چار اعمال: پوری قوم کا دامن تر
11 جون 2020 (18:35) 2020-06-11

حضرت ابن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر چار چیزیں اور خصلتیں تمہارے اندر ہوں اور ساری دنیا بھی چھوٹ جائے تو کوئی حرج نہیں۔

امانت کی حفاظت

بات میں سچائی

اخلاق میں عمدگی

اورکھانے( رزق) میں پاکیزگی

یہ مسند احمد کی وہی متفق علیہ حدیث ہے جسے ممتاز عالم دین مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم عمران خان کی کرونا فنڈ ریزنگ ٹیلی تھون میں دعا سے قبل اس طرح بیان کیا تھا کہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ چار باتیں مجھ سے لے لو پھر دنیا بھی تمہاری ہے اور آخرت بھی تمہاری۔ تمہیں کوئی ٹیڑھی آنکھ سے نہ دیکھ سکے گا تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گا کہ تمہارے رب کا سایہ تم پر چھا جائے گا۔ وہ چار باتیں یہ ہیں ۔

صدق حدیث: ہمیشہ سچ بولنا

حفظ امانت ۔ کسی کو دھوکہ نہ دینا۔

حسن خلیقت۔ اپنے اخلاق اونچے کرنا ( بقول مولانا اخلاق میںسب سے اونچا مقام حیا کاہے)

اسی دعائیہ خطاب اور ٹی وی چینلز کی تنقیدکے بعد مولانا کو معذرت کرنا پڑی تھی

آئیے ذرا جائزہ لیں کہ بطور رقوم ہم اس حدیث کے مقرر کردہ معیار پر کتنا پورا اترتے ہیں۔ ابھی برکتوں، رحمتوں اور مغفرتوں کا ماہ مبارک گزراہے۔ جس میں دل نرم ہو جاتے ہیں۔ رجوع الی اللہ بڑھ جاتا ہے۔ خیر کا جذبہ زیادہ ہو جاتا ہے۔ طبیعتیں فکر آخرت کی جانب راغب ہوجاتی ہیں۔ اگرہم صرف اس مہینے میں اپنے کردار اور عمل کو اس حدیث کی کسوٹی پر پرکھیں تو صورت حال واضح ہو جائے گی۔

ہم کتنا سچ بولتے ہیں اگر ہررات سونے سے قبل اس کا جائزہ لیں تو شرمندگی کے سواکچھ ہمارے حصے میں نہیں آئے گا۔ شاید 22 کروڑ میں سے چند افراد ایسے نکل آئیں جنہوں نے پورے دن جھوٹ نہ بولا ہو ۔یہ بھی اگر پورے ہفتے یا مہینے کا جائزہ لیں تو شرمسار ہوں گے ہم ایک ایسی قوم ہیں۔جو بلا جواز اور کسی مجبوری کے بغیر بھی جھوٹ بولتی ہے۔ ہنسی مذاق میں جھوٹ بولنا۔ گفتگو میں مبالغے سے کام لینا اور جھوٹے دلائل دینا ہماری سرشت میں شامل ہے۔ ہماری عدالتوں کے ریکارڈ روم جھوٹی شہادتوں اور جھوٹی دستاویزات سے بھرے پڑے ہیں۔ سرکاری

اداروں کی فائلوں میں لاکھوں جھوٹے حلف نامے موجود ہیں۔ ہماری پولیس ہر روز درجنوں جھوٹی ایف آئی آرز کاٹتی ہے۔ ہمارے ایکسائز اور ٹیکس کے محکمے کی ہرفائل میں جھوٹ کا ایک پلندہ لگا ہوا ہے۔ 5 ارب سے زائد کی سبسڈی لینے والے چینی کے کارخانوں نے چند لاکھ سے زیادہ ٹیکس نہیں دیا ہو گا۔ ہمارے اسی طرز عمل کے باعث عوام کی بڑی تعداد سیاست کو جھوٹ کا دوسرا نام دیتی ہے اور سیاستدانوں کے بیانات۔ اُن کے یوٹرن۔ اور سیاسی جماعتوں کے منشورکو جھوٹ کے پلندے سمجھتی ہے۔ فلاحی و رفاعی تنظیمیں جھوٹے دعوے کر کے چندے اکٹھے کرتی ہیں۔ لوگ بجلی کا کنکشن لیتے ہوئے اور دفاتر سے چھٹی لیتے وقت جھوٹ کا سہارالیتے ہیں۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، احساس پروگرام اور دوسرے سرکاری اور نجی امدادی پروگراموں کے ریکارڈ میں ہزاروں جھوٹی درخواستیں، جھوٹی دستاویزات، جھوٹے حلف نامے اورجھوٹے تصدیق و توثیق نامے نکل آئیں گے۔

