عزت، بے عزتی اور بے حیا معاشرہ
11 جون 2020 2020-06-11

کتنے ہی موضوعات ہیں جن پر لکھنا چاہتا ہوں۔ پر یوں محