کورونا وائرس لیبارٹری میں ہی تیار ہوا
11 جون 2020 (22:00) 2020-06-11

اوسلو:ناروے اور برطانوی سائنسدان نے دعوی کیا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی نہیں بلکہ لیبارٹری میں بنایا گیا ہے، کورونا وائرس کی جھلی ایسے تیز نوک دار پروٹین سے بنی ہے جو مصنوعی طور پر داخل کیے گئے ہیں ،انسانی جسم میں دریافت ہونے کے بعد سے کورونا میں بہت کم تبدیلی دیکھی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پہلے ہی انسانوں کے لیے ڈھالا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق ناروے اور برطانیہ کے سائنسدانوں نے دعوی کیا ہے کہ کورونا وائرس قدرتی نہیں ہے بلکہ اسے لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے۔ناروے کے برجر سورینسن اور برطانوی پرفیسر اینگس ڈلگلیش نے یہ دعوی برطانوی انٹیلی جنس ادارے ایم آئی 6 کے سابق سربراہ سر رچرڈ ڈیئرلو کی معاونت سے ہونی والی ایک تحقیق میں کیا ہے۔ کورونا وائرس کی جھلی ایسے تیز نوک دار پروٹین سے بنی ہے جو مصنوعی طور پر داخل کیے گئے ہیں جب کہ تحقیق میں اس بات کو بھی واضح کیا گیا ہے کہ انسانی جسم میں دریافت ہونے کے بعد سے کورونا میں بہت کم تبدیلی دیکھی گئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پہلے ہی انسانوں کے لیے ڈھالا گیا ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں چین کے شہر ووہان سے دنیا میں پھیلنے والے مہلک کورونا وائرس سے 4 لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ 71 لاکھ سے زائد متاثر ہوئے ہیں۔مہلک وائرس سے نہ صرف دنیا بھر میں معاشی، سیاسی، سماجی اور کھیلوں کی سرگرمیاں رک گئی ہیں بلکہ سیاحت سمیت کئی انڈسٹریز کو اربوں ڈالرز کا نقصان ہوا ہے۔امریکا اور دیگر ممالک کی جانب سے چین پر الزام لگایا گیا ہے کہ مہلک وائرس چین کی لیبارٹری میں تیار کیا گیا ہے تاہم چین نے ہمیشہ ہی الزام کی تردید کی ہے۔


ای پیپر