ہمارے جارج
11 جون 2020 (18:36) 2020-06-11

اقوام کی یکجہتی مختلف حالات میں وقوع پذیر ہوتی ہے۔جب ریاستیں مشکلات کا شکار ہوں تو قوم کے باسی اپنا فکری تشخص آشکار کرتے ہیں۔مسائل یا موضوعات جیسے بھی ہوں، زندہ اقوام ہمیشہ یکجہتی سے مقابلہ کرتی ہیں۔وگرنہ بہت سے گروہ جغرفیائی حدود میں مماثلت رکھنے کے باوجود تجاہل ِعارفانہ سے کام لیتے ہیں۔ہر کوئی خود غرضی کے فرغل سے اپنے ذہن کو ڈھانپ کر من پسند ڈگرپر چلتا رہتا ہے۔ لیکن نظم وضبط اور اتفاق و یگانگت سے سرشار اقوام کرئہ ارض کو اپنے رنگ سے مانوس کر دیتی ہیں۔

25 مئی 2020ء عالمی منظر نامے میں تبدیلی کا دن تھا۔ وہ سپر پاور جو شطرنج کے کھلاڑی کی طرح اپنی چال کامیاب بنانے میں ماہر سمجھا جاتا تھا۔ اس کی کم بختی آئی کہ دنیا نے اس کے خلاف اپنے ہی گھر سے عوام کا سیلاب دیکھا۔ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر منی ایپلس میں 46سالہ سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ کی ہلاکت نے دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔صرف اس الزام پرغیر مسلح سیاہ فام افریقی امریکی شہری کو موت کے گھاٹ اتارا گیا کہ اس نے بیس ڈالر کا جعلی نوٹ استعمال کیا۔ موت کے ہرکارے (امریکی پولیس افسر)ڈیریک شوون نے جارج کی گردن کو آٹھ منٹ اور چھالیس سیکنڈ تک گھٹنے سے دبایا جس کے باعث وہ جان کی بازی ہار گیا۔ عینی شاہدین نے یہ منظر کیمرے میں ریکارڈ کر لیا۔ بعد میں دنیا نے یہ ہولناک منظر دیکھا۔

یہ موت الزام کی بنیاد پر نہیں تھی، اس میں نسلی تعصب کے آثار نمایاں تھے، جس نے عالمی سطح پرمظاہروں کو ہوا دی۔ امریکی ریاستوں میں قیامت برپا ہو چکی تھی۔ مظاہرین کا سمندر انصاف کے متلاشی کی صورت میں نمودار ہوا۔ حالات کی سمت دیکھتے ہوئے سکیورٹی اداروں کی اضافی نفری طلب کی گئی۔ منی پولس، اٹلانٹا ،نیو یارک، شکاگو، سین فرانسسکو سمیت متعدد ریاستوں میں عوام کا جمِ غفیر اُمڈ آیا۔برطانیہ میں وسطی لندن میں پارلیمنٹ سکوائر پرکورونا وائرس کے خدشے کے باوجود مظاہرین نے احتجاج کیا۔آسٹریلیا، جرمنی، سپین، فرانس سمیت بیشتر

ممالک میں نسلی امتیا ز اور پولیس تشدد کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ گو کہ ہر طرف ایک پکار پڑ چکی تھی۔

امریکی صدر کے نظریات ایک طرف، امریکی شہریوں کے تاثر نے دنیا میں اتحاد دکھا کر ظلم کے خلاف آواز بلند کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ ظلم کسی پر بھی ہو، انسان کو ایک دوسرے کا خیر خواہ ہونا چاہئیے۔ان مظاہروں کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ تمام شرکا رنگ و نسل کے تعصب سے بالاتر ہو کر مظاہرے میں شریک ہوئے۔ سفید فام افراد کی بڑی تعداد نے بھی مظاہروں میں حصہ لیا اور حکومت ِ وقت سے انصاف کا تقاضا کیا۔ سماجی رابطہ کی ویب سائٹس پر لوگوں نے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیااور مطالبہ کیا کہ تمام ملزمان کو کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے۔

اب بات کرتے ہیں اپنے دیس کے باسیوں کی۔ہم نے اس سانحے پر سوشل میڈیا پر خوب چرچا کیا ہے۔ اور اس فعل پر خوب گرجے برسے۔ امریکی عوام سمیت دیگر ممالک نے جس طرح ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔ ہم یہ سیکھنے کی کوشش کیوں نہیں کر رہے کہ ظلم سہہ کر نہیں زندگی گزاری جاتی۔ انصاف کی عدم دستیابی پر آواز اٹھانا پڑتی ہے۔کیا ہم نے کبھی اپنے اطراف میں موجودان تمام جارج پر غور کیا ہے جو ظلم و ستم کا شکار بنے اور پھر تاریخ کے اوراق کو سیاہ کرتے رہے۔ مارچ 2003ء میں لاپتہ ، بعد ازاں امریکی قید میں رہنے والی ڈاکڑ عافیہ صدیقی، جن پر امریکہ نے کالعدم جماعت سے تعلقات کا الزام لگایا۔حکومت ِ پاکستان نے بازیابی کے لئے اقدامات کے بے پناہ وعدے کئے۔ہر حکومت عملی اقدامات کا راگ الاپتی رہی لیکن نتیجہ کچھ نہ نکلتا۔کیا ڈاکٹر عافیہ پاکستانیوں کے لئے جارج کی حیثیت نہیں رکھتی تھیں؟

15 اگست 2010ء کو پنجاب کے شہر سیالکوٹ میں قانون کے رکھوالوں کے سامنے دوسگے بھائیوں کو بہیمانہ تشدد سے موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ کراچی کے سترہ سالہ نوجوان ریحان کو چوری کے شبہ میں مار ا گیا۔ ان کو بروقت انصاف میسر نہ آیا۔ کیا یہ ہمارے لئے جارج کی مانند نہ تھے؟

شہر ِ قائد میں قائم بلدیہ گامنٹس فیکٹری میں 12ستمبر2012ء کو لگنے والی آگ سے 259 افرادکی آنے والی چیخ و پکار بھی ہمارے بے جان ضمیر کو نہ بے دار کر سکی۔2017ء میں مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشعال خان کو جس بے درد ی سے مارا گیا۔ دنیا نے دیکھا، لیکن کیا ہوا، کیا ہمارے قلوب میں خوف کی جنبش آئی؟

حویلیاں طیارہ حادثہ، سانحہ پی آئی اے سمیت طیارہ حادثات کے حوالے سے تو ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ تحقیقات ہوتی ہیں، دعوے اور وعدوں کی بھرمار کر دی جاتی ہے لیکن حاصل صرف دلاسے ہوتے ہیں۔اتنے زخموں کو حاصل کر نے کے باوجود ہم کیوں نہیں آواز بلند کرتے ؟ کیا تمام شہدا ہمارے لئے جارج کی حیثیت نہیں رکھتے ؟

تھر میں غذائی قلت سے مرنے والے لوگ، سندھ میں کتے کی ویکسین نہ ملنے سے جہان ِ فانی سے رخصت ہونے والے پیارے کس کو مجرم ٹھرائیں؟ کس کے آگے انصاف کی التجا رکھیں ، کیوں کہ ہم تو صرف اپنا آپ دکھانے کے لئے سوشل میڈیا پر ہی افسوس کا اظہار کرتے ہیں، کبھی آواز بلند کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔۔۔

سانحہ ماڈل ٹائون، سانحہ ساہیوال میں جان سے جانے والوں کے لواحقین بھی مردہ حس کی مالک قوم کو دیکھ رہی ہے۔

مستقبل کے معماروں پر تو اقوام سرمایہ کاری کرتی ہیں ، ہم یہاںبچوں کے ساتھ کیا برتائو کر رہے ہیں؟ زینب کے قاتل کو پھانسی پر چڑھا کر مطمئن ہیں کہ اب تو جیسے کچھ نہیں ہوگا۔ روزانہ کی بنیاد پر زیادتی کی خبریں موصول ہوتی ہیں، کیا قدم اٹھایا جاتا ہے؟ کیا اس وحشت کو نیست و نابو د کرنے کے لئے ہم نے کچھ کیا؟ ایسے اندوہناک واقعات کی تاریخ بھری پڑی ہے اور صرف سیاہ اوراق پر ہی مشتمل ہے۔ یہ سب ہمارے جارج ہیں ۔امریکہ نے تو دنیا کو بھی اس ظلم کے خلاف بولنے پر مجبور کیا ہے۔مگر ہم تو یہ بھی سیکھنا گوارا نہیں کر رہے۔

میں قطعاََ متشدد رویہ اختیار کرنے کی بات نہیں کر رہا۔ پُر امن طریقے سے آواز اٹھانے کے بہت سے ڈھنگ ہوتے ہیں۔ہمیں بھی ان تراکیب کو استعمال کرنا چاہئیے تا کہ ہمارے اطراف موجود ہمارے جارج انصاف کی راہداری میں ٹہل سکیں۔اور آئندہ کوئی بھی سنگین جرم عمل میں نہ آ سکے۔


ای پیپر