی کے ،آزاد کشمیر، گلگت بلتستان یا پاکستان کے کسی بھی حصے کا وہ شہری نہیں جو محنت کر کے اپنی روزی کماتا ہے بلکہ اس کی ذمہ دار وہ سیاسی اور فوجی قیادت ہے جو اقتدار میں رہیں۔ صاف، شفاف اور بے لاگ احتساب کیلئے قوم متحد ہے۔ ہمیں وقت ضائع کیے بغیر سنجیدگی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ میری سوچی سمجھی رائے ہے کہ قومی دولت لوٹنے والوں کے شفاف، بلاامتیاز اور بے لاگ کڑے احتساب کا وقت آگیا۔ قوم فیصلہ کرچکی کہ قومی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے والوں سے لوٹی ہوئی دولت واپس لی جائے۔

یاد رہے کہ21ویں صدی کے پہلے عشرے کے ابتدائی برسوں میں اسلام آباد میں پاکستان اوربرطانیہ کے عدالتی تعاون کے مشترکہ ورکنگ گروپ کا دو روزہ اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں برطانیہ نے پاکستان کو مطلوب افراد اور لوٹی گئی دولت کی واپسی پر قانونی تعاون فراہم کرنے پر بھی رضا مندی ظاہر کی تھی۔ بتایاگیاتھا کہ اس سلسلے میں عنقریب بعض اصولوں کا تعین کیا جائے گا، جنہیں آئندہ متوقع اجلاس میں غور و فکر کے لئے پیش کیا جائے گا۔ اجلاس میں دہشت گردی، مالیاتی امور اور منی لانڈرنگ کے خلاف پاکستانی مذاکرات کاروں نے بھرپور روشنی ڈالی۔ستم ظریفی یہ ہے کہ آئندہ متوقع اجلاس برس ہا برس گزرنے کے باوجود تادم تحریر نہیں ہوا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ لوٹی گئی قومی دولت اور پاکستان کو مطلوب افراد آج بھی اہم ترین، حساس ترین اور سنگین ترین نوعیت کے مسائل ہیں۔مالی امور پر نگاہ رکھنے والے ماہرین کی رائے ہے کہ ’پاکستان سے لوٹ کھسوٹ کے ذریعے بیرون ملک لیجائی جانے والی رقم کا تخمینہ چار سو ارب ڈالر ہے ، اگر یہ رقم واپس لائی جائے تو پاکستان کے 80 ارب ڈالر کے قرضے ادا کرنے کے باوجود اتنی رقم حاصل ہو جائے گی کہ پاکستان میں کوئی غریب نہیں رہے گا‘۔ نیز ’سوئٹزر لینڈ اس وقت تک 10 سے زائد ممالک کو لوٹ مار کے اربوں ڈالر واپس کر چکا ہے‘۔ اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن بھی دائر کی گئی ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق قومی خزانے سے لوٹی گئی دولت کے 375ارب ڈالر بیرونی بینکوں میں پڑے ہیں، جنہیں ملک میں لاکر نہ صرف آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے 70ارب ڈالر کے قرضے چکائے جاسکتے ہیں بلکہ اس دولت کو عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جا سکتا ہے اور عام آدمی کو زندگی کی بنیادی سہولتیں فراہم کرکے ملک سے غربت جہالت بدامنی اور دہشت گردی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ سوئس بینکوں میں پاکستانیوں کے 200 ارب ڈالر موجود ہونے کی اطلاعات ہیں۔ سوئس بینک کے ایک ڈائریکٹر نے سوئس بینکوں میں موجود پاکستانی دولت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ پاکستان صرف سوئس بینکوں میں پڑی دولت سے 30 سال تک ٹیکس فری بجٹ بنا سکتا ہے۔ 6 کروڑ پاکستانیوں کو ملازمتیں دی جاسکتی ہیں۔ کسی بھی دیہات سے اسلام آباد تک چار رویہ سڑکیں تعمیر ہوسکتی ہیں۔ 500 سماجی منصوبوں کو ہمیشہ کے لیے مفت بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔پاکستان کا ہر شہری 60 سال کے لیے ماہانہ 20 ہزار تنخواہ حاصل کرسکتا ہے اور پاکستان کو کسی بھی عالمی بینک یا آئی ایم ایف سے بھیک مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی‘جبکہ ایک اور رپورٹ کے مطابق دبئی میں پاکستانیوں کی سوئٹزرلینڈ سے دس گنا زیادہ غیر قانونی رقم موجود ہے۔

قومی خزانے پر نقب لگا کر حاصل کی گئی رقم کسی بھی صورت بد عنوان عناصر کی ذاتی مِلک نہیں ہوتی۔ کروڑوں شہریوں کے حق کی پامالی کرنے والے وطن دشمن اور عوام دشمن عناصر کسی بھی طور بنیادی انسانی حقوق کی آڑ لے کر لوٹی ہوئی قومی دولت کے تحفظ کی قانونی و عدالتی جنگ لڑنے کے مجاز نہیں ہوتے۔


ای پیپر