وزیراعظم اور کیا کرسکتے ہیں؟
11 جون 2020 (22:05) 2020-06-11

جس کسی پر بھی گھریلو اخراجات کا تھوڑا بہت بوجھ برداشت کرنے کی ذمہ داری ہے ان سے بات کریں تو مایوس نظرآتے ہیں۔تبدیلی اور نئے پاکستان کا ایک خوفناک منظر پیش کرتے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم پر عدم اعتماد کرتے ہیں۔ان کی گفتگو کااختتامی جملہ یہی ہوتا ہے کہ ’’ نہ جانے اس ملک کا کیا بنے گا ‘‘۔لیکن ان کو معلوم نہیں کہ وزیر اعظم عمران خان اور کر بھی کیا کرسکتے ہیں؟ جوکچھ ،جتنا ان کے بس اور اختیار میں ہے اتنا ہی تو وہ کررہے ہیں۔اب آپ ہی بتا ئیں ماضی میں کسی نے چینی مافیا کے خلاف کمیشن بنا کر تحقیقات کی ہے؟میاں نواز شریف، بے نظیر بھٹو،پرویز مشرف ،آصف علی زرداری کسی نے اس مافیا پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کی تھی؟ وزیراعظم عمران خان نے یہ کام کرکے دکھا دیا۔ تحقیقات مکمل کردی۔ رپورٹ عام کردی گئی ہے۔مقدمات درج کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے۔بس اتنا ہی ان کے اختیار میں تھا جو انھوں نے کرکے دکھا دیا۔ یہ الگ بات چینی مافیا کا مرکزی کردار جہانگیر ترین بیٹے سمیت علاج کے لئے بیرون ملک چلا گیاہے۔حالات جیسے ہی سازگار ہوجائیں گے وہ واپس آجائے گا۔ویسے بھی ان کو بیرون ملک جانے سے روکنے کی ذمہ داری اداروں کی تھی انھوں نے اپنی ذمہ داری نہیں نبھائی تو اس میں وزیراعظم عمران خان کا کیا قصور ،جتنا ان کے اختیار اور بس میں تھا وہ انھوں نے کر کے دکھایا۔جن لوگوں پر چینی رپورٹ میں الزام ہے وہ اب بھی وفاق اور صوبوں میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ اتحاد میں موجود ہیں، تو کیا ہوا اب وہ ایک وزارت عظمیٰ کو جو بائیس سالہ جدوجہد کے بعد ہاتھ لگی ہے ،وہ بائیس کروڑ لوگوں کے لئے قربان کردیں ؟ہر گز نہیں۔ وزیراعظم منتخب ہونے کے مواقع باربار نہیں ملتے اس لئے وہ اس قربانی سے گریز کر رہے ہیں۔جتنا ان کے بس میں تھا اتنا وہ کرچکا ہے۔اس سے زیادہ ان سے مطالبہ کرنا بس ایسے ہی ہے کہ کیا’’ بچے کی جان لوگے ‘‘ ۔تحقیقات مکمل کی۔ رپورٹ تیار کرکے عام کردی۔اس قوم کو ٹرک کی ایک اور بتی کے پیچھے لگانا تھا وہ انھوں نے لگادیا۔اب قوم جانے اور تیز رفتار ی سے چلتی ہوئی بس کی بتی۔

آٹے کا بحران آیا۔اس پر بھی ایکشن لیا گیا ہے۔تحقیقات کہاں تک پہنچی ہے اس بارے میں ابھی تک کوئی معلومات نہیں۔رپورٹ عام کی جائے گی یا نہیں؟ اس بارے میں بھی وزیر اعظم عمران خان ابھی تک خاموش ہیں لیکن جو ان کے کرنے کا کام تھا وہ انھوں نے کرکے دکھا دیا ۔تفتیش کا حکم ان کاکام تھا یہ کام وہ کرچکے ہیں۔رپورٹ مرتب کرنا تفتیش کاروں کی ذمہ داری ہے، وزیر اعظم عمران خان کی نہیں۔ہاں جب کہیں سے یہ رپورٹ لیک ہوجائے گی تو پھر وزیر اعظم عمران

خان بھی اس کو عام کر دیں گے،اس لئے کہ عام شدہ مواد کومزید عام کرنا کوئی بد نیتی نہیں اور نہ ہی دوستوں کے ساتھ زیادتی ہے۔اب ان سے یہ مطالبہ کرنا کہ وہ رپورٹ میں موجود مافیا کو حکومت سے نکال دیں۔جو حکومت میں نہیں لیکن چندہ دے رہے ہیں ان کے خلاف کارروائی کریں تو یاد رکھیں یہ وزیر اعظم عمران خان کا نہیں بلکہ متعلقہ اداروں کاکام ہے کہ وہ ان کے خلاف کارروائی کریں ۔کب روکا ہے وزیر اعظم عمران خان نے اداروں کو بد عنوانوں کے خلاف کارروائی کرنے سے۔ان سے یہ مطالبہ کہ وہ آٹا مافیا کے خلاف کارروائی کریں بالکل جائز نہیں ،اس لئے کہ جو کچھ ،جتنا ان کے بس میں تھا وہ انھوں نے کرکے دکھا دیا ہے۔اگر وہ اس سے زیادہ کرنے کی ضد کریگا تو پھر وزارت عظمیٰ جائے گی اور چند کروڑ انسانوں کی خاطر اس اہم منصب کو قربان کرنا ہرگز دانشمندی نہیں۔

