اس تہذیب کے انڈے ہیں گندے
11 جون 2020 (18:38) 2020-06-11

وہ جسے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کہتے ہیں… لمحہ موجود کے اندر خطہ ارض کی واحد سپر طاقت ہے… سات سمندر پار کی دنیا میں واقع ہے… لیکن کوئی ملک ایسا نہیں خواہ اس سے جغرافیائی لحاظ سے کتنا دور واقع ہو… اس کی ہمسائیگی کے ’شرف‘ سے محروم سمجھا جاتا ہو… وجہ اس کی امریکیوں کی فوجی برتری، جدید ترین ٹیکنالوجی کی قوت اور بے پناہ دولت و ثروت کا رسوخ ہے… اس کے باسی (مراد ہے گوری آبادی کی اکثریت) خود کو دنیا کی مہذب ترین قوم گردانتے ہیں… علم و تہذیب میں بہت آگے سمجھتے ہیں… اپنے ان اوصاف کی بدولت یہ طاقتور ترین ملک ہر ’’ہمسایہ‘‘ ملک پر براہ راست رسوخ رکھتا ہے… خاص طور پر تیسری دنیا کا شائد کوئی ملک ہو جو اس سے بے پناہ اقتصادی دولت کی بدولت امداد وصول نہ کرتا ہو… ان میں سے جو تیل کی دولت سے مالامال ہیں وہ ہر دم امریکی اسلحہ کے محتاج رہتے ہیں… اسی برتری کے بل بوتے پر آج کے دور کی یہ حکمران ترین طاقت جب پسند فرماتی ہے محتاج دنیا کے کسی بھی حکومت کا تختہ الٹ دیتی ہے… مرضی کے حکمران لاتی ہے… جن حکومتوں کو استقرار حاصل ہے وہ اندر سے اتنی کمزور واقع ہوئی ہیں کہ ریاست ہائے متحدہ کی علاقائی پالیسیوں کو حرز جان بنا کر رکھتی ہیں… اپنی خارجہ اور دفاعی پالیسیوں کو اس کے طے کردہ خطوط پر استوار کرتی ہیں… اسی میں اپنی کامیابی کا راز گردانتی ہیں… ان میں سے کئی ایک پر غالب فوجی آمریت اپنے خطے کے گردوپیش اور دنیا کے دیگر علاقوں میں امریکہ کی جنگیں لڑنے میں پیش پیش رہتی ہیں… وہ جو نسبتاً ترقی یافتہ ملک ہیں… اقتصادی اور معاشی لحاظ سے خودکفیل ہیں ان میں چند ایسے ہیں (جیسا کہ یورپی ممالک) خود کو تہذیبی تمدنی اور علمی لحاظ سے اس تہذیب کا جزو لاینفک سمجھتے ہیں جسے امریکہ اپنا طرّہ امتیاز قرار دیتا ہے بلکہ بعض برطانیہ، فرانس، جرمنی اور سپین وغیرہ کی مانند فخر سے پھولے نہیں سماتے کہ امریکی تہذیب درحقیقت ان کی کوکھ سے برآمد ہوئی تھی… لہٰذا یہ طاقت تاریخی لحاظ سے ہمارے ہی ارتقائی عمل کا حصہ ہے… یہ ہمارے بڑے وجود کی توسیع ہے… اس لئے اس کی برتری دراصل ہماری تہذیب و تمدن اور علم جدید کی دوڑ میں ہماری فوقیت کا نام ہے… لہٰذا وہ اپنے آپ کو امریکہ کا اور امریکہ انہیں اپنا فطری اتحادی سمجھتا ہے… چھوٹے موٹے اختلافات سے قطع نظر ہر بحران اور جنگ کے موقع پر یہ امریکہ کے کندھے سے کندھا ملا کر آن کھڑی ہوتی ہیں… اس کی فوجی طاقت کو مزید قوت فراہم کرنے کی خاطر اپنے فوجیوں کو اس کی کمان میں لڑنے کے لئے بھیج دیتی ہیں(مثلاً عراق اور افغانستان کی جنگیں) … امریکہ اگر کسی چھوٹے یا ناپسندیدہ ملک پر ایسا الزام عائد کر دے جو ننگی آنکھ کو بھی جھوٹا نظر آتا ہو (جیسا کہ صدام حسین پر بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی ذخیرہ اندوزی) تو یہ اس کی تائید میں پیش پیش رہتی ہیں یا خاموشی اختیار کر لیتی ہیں… اس کی سرعام تکذیب کم کرتی ہیں… امریکہ جس گروہ یا ملک، جماعت یا جتھے کو دہشت گرد قرار دے اسے اسی آئینے میں دیکھنا اور بھرپور مذمت کرنا ان کا بھی جزو ایمان بن جاتا ہے… اس لئے کہ ان سب کے نہاں خانہ دماغ میں یہ خیال جاگزیں ہو چکا ہے کہ چھوٹے موٹے تسامہات سے قطع نظر امریکہ اور اس کا معاشرہ فوجی قوت اور اقتصادی برتری کا مالک ہونے کے ساتھ اعلیٰ درجے کی تہذیب، چمکتے دمکتے تمدن اور علمی برتری کا مظہر اور علامت بن چکا ہے… اس کا فرمایا ہوا کم و بیش درست اور عالمی صداقتوںکا آئینہ دار ہوتا ہے…

