Dr Ibrahim Mughal, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
11 جون 2021 (11:42) 2021-06-11

صبحِ کا ذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر 

ر یل کی سیٹی بجی اور دِل لہو سے بھر گیا

جی ہا ں،یہ شعر منیر نیا زی کا ہے۔اس کو یہا ں در ج کر نے کا مقصد یہ یا د دلا نا ہے کہ ہم لو گو ں کا ریلو ے ریل سے رو ما نس کتنا گہرا ہے۔ اور اس روما نس کا یوں نشو نما پا نا چند محض چند بر س کی بات نہیں، بلکہ دہا ہیو ں کا قصہ ہے۔ ریل کے سفر کی،اس کی سیٹی کی آوا ز کی، اور اس کے اسٹیشن پہ پہنچنے کے انتظا ر کی کیفیت کی چھا پ اردو ادب سے مٹائے نہیں مٹتی۔یہی نہیں، بلکہ ہما ری فلمو ں میں بھی ریل ایک انتہا ئی اہم مقا م رکھتی ہے۔ جو ش ملیح آ با دی نے اپنی ایک رو مانو ی نظم کچھ یو ں کہا تھا۔’گا ڑی نکل چکی تھی پٹری چمک رہی تھی‘۔ لیکن کچھ ہوا یو ں کہ اس ملک کے کمینگی کی حد وں کو پار کرلینے وا لے لٹیر ے پٹڑیاں تک اکھا ڑ کر لے گئے۔ لیکن وطنِ عز یز کے اربا بِ اختیا ر کے کا نو ں پہ جو ں تک نہ رینگی۔تا ہم ٹرین حا دثے ہما ری ز ند گیو ں کے معمو ل بن کے رہ گئے۔حا ل ہی میں گھوٹکی سند ھ میں ہو نے والے دلد وز حا دثے کی تفصیل میں جا نے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔ لہٰذا آ گے کی بات کر تا ہو ں۔تو کہنا یہ ہے کہ ترجمان ریلوے کے مطابق اگلے روز پیش آنے والے اندوہناک ٹرین حادثے کے بعد ٹرین آپریشن اپ ٹریک بھی بحال کردیاگیا۔ دوسری جانب ڈپٹی کمشنر گھوٹکی عثمان عبداللہ نے حادثے کے نتیجے میں اب تک کم از کم 62 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ہے۔مسافر ٹرینوں میں ملت ایکسپریس اور سرسیّد ایکسپریس میں الم ناک حادثہ جہاں دردناکی میں عوام کے لیے صدمہ انگیز ثابت ہوا وہاں اس المیہ نے ثابت کیا کہ ہمارا ریلوے نظام زمین بوس ہوگیا ہے۔ یہ سسٹم کولیپس (collpse) کی داستان ہے۔ اس کی کوئی سمت درست نہیں، پیشہ ورانہ زوال نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔ کبھی ریلوے کے وقار کو اس خیال سے چھوا تک نہیں گیا کہ اس دیوقامت ادارے کی ملکی تاریخ سے کتنی گہری تہذیبی رفاقت اور مواصلاتی فوقیت ہے، نہ ہی اس کی توسیع و ترقی، ملازمین کی استعداد اور ٹرینوں کے نظام اوقات میں بے قاعدگی کا کوئی نوٹس لیا گیا، جتنے جزوقتی اور سطحی کام ہوئے وہ صرف ٹرینوں کے ٹکٹس سے معاملات کے تھے۔ ایک زمانے تک ریلوے سٹیشنوں کے کھانے، اس کی چائے اور سیٹوں کی بکنگ ایک مسئلہ بنی رہی، پھر مختلف حکومتیں آئیں، کچھ بہتری کے اقدامات ہوئے، مسلم لیگ (ن) نے کچھ کام کیے۔ لیکن آج سیاسی جماعتوں کی سیاست ذاتیات تک چلی گئی ہے، کوئی کسی کی کارکردگی اور ملکی ریلوے سسٹم کی تباہی سے سروکار نہیں رکھتا۔ سب کو پوائنٹ سکورنگ کی فکر ہے، پوری سیاست اسی کام میں لگی ہوئی ہے۔ ٹرینوں کے سٹاپ ختم ہوں یا ٹرینیں تاخیر سے آرہی ہیں، منزل تک پہنچنے میں گھنٹوں 

لگ جائیں، انتظامیہ کو مسافروں سے کوئی ہمدردی نہیں۔ ایک سسٹم تھا جو ریلوے کے نظام کو سنبھالے رکھتا تھا، وہ سارا نظام دھڑام سے زمین بوس ہوگیا۔ بے پناہ سیاسی مداخلت اور من پسند لوگ بھرتی کیے گئے، استعداد سے بڑھ کر اس محکمے کو زیربار کیا گیا، یہ قلی مزدوری کا آسان ذریعہ تھا، فٹ بال، باکسنگ اور ایتھلیٹس، میراتھن ریسرز اور دیگر کھیلوں میں بھی ریلوے کا بڑا نام تھا، پھر یہ ہوا کہ کراچی کا سب سے اہم فٹ بال 

