FIA, court, Jahangir Tareen, Ali Tareen, PTI government
11 جون 2021 (12:06) 2021-06-11

لاہور: سیشن کورٹ نے فراڈ ، منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کے مقدمات میں جہانگیر ترین اور علی ترین کی ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی بنا پر نمٹا دیں ۔ ایف آئی اے نے جہانگیر ترین اور علی ترین کو گرفتار نہ کرنے کا بیان دے دیا ۔

پیشی کے موقع پر جہانگیر ترین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دس ماہ سے کیس کی انکوائری ہو رہی ہے ، خوشی ہے کہ آج ایف آئی اے خود کہہ رہا ہے ، گرفتاری کی ضرورت نہیں ، جہانگیر ترین نے کہا انکے مقدمات اور بجٹ کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ۔

جہانگیر ترین اور علی ترین عدالت میں پیش ہوٸے ایڈیشنل سیشن جج حامد حسین اور رفاقت علی گوندل نے مقدمات کی سماعت کی ۔ ایف آٸی اے کے تفتیشی نے دونوں عدالتوں میں بیان دیا کہ جہانگیر ترین اور علی ترین کی گرفتاری کی ضرورت نہیں ابھی ریکارڈ کا جاٸزہ لے رہے ہیں ۔

جہانگیر ترین کے وکلا نے کہا کہ تمام ریکارڈ ایف آٸی اے کے پاس ہے لہذا گرفتاری کی ضرورت بھی نہیں ۔ ملزمان کے وکلا نے ضمانت کی درخواستیں واپس لینے کی استدعا کی جس پر عدالت نے درخواستیں نمٹا دیں ۔ عدالت نے ہدایت کی کہ کسی بھی تادیبی کاررواٸی سے سات روز پہلے ایف آٸی اے عدالت اور جہانگیر ترین کو آگاہ کرے ۔

خیال رہے کہ جہانگیر ترین کی پیشی کے موقع پر اراکین اسمبلی بھی اظہار یکجہتی کے لیے عدالت پہنچے ۔


ای پیپر