معلوم ہونا چاہئے کہ امریکہ نامی اس جدید ترین، انتہائی ترقی یافتہ، طاقتور ترین اور انتہائی مہذب عہد جدید کے پیشوا ملک کی بنیادیں متعصبانہ جذبات میں ڈوبی ہوئی نسل پرستی پر رکھی تھیں … گزشتہ ماہ مئی اس کی تیل کی دولت اور تجارت سے مالامال اور اہم تر ریاستوں میں سے ایک ٹیکساس کے شہر ہائوسٹن میں جارج فلائیڈ جیسے عام درجے کے کالے شخص کا چھوٹی سی غلط فہمی کی بنیاد گوری پولیس کے ہاتھوں بہیمانہ اور وحشیانہ قتل نئی بات یا ISOLATIONواقعہ نہیں… جدید امریکہ کی تاریخ

ان سے بھری پڑی ہے… اور آج کے دور میں جبکہ گورے امریکیوں کا دعویٰ ہے ان کی تہذیب بلندیوں کے زینے پر بہت اوپر جا کر کھڑی ہو گئی ہے… وہاں کی زندگی کے روزمرہ کا مظاہروں کا حصہ ہے… گوروں کے اندر اپنے یہاں بسنے والی کالی نسل کو خواہ وہ کتنے پڑھ لکھ گئے اور شائستہ اطوار زندگی کے مالک ہوں… ان میں سے ایک آٹھ برس کے لئے ملک کا صدر منتخب ہوجائے… کئی بڑے بڑے شہروں کے میئر ہوں… کھیلوں کے میدان میں کوئی ان کا مقابلہ کرنے والا نہ ہو… موسیقی اور آرٹ کی دنیا میں عالمی سطح کی پہچان رکھتے ہوں… لیکن کالی رنگت کی وجہ سے وہ عام امریکی گورے کی نگاہوں میں نیچ انسان کا درجہ رکھتے ہیں… ان سے سماجی لحاظ سے دور رہنے کو ترجیح دی جاتی ہے… ان کی بستیوں میں رہائش اختیار کرنا باعث توہین سمجھا جاتا ہے… یہاں تک کہ بعض علاقوں کے اندر ان کے چرچ بھی علیحدہ ہیں… گورے ان کے پادریوںکے مواعظ کو بھی حالانکہ وہ بھی عیسائیت کی تعلیم پر مبنی ہوتے ہیں لائق اعتناء اور قابل اعتبار نہیں سمجھتے… یہاں تک کہ ان کا لٹریچر بھی خواہ ادب عالیہ کا شاہکار ہو کالوں کا لٹریچر سمجھ کر پڑھا جاتا ہے… ان میں زیادہ تر کو نچلے درجے کی ملازمتیں دی جاتی ہیں… سماجی دوری اور فاصلہ رکھا جاتا ہے… لہٰذا مہذب ترین ہونے کی دعویدار گوری اکثریت والے ملک کے اندر جو اپنے آپ کو عظیم کہتے ہوئے نہیں تھکتا وہاں کالی اقلیت پر عرصہ حیات تنگ رکھا جاتا ہے… انہیں مسلسل احساس دلایا جاتا ہے ان کی حیثیت دوسرے اور تیسرے درجے کے انسانوں کی ہے بلکہ ان کے ساتھ مسلسل نیچ اور اچھوت ہونے کا ایسا سلوک روا رکھا جاتا ہے… خواہ اپنے آپ کو برابر درجے کے امریکی کہلانے کی خاطر جتنی چاہے تحریکیں برپا کر لیں… احتجاجی مظاہرے کریں… وہ رنگت کی بنا پر نیچ کے نیچ رہیں گے… ان کے ساتھ امتیازی سلوک میں کمی نہیں آئے گی… کیونکہ نفرت کا یہ جذبہ گوروں کی سرشت میں رچا بسا ہے وہ اپنی برتری اور احساس تفاخر پر غرور کرتے ہیں اور خوشی سے پھولے نہیں سماتے…

