ہوس کی آگ اورمقدس رشتے
11 مارچ 2018 2018-03-11

آج پھر سرِشام جب ملگجے اندھیرے دھیرے دھیرے ہرسواتررہے تھے ،وہ اپنے دوستوں کے ساتھ اسی ویران شاہراہ پرکسی تازہ شکارکی تلاش میں تھا۔اس کی بے چین، مضطرب اورہوس بھری نگاہیں کسی دوشیزہ کی منتظرتھیں ۔وہ عرصہ درازسے یہی کھیل کھیلتاآیاتھا، رقص ابلیس کی فسوں کاری کاپھرسے وہی مظاہرہ کیا جاناتھا۔انتظارکی گھڑیاں طویل ہوتی جارہی تھیں مگروہ اپنی جگہ جمارہا، اس کی نگاہیں اٹھیںاور امیدبھرآئی ، ایک نسوانی ہیولا نقاب اوڑھے ان کی جانب چلاآرہاتھا۔اشارہ پاتے ہی وہ سب اندھیرے سے نکلے اورقدم قسمت کی ماری اس دوشیزہ کاتعاقب کرنے لگے ۔اپنی جانب بڑھتے ہوئے اس خطرے سے بے نیازوہ خراماں خراماں چلی جارہی تھی۔ اچانک وہ نوجوان اس کے سامنے آکھڑاہوا، وہ اس دوشیزہ کو حجاب سے بے حجاب کرناچاہتاتھا، اس کی ہوس زدہ نگاہیں اس کے دیدارسے سرفرازہوناچاہتی تھیں ، اس کے ہاتھ اس کے گدازجسم کوچھوناچاہتے تھے ، اس کے مچلتے جذبات اسے بہالے جانے پرمصر تھے ۔وہ اپنی اس دیرینہ خواہش کوعملی جامہ پہناناہی چاہتاتھاکہ یک دم دوسری طرف سے خودہی حجاب الٹ دیاگیا، اس نوجوان کوجیسے ہزاروولٹ کاکرنٹ چھوگیاہو،کچھ دورکھڑے اس کے دوستوں نے اسے لرزتے اورپیچھے ہٹتے دیکھا۔یوں لگا جیسے اس کے سامنے کائنات کے سارے حجاب اٹھادیے گئے ہوں ، جیسے اس کے سامنے اس کی ایک ایک بدعملی سے پردہ کشائی ہورہی ہو، زمین اس کے پیروں تلے نہیں اورآسمان جیسے پھٹ پڑاہو۔
آج رات وہ جس بنت حواکی عزت کی دھجیاں اڑانے چلاتھاوہ تواس کی اپنی بہن نکلی، وہیں کھڑاوہ شرمندگی اورپشیمانی کے ہاتھوں زمین میں گڑاجارہا تھا ۔ پہلے آنکھیں آنسوئوں سے ترہوئیں پھرساون کی طرح برسنے لگیں ، مٹی بھی ان آنسوئوں کویوں جذب کررہی تھی جیسے مدتوں وہ ان آنسوئوں کی پیاسی ہو۔وہ پیچھے ہٹا اور تاریکی میں کہیں کھوگیا، اس کی کوئی خبرنہ ہوئی ، جب خبرہوئی تواس وقت تک وہ اخبارکی خبربن چکاتھا، پھانسی کے پھندے سے جھولتا اس کاجسم اس روح سے آزاد ہو چکا تھا جس روح نے کئی روحوں کوادھیڑکررکھ دیاتھا۔
ہوس کی یہ چنگاری آج بھی کئی سینوں میں سلگتی ہے ، اکثریہ چنگاری بھڑکتی آگ کاروپ دھارے کئی نوجوانوں کوبھسم کرڈالتی ہے ۔اس آگ میں انسانیت جل کر راکھ کاڈھیربن جاتی ہے۔آج بھی انہی شاہراہوں پر، ویران گلیوں میں ، شامیں ڈھلتے ہی ، گھپ اندھیروں میں اوراب صبح کے اجالوں میں کئی عزتیں لٹتی ہیں، آنسوئوں کے سیلاب رواں ہوتے ہیں، ہوس کی آگ میں خاکسترہوجانے والی عزت وناموس کی دم توڑتی دبی دبی سسکیاں اورکبھی کبھاردلدوزچیخیں بھی سنائی دیتی ہیں ۔یہ کھیل اپنی تمام ترحشرسامانیوں کے ساتھ اپنی اوربیگانی کاامتیازکئے بغیرزورشورسے جاری ہے ، اب بھی ہوس پرستوں کایہ قافلہ نازک اندام جسموں کو روندتا چلا جا رہا ہے۔
مقدس رشتے بھی اس ہوس کی زدمیں ہیں ، کبھی مقدس رشتوں کی پامالی یوں ہوتی ہے کہ بھائی بہن کورکھیل بنالیتاہے اوراسے دوستوں کے سامنے نوچنے کے لئے چھوڑدیتاہے، کبھی باپ چندٹکوں کے عوض کم سن بیٹی کی عزت وآبروبوڑھوں کے ہاتھ فروخت کرنے میں ذرابھی نہیں ہچکچاتا ،کبھی تو یہ کھیل نکاح کی آڑ میں کھیلا جاتا ہے ،کبھی قصاص کوبنیادبنایاجاتاہے توکبھی جاہلانہ رسمیں اس کی موجب بنتی ہیں، کبھی خاوندبیوی کوجوئے میں ہارکربڑھکیں مارتاہے توکبھی دوستوں کے لئے بخوشی اسے نوالہ بناتاہے ، کبھی سسرہی بہوکی عزت پرہاتھ ڈالتاہے توکبھی استاد شاگرد کوکئی جھانسے دے کراپنے بسترکی زینت بناتاہے ،کبھی مسیحاسِسٹرکہلائی جانے والی نرس کاسفیدلباس داغدارکرتاہے توکبھی یوں بھی ہوتاہے کہ پنچایت بھرے مجمع میں کئی لوگوں کے ہاتھوں قوم کی بیٹی کی عزت لٹنے کاتماشادیکھتی ہے ، عزیزواقارب بھی اس میدان میں اترچکے ہیں ، ہمسائے گھرلوٹ کے بھی گھرلوٹنے کی تاک میں ہیں ۔