جامعہ پنجاب کا اعزاز 
11 جون 2021 2021-06-11

جامعات کی درجہ بندی کرنے والے سب سے معتبر ادارے کیو۔ایس (QS) نے چند دن پہلے تازہ ترین ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ جاری کی ہے۔یہ اطلاع نہایت خوش آئند ہے کہ پاکستان کی دس سرکاری اور نجی جامعات دنیا کی ایک ہزار بہترین جامعات میں شامل کی گئی ہیں۔دس پاکستانی جامعات میں نیشنل یونیورسٹی آف سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی پہلے جبکہ جامعہ لاہور دسویں درجے پر ہے۔ پنجاب یونیورسٹی بھی دنیا کی ایک ہزار بہترین جامعات میں شامل ہے۔پچھلے تین برسوں میں جامعہ پنجاب کی عالمی درجہ بندی میں 16 درجے بہتری آئی ہے۔ یہ بلا شبہ ایک بڑی کامیابی ہے۔ جامعہ پنجاب سمیت تمام جامعات عالمی درجہ بندی میں جگہ پانے پر مبارکباد کی مستحق ہیں ۔

اگرچہ کچھ حلقوں میں جامعات کی عالمی درجہ بندی کو ایک کمرشل یا کاروباری معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود مختلف اداروں کی طرف سے کی جانے والی درجہ بندیوں کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں۔ نا چاہتے ہوئے بھی دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیمی اداروں کو اپنی درجہ بندی میں بہتری لانے کیلئے کاوش کرنا پڑتی ہے۔دنیا کی نامور جامعات نہایت فخر سے اپنے درجے کا ذکر کرتی ہیں۔ طالب علموں کو اپنی طرف راغب کرنے کیلئے اپنی ویب وائٹس پر اپنی سالانہ درجہ بندی کا اعلان کرتی ہیں۔ میڈیا میں اشتہارات دیتے وقت اپنے رینک کو نمایاں انداز میں بیان کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کسی عالمی درجہ بندی فہرست میں جگہ بنا لینا کسی بھی جامعہ کیلئے ایک اعزاز کی بات سمجھی جاتی ہے۔ 

پاکستا ن میں شعبہ تعلیم کی حالت زار سے ہم سب آگاہ ہیں۔عمومی طور پر یہ شعبہ ہمیشہ تنقید کی زد میں رہتا ہے۔ چند سال پہلے تک شعبہ اعلیٰ تعلیم کو ہدف تنقید بناتے وقت ہم اکثر و بیشتر جامعات کی درجہ بندی کا نوحہ پڑھا کرتے تھے۔ مجھ سمیت بہت سے یہ شکوہ کیا کرتے تھے کہ ہماری جامعات عالمی درجہ بندی میں جگہ کیوں نہیں بنا تیں؟اس ضمن میں ہم ہمسایہ ملک بھارت کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ یہ امر نہایت قابل اطمینان ہے کہ اب ہماری جامعات عالمی درجہ بندی کا حصہ بننے لگی ہیں۔ کیو۔ایس تو یوں بھی دنیا بھر میں درجہ بندی کرنے والا بہترین ادارہ شمار ہوتا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کی بیشتر جامعات اور اعلیٰ تعلیمی ادارے کسی بھی عالمی درجہ بندی ( خصوصی طور پر کیو ایس رینکنگ) میں جگہ پانے کو بے تاب رہتے ہیں۔ اس کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جاتی ہے۔ بھاری بھرکم بجٹ مختص کیا جاتا ہے۔ محنت اور مشقت کیساتھ تحقیقی مضامین اور مقالوں کی اشاعت، اساتذہ کی تعداد ، غیر ملکی طالب علموں کے داخلے، طالب علموں کی مارکیٹ میں کھپت (job placement) اور دیگر معاملات کو یقینی بنانے کے لئے ریاضت کی جاتی ہے۔ تب کہیں جا کر تعلیمی اداروں کی عالمی درجہ بندی میں بہتری آتی ہے۔ 

ہم جانتے ہیں کہ پاکستان میں شعبہ تعلیم ہمیشہ مناسب بجٹ سے محروم رہا ہے۔ تعلیمی پالیسیاں تشکیل نہیں پاتیں ، کوئی پالیسی بن جائے تو ابہام کا شکار رہتی ہے۔ گزشتہ چند برس سے شعبہ تعلیم کے حالات میں ابتری آئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ فنڈز کی کمی ہے۔ چند برسوں میں مہنگائی تو راکٹ کی رفتار سے بڑھی ہے۔ مگر اعلیٰ تعلیم کا بجٹ بڑھنے کے بجائے سکڑتا چلا گیا ۔ یہی وجہ ہے کہ بیشتر جامعات اپنے روز مرہ معاملات چلانے، اساتذہ اور ملازمین کو تنخواہیں دینے تک سے قاصر ہیں۔ کئی نامور جامعات کنگال ہوئی بیٹھی ہیں۔ ایسے حالات میں عالمی درجہ بندی جیسے چونچلے کون پالے؟

