آ نے وا لا بجٹ
11 جون 2020 (22:05) 2020-06-11

بے یقینی مستقبل کے اِن دنو ں میں آ ئی ایم ایف کی یہ دلیل کہ اگر جی 20 ممالک تنخواہوں میں کٹوتی کرسکتے ہیں تو پاکستان کیوں نہیں کرسکتا، ایک تھا لی میں پڑے سیبو ں کا مقا بلہ دوسری تھا لی میں پڑے کیلو ں سے کر نے وا لی با ت ہے۔ چنا نچہ حکو متِ پاکستان کی جانب سے آ ئی ایم ایف کے اس مطالبے کو مسترد کردیا گیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اخراجات کم کرنے کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کی جائے۔ یہ ایک بے جوڑ تقابل ہے کیونکہ خود آ ئی ایم ایف کے جائزے کے مطابق جی 20 کاپورا بلاک ’’ابھرتی ہوئی‘‘ یا ’’ترقی یافتہ‘‘ معیشت کا حامل ہے، جس کے رکن ممالک میں سے فی کس کم سے کم جی ڈی پی والا ملک بھی اس اشاریے میں پاکستان سے کہیں آ گے ہے۔ مہنگائی کا بھی یہی حساب ہے اور پیداوار اور ملازمت کے مواقع کا بھی۔ چنانچہ جی 20 بلاک کے رکن ممالک کی معیشت کے ساتھ پاکستان کا کوئی مقابلہ نہیں بنتا، نہ ہی وہاں کے اقدامات کو پاکستان پر منطبق کیا جاسکتا ہے۔ ایسا کرنے کا نتیجہ شدید عدم توازن اور بے چینی کی راہیں ہموار کرنے کی صورت میں نکلے گا۔ اس لیے جو بھی ایسی تجویز دیتا ہے اس کے خیالات کے پس منظر میں ارادوں اور نیتوں کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔ ان کے مسائل الگ نوعیت کے ہیں اور پاکستان الگ نوعیت کی مشکلات کا شکار ہے۔ چنانچہ اگر پاکستان کی حکومت اس قسم کی کسی تجویز پر عمل کرتی ہے تو واضح ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک میں بے چینی پیدا ہوگی اور ان حالات میں جب کورونا وائرس کی عالمگیر وبا کے نتیجے میں ملکی پیداواری سرگرمیاں اور معیشت پہلے ہی شدید دبائو میں ہیں، اس قسم کے فیصلے عوام کو مزید برافروختہ کریں گے اور حکومت کے لیے اس بحرانی کیفیت میں مقبولیت کے بحران کا بھی اضافہ ہوسکتا ہے۔ چنانچہ حکومت کی جانب سے بروقت اس تجویز کو مسترد کیا جانا خوش آ ئند ہے، کیونکہ یہ تجویز ہمارے حالات اور مفادات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ ویسے بھی دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی مہنگائی بڑھ رہی ہے، چنانچہ حکومت کو تنخواہیں کم کرنے کے بجائے ان میں اضافے کے بارے میں سوچنا چاہیے تاکہ عام آ دمی کو کچھ ریلیف مل سکے اور اس کی قیمت خرید میں کچھ اضافہ ہوسکے۔ آ ئی ایم ایف کی جانب سے آ نے والے مالی سال کے بجٹ کے لیے جو مزید تجاویز دی گئی ہیں، اصولی طور پر وہ بھی مسترد کردیئے جانے کے لائق ہیں۔ مثلاً دفاعی اخراجات کو منجمد کرنے کی تجویز، حالانکہ خطے کی صورتحال، خاص طور پر بھارت کی مسلسل امن دشمنی پہ مبنی اقدامات اور سرحدوں پہ کشیدگی کے حالات میں پاکستان کے لیے دفاعی تقاضوں کے مطابق نہیں۔ خاص طور پر جب ان حالات میں جب بھارت کی جانب سے خطرات میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، جن کی جانب سے پاکستان کی

