بھارتی منتیں کام نہ آئیں، لداخ پر چینی پیش قدمی
11 جون 2020 (22:04) 2020-06-11

چین اور بھارت کے درمیان بارڈر پر گزشتہ چند ہفتوں سے حالات کافی کشیدہ ہیں اور دونوں ملکوں کی افواج میں ہلکی جھڑپیں بھی ہوئی ہیں۔ اکثر یہ جھڑپیں پتھروں اور گھونسوں مکوں کی لڑائی تک ہی محدود رہتی ہیں۔ چینی فوج کے بھارت کے زیرتسلط علاقے میں گھس جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ اور بھارتی فوجیوں کی بے مثال ’بہادری ‘ یہ ہے کہ وہ چینی فوجیوں کے ساتھ لڑ بھڑ کر انہیں واپس بھیجنے کی بجائے بینر اٹھا کر ان کی واپس جانے کے لیے منت سماجت کر رہے ہیں۔

حالیہ دنوں میں ایک اندازے کے مطابق چینی فوج کے 10ہزار اہلکار بھارت کے زیرقبضہ علاقے میں گھس گئے جس پر بھارتی فوج نے کئی بینرز پر ایک فقرہ لکھوایا اور بھارتی فوجی یہ بینرز پکڑ کر دور کھڑے ہو گئے۔ سرخ رنگ کے ان بینرز پر سفید رنگ میں انگریزی اور چینی دونوں زبانوں میں لکھا تھا کہ ’’تم بھارتی علاقے میں آ گئے ہو۔ معاہدے کے تحت دونوں طرف کی افواج کو اس علاقے میں نہیں آنا چاہیے۔ برائے مہربانی آپ لوگ واپس چلے جاؤ۔‘‘

چینی فوج لائن آف ایکچوئل کنٹرول سے کافی آگے بھارتی علاقے میں چلی گئی ہے اور لداخ کے علاقے میں بقول چین کے 90 مربع کلومیٹر پر قبضہ جما لیا ہے جبکہ بھارتیوں کا کہنا ہے کہ 38 مربع کلومیٹر پر چین قابض ہے۔ مگر جو بھی ہے قبضہ چاہے ایک مربع کلومیٹر پر ہو یا 38 یا 90 ، قبضہ تو قبضہ ہوتا ہے اور سب سے اہم بات تویہ ہے کہ سامنے سے بھارتی فوج کے روئیے سے لگتا ہے کہ وہ ہاتھ اٹھا چکی ہے اور چینی فوج سے واپس جانے کی بھیک مانگ رہی ہے۔

بھارتی اور چینی افواج میں لڑائی کے بعد بھی بھارتی فوج کا افسر چینی فوج کے سامنے ترلے منتیں کرتا رہا اور چینی فوجی غصہ میں بات کر رہے تھے۔ بھارتی فوجی کا کہنا تھا کہ ہمیں مت مارو ہم واپس جا رہے ہیں۔ ہماری گاڑیوں کو تباہ نہ کرو یہ غلط ہے۔

چین بھارت کے خلاف مسلسل جنگی تیاریوں میں مصروف ہے۔ چینی فوج لداخ کے قریب بھاری تعداد میں فوج ،سازو سامان اور جنگی طیارے لا چکی ہے۔تبت بارڈر پر رات میں جنگ کی مشق کرنے کے بعد اب چین کے شمال مغربی خطے میں بھی چینی فوج نے پہاڑوں پر لڑنے کی مشق کی ہے۔ چین مکمل تیاری کے ساتھ لداخ پر بیٹھا ہے اور چینی فوج کو جنگ کی تیاری کا حکم ملا تھا جس کے بعد چینی فوج مزید متحرک ہوئی۔ چین کا سرکاری میڈیا مسلسل چینی فوج کے جنگی مشق کے ویڈیو شیئر کررہا ہے جس سے بھارت سرکار پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے اسکے باوجود مودی سرکار نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے اور چین کے خلاف اپنا منہ کھولنے کو تیار نہیں۔

دوسری طرف بھارتی میڈیا نے چین کی جانب سے لداخ پر چڑھائی اور بھارتی فوجیوں کو مارنے پر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ لداخ میں سرجیکل سٹرائیک کیوں نہیں کی جاتی جہاں چین کی فوج نے بھارتی فوج کو ٹھڈوں اور لاتوں سے مارا ہے اور بھارتی فوجی جان بچا کر بھاگے ہیں۔سوال یہ ہے کہ بھارت میں مسلمانوں پر تشدد کرنیوالی آر ایس ایس لداخ پر چین کے ساتھ بہادری کے جوہر کیوں نہیں دکھاتی؟