جیسا کہ ابتداء میں عرض کیا گیا گوروں کی اس تمام تر سوچ اور کالوں یا دیگر رنگتوں کے مقابلے میں برتری کے جذبات کی بنیادوں کو سنّ آزادی 1779ء اور اس سے ماقبل کے سو ڈیڑھ سو سال میں ریاست کی بنیادوں میں سمو دیا گیا تھا… گورے امریکی یورپ سے دولت کی تلاش میں یا زیادہ تر پروٹسٹنٹ ہونے کی وجہ سے امریکہ کی نودریافت یافتہ دنیا میں آ کر آباد ہو گئے تھے… پہلا کام انہوں نے یہ کیا کہ ریڈ انڈین کی مقامی آبادی کو تہس نہس کر کے رکھ دیا، ان کا قتل عام کیا… وحشیانہ نسل کشی کے مرتکب ہوئے… یوں اس سرزمین کی کانوں میں معدنیات کی چھپی ہوئی دولت سمیٹتے رہے… 1779ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی… یہ ایک مسلح مزاحمتی جنگ کا نتیجہ تھی… جیسے آج کل خود اگر اپنے مفادات کے خلاف ہو تو دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہیں… تب جمہوری آئین بنا جس میں پہلی ترمیم کے ذریعے تمام انسانوں کو برابر اور مساوی حقوق کا مستحق قرار دیا… لیکن یہاں انسانوں سے مراد زبردستی کی مسلط کردہ گوری اکثریت کے علاوہ کوئی اور جذبہ یا خیال نہ تھا… اس ریاست نے طاقت پکڑنی شروع کی تو اپنی خدمات سرانجام دینے کے لئے افریقہ سے کالوں کو قید کر کے اور بحری جہازوں میں لاد کر امریکہ لے آئے… انہیں باقاعدہ غلاموں کا درجہ دیا… اچھوتوں کا سا ’’مقام اور مرتبہ‘‘ عنایت فرمایا… نفرت کی دیواریں کھڑی کیں… نچلے اور گھٹیا درجے کے کام ان کے سپرد کئے… ہاتھ تک ملانا گوارا نہیں کیا جاتا تھا… انیسویں صدی کے وسط میں انہیں ذرا ہوش آیا… اپنے حقوق کا احساس پیدا ہوا… خانہ جنگی برپا ہوئی…گورے امریکیوں نے اپنے صدر ابراہام لنکن کی جان کی قربانی تو دے دی لیکن کالوں کو حقوق نہ دیئے… بیسویں صدی کے نصف وسط میں ایک کالی خاتون نے بس پر سفر کے دوران گوروں کے لئے مخصوص نشست خالی کرنے سے انکار کر دیا… حقوق کی تحریک کے شعلے بھڑک اٹھے… کالوں نے تیزی سے اسلام قبول بھی کرنا شروع کر دیا… کیونکہ حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کی تاریخ کی پہلی ممتاز شخصیت تھے جنہوں نے باقاعدہ اعلان فرمایا کسی گورے کو کالے اور کسی کالے کو گورے، نہ کسی عربی کو عجمی یا عجمی کو عربی پر فوقیت حاصل نہیں… یوں حقیقی انسانی برابری کے چارٹر کو صحیح معنوں میں ایک انسانی فلاحی اور حقیقی مہذب ریاست کی بنیاد قراردیا… بیسویں صدی کے نصف آخر میں ہی کالوں کے اندر مارٹن لوتھر کنگ جیسی انسان دوست شخصیت سامنے آئی… لیکن 1968ء میں ایک گورے نے انہیں سرعام گولی مار کر ہلاک کر دیا… 2008ء میں کالوں نے بڑھتی ہوئی آبادی سے طاقت پکڑ کر باراک اوبامہ نامی کالے کو امریکہ کا صدر منتخب کیا… ردعمل میں گوری اکثریت نے یکجا ہو کر 2016ء کے انتخابات میں ڈونالڈ ٹرمپ جیسے شتر بے مہار کو صدر منتخب کر لیا… اس نے نسل پرستی کے جذبات کو خوب خوب ہوا دی بلکہ اس کے شعلوں کوبھڑکا دیا… گوروں کے درمیان ان کی نسلی فوقیت کے جذبات کا پرچار کیا ان کے ووٹ حاصل کئے… گزشتہ ماہ مئی میں جارج فلائیڈ نامی کالے امریکی کا وحشیانہ قتل اسی کا شاخسانہ ہے… امریکی تہذیب اپنا منہ چڑا رہی ہے… دنیا دیکھ رہی ہے لیکن واحد سپر طاقت کا کچھ بگاڑ نہیں پا رہی… ہم جو خاص طور پر مسلم دنیا کے لوگ ہیں امریکہ کی مذمت یقینا کرتے ہیں… اسلامی اصولوں کو بھی نکال نکال کر ان کے سامنے رکھتے ہیں… شرم دلاتے ہیں… لیکن ہمارے حکمران چونکہ ڈالر ڈالر اور گولی گولی کے لئے ان کے محتاج ہیں… ہماری اشرافیہ ان کے طرز بودوباش کی بھونڈی نقالی کرتی ہے… ان کی جمہوریت کے مقابلے میں اپنی آمریتوں کو مضبوط بنا کر رکھتے ہیںتاکہ بوقت ضرورت ان کے اور اپنے کام آئے… لہٰذا عملاً کھوکھلے ہو چکے ہیں… امریکہ ہماری انہی کمزوریوں کا بھرپور فائدہ اٹھاتا ہے… ہمارے حکمرانوں کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرتا ہے… ورنہ اس کی تہذیب کے انڈے ہیں گندے


ای پیپر