National Assembly Session: International Court of Justice Review Bill 2020 passed by a majority vote
کیپشن:   فائل فوٹو
11 جون 2021 (10:30) 2021-06-11

اسلام آباد: قومی اسمبلی نے عالمی عدالت انصاف نظرثانی بل 2020ء کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے۔ اس بل کی منظوری سے تمام غیر ملکیوں کو فوجی عدالتوں کی سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کا حق مل جائے گا۔

اس قانون سے پاکستان میں فوجی عدالت سے سزا پانے والے بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل کا حق مل جائے گا۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ یہ وہ قانون ہے جو اپوزیشن کو مل کر پاس کرنا چاہیے تھا۔ اپوزیشن نے بھارتی مقاصد پورے کرنے کی کوشش کی، اگر یہ بل پاس نہ ہوتا تو بھارت اقوام متحدہ چلا جاتا ۔

مسلم لیگ ن کے احسن اقبال نے کلبھوشن یادیو کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ آج کا ایجنڈا دیکھ کر اندازہ ہوا کہ حکومت کی طرف سے کچھ دال میں کالا ہے۔ ایجنڈے کے ستاون نمبر پر بھارتی جاسوس کلبوشن یادیو کے لئے قانون منظور کرایا جا رہا ہے حالانکہ پہلے سے قانون موجود ہے کہ ہائی کورٹس میں فوجی عدالتوں کی سزاؤں کے خلاف اپیل ہو سکتی ہے۔ ہم محبت وطن لوگوں سے ووٹ لے کر آئے ہیں، ہم یہ اجازت نہیں دیں گے کہ اس مقدس ایوان میں جاسوس کے لیے خصوصی قانون سازی کی جائے۔

احسن اقبال کا کہنا تھا کہ حکومت کس طریقے سے یہ قانون سازی کر رہی ہے۔ ایجنڈے پر موجود ایک اور آئٹم توہین عدالت ہے۔ ایجنڈا میں ایسے آئٹم ڈال دیے ہیں جو سپریم کورٹ کے لیے مسئلہ بن جائیں گے۔

سپیکر نے احسن اقبال کو بات کرنے سے روک دیا اور ان کا کا مائیک بند کر دیا گیا جس پر اپوزیشن ارکان نے ایوان میں شور شرابہ شروع کر دیا۔

وزیر قانون فروغ نسیم نے احسن اقبال کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ میرے لئے افسوس کی بات ہے کہ احسن اقبال نے عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ پڑھا نہ ہی آرڈیننس۔ احسن اقبال جیسے پڑھے لکھے شخص نے بھارتی موقف کو تقویت دی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ مسلم لیگ ن کا دور تھا جب کلبوشن کا کیس عالمی عدالت انصاف گیا تھا۔ عالمی عدالت انصاف میں ڈان لیکس کا حوالہ دیا گیا ہے۔ افسوس اپوزیشن اس وقت بھارتی موقف کو تقویت دے رہی ہے۔ عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل نہیں کرتے تو توہین عدالت کی کاروائی ہو سکتی ہے۔

فروغ نسیم کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شور شرابہ جاری رکھا، بیشتر ارکان سپیکر ڈائس کے سامنے جمع ہو گئے اور مسلسل نعرہ بازی کرتے رہے۔ تاہم سپیکر نے اپوزیشن کو فلور دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ جب متعلقہ بل کی باری آئے گی تب ہی بولنے دوں گا، ابھی صرف ایجنڈے پر کاروائی ہو گی۔

قومی اسمبلی سے اپنے خطاب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہاں کلبھوشن یادیو کے لئے زبردستی کی قانون سازی کی جا رہی ہے۔ یہاں کشمیر کا وکیل بنتے بنتے کلبوش کے وکیل بن گئے،انکا کہنا تھا کہ اگر جلد بازی میں قانون سازی کریں گے تو اس میں کمزوری رہ جائے گی۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج یہ کلبوشن یادیو کی بات کرتے ہیں ،کلبوشن پر ہم عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل کر رہے ہیں۔ بھارت بھی چاہتا ہے کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر عمل نہ کرے اپوزیشن بھی یہی چاہتی ہے۔ افسوس اپوزیشن بھارت کی زبان بول رہی ہے۔

سید نوید قمر نے کہا کہ کیا جلدی ہے کہ آج اتنے سارے قوانین آج ہی منظور کرائے جا رہے ہیں، کیا کل حکومت کہیں جا رہی ہے، ہمیں اتنا موقع تو دیا جائے کہ بلز پڑھ تو لیں۔

وزیر مملکت علی محمد خان کا کہنا تھا کہ جتنے قوانین منظوری کے لئے پیش کئے جا رہے ہیں سب قائمہ کمیٹیوں سے ہو کر آئے ہیں۔

وزیر خارجہ نے اپوزیشن پر الزام لگایا کہ وہ ہندوستان کی بولی بولتے ہیں۔ قومی اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن کی جانب سے بار بار کورم کی نشاندہی پر ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ آپ مجھے تنگ کرتے ہیں، ابھی گنتی ہوئی ہے۔

ڈپٹی سپیکر نے کورم کی نشاندہی کو مسترد کر دیا۔ اپوزیشن ارکان نے سپیکر روسٹرم کا گھیراؤ کر لیا اور کورم کورم کی نعرہ بازی کی۔ اجلاس کے دوران متعدد بار اپوزیشن کی جانب سے کورم کی نشاندہی کی گئی مگر کورم پورا نکلا۔


ای پیپر