کورونا اور کاروبار ساتھ ساتھ لیکن احتیاط واحد حل
11 جون 2020 (22:04) 2020-06-11

گزشتہ سال تک کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جیسے ہی 2020ء آئے گا انسانی زندگی کے معمولات یکسر تبدیل ہو جائیں گے۔ دفاتر، عبادت گاہیں، تعلیمی ادارے اور کاروباری مراکز بند ہو جائیں گے اور بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہو جائیں گے۔ نہ نظر آنے والے وائرس نے انسان کے غرور کو توڑ کر رکھ دیاکہ اس کی کچھ حیثیت نہیں ہے۔کچھ دن پہلے جس دنیا میں ہلہ گلہ تھا، پارٹیاں تھیں، شور شرابا تھا، میل ملاپ کے لئے لوگ تڑپتے تھے آج انہی ملکوں کی حکومتیں عوام کو مجبور کر رہی ہیں کہ وہ آپس میں سماجی دوری پیدا کریں، افراد اپنے درمیاں فاصلہ پیدا کریں تا کہ اس موذی وائرس سے نجات حاصل کی جا سکے۔ دنیا بھر میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد زندگی کے ضابطے اور دنیا داری کے طریقے تبدیل ہو گئے ہیں۔ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سرکاری سطح پر روز مرہ کے امور انجام دینے کے نئے ضابطے اور طریقہ کار وضع کئے گئے ہیں۔جن کے مطابق اگر آپ بازار جا رہے ہیں تو ماسک اور دستانے پہن کر جائیں، دوکان کے اندر رش ہے تو باہر کھڑے ہو کراپنی باری کا انتظار کریں۔ اسی طرح تاجروں اور دوکانداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ دوکانوں کے باہر قطار کے لئے نشان لگائیں۔ لیکن ہم نے دیکھا کہ ان رہنما اصولوں پر عملدرآمد کے حوالے سے دوکاندار اور لوگ سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے ہیں۔

جب کہ ماسک اور سماجی دوری کورونا کے وائرس کو ایک شخص سے دوسرے میں پھیلنے سے روکنے میں بہت مؤثر ثابت ہوئی ہے، ماہرین کی ایک ریسرچ کے مطابق اگر ماسک کی کوالٹی بہتر ہو اور سماجی دوری ایک کی بجائے دو میٹر یا اس سے زیادہ ہو تو انفیکشن کو زیادہ ڈھنگ سے روکا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے 16 ممالک میں 25697 متاثرین اور رابطے میں آنے والے لوگوںپر ہونے والی 172 ریسرچوں کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے۔ اس تحقیق کے نتیجے میں کہا گیا ہے کہ سماجی دوری اور ماسک سے یہ بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلنے سے رکتی ہے لیکن اگر این 95 ماسک ہو تو یہ سب سے بہتر ثابت ہوتا ہے۔ کپڑے کا ماسک کارگر ہے لیکن یہ 12سے 16 لیئر کا ہونا چاہئے۔ اسی طرح سماجی دوری کے سلسلے میں کہا گیا ہے کہ ایک میٹر کا سماجی فاصلہ رکھنے سے بیماری کا پھیلاؤ رکتا ہے لیکن اگر دو میٹر دوری رکھی جائے تو یہ زیادہ سود مند ثابت ہوتی ہے اور یہ فاصلہ اس سے بھی زیادہ ہے تو یہ اس بیماری میں اور بھی مفید ہے۔ فیس ماسک کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر متاثرہ شخص ماسک پہنے ہوئے ہو تو اس سے نکلنے والی ڈراپ لیٹ باہر نہیں آئے گی اور اس طرح ماسک پہننا دوسروں کے لئے فائدہ مند ہو گا۔ لیکن چہرے پر لگائے جانے والے ماسک کو کسی دوسرے سے شیئر نہیں کیا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ وقفے سے ہاتھ دھونا بھی ضروری ہے۔ کورونا سے لڑنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہاتھ منہ کی صفائی رکھی جائے۔ تمام تر سائنسی اور طبی تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ سامنے آیا ہے کہ کورونا کا وائرس کسی بھی

ملک یا خطے میں سے پوری طرح ختم نہیں ہو سکتا۔ اس لئے اس کے مضر اثرات سے تحفظ کا واحد راستہ احتیاط ہے اور اس کو ہی روز مرہ زندگی کا حصہ بنانا ہو گا۔ ماسک کو لازمی لباس کی حیثیت دینا ہو گی اور رش کی زندگی سے پرہیز کو بھی عادت بنانا ہو گا۔

