Budget 2021-22, Shahbaz Sharif, PMLN, PPP, Bilawal Bhutto,Ch Shujat Hussain
11 جون 2021 (22:20) 2021-06-11

 اسلام آباد :پاکستان مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین نے بجٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے کہا وزیر خزانہ کی بجٹ تقریر بڑی مثبت اور سادہ تھی ،بجٹ تقریر میں اعدادو شمار کا گورکھ دھندہ پیش نہیں کیا گیا ۔

چوہدری شجاعت حسین نے کہا وزیر خزانہ نے سابق وزیروں کی طرح صرف وزیر اعظم کی مدح سرائی نہیں کی بلکہ حقائق پر مبنی بجٹ پیش کیا ،وزیر خزانہ نے روایتی سیاسی تقریر نہیں کی ۔

انہوں نے وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں عام آدمی کے مسائل پر زیادہ توجہ دی ،بجٹ تقریر مثبت اور سادہ تھی ،نظام کی بہتری کیلئے سرمایہ دار طبقہ مہنگائی اور موجودہ حالات کو مدنظر رکھ کر اپنے کاروبار کے منافع کا خصوصی حصہ ملازمین کیلئے رکھے تو عام آدمی کی زندگی بہتر ہو سکتی ہے،اس سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی بھی حاصل ہوگی اور اللہ تعالیٰ اس کی آمدن اور کاروبار میں اور زیادہ برکت فرمائے گا۔

چوہدری شجاعت حسین کا کہنا تھا بجٹ کا فائدہ تب ہے کہ تنخواہ دار اور مزدور طبقے کو عملی طور پر فائدہ پہنچے،ٹیکس کا اثر سب سے زیادہ تنخواہ دار طبقہ پر پڑتا ہے،کاروباری طبقہ دو روپے کی چیز چار روپے میں بیچ کر کسی نہ کسی طرح اپنا نقصان پورا کر لیتا ہے،لیکن تنخواہ دار طبقہ اپنی آمدن خود نہیں بڑھا سکتا اس کا سارا انحصار مالک پر ہوتا ہے۔

دوسری طرف اپوزیشن پارٹیوں نے بجٹ تقریر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ عوام دوست نہیں بلکہ عوام دشمن بجٹ ہے جس میں غریب عوام کا خیال نہیں رکھا گیا ،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے بجٹ تقریر کے بعد کہا کہ ہم نے بجٹ کو پاس کروانے میں ٹف ٹائم دینے کیلئے اپنے اراکین اسمبلی شہباز شریف کے حوالے کر دئیے ہیں ،وہ جو چاہیں پیپلزپارٹی کی سپورٹ بجٹ کے حوالے سے حاصل کر سکتے ہیں ہم ان کے ساتھ ہیں ۔

اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بجٹ تقریر کے بعد کہا کہ ہم حکومت کو بجٹ کو منظور کروانے میں ٹف ٹائم دینگے ، شہباز شریف نے ردعمل دیتے ہوئے کہا ملک میں غریب مر رہا ہے ،ایک وقت کی روٹی نہیں مل رہی اور یہ کہہ رہے ہیں کہ معیشت ترقی کر رہی ہے ۔


ای پیپر