قیادت اکثر اشارہ کرتی رہتی ہے۔ ابھی گزشتہ روز ہی متنبہ کیا گیا کہ بھارتی افواج کی نقل و حرکت اور بھارتی قیادت کے ارادے ٹھیک نظر نہیں آ تے۔ اس لیے اس موقع پر جب دنیا بھر کی طرح پاکستان کے لیے بھی کورونا وائرس بے پناہ معاشی نقصان کا سبب بن رہا ہے، آ ئی ایم ایف کی جانب سے اس قسم کے فیصلے تھوپنا اور یہ دھمکی دینا کہ اگر اس کے پیش کردہ خطوط سے انحراف کیا تو چھ ارب ڈالر قرض کے جاری منصوبے کی 450 ملین ڈالر کی اگلی قسط میں مسائل پیدا ہوں گے، ملکی معیشت کے لیے نہایت ضرر رساں اثرات کا حامل ثابت ہوگا۔معیشت کی ایک حقیقت وہ ہے جو آ ئی ایم ایف کے عہدیدار دیکھ رہے ہیں، مگر ایک وہ زمینی حقیقت ہے جس کا سامنا یہاں کے عوام اور پیداواری اسباب کو کرنا پڑ رہا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ آ ئی ایم ایف والے اپنے مفاد اور منصوبوں کو تو دیکھ رہے ہیں مگر ان زمینی حقائق کو نہیں دیکھ رہے جن کا لحاظ کیے بغیر نہ پیداواری نظام استوار ہوسکتا ہے، نہ معیشت پائوں پر کھڑی ہوسکتی ہے۔ یہ واضح ہے کہ کورونا وائرس سے پہلے پاکستان کی حکومت آ ئی ایم ایف کی بتائی ہوئی گائیڈ لائنز پر عمل کر رہی تھی، حالانکہ اس کے نتیجے میں عوام پر بے پناہ بوجھ پڑ رہا تھا اور مہنگائی قریب ایک دہائی کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی تھی۔ بلند شرح سود کی وجہ سے نئے صنعتی اور کاروباری منصوبوں کے لیے قرض حاصل کرنے میں رکاوٹیں اس کے علاوہ تھیں، جس کا نتیجہ یہ سامنے آ یا کہ موجودہ حکومت کے دور میں نہ نئے کاروباری منصوبے بن سکے اور نہ ہی ملازمتوں کے نئے مواقع پید اہوسکے۔ یقینا یہ حکومت کے پہلے برسوں میں کوئی معمولی مشکل نہ تھی۔ لوگ حکومت کو اس کے انتخابی دعوے یاد دلارہے ہیں، مخالف سیاسی جماعتیں الگ دبائو ڈال رہی تھیں، مگر حکومت نے آ ئی ایم ایف کے پروگرام کی شرائط پر عمل یقینی بنانے کی ہرممکن کوشش کی چاہے اس کے لیے اپنی سیاسی ساکھ ہی کو دائو پر لگانا پڑا۔ تاہم دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا پھوٹنے کے بعد اور پہلے کے حالات میں زمین آ سمان کا فرق ہے، پاکستان کا بھی اس معاملے میں کوئی استثنا نہیں۔ یہاں کی معیشت، صنعت اور پیداوار، غرض ہر معاشی اکائی کورونا وائرس کی وجہ سے غیرمعمولی طور پہ متاثر ہوئی ہے۔ حکومت پاکستان کے اداروں کے تخمینے کے مطابق اس عالمگیر وبا کے نتیجے میں پاکستان کی معیشت کو اڑھائی ہزار ارب روپے کا نقصان ہوچکا ہے اور جی ڈی پی کا حجم 44 ہزار ارب روپے سے کم ہوکر ساڑھے اکیالیس ہزار ارب روپے رہ گیا ہے جبکہ اپریل تا جون 2020ء پاکستان کے حکومتی محصولات میں اگر 700 سے 900 ارب روپے کا خسارہ ہوا ہے تو یہ حکومتی منصوبہ بندی کی ناکامی کی وجہ سے نہیں بلکہ کورونا وائرس کی ناگہانی آ فت کی وجہ سے ہے، جس سے پاکستان کی برآمدات میں تین سے چار ارب ڈالر کا خسارہ ہوا اور بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کی ترسیلات زر بھی دو سے تین ارب ڈالر کم ہوچکی ہیں۔ اس صورتحال میں جب کم از کم تیس لاکھ افراد اس وبا کے نتیجے میں بے روزگار ہوچکے ہیں، حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوام کی سہولت کے ایسے منصوبوں پر خرچ کرے جس سے کم آ مدنی والے طبقے کے لیے کچھ سہولت پید اہوسکے۔ جبکہ موجودہ حالات میں آ ئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کو عوامی فائدے کے منصوبوں سے ہاتھ کھینچنے کی تجویز وبا کے دنوں میں عوام کو بدترین حالات سے دوچار کرنے کا مشورہ ہے۔ ان سنگین حالات میں جب بنی نوع انسان کو تاریخی نوعیت کے چیلنج کا سامنا ہے، یہ ضروری ہے کہ ہماری حکومتیں اور عالمی مالیاتی ادارے ان حالات میں انسان کی بقا کے منصوبوں کو مقدم جانیں اور صرف ایسے اقدامات پر اتفاق کریں جو موجودہ زمینی حقائق کے مطابق ہوں۔ اس طرح نہ صرف عام آ دمی پر مالی بوجھ میں اضافہ نہیں ہوگا بلکہ جاری معاشی بحران کی سی کیفیت سے نکلنے میں بھی مدد ملے گی۔ توقع کی جاتی ہے کہ ہمارے حکمران بجٹ کو حتمی شکل دیتے ہوئے کورونا وائرس کی وبا کے معیشت پر مرتب ہونے والے اثرات کو بھی پیش نظر رکھیں گے۔ واضح ہے کہ ویسے اہداف مقرر نہیں کیے جاسکتے جیسے گزشتہ برس مقرر کیے گے تھے۔ تب حالات کچھ اور تھے۔ وبا نے مجموعی عالمی معیشت کے ساتھ ساتھ تمام ممالک کی اقتصادیات کو انفرادی طور پر بھی متاثر کیا ہے۔ ان مشکلات پر قابو پانے اور اس بحران سے نکلنے میں وقت لگے گا، تب تک صبر وتحمل کے ساتھ سخت محنت کو شعار بنانا ہوگا۔


ای پیپر