PRof Abdul Azeem Janbaz, Urdu, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan
11 جون 2021 (11:36) 2021-06-11

اسرائیل سعودی عرب، ترکی، ایران، پاکستان اور افغانستان کو بڑی سنجیدگی سے دیکھتا ہے، دیگر اِسلامی ممالک سے اُنہیں کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں،یہ بات اسرائیلی اچھی طرح جانتے ہیں۔ سعودی عرب اسرائیل کے زبردست خلاف رہا ہے اور وہ فلسطینیوں کے حق میں جنگ بھی کر چکا ہے۔ 2000 ء میں سعودی عرب نے اپنے جنگی طیارے  F-15 تابوک ایئربیس پر اتارے، سعودیہ عرب کا خیال تھا کہ جب بھی اسرائیل کے ساتھ جنگ چھڑی تو ہم تابوک ائیر بیس کے راستے بہت جلد کارروائی کر سکتے ہیں۔ اِس سے اسرائیل کو بڑا خطرہ لاحق ہو گیا اُس نے امریکہ بہادر سے کہہ کر سعودی عرب پر دباؤ بڑھایا تاکہ وہ اپنے طیارے یہاں سے اپنی مین ایئر بیس میں منتقل کریں۔ سعودی عرب کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہت اچھے ہونے کی وجہ سے اُسے اپنے طیارے وہاں سے منتقل کرنا پڑے۔ شاہ سلیمان تک عربوں میں جتنے بھی بادشاہ آئے وہ سب اسرائیل کے زبردست خلاف رہے ہیں۔ بالخصوص شاہ فیصل مرحوم کے دور کی خارجہ پالیسی تو کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی۔ آج کے سعودی عرب کی نئی نسل کے بادشاہوں کی خارجہ پالیسی سے اسرائیل کو اتنا خطرہ نہیں رہا جتنا کے ماضی کے بادشاہوں سے تھا۔

اسرائیل کے اخبارات اور اُن کے تھنک ٹینک کے مطابق ''ماضی کے بادشاہ معاشیات سے پہلے اِسلامیات کو مقدم جانتے تھے، لیکن آج کے عرب بادشاہ اِسلامیات سے پہلے معاشیات کو مقدم جانتے ہیں۔'' محمد بن سلیمان چونکہ کاروباری سوچ کے حامل آدمی ہیں اِس لئے اسرائیل اُن سے بالکل خائف نہیں۔ وہ سعودی عرب کی اندرونی و بیرونی پالیسیوں کی وجہ سے کافی حد تک مطمئن ہے۔ اسرائیل اب اچھی طرح جانتا ہے کہ حالیہ عرب بادشاہ ماضی کے بادشاہوں کی طرح جنگ کا کبھی رسک نہیں لیں گے۔

اب بات کرتے ہیں ترکی کے حوالے سے، اسرائیل ترکی کو کسی حد تک خطرہ سمجھتا ہے، اِس لئے کہ اسرائیل کے خلاف مسلمانوں کی مشترکہ لڑائی میں ترکی کبھی بھی الگ تھلگ نہیں ہوگا بلکہ وہ اِس میں ضرور شریک ہو گا۔ اسرائیل کو لگتا ہے کہ ترکی اپنے آپ کو علیحدہ نہیں رکھ سکتا، مگر اسرائیل یہ بھی سمجھتا ہے کہ ترکی براہِ راست کبھی حملہ نہیں کرے گا۔ اُس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ 31 مئی 2010 کو ترکی کا ایک بحری جہاز فلسطینیوں کے لیے اِمدادی سامان لے کر غزہ کی پٹی کی طرف روانہ ہوا اِس میں ایک پاکستانی صحافی طلعت حسین بھی شامل تھے۔ راستے میں اسرائیل نے ریڈ کیا اور 10 ترک افراد کو موت کے گھاٹ اتار 

دیا لیکن اُس کے باوجود ترکی نے کوئی جوابی حملہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی تگڑا احتجاج۔ بعد ازاں  امریکہ نے معاملہ رفع دفع کرا دیا۔کچھ حوالوں سے اسرائیلی یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ طیب اردوان اگرچہ فلسطینیوں کے حمایتی ہیں مگر جب بھی اسرائیل فلسطینیوں پر حملہ کرتا ہے تو اُس کا سیاسی فائدہ طیب اردوان کو ترکی میں ہوتا ہے۔ یعنی طیب اردوان ایک ماحول بنا لیتے ہیں، تقاریر کرتے ہیں، لوگوں کو اکٹھا کرتے ہیں، جلسے جلوس کرتے ہیں، القدس کا نام لیتے ہیں، مسجد اقصی کا نام لیتے ہیں، فلسطینی مسلمانوں کی بات کرتے ہیں، اِس طرح وہ اپنی مقبولیت میں مزید اضافہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسرائیل کی جارحیت کے ذریعے سے تو اسرائیل کو لگتا ہے کہ جب بھی وہ فلسطینیوں کو مارتے ہیں ترکی کو اُس کا سیاسی فائدہ ہوتا ہے، وہ صرف مذہبی رنگ جمانا چاہتے ہیں مگر وہ براہِ راست نہیں لڑیں گے لیکن مخالفت کرتے رہیں گے۔

