اساتذہ....زبردستی ویکسین اور سیلوٹ
11 جون 2021 2021-06-11

لاہور میں تو موسم شدید گرم ہے۔ ہرطرف جیسے اک آگ برس رہی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ذراسی لُوچلتی تھی تو سکولوں میں چھٹیوں کا مطالبہ ہونے لگتا۔ جون کے پہلے ہفتے میں تو اکثر موسم گرما کی تعطیلات ہوجاتی تھیں۔ یہ شاید پہلی بار ہوا کہ انتہائی شدید گرم موسم میں حکومت نے سکول بند کرنے کے بجائے کھول دیئے ہیں۔ یہ درست ہے کرونا کے باعث کئی ماہ سے تعلیمی ادارے بند تھے مگر ہماری حکومت کے کارپردازوں کو یہ تو علم ہونا چاہیے تھا کہ جون کی تپتی دوپہروں میں بچوں کا باہر نکلنا دشوار تر ہوجاتا ہے عموماً جون میں تعلیمی ادارے بند کردیئے جاتے ہیں سو انہیں ان ایام میں سکول یا کالج کھولنے کا اعلان نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اب ہوکیا رہا ہے تعلیمی اداروں میں طلباءکی تعداد بے حد کم ہے، طلباءکا مطالبہ ہے کہ انہیں آن لائن ہی پڑھایا جائے فی الوقت جب موسم شدید گرم ہے تو ایک دوماہ مزید سکول کالج بند رکھے جاسکتے تھے، بعض کالجوں میں تو نصاب تمام ہونے کے باعث طلباءکو ویسے ہی فارغ کردیا گیا ہے۔ 

تعلیمی اداروں میں نصف تعداد میں طلباءبلائے گئے ہیں ان میں سے بھی زیادہ آن لائن پڑھنے کی اجازت لے رہے ہیں۔ اساتذہ وہ مسکین طبقہ ہے کہ اسے اداروں میں بھی حاضری دینی ہے اور آن لائن پڑھنے والوں کو بھی وقت دینا پڑتا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل ایک خبرسوشل میڈیا پر گردش کررہی تھی کہ پی ٹی آئی حکومت نے اساتذہ کی عزت وتکریم کے لئے چند ضروری اقدامات کیے ہیں۔ ایک تو اساتذہ کی گاڑیوں پر ”ٹیچر“ کا سٹکر لگے گا اور دوسرا پولیس والے اساتذہ کو سیلوٹ کیا کریں گے۔ ہم نے یہ خبرپڑھ کر مسرت کا اظہار کیا تھا مگر اگلے روز ہی ہماری آنکھوں نے ایک ظالمانہ منظر دیکھ کر چُپ سادھ لی۔ دیکھتے کیا ہیں کہ پشاور یونیورسٹی کے اساتذہ پر پولیس نہایت بے دردی سے لاٹھی چارج میں مصروف ہے۔ گویا جس پولیس نے اساتذہ کو سیلوٹ کرنا تھا وہ نہتے اور بے بس اساتذہ پر لاٹھیاں برسا رہی ہے اور آنسوگیس کی شیلنگ جاری ہے۔ 

صوبہ خیبرپختونخوا میں جہاں پی ٹی آئی کی دوسری ٹرم ہے وہاں کے اساتذہ کی تذلیل سکرینوں پر ساری دنیا دیکھ رہی تھی ۔ان اساتذہ کا قصور صرف یہ تھاکہ وہ اپنی تنخواہوں میں کٹوتی پر سراپا احتجاج تھے۔ عموماً یہ ہوتا ہے کہ سرکاری ملازمین تنخواہوں میں اضافے کے مطالبے کے دوران پولیس کے ستم کا شکار ہوا کرتے ہیں مگر یہاں اساتذہ صرف یہ مطالبہ کررہے تھے کہ ”کرونا“ کے بہانے اس بار تنخواہوں میں کٹوتی نہ کی جائے، سو عمرانی حکومت کو یہ مطالبہ ناگوار گزرا اور نہتے اساتذہ کو بے رحمی سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ تو چند روز قبل کی بات ہے یہاں پنجاب کی بزداری حکمرانی میں تین روز پہلے تمام اساتذہ کو فی الفور کرونا کی ویکسین لگوانے کے احکامات جاری کردیئے گئے۔ یہ کوئی بُری بات نہ تھی مگر اتنے کم وقت میں اساتذہ کو ویکسین اور وہ بھی زبردستی لگوانے کا حکم دینا کوئی اتنا اچھا فیصلہ نہ تھا۔ پتہ چلا HEC (ایچ ای سی ) کی طرف سے چٹھی آئی ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کے اساتذہ کو فوراً ویکسین لگوا کر رپورٹ کی جائے۔ حالانکہ زبردستی ویکسین تو امریکہ میں بھی نہیں لگائی گئی، یہ ہرشخص کا ذاتی معاملہ ہے ، بعض لوگ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں انہیں ویکسین لگوانے میں جھجک محسوس ہورہی تھی مگر ”حکم حاکم مرگ مفاجات“ والا معاملہ تھا۔ ملازمت کی مجبوری کے باعث سب کو ویکسین لگوانی پڑی ....حالانکہ کئی اور سرکاری ادارے ابھی رہتے ہیں جنہیں ویکسین لگنی ہے۔ شایدپولیس ،فوج، عدلیہ اور بیوروکریسی میں بھی بہت سے لوگ ابھی ویکسین نہیں لگوا سکے۔ لیکن اساتذہ وہ واحد طبقہ ہے کہ الیکشن ہو، پولیوقطرے پلانے کی ڈیوٹی ہو یا ڈینگی مہم میں مدددرکار ہو اساتذہ کو آسان ہدف سمجھ کردبوچ لیا جاتا ہے اور حکم عدولی پر انہیں سزائیں بھی دی جاتی ہیں۔ اسی طبقے سے مکمل سالانہ آمدنی کا ٹیکس بھی تنخواہوں ہی سے کاٹ لیا جاتا ہے۔ ہماری ذاتی رائے یہ ہے کہ ٹیکس اس رقم پر لگنا چاہیے جو سال بھر کسی بینک میں پڑی ہو۔ تنخواہ دیتے وقت ہی پہلے ٹیکس کاٹ لینا سراسرناانصافی ہے۔ یہ تنخواہیں وصول ہوتے ہی خرچ ہوجاتی ہیں تو انہیں ”آمدن“ کہنا بھی مذاق لگتا ہے .... پی ٹی آئی کی حکومت نے اساتذہ کی تکریم کے سلسلے میں اچھے اقدامات کیے ہیں اس شدید گرم موسم میں ڈیوٹی دینے کے ساتھ گھر آکر آن لائن بھی پڑھاتے ہیں۔ایسے ” سیلوٹ“ کو حکمران اپنے لیے مخصوص رکھیں۔ وہ معاشرے اور ہوتے ہیں جو اساتذہ کی تکریم اور احترام دیگر تمام طبقوں سے زیادہ کرتے ہیں۔ بعض ممالک میں اساتذہ کی تنخواہیں سب سے زیادہ ہیں۔ اساتذہ قوم کی تعمیر کرتے ہیں مگر تعلیم کا بجٹ دیکھ کر اور اساتذہ کی تذلیل سے واضح ہے کہ ایک معمولی باوردی پولیس مین استاد سے زیادہ وقار رعب اور اختیار رکھتا ہے۔ ویل ڈن عمران خان .... ویل ڈن ....


ای پیپر