بھارت اور چین کے درمیان انتہائی طویل مشترک سرحد ہے اور دونوں ہی سرحد کے بیشتر علاقوں پر اپنا اپنا دعویٰ ظاہر کرتے ہیں۔ایل اے سی پر ناقص حد بندی لداخ میں دونوں ممالک کو علیحدہ کرتی ہے۔ دونوں ممالک کی سرحدوں کے درمیان دریا، جھیل اور برف پوش پہاڑ ہیں جو دونوں ممالک کے فوجیوں کو ایک دوسرے سے دور رکھتے ہیں لیکن یہ کہیں کہیں قریب بھی آ جاتے ہیں۔

لداخ خود مختار ہلز ترقیاتی کونسل کے کونسلر اور تعلیم کے ایگزیکٹو کونسلر کونچوک اسٹینزن نے کہا: ’مجھے گاؤں کے بارے میں تشویش ہے کیونکہ ہمارے کچھ گاؤں اس جگہ سے دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں جہاں ہندوستان اور چین کے درمیان تنازع ہوا ہے۔مقامی لوگوں کو خوف ہے کہ اگر فریقوں کے مابین تناؤ بڑھتا ہے تو یہ اس وقت ختم ہو گا جب ان کی چراگاہیں چینی علاقے میں شامل کر لی جائیں گی۔

مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ ہم اپنے گاؤں سے روزانہ سو سے دو سو گاڑیاں آتے جاتے دیکھ رہے ہیں۔ ہم فوجی گاڑیوں کی اس غیر معمولی نقل و حرکت کو دیکھ کر خوفزدہ ہیں۔ہماری فوج اور چینی فوج کے مابین پہلے بھی تصادم ہوئے ہیں لیکن موجودہ صورتحال غیر معمولی معلوم ہوتی ہے۔پہلے یہ قبضہ انچ یا فٹ میں ہوتا تھا لیکن اب یہ کلومیٹر میں ہونے لگا ہے۔ ہمارے لیے یہاں رہنا مشکل ہو جائے گا۔ مقامی لوگوں میں خوف بڑھ رہا ہے۔ روزمرہ کا کام جاری ہے لیکن ذہنی طور پر وہ خوف اور بے چینی کے سائے میں ہیں۔

وادی گولون میں ایل اے سی کے قریب بسنے والے زیادہ تر مقامی افراد کا تعلق خانہ بدوشوں سے ہے جو اپنے جانوروں پر انحصار کرتے ہیں۔ لداخ کو سرد ریگستان کہا جاتا ہے جہاں عام حالات میں بھی جانوروں کے لیے چارہ تلاش کرنا انتہائی مشکل کام ہے۔ یہ خانہ بدوش ان چراگاہوں پر منحصر ہیں جہاں دونوں ممالک کے مابین تنازع ہے۔

اس خطے کے بہت سے دیہات میں رابطے کے ذرائع بہت مشکل ہیں لیکن اس دور دراز علاقے کے کچھ دیہات میں سرکاری ٹیلیفون سروس بی ایس این ایل کام کرتی ہے جن کی خدمات گذشتہ ایک ماہ سے منسوخ کر دی گئیں ہیں ۔جب بھی سرحدی علاقوں میں کوئی پریشانی ہوتی ہے تو پہلے مواصلات کے ذرائع کاٹ دیے جاتے ہیں جو ہمارے لیے ایک مسئلہ ہے۔ ہمارے علاقے میں صرف بی ایس این ایل سروس کام کرتی ہے جو چھ سال پہلے شروع ہوئی تھی۔

لداخ جیسے علاقوں میں فوجی آپریشن انتہائی مشکل ہے۔ 14 سے 18 ہزار فٹ کی بلندی پر اس علاقے میں بہت ساری ایسی جگہیں ہیں جہاں گاڑیاں نہیں جاسکتی ہیں لیکن مقامی لوگ کئی طریقوں سے مدد کر سکتے ہیں۔ لیکن اس بار وہ بہت خوفزدہ ہیں کیونکہ انتظامیہ کی طرف سے مواصلات کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ اور بھارت نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں۔


ای پیپر