حدیث کا دوسرا حصہ امانت کی حفاظت کرنا یا دھوکہ نہ دیناہے۔اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں ہمیںاس معیار پر بھی سخت شرمندگی کا سامنا ہے۔ ہم امانت کی حفاظت کرنے کے بجائے اس پر ڈاکہ ڈالنے کے عادی ہیں۔ ہماری غالب اکثریت بہنوں اور بیٹیوں کو وراثت میںان کا جائز حق دینے کے بجائے اسے حیلوں بہانوں سے ہضم کر جاتی ہے پھر یہی محروم بہنیں اور بیٹیاں اپنے شوہروں کو ان کی بہنوں کا حق نہ دینے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ہمارے با اثر افراد کمزوروں کی امانتیں دبا لینا جائز سمجھتے ہیں۔ رہی بات دھوکے کی تو اس میدان میں بھی ہم بری طرح تہی دست ہیں۔ ہم دوسروں کے ساتھ اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں۔ اور معافی کی امید پرخداکو دھوکہ دینے کی کوشش میں زندگی گزار دیتے ہیں۔ہم رشوت کے پیسے، ذخیرہ اندوزی کی کمائی، ملاوٹ کی آمدنی اور منشیات کادھندہ کرکے عمرے اور حج پر چلے جا تے ہیں۔ مساجد اور امام بارگاہیں تعمیر کراتے ہیں۔ خیراتی اداروں کی سرپرستی کرتے ہیں۔ بیواؤں کی مدد اور یتیم بچیوں کی شادیاں کراتے ہیں ۔ ۔ ہم دھوکہ دے کر زمینیں اور جائیدادیں الاٹ کراتے ہیں۔ سبسڈیاں لیتے ہیں۔ ٹیکس چوری کرتے ہیں۔ اور دھوکے دے کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالتے ہیں ۔ کیا یہ سب کچھ اپنے ساتھ اور اپنے رب کے ساتھ دھوکہ نہیں، ہمارے ہاں با اثر مجرم اور گناہ گار عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونک کر خود کو بے گناہ ڈکلیئر کروا لیتا ہے ۔ ہماری حکومتیں عوام کو اور عوام حکومتوں کو دھوکہ دینے میں مصروف ہیں۔

حدیث کا تیسرا جزو اخلاق کو اونچا رکھنا ہے۔ بطور قوم ہمارا اخلاق کتنا اونچا اور اعلیٰ ہے۔ یہ ہم سب جانتے ہیں۔ہمارے ظاہری اخلاق بھی مصنوعی، وقتی اور دکھاوے کے ہیں۔ اپنے ہی اہل خانہ، بے نوا خواتین، بے بس بزرگوں اور مجبور بچوں کے ساتھ ہمارا اجتماعی اخلاق قابل فخر نہیں ۔ مسلمان بھائی کو سلام کرنا اخلاق کا پہلا زینہ ہے، ہم نے یہ ذمہ داری دفاتر اور ہوٹلوں کے گیٹ کیپرز، استقبالیہ، کلرکوں اور جدید کمپنیوں کے ملازمین کے حوالہ کر دی ہے۔ ہمارے افسر ماتحت عملے کو سلام کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ ماتحت عملہ بھی اپنے ساتھیوں کو سلام نہیں کرتا البتہ افسران کو دوڑ دوڑ کر فرشی سلام کرتا ہے۔ اب تو نمازیوں نے بھی مساجد میں سلام کرنا چھوڑ دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر قابل اعتراض ویڈیوز ، فحش مکالمے اور ذومعنی جملوں کے ساتھ دوستی کی پیش کشیں جو گل کھلا رہی ہیں وہ ہمارے سامنے ہے۔ موبائل کمپنیوں کے سستے پیکیجز نے نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کو رات بھر جس کام میں لگا رکھا ہے، اس نے والدین کی نیندیں حرام کر دی ہیں۔ ایک عالمی ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاکستان فحش فلمیں دیکھنے کے حوالے سے دنیا کے اوپر کے چند ملکوں میں شامل ہے۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں پروان چڑھنے والی بے راہروی اور سڑکوں پر نظر آنے والی بے باکی ہماری اخلاقی حالت پر مہر تصدیق ثبت کررہی ہے۔ نوجوانوں کی مثبت سرگرمیوں میں عدم دلچسپی، لائبریریوں کا بے آباد ہونا اور جدید تعلیمی اداروں میں منشیات کا بڑھتا ہوا رجحان اسی اخلاقی گراوٹ کا فطری نتیجہ ہے۔ روایتی میڈیا پرجنسی سکینڈلز کی ضرورت سے زیادہ تشہیر اس اخلاقی و نفسیاتی مرض کا ایک پہلو ہے۔ غرض شادی بیاہ، خوشی غمی، لین دین، رشتے ناطوں اور دیگر معاملات زندگی میں ہماری اخلاقی پستی ہر ہر قدم پر واضح اور نمایاںہے۔ مگر ہم نے اپنے ا وپر ایک مخصوص خول چڑھا رکھا ہے۔ ورنہ اپنے اخلاق کی حیثیت ہم خود جانتے ہیں۔ جہاں تک بے حیائی کا تعلق ہے تو اس کو ہم نے ذہنی طور پر قبول کرلیا ہے۔ اور بہت سی رسموں کو اب ہم سماجی ضرورت قرار دینے لگے ہیں جومزید تباہ کن ہے۔

رہی بات کھانے میں پاکیزگی کی تو ہر شخص اپنے رزق کا بہترین جج ہے۔ ہماری مارکیٹوں میں مردار اور حرام جانوروں کے گوشت کی فروخت کی شکایت عام ہے ،ہم محنتانہ ،سروسز اور مہارت کے نام پررشوت لیتے ہیں سودی کمائی پر زندگی گزارتے ہیں اور زکوٰۃ ، عشر اور خمس سے اپنی کمائی کو پاک کرنے کو تیار نہیں… گویا حدیث نبویؐ کے چاروں معاملات میں ہماری حالت بہت پتلی ہے۔ انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی سطح پر بھی… نہ فرد اس سلسلے میں اپنی ذمہ داری محسوس کر رہا ہے اور نہ ریاست اپنی ذمہ داری ادا کر رہی ہے لیکن پھر بھی ہمارا دعو ی ہے کہ ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں۔


ای پیپر