تیسرا ملک اِیران ہے جب 1979 میں اِیران میں اِنقلاب آیا تو اُنہوں نے فوری طور پر اِسرائیل کے ساتھ تمام تر سیاسی و سفارتی تعلقات ختم کر دیئے اور اُسے ایک ریاست کے طور پر تسلیم کرنا بھی ختم کردیا۔ اسرائیل کو ایران کی ایٹمی تنصیبات کے حوالے سے تشویش رہتی ہے، ایران کے ایٹمی سائنسدان کو 30 نومبر 2020ء کو اچانک دورانِ سفر قتل کر دیا گیا، ایران نے کہا کہ اسرائیل نے ہمارے سائنسدان کو قتل کیا ہے ہم اِس کا بدلہ لیں گے مگر ایران نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ اسرائیل کہتا ہے کہ ایران حماس اور حزب اللہ کو سپورٹ کرتا ہے اور اُن کو اسلحہ و ٹیکنالوجی بھی دیتا رہتا ہے اور اُن کو راکٹ بنانے میں مدد کرتا ہے۔ 2010ء کی رپورٹ کے مطابق ایران نے حزب اللہ کو 400 ملین ڈالرز دیئے۔ ایرانی نیوکلیئر پروگرام سعودیہ عرب اور اسرائیل کیلئے خطرہ ہیں اِس لیے وہ نہیں چاہتے کہ ایران اپنا نیوکلیئر پروگرام مکمل کرے۔

گزشتہ دس سال میں اسرائیل نے ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور ایٹمی تنصیبات پر کئی ایک حملے کیے، اُن کے سائنسدانوں کو بھی قتل کیا اُن کے فوجیوں کو بھی قتل کیا اور جو لوگ ایٹمی تنصیبات سے جڑے ہیں اُن کو بھی قتل کیا تو اسرائیل اور سعودیہ عرب ایران کو خطرہ سمجھتے ہیں۔ سعودی عرب اور اسرائیل امریکہ پر دباؤ ڈالتے رہتے ہیں کہ ایران پر مزید پابندیاں عائد کی جائیں اُن کے ساتھ کسی قسم کی ڈیل نہ کی جائے۔ اسرائیل کو ایسا لگتا ہے کہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو ایران مضبوط ہو گا اور وہ باآسانی اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

چوتھا ملک پاکستان ہے جو کہ ایک ایسا ملک ہے جس کے بارے میں اسرائیل کی سب سے زیادہ خواہش ہے کہ وہ ہمیں تسلیم کرے۔ دیگر اِسلامی ممالک میں اُسے کوئی تسلیم کرے نہ کرے شاید اُسے اِتنا فرق نہیں پڑتا جتنا کہ پاکستان کے تسلیم نہ کرنے سے پڑتا ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہر اعتبار سے پاکستان کا تسلیم کرنا زیادہ اہمیت کا حامل ہے، اِس لیے بیک ڈور سے رابطے بھی ہوتے رہتے ہیں۔ اسرائیل کبھی نہیں چاہتا تھا کہ پاکستان ایک ایٹمی قوت بننے۔ اسرائیل نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف لابنگ کی ہے، اسرائیل انڈیا کے ساتھ مل کر پاکستان میں دہشت گردی کو بھی ہوا دیتا رہتا ہے تاکہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان دہشت گردوں کی سرزمین ہے جس کے نتیجے میں اسرائیل نے پاکستان پر فیٹف کے ذریعے گاہے گاہے پابندیاں بھی لگواتا رہتا ہے۔ پاکستان کو معاشی طور پر کمزور رکھنے میں اسرائیل کا مکمل تعاون رہا ہے۔

اسرائیل جتنا پاکستان سے خائف ہے شاید وہ کسی بھی ملک سے نہیں کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی افواج کے اندر جو جذبہ اِیمانی ہے وہ اِیمانی حرارت کسی اور ملک کے حکمرانوں اور عوام کے اندر نہیں، لہٰذا وہ پاکستان کے حوالے سے تشویش رکھتا ہے۔ اسرائیل پاکستان کو ایک مستقل خطرہ سمجھتا ہے کہ اگر اسرائیل پر کسی نے حملہ کرنے کی جرأت کی تو وہ پاکستان ہو سکتا ہے۔

ہر دور میں حکمرانوں پر دباؤ بڑھایا گیا کہ وہ بیک ڈور چینل کے ذریعے ہی اسرائیل کو تسلیم کر لیں مگر پاکستان کے ماضی و حال کے حکمرانوں تک کسی نے بھی یہ دباؤ تسلیم نہیں کیا۔ اسرائیل سمجھتا ہے کہ پاکستان ہی وہ واحد ملک ہے جو ایٹمی قوت بھی رکھتا ہے اور دُنیا کی بہترین فوجی طاقت بھی۔ اگرچہ اسرائیل یہ بھی سمجھتا ہے کہ تنہا پاکستان حملہ تو نہیں کرے گا مگر دیگر اِسلامی ممالک کو ایک ہی صف میں کھڑا کرانا جانتا ہے۔ اسرائیل یہ بھی سمجھتا ہے کہ اگر عربوں کے ساتھ لڑائی ہوئی تو پاکستان بغیر سوچے سمجھے تنہا اِس لڑائی میں کود جائے گا۔

 پانچواں ملک افغانستان ہے جس کے بارے میں اسرائیلیوں کا یہ سوچنا ہے کہ وہاں طالبان کی حکومت نہیں آنی چاہیے کیونکہ وہ جہاد کی بات کرتے ہیں، وہ اِسلام کی بات کرتے ہیں اور پھر وہ فلسطینیوں کے لئے اُن کے حقوق مانگیں گے اور پھر وہ مسلمانوں کو اکٹھا کریں گے اور وہ، وہ رول پلے کر سکتے ہیں جو باقی ممالک نہیں کر سکتے۔ لہٰذا اسرائیل کا مین فوکس دو ممالک پر زیادہ ہے، ایک پاکستان اور دوسرا افغانستان۔


ای پیپر