گراؤنڈ شادی ہال بنادیا گیا، یوں تباہی اور بربادی کا سلسلہ شروع ہوا۔ المیہ یہ ہے کہ حکومتی ذمہ داروں نے اس سانحہ اور اس کے درد کو قطعی محسوس نہیں کیا۔ یہ ایک عظیم ٹرین ٹریجڈی تھی جس میں ذمہ داروں کے سر جھک جانے چاہئے تھے لیکن کوئی آنکھ نم نہیں ہوئی۔ البتہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے بیان میں سانحہ پر دلی دکھ اور صدمہ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حادثہ پر بے حد دل گرفتہ ہوئے، لیکن دوسری طرف پارلیمینٹیرینز، وزرا اور دیگر ذمہ داروں کے ر د عمل نے قوم کو مزید صدمہ سے دوچار کیا۔ ادارہ کے انحطاط، بدانتظامی، انسانی ہلاکتوں اور تکنیکی شعبوں میں میرٹ کے بے توقیری، نااہلی، شرمندگی اور احساس زیاں کا اظہار ہونا چاہیے تھا وہ سخت دل شکستہ کرنے والا عمل تھا۔ حکومت کا کوئی آدمی یہ بتانے کو تیار نہیں کہ مسافروں کی قیمتی جانوں کے زیاں کا ذمہ دار کون ہے؟ کیوں بوگیوں میں فنی خرابیوں کے باوجود ٹرینوں کو سفر کی اجازت دی گئی؟ اس ملک کے پھاٹک، سگنل سسٹمز کب درست ہوں گے؟ جواب دہی کا نظام کب قائم ہوگا؟ مجرمانہ غفلت پر سزا کب ملے گی؟ کب الزام تراشی بند ہوگی اور مجرمانہ غفلت پر فوری کارروائی ہوگی؟ عوامی حلقوں نے اس پورے ریلوے سسٹم کو فرسودہ، دقیانوسی اور جدید دور کے تقاضوں کے مقابلے میں آؤٹ ڈیٹڈ قرار دیا۔ عوام نے حکومت، ریلوے انتظامیہ، وزرا اور ادارے انجینئرنگ شعبے کوقابل احتساب قرار دیتے ہوئے اس بات کا مطالبہ کیا کہ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف شفاف کارروائی ہونی چاہیے جو ماضی کی طرح روایتی نہ ہو بلکہ حکومت سانحہ کے اسباب کی روشنی میں ریلوے نظام کی نشاۃ ثانیہ کو یقینی بنائے۔ ادارے میں موجود عناصر جو ریلوے میں ترقی اور توسیع کی بنیادی تکنیکی ضرورتوں سے واقف ہوں انہیں ذمہ داریاں سونپی جائیں، کالی بھیڑوں کی چھانٹی کی جائے۔ بلاشبہ روایتی سیاسی دشنام طرازی سے سانحہ کے اثرات دور نہیں ہوں گے، قیمتی جانوں کے بچھڑنے کا غم مرنے والوں کو ہمیشہ رہے گا۔ سیاست دان معروضی حقائق کا ادراک کریں، اداروں میں موجود خرابیوں کی اصلاح دشنام طرازی سے ممکن نہیں، حکومت ٹرینوں کے حادثہ کو ٹیسٹ کیس بنائے، اوور آل تطہیر اور ریلوے کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک کرے۔ ملکی ریلوے سسٹم کو مضبوط بنیادوں پر دورِ حاضر کے ٹرین نیٹ ورک سسٹم کے مقابل لانے کے لیے سرمایہ کاری کی جائے۔ سسٹ میٹک اقدامات اور شعبہ جاتی اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہ انسانی جانوں کے تحفظ اور جدید سفری سہولتوں میں معیار کی زبردست کشمکش کا دور ہے، مسابقت کا زمانہ ہے۔ میرٹ، جواب دہی اور شفافیت کے بغیر ریلوے کا کوئی مستقبل نہیں۔ ریلوے ملک کا بہت قیمتی ادارہ ہے، اس کے ملازمین بھی ادارہ کو ترقی، توسیع اور انتظامی و تکنیکی سہولتوں سے سرفراز دیکھنے کے متمنی ہیں مگر اس کے لیے لازم ہے کہ ریلوے کے ارباب اختیار قوم کی توقعات پر بھی پورا اتریں، سیاست عوام دوستی سے عبارت ہے۔ آج ریلوے کو حیات نو چاہیے، ایک ایسی ریلوے جس پر پوری قوم فخر کرسکے۔ ٹرینوں پر ہر زبان بولے والا سفر کرتا ہے۔ یہ لسانی تشخص کا رواں دریا ہے۔ 


ای پیپر