لیکن افسوسناک صورتحال یہ ہے کہ مارکیٹوں میں ان ایس او پیز پر عمل نہیں ہو رہا ہے بلکہ عوام کا بے پناہ ہجوم نظر آ رہا ہے۔ دوکاندار اور شہری نہ سماجی فاصلے کا خیال رکھ رہے ہیں نہ ماسک کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ کورونا سے پاکستان کی معیشت بہت متاثر ہوئی ہے اور حکومت کو ایسے اقدامات کرنے پڑ رہے ہیں جن کی مدد سے مالی اور اقتصادی مشکلات میں گھری قوم کے مصائب کم ہو سکیں۔ پاکستان نئے کورونا کیسیز کے حوالے سے دنیا میں پندرویں نمبر پر آ گیا ہے جو نہایت تشویش کی بات ہے اور اگر عوام نے اس وائرس سے بچنے کی تدابیر نہ کیں جیسا کہ اس وقت دیکھنے میں آ رہا ہے تو خدشہ ہے کہ صورتحال مزید گھمبیر ہو سکتی ہے۔ اسپتالوں میں کورونا کٹس، وینٹیلیٹرز اور بستروں کی قلت پیدا ہو گئی ہے جب کہ مریضوں کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے طور پر جو اقدامات کئے ہیں وہ اپنی جگہ درست مگر جب تک عوام خود احتیاط نہیں کریں گے حکومتی اقدامات دھرے کے دھرے رہ جائیں گے۔ وزیرِ اعظم عمران خان جو محنت کش طبقے کو مشکلات سے بچانے کے لئے سخت گیر قسم کے لاک ڈاؤن کے شروع ہی سے حامی نہیں تھے مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عوام اپنی جانوں کی حفاظت کے لئے خود احتیاطی تدابیر کی پابندی کریں تاکہ حکومت کو سختی نہ کرنا پڑے۔ عوام احتیاط نہ کر کے اپنوں کی زندگی کو خطرے اور ملک کو مشکل میں ڈال رہے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت نے پاکستان کو خبردار کیا ہے کہ پاکستان لاک ڈاؤن نرم کرنے کی 6 میں سے کسی ایک شرط پر بھی پورا نہیں اترتا ہے۔ یہ ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم کسی بھی چیز کو اتنی سنجیدگی سے نہیں لیتے جتنا اس کے لئے ضروری ہوتا ہے اور لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد یہ چیز عیاں ہو گئی ہے ہم بحیثیتِ قوم ذمہ داری کا مظاہرہ نہیں کرتے ہیں اور انتہائی اہم اور سنجیدہ مسئلے پر بھی لاپرواہی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ جونہی بازار کھلتے ہیں عوام کی بہت بڑی تعداد شاپنگ کے لئے نکل کھڑی ہوتی ہے، بازاروں میں اتنا رش بڑھ جاتا ہے کہ سماجی دوری کا تصور مفقود معلوم ہوتا ہے۔ لوگوں کو سوچنا ہو گا کہ اب وہ ویسے زندگی نہیں گزار سکتے جیسے وہ کورونا وائرس پھیلنے سے پھیلے گزارتے تھے۔ انہیں اپنے طرزِ عمل اور لائف اسٹائل میں تبدیلی لانا ہو گی۔ یقیناً انہیں اپنے لئے کچھ احتیاطیں طے کرنا پڑیں گی جس پر عمل کر کے انہیں اپنے معاملات کو آگے بڑھانا ہو گا۔کاروباری سرگرمیاں بحال ہو گئیں یہ ایک معاشی ضرورت ہے۔ یہ ہے بھی درست اگر کرونا وائرس سے جنگ جیتنی ہے تو عوام کو ذہنی اور اعصابی طور پر نڈھال کر کے نہیں بلکہ ہمت، حوصلے اور عزم سے مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا اول دن سے یہ مٔوقف رہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے باعث روزانہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور طبقے کے غریب لوگ بری طرح متاثر ہو رہے ہیں لہٰذا اس کو بتدریج ختم کرنا ضروری ہے اور اسی بناء پر حکومت نے کاروبارِ زندگی کو بتدریج معمول پر لانے کے لئے تمام کاروبار مرحلہ وار کھول دئے ہیں۔

کرونا کی وجہ سے انسان ایسے بحرانی دور سے دوچار ہے جس کے سبب پوری دنیا میں سیاسی و سماجی ڈھانچوں میں بڑے انقلاب رونما ہو سکتے ہیں جن میں سے کچھ تو بنیادی ہو سکتے ہیں ۔ اس لئے لوگوں کو بڑی سمجھداری کے ساتھ آنے والے وقت میں خود کو ڈھالنے کی تیاری شروع کر دینی چاہئے۔


ای پیپر