عورت کا دائرہ عمل اور فلاحی معاشرہ کا قیام
11 مارچ 2018 2018-03-11

نئی مغربی معاشرت کے تین نظریات جن میں عورتوں اور مردوں کی مساوات کے معنی یہ سمجھ لیجئے کہ عورت اور مرد نہ صرف اخلاقی مرتبہ اور انسانی حقوق میں مساوی ہوں بلکہ تمدنی زندگی میںعورت بھی وہی کام کرے جو مرد کرتے ہیں۔دوسری طرف عورتوں کے معاشی خود مختاری نے اسے مرد سے آزاد کر دیا ہے اور قدیم اصول کہ مرد کمائے اور عورت گھر کا انتظام کرئے اب بدل کر عورت اور مرد دونوں کمائیں اور گھر کا انتظام بازار کے سپرد کر دیا گیا ۔تیسری طرف دونوں صنفوں کا آزادانہ میل جول صنفی میلان پیدا کرتا ہے جو پہلے ہی فطری طور پر مرد اور عورت کے درمیان موجود ہے اور کافی طاقت و ر ہے۔اس میلان کو تعمیری اور تخلیقی کاموں کے لیے استعمال کرنا اورمرد اور عورت کی ذہنی اور اخلاقی قوتوں کی نشونما کرنا ضروری ہے۔مگر اسلامی معاشرے نے اس میل جول کو چند اخلاقی حدود میں مقید کیا جس سے معاشرے میں توازن اور خوبصورتی پیدا ہوئی۔
دین اسلام نے عورت کے تمام حقوق و فرائض مختص کر دیئے ہیںاور ایک جامع اور کامل دین ہمارے پاس قرآن پاک اور سیرت طیبہّ کی شکل میں موجود ہے اسی میںعورت کی اصل پہچان ہے فطرت نے تمام انواع کی طرح انسان کو بھی دو ایسی صنفوں کی صورت میں پیدا کیا ہے جو ایک دوسرے کی جانب طبعی میلان رکھتی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر فضیلت بخشی ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:اللہ نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اسکے جوڑے کو پیدا کیا۔(سورۃ انساء)اللہ تعالیٰ کے نزدیک عورت اور مرد میں کوئی فرق نہیںہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:مرد جیسے عمل کریںانکا پھل وہ پائیں گے اور عورتیں جیسے عمل کریں انکا پھل وہ پائیں گی۔ (سورۃ انساء)
ایمان اور عمل صالحہ کے ساتھ روحانی ترقی کے جو درجات مرد کو مل سکتے ہیں وہی عورت کیلئے بھی کھلے ہوئے ہیں جیسے ابراہیم بن ادھمؒ اور رابعہ بصریؒ… غرض کہ قرآن پاک میں کئی جگہ مرد اور عورت کو ایک ساتھ پکارا گیا ہے سورۃ انساء میں ارشاد ربانی ہے کہ: ’’مرد عورتوں پر قوام ہیں اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ نے ان میں سے ایک دوسرے پر عطا کی ہیں اور اس بنا پر کہ وہ ان پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں‘‘…اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو ایک دوسرے پر درجات میں فضیلت بخشی ہے۔ جب عورت گھر میں بیٹی کے روپ میں موجود ہے تو ہمارے نبیﷺ اس کے آنے پر اپنی چادر بچھا دیتے ہیں اور فرماتے ہیں جس نے دولڑکیوں کی کفالت کی ،بہترین تعلیم و تربیت کی پھر شادی کی تو قیامت کے دن وہ میرے ساتھ ایسے ہو گا جیسے دو انگلیاں۔ بیٹی کے روپ میں وراثت میں سے ایک حصہ کا وارث لڑکی کو بنایا گیا۔سورۃ روم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ :’’اللہ نے تمہارے لیے خود تمہی میں سے جوڑے بنائے تاکہ تم انکے پاس سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان مودت اور رحمت رکھ دی‘‘…سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ: ’’وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم انکے لیے لباس ہو‘‘…خدانے نوع انسانی کو اس لیے پیدا نہیں کیا کہ اس کے چند افراد زمین پر اپنے نفس کی پرورش کریں اور بس ختم ہو جائیں بلکہ اس کا ارادہ ایک اجل معین تک اس نوع کو باقی رکھنے کا ہے اور اس نے انسان کی حیوانی فطرت میں صنفی میلان اسی لیے رکھا کہ اس کے زوجین باہم ملیں اور خدا کی زمین کو آباد رکھیں۔یہاں اللہ تعالیٰ نے مرد کو شوہر کی حیثیت سے فوقیت دی ہے مگر بیوی کے روپ میں اسکے گھر میں اسکی عزت وناموس اور جان و مال کی محافظ بنا دی گئی ہے اوراسکے بچوں کی پہلی تربیتی درس گاہ یہ عورت بن گئی اور وراثت میں اسکا 1/8حصہ مقرر کیا گیا ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ’’عورتوں کے ساتھ نیکی کا برتائو کرو‘‘…
رسولؐ سے ایک صحابی نے فرمایا کہ میں نے اپنے کندھے پر بٹھا کر اپنی ماں کو حج کروایا ہے کیا میں نے اپنا حق ادا کر دیا تو آپؐنے فرمایا تم نے اسکے دودھ کے ایک قطرے کا صرف حق ادا کیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس ماںکی خدمت کے سامنے مال و دولت، اولاد، دنیا کچھ بھی نہیں ہے۔
اسلام نے عورت پر جومرتبہ دیا ہے اس سے پہلے کسی مذہب کی عورت کو نہیں ملا عورتوں کو دینی اور دنیاوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ انکی تعلیم و تربیت کو اسی طرح ضروری قرار دیا گیاہے۔نبی کریمؐ سے دین و اخلاق کی تعلیم مرد اور عورتیں سب حاصل کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ مردوں کی بھی معلمہ تھیں ۔دین اسلام میں عورتوں کی بھی بہت بڑی بڑی مثالیں قائم ہیںہمارے نبیؐ نے ایک تاجر خاتون سے شادی کی جو تجارت کیا کرتی تھیں۔
رسولؐ سے ایک صحابی نے فرمایا کہ میں نے اپنے کندھے پر بٹھا کر اپنی ماں کو حج کروایا ہے کیا میں نے اپنا حق ادا کر دیا تو آپؐنے فرمایا تم نے اسکے دودھ کے ایک قطرے کا صرف حق ادا کیا ہے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اس ماںکی خدمت کے سامنے مال و دولت، اولاد، دنیا کچھ بھی نہیں ہے۔
اسلام نے عورت پر جومرتبہ دیا ہے اس سے پہلے کسی مذہب کی عورت کو نہیں ملا عورتوں کو دینی اور دنیاوی علوم سیکھنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ انکی تعلیم و تربیت کو اسی طرح ضروری قرار دیا گیاہے۔نبی کریمؐ سے دین و اخلاق کی تعلیم مرد اور عورتیں سب حاصل کیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ مردوں کی بھی معلمہ تھیں ۔دین اسلام میں عورتوں کی بھی بہت بڑی بڑی مثالیں قائم ہیںہمارے نبیؐ نے ایک تاجر خاتون سے شادی کی جو تجارت کیا کرتی تھیں۔
اسلامی نظام معاشرت کا پورا خاکہ عورت کے دائرہ عمل کے گرد ہے بیشک یہ دائرہ عمل مرد کے دائرے سے الگ ہے مگر دونوں کی فطرت ،ذہنی و جسمانی استعداد کے لحاظ سے تمدن کی الگ الگ خدمات ان کے سپرد کی جائیں۔ ان کے تعلقات کی تنظیم اس طور پر کی جائے کہ وہ جائز حدود کے اندر ایک دوسرے کے لیے مدد گار ہوںمگر حدود سے تجاوز کر کے کوئی فطرت کے قوانین کی خلاف ورزی نہ کرے ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم قرآن پاک کی تشریح کو وضاحت سے پڑھیںاور اپنے معاشرے میں عورت کو جائز مقام دیکر فلاحی ریاست قائم کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے میں ہی فلاحِ انسانیت ہے۔


ای پیپر