بات نکلی ہے تو دور تلک جائے گی
11 جون 2020 (18:37) 2020-06-11

امریکہ میں سفید فام پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام شخص جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد دنیا بھر میں نسل پرستی، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور ناانصافی پر صدیوں سے جاری بحث نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے یا یوں کہیں کے اب یہ ایک ایسی تحریک کی شکل اختیار کر چکی ہے جسکے نتائج تاریخ میں انقلاب کی صورت میں دیکھے گئے ہیں۔ 25 مئی کو مینیپولیس میں جارج فلائیڈ کے آخری الفاظ '' آئی کانٹ بریتھ " یعنی مجھے سانس نہیں آ رہا، نے دنیا بھر میں ہونے والی ناانصافیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو نئی زبان دے دی ہے۔ کسی بین الاقوامی میڈیا کی ہیڈ لائن میں لکھا گیا کہ

ـ"America is facing two deadly viruses one is corona and other is racisim"۔

ماضی میں بھی امریکہ میں نسل پرستی کے بہت سے واقعات دیکھے گئے ہیں مگر جارج فلائیڈ کے آخری جملے نے جس تحریک کو اٹھایا ہے ایسے لگتا ہے کہ انسان کی بقا کی جنگ دوبارہ اپنے آغاز پر آن کھڑی ہوئی ہے۔ جمہوریت، انسانی حقوق اور جانے کون کونسی اصلاحات کا استعمال کر کے ترقی یافتہ سپر پاورز نے دنیا کو بے وقوف بنایا کہ ہم ہی انسانی حقوق کے اصل علمبردار ہیں ۔ہمارے ہاں مکمل امن ہے اب دنیا کے تمام ممالک کی کبھی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے نام پر کبھی دہشت گردی کا الزام دھر کے اور کبھی نسل پرستی کے الزام میں تذلیل کرنا ہمارا قدرتی حق ہے۔ امریکی صدر باراک اوبامہ کے اقتدار میں آنے کے بعد یوں لگتا تھا کہ نسل پرستی کی آگ پر قابو پایا جا چکا ہے، سفید و سیاہ فام کی لڑائی ختم ہو گئی ہے، کالے کو گورے پر گورے کو کالے پر فضیلت نہ ہونے کے سچ کو مان لیا گیا ہے لیکن 25 مئی کے واقعہ نے ثابت کر دیا کہ مصنوعی امن زیادہ دیر برقرار نہیں رکھا جا

سکتا۔ میڈیا کی آزادی سے لے کر اظہار رائے کی آزادی تک کی بات کرنے والوں نے خود ہی ثابت کر دیا کہ آزادی دینے اور دنیا کو آزادی دکھانے میں کتنا فرق ہے۔ آج سیاہ فام امریکیوں کے مظاہرے ڈونلڈ ٹرمپ کی جیت کی وجہ بھی چیخ چیخ کر بیان کر رہے ہیں اور سپر پاور کی جانب سے کبھی افغانستان، کبھی روس کبھی پاکستان، کبھی ایران اور کبھی عراق میں نسل پرستی کے ذریعے ذاتی جنگ کی کہانی بھی بتا رہے ہیں۔ ڈیوائیڈ اینڈ رول یعنی تقسیم کر کے حکومت کرنے کا قانون آج سب خود ہی بیان کر رہا ہے اور ثالثی کی پیشکش کے بیان بھی آج خود امریکہ پر پورے اتر رہے ہیں۔ روس، چین، ترکی اور دیگر

ممالک کا میڈیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اپنے بیانات امریکی ریاستوں میں ہونے والے مظاہروں کی تصاویر کے ساتھ کیپشن کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ امریکہ اور اب دوسرے ملکوں میں بھی نسل پرستی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں لوگ کورونا جیسی جان لیوا وبا کو بھی خاطر میں لائے بغیر ازسر نو جمہوریت کی، زندگی کی اور سانس لینے کی آزادی مانگتے نظر آ رہے ہیں۔ "بلیک لائیوز میٹرز" سے نکل کر اب یہ مظاہرے بنیادی انسانی حقوق، ہر جاندار کے زندہ رہنے کے حق اور برابری کے حقوق کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔کیمبرج یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ رنسیمن نے اپنی کتاب how democracy ends? ' میں لکھا ہے کہ

جمہوریت اب اپنی آدھی عمر کو پہنچ رہی ہے لیکن ہم خود تبدیل ہوئے بغیر تبدیلی چاہتے ہیں۔ پروفیسر رنسیمن نے اپنے ایک انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ کے انتخاب کو جوانی میں خریدی جانے والی ایک شوخ موٹرسائیکل قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ جمہوریت تھک ضرور گئی ہے مگر اس کے رستے میں ڈھ جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ پروفیسر رنسیمن کی اس تھیوری کو سمجھا جائے تو دنیا میں ہونے والی تغیر کی کوششیں سمجھ میں آتی ہیں۔ انسان ہمیشہ سے تبدیلی چاہتا ہے، ارتقا انسان کی فطرت میں شامل ہے لیکن تبدیلی کو اپنانے کے لیے یا تبدیلی کے راستے پر چلنے کے لیے کسی محرک کی ضرورت ہوتی ہے اور محرک مل جائے تو فئیر آف آئسولیشن کی تھیوری(جس کے مطابق انسان وہی طرز عمل اپنا لیتا ہے جس پر اکثریت چل رہی ہوتی ہے یعنی انسان تنہا رہ جانے سے خوفزدہ ہو کر اپنی ایسی رائے کا اظہار نہیں کرتا جو اکثریت سے مختلف ہو) پر چلتے ہوئے معاشرہ خودبخود تبدیل ہوتا چلا جاتا ہے۔ جارج فلائیڈ کی ہلاکت سے امریکی سیاہ فاموں کو ایک محرک ملا ہے،'' آئی کانٹ بریتھ'' اور " بلیک لائیوز میٹرز کے نعرے تلے ہر وہ شخص پناہ لینے نکل پڑا ہے جو کسی نہ کسی صورت میں اپنے سے طاقتور شخص یا نظام کی ناانصافی اور ظلم کا شکار ہے۔ یہ نعرے ہر اس مزدور کی آواز ہیں جسے اسکی اجرت نہیں ملتی، ہر اس زینب کی آواز ہیں جو زیادتی کے بعد قتل کر دی جاتی ہے، ہر زہرہ شاہ، ہر نقیب محسودکی آواز ہے، ہر فلسطینی کی آواز ہے، برما کے مسلمانوں کی آواز ہے اور ہاں دنیا کی آنکھ سے اوجھل ہر اس کشمیر ماں کی آواز ہے جو روز لخت جگر کو زمین میں اتار کر صبر کے گھونٹ پی لیتی ہے۔ مختصر یہ کہ ان مظاہروں کو صرف ایک نسل پرستی کے خلاف نہ سمجھا جائے ، اب جمہوریت نے ادھیڑ عمری میں قدم رکھا ہے تو کچھ غلطیاں بھی ہوں گی لیکن یہ بھی یاد رکھیں گے غلطیوں اور تجربوں سے سیکھنے کی بھی یہی عمر ہوتی ہے۔ لہٰذا مان لیجیے یہ کہ یہ تحریک معمولی نہیں ہے اور بقول کفیل آزر امروہوی

بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی

لوگ بے وجہ اداسی کا سبب پوچھیں گے


ای پیپر