سنتھیارچی…اسلام آباد کی ایک پر اسرار شخصیت
11 جون 2020 (18:38) 2020-06-11

امریکہ دنیا کے کونے کونے میں موجود اپنے شہریوں کے تخفظ کیلئے مشہور ہے حتیٰ کہ دوسرے ممالک سے جاکر امریکی شہریت حاصل کرنے والوں کو بھی امریکہ اپنے شہر ی سمجھتا ہے۔ مثا ل کے طور پر کوئی پاکستانی جس کے پاس امریکی شہر یت ہو اگر پاکستان میں اس کے ساتھ بھی کوئی ظلم یا زیادتی ہوتی ہے تو امریکی دفتر خارجہ حرکت میں آجاتا ہے۔ سعودی صحافی جمال خشوگی کے قتل پر امریکی واویلا کی بنیاد بھی یہی تھی کہ وہ امریکی شہری تھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پراسرار امریکی شخصیت سنتھیارچی نے 2011ء میں اس وقت کے وزیرداخلہ رحمن ملک پر زیادتی کا الزام لگایا ہے مگر ابھی امریکہ خاموش ہے۔ سنتھیا نے 9سال کے طویل خاموشی کے بعد اس راز سے پردہ اٹھایامگر اس کیلئے جو فورم استعمال کیاگیاوہ میڈیا تھا نہ توانہوں نے اپنے سفارتخانے سے رابطہ کیا اور نہ ہی کیس کی ایف آئی آر کے اندارج کیلئے کوئی درخواست دی۔جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں ملزم کی سزا سے اتنی دلچسپی نہیں جتنی اس واقعہ کو زیادہ سے زیادہ کوریج دلوانے کی اس نے ایک ہی سانس میں پیپلز پارٹی کی 3اعلی شخصیات پر گھٹیا الزام لگائے ہیں اور دھمکی دی ہے کہ وہ مزید انکشافات کرے گی۔

حکمرانی کی سیاست کا جاسوسی کے ساتھ زمانہ قدیم سے ہی گہرا تعلق ہے۔ جن لوگوں نے عنایت اللہ التمش کی تاریخی کتاب ’’داستان ایمان فروشوں کی‘‘ پڑھی ہوئی ہے انہیں اندازہ ہے کہ کسی طرح یہودی جرنیل اس وقت صلاح الدین ایوبی اور اس کے کمانڈروں کے گرد حسین وجمیل عورتوں کے ذریعے سازشوں کا جال پھیلاتے تھے۔ اسے تاریخ میں عورت اور ایمان کی معرکہ آرائی سے تعبیر کیاگیا۔ دنیا بھر کی جاسوسی تنظیمیں بشمول امریکی سی آئی اے اسرائیل کی موساد اور انڈیا کی را ان سب میں خفیہ رازوں تک رسائی کیلئے عورتوں کا استعمال کیاجاتا ہے۔

جاسوسی کی عمومی اصطلاح انگریزی میں Espionageاستعمال ہوتی ہے جبکہ عورتوں کے ذریعے جاسوسی کو sexpionageکا نام دیا جاتا ہے۔ یہ خوبرو مگر تربیت یافتہ عورتیں ہوتی ہیں جو اپنے مقاصد کے حصول کیلئے سب کچھ کرنے پر تیار ہوتی ہیں۔جاسوسی کے اس فیلڈ میں کام کرنے والے عام طور پر ایجنٹ کہلاتے ہیں انہیں ڈبل ایجنٹ کہا جاتا ہے مگر سنتھیا کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ ڈبل نہیں ٹرپل ایجنٹ بن کرابھری ہے

آنے والے وقت میں چونکا دینے والی باتیں ہوں گی جن میں سے کچھ منظر عام پر آئیں گی مگر کچھ فائیلوں کی زینت بنے گی اور باہر نہیں آئیںگی۔

حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عورت نے کسی طرح پاکستان کے اندر اعلی ترین سطح پر تعلقات قائم کئے اور اتنے عرصے تک یہ قومی اداروں کی نظر میں کیوں نہیں آئی یہ پاکستان کے لیے ایک بہت بڑا سکیورٹی رسک ہے۔ اس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ اعظم خان سواتی کی بیٹی کی دوست تھی اور ان کی این جی او میں کام کرنے کے لیے پہلی بار پاکستان آئی یہاں آ کر اس نے طاقت کے مراکز میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانا شروع کر دیا۔

ذرائع کے مطابق 2010ء کے سیلاب کے زمانے میں ہیوسٹن امریکہ میں مشہور پاکستانی فلاحی شخصیت ڈاکٹر شفقت عباسی نے پختونخوا کے متاثرہ علاقوں میں ریلیف کا کافی کام کیا تھا۔ ڈاکٹر عباسی کو سنتھیا نے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ پاکستان میں فلاحی سرگرمیوں میں دلچسپی رکھتی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب اعظم سواتی کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ انہوں نے اعظم سواتی کو کہہ کر سنتھیا کا ویزا لینے میں مدد چاہی اعظم سواتی نے اس وقت کے وزیر داخلہ رحمن ملک سے بات کی اور یوں اس کام کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد سنتھیا نے پاکستان کے طاقتور حلقوں میں اتنا اثر ورسوخ پیدا کر لیا کہ رحمن ملک کے بعد بھی انہیں ویزا کی تجدید میں کوئی مشکل نہ رہی۔

یہ وہ زمانہ تھا جب حسین حقانی کو پیپلزپارٹی حکومت نے امریکا کا سفیر مقرر کر رکھا تھا جن کے دور میں امریکیوں کے پاکستان آنے میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا یہ وہی دور تھا جس کے دوران پاکستان میں خود کش حملے تاریخ کی بلند ترین سطح پر تھے۔ ریمنڈ ڈیوس کا واقعہ بھی اسی دور کی پیداوار ہے۔ ان دنوں بلیک واٹر پاکستان میں بہت زیادہ سرگرم عمل تھی اور یہ تنظیم اتنی بدنام ہوئی کہ امریکہ کو اس کو مزید بدنامی سے بچانے اور اسے خفیہ رکھنے کے لیے اس کا نام بدلنا پڑا۔ اب یہ کسی اور نام سے کام کرتی ہے۔

جب سنتھیا کے الزامات کی تحقیقات کا مرحلہ آئے گا یہ سوال ضرور اٹھے گا کہ وہ 9 سال تک خاموش کیوں رہی اس سے اس کے الزامات کی کمزوری کا تاثر ملتا ہے۔ دوسری طرف رحمن ملک نے اس پر جھوٹے الزام لگانے پر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ عام طور پر پاکستان میں ملزم کو پولی گراف ٹیسٹ سے گزارا جاتا ہے کہ پتا لگایا جائے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے یا سچ۔ لیکن اس کیس میں میرے خیال میں مدعی مقدمہ کا پولی گراف ٹیسٹ ضروری ہے۔ ٹی وی پر جس طرح سے اس نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا ہے اس کی باڈی لینگوئج ااور اتنے Cool Expressions کے ہوتے ہوئے ان الزامات کو ثابت کرنا آسان نہیں۔

اسی اثناء میں اسلام آباد میں انڈین سفارتخانے کے ایک افسر جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق را سے ہے۔ سنبتیا کو اس کے ساتھ برطانیہ میں اکٹھے دیکھا گیا ہے جس کے بعد صورت حال تیزی سے تبدیل ہوئی ہے۔ شاید وہ اپنی اس غلطی کا کفارا اد ا کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کو ٹف ٹائم دے رہی ہے۔

ایک غیر ملکی عورت پچھلی ایک دھائی سے پاکستان کے دارالحکومت میں اپنی مشتبہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور اس کے تمام اہم قومی اداروں کے ساتھ تعلقات ہیں یہ وہ حقائق ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ کس طرح وہ اب تک حساس اداروں کی ناک کے نیچے یہ کھیل جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس کا رول ابھی ختم نہیں ہوا ورنہ وہ اب تک پاکستان سے فرار ہو چکی ہوتی۔


ای پیپر