یہی وہ لوگ ہیں جودوسروں کی عزتیں لوٹنے کے زعم میں اپنی ہی مائوں بہنوں کوخس وخاشاک کی طرح ہوس کی منہ زورآندھیوں میں اڑاڈالتے ہیں ۔المیہ یہ نہیں کہ یہ ہوچکاہے ،المیہ تویہ ہے کہ یہ ہورہاہے ۔میں کس کس طرح بے حس معاشرے کاگریبان چاک کروں ،میں کس طرح وہ آئینہ دکھائوں جویہ عکس دکھاتے دکھاتے خودکرچی کرچی ہواجاتاہے ۔
پامال ہوتے یہ مقدس رشتے اورنوحہ کناں یہ ادھڑی لاشیں سوال اٹھاتی ہیں ، وہ پوچھتی ہیں بتائوتوسہی موردِ الزام ٹھہرائیں توکسے؟کیاان والدین کوجن کی ناقص تربیت اورروشن خیالی کایہ شاخسانہ ہے۔ کیا قصوروار ٹھہرائیں تواس میڈیاکوجوآزادی کی آڑمیں چندکاغذکے ٹکڑوں کے بدلے عزت کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے نیم برہنہ صنف نازک کوسرِبازاراشتہاربناکراسے نوچنے کی دعوت عام دیتاہے، کیابراکہیں توان علماء کوجواپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی کرتے ہوئے خودکوصرف منبرومحراب تک محدود کرکے مسجدومدرسہ کی چاردیواری میں محبوس ہیں، کیالعن طعن کریں توان دانشوروں کوجن کے ذہن اسلام بیزاراورمغربی اطوارکے پرستارہیں اوروہ اسی تہذیب کا ڈھنڈوراپیٹتے ہیں ،کیادوشی ٹھہرائیں تومغرب سے درآمدشدہ اس نصاب تعلیم کوجوانسانوں کوحیوانوں کادرس دیتاہے، کیاماتم کریں توان حکمرانوں کی عقل ودانش پر جنہیں یہ پرواتک نہیں کہ کون لٹااورکیوں لٹا، آخرکون ہے جو اس تباہی کاذمہ دارہے؟گویاوہ زبان حال سے یوں کہہ رہی ہوں ’’تم سب ہی اس حمام میں ننگے ہو‘‘۔ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ ان مسلمانوں نے ایساکیاچھوڑدیاجوہمیں نہیں چھوڑاجارہا؟ان سے ایساکیالٹ گیاجوہمیں لوٹا جا رہا ہے؟ کیاوجہ ہے کہ عزتوں کے محافظ ہی بھیڑیوں کی طرح ہمیں نوچ رہے ہیں ؟وہ خودہی کھوج لگاتی ہوئی یہ آشکاراکرتی ہیں کہ مسلمان کئی دہائیوں سے اسی قلعہ کونقب لگانے میںلگے ہیں جوقلعہ عزتوں کامحافظ تھا ۔ہاں یہی وہ قلعۂ اسلام ہے جس نے زندہ درگورہوتے وجودزن سے کائنات کورنگ وزینت بخشی، جس نے مقدس رشتوں کوتقدیس سے سرفرازکیا، جس نے ان تمام راہوں کو مسدود کیا جن کی منزل تباہی کے سواکچھ بھی نہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جس سے پہلوتہی کی جارہی ہے ،لٹیرے اسی بدعملی کی کوکھ سے جنم لے رہے ہیں،اس قلعہ میں محصورہوناہی عزتوں کاضامن ہے، اسی سے عزتوں کی حفاظت ممکن ہے بصورت دیگرعزتیں لٹتی رہیں گی، مقدس رشتوں کی بے حرمتی ہوتی رہے گی، دنیاجہان کی تہذیب مسلمانوں میں سمٹ آئے لیکن ایک اسلام نہ ہواتوسب کچھ بکھرجائے گا۔
یہ سچ ہے کہ اسلام بھی ہے اوراسلامی نام بھی لیکن جومقصودہے وہی مفقودہے اوروہ ایک کٹھن کام نفاذِاسلام ہے، اسی طرف اقبال نے اشارہ کیاہے کہ:
یوں توسیدبھی ہو، مرزابھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو بتائو تو مسلمان بھی ہو؟


ای پیپر