بجلی مافیا کے خلاف بھی وزیر اعظم عمران خان نے تحقیقات مکمل کردی ہے۔اب اس مافیا کے خلاف کارروائی کرنے میں مشکل یہ پیش آرہی ہے کہ ایک دوست ملک کے سرمایہ کار بھی اس میں ملوث ہے۔اگر ان کے خلاف کارروائی کریں گے تو وہ دوست ملک ناراض ہو جائے گا۔جب وہ دوست ملک کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تو اپنے کابینہ کے دو معزز ارکان کو کیوں ناراض کردیںاور ویسے بھی ماضی میں جب کبھی کسی معاملے کو خوش اسلوبی کے ساتھ حل کرنے کی کوشش کی گئی ہے تو کمیٹی بنا کر اس مسئلے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دفن کر دیا گیا ہے۔یہ ایک ریاستی اور حکومتی روایت ہے اس سے انحراف وزارت عظمیٰ کے لئے زہر قاتل ہے۔ہاں جو متعلقہ ادارے ہیں وہ بجلی مافیا کے خلاف کارروائی کریں ۔کب روکا ہے وزیر اعظم عمران خان نے ان کو؟انھوں نے تو اپنی ذمہ داری خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائی ہے۔تحقیقاتی کمیٹی بنا دی ۔تفتیش مکمل ہوچکی ہے۔اب ادارے جانیں اور ان کاکام ۔اگر کوئی اس خوش فہمی میں ہے کہ وزیر اعظم ان لوگوں کو کابینہ سے الگ کردیں گے جو بجلی مافیا میں شامل ہے تو ممکن نہیں، اس لئے کہ کابینہ سے ایسے لوگوں کا اخراج وزارت عظمیٰ سے فراغت کا سبب بن سکتا ہے۔ بائیس سالہ جدوجہد کے بعد ہاتھ آئی اس عیاشی کو قوم کے لئے قربان کرنا ہرگز درست نہیں۔اس قوم کا کیا بھروسہ دوبارہ ووٹ دیں بھی یا نہیں۔تاریخ یہی ہے کہ جو قابل بھروسہ نہیں ان کے لئے ایسے بڑے اور اہم مناصب کو قربان نہیں کیا کرتے۔

اس مہینے کے شروع سے وزیر اعظم عمران خان نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا۔ان کے اختیار میں یہی تھا جو انھوں نے کردیا۔اب پیٹرول پمپ مالکان اگر پیٹرول فروخت کرنے سے انکاری ہے تو اس میں وزیر اعظم عمران خان کا کیا قصور ؟متعلقہ ادارے اپنا فرض نبھائیں۔ پیٹرول پمپ مالکان کے خلاف کارروائی کریں۔لیکن پھر بھی قوم کی ہفتہ بھر کی ضلالت اور خواری کو دیکھتے ہوئے انھوں نے ایکشن لے لیا ہے۔اس سے زیادہ اگر وہ کرتے ہیں تو پیٹرول مافیا ان کے خلاف ہو جائے گی جو وزارت عظمیٰ کے منصب کے لئے ہرگز نیک شگون نہیں۔اب جو چیز وزارت عظمیٰ کے خاتمے کا سبب بننے والی ہو وزیراعظم عمران خان ان سے پنگا کیوں لیں؟بی آر ٹی، مالم جبہ اراضی اور ہیلی کاپٹر مقدمہ کی بھی ان کو طعنے دئیے جارہے ہیں ۔ان مقدمات سے وزیر اعظم عمران خان کا کیا لینا دینا؟ نیب جانے اور ان کا کام۔ویسے بھی وزیر اعظم عمران خان نے ہمیشہ سیاسی مخالفین کے احتساب کی بات کی ہے تو پھر ان سے دوستوں کے احتساب کا مطالبہ کیوں؟

جو لوگ مایوسی پھیلا رہے ہیں ان کے لئے عرض ہے کہ وہ وزیر اعظم عمران خان سے زیادہ کی توقع نہ رکھیں۔ جو کچھ اور جتنا ان کے بس میں ہے وہ سب کچھ وہ کررہے ہیں۔ لیکن جو اقدام وزارت عظمیٰ کے لئے خطرے کا باعث بن سکتا ہے اس اقدام کی ان سے ہر گز توقع نہ رکھی جائے اس لئے کہ یہ قوم قابل بھروسہ نہیں کیا پتہ اگلی واری پھر چانس ہی نہ دیں۔


ای پیپر