انتہائی محدود بجٹ اور وسائل کیساتھ دنیا کی ایک ہزار بہترین جامعات میں جگہ بنانا نہایت اعزاز کی بات ہے۔ اگلے دن جامعہ پنجاب کے وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز احمد اختر کا ایک انٹرویو نظروں سے گزرا۔ وہ بتا رہے تھے کہ 2017 تک جامعہ پنجاب کسی رینکنگ میں نہیں تھی۔ جب انہوں نے بطور وائس چانسلر جامعہ پنجاب کی ذمہ داری سنبھالی تو اس جانب خصوصی توجہ مبذول کی۔ اس مقصد کیلئے باقاعدہ ایک کمیٹی قائم کر دی تاکہ عالمی درجہ بندیوں اور ان کے پیمانوں کا جائزہ لیاجا سکے ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ 2018 میں کیو ایس نے پہلی مرتبہ جامعہ پنجاب کو دنیا کے 78 فیصد بہترین اداروں میں شامل کیا ۔ 2019 اور 2020 میں اسکی پوزیشن مزید مستحکم ہوئی اور یونیورسٹی بالترتیب 73 فیصد اور 68 فیصد بہترین جامعات میں شامل ہونے لگی۔ اب 2021 کی تا زہ ترین درجہ بندی جاری ہوئی ہے، اس میں جامعہ پنجاب دنیا کی 61.6 فیصد بہترین جامعات میں شامل ہو گئی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کو کیو ۔ایس رینکنگ میں 16 درجے استحکام ملنا وائس چانسلر اور اساتذہ کی کامیابی ہے۔ پتہ یہ چلا کہ 2019 میں جامعہ کو پہلی مرتبہ تین مضامین میں رینک کیا گیا تھا۔ 2020 میں یہ تعداد تین سے بڑھ کر پانچ ہو گئی۔ اب پنجاب یونیورسٹی کو 13 مضامین میں رینک کیا گیا ہے۔ 

اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ پنجاب اسمبلی میں جامعہ پنجاب کی عالمی درجہ بندی سے متعلق ایک قرار داد پیش ہوئی ہے۔ نہایت اہتمام سے اس قرار داد کی خبریں بھی چند اخبارات میں شائع کر وائی گئیں۔ایک خاتون رکن اسمبلی کی طرف سے پیش کی جانے والی قرار داد میں اس امر پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جامعہ پنجاب کی عالمی درجہ بندی میں 300 درجے کمی آئی ہے۔قرارداد میں پنجاب یونیورسٹی کی انتظامیہ کی کارکردگی کو ناقص قرار دیا گیا ہے۔خاتون رکن نے مطالبہ کیا ہے کہ تین سو درجے تنزلی کے ذمہ داران کے خلاف کاروائی کی جائے۔ نجانے معزز رکن اسمبلی نے یہ تمام معلومات کہاں سے حاصل کی ہیں۔ امید ہے کہ اب تک وزیر ہائیر ایجوکیشن راجہ یاسر ہمایوں نے معزز رکن اسمبلی کو جامعہ پنجاب کی درجہ بندی سے متعلق درست اعداد و شمار اور معلومات فراہم کر دی ہونگی۔

کارکردگی کا ذکر چلا ہے تو یہ بتانا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عالمی درجہ بندی سے قطع نظر، جامعہ پنجاب میں کچھ تاریخی کام ہوئے ہیں۔ وائس چانسلر ڈاکٹر نیاز صاحب نے جب جامعہ کی ذمہ داری سنبھالی تو جامعہ میں تقریبا 83 شعبے کام کر رہے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے مستقبل کی قومی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے شعبے قائم کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب ان شعبوں کی تعداد 150 تک جا پہنچی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی کے بیشتر اساتذہ اور ملازمین برسوں سے اپنی ترقیوں کے منتظر تھے۔ وائس چانسلر صاحب نے ان تین برسوں میں کم و بیش 5 ہزار ملازمین اور اساتذہ کو ترقیاں دی ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ پروفیسروں کی تعداد 150 ہو گئی ہے۔ یہ باقاعدہ ایک ریکارڈ ہے۔علمی تحقیق کے فروغ پر بھی ڈاکٹر نیاز نے توجہ مبذول کر رکھی ہے۔ 2016 میں جو تحقیقی بجٹ 10 کروڑ روپے تھا، وہ ان تین برسوں میں بڑھ کر 38 کروڑ روپے ہو چکا ہے۔ اندازہ کیجئے کہ ایسے حالات میں جب بیشتر سرکاری جامعات اپنی آمدن اور اخراجات میں توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں نڈھال ہو رہی ہیں۔ جامعہ پنجاب میں ملازمین، اساتذہ اور طلباءکی فلاح و بہبود کیلئے یہ اچھے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔حکومت ، اپوزیشن ، میڈیا اور اہل دانش کو ایسے اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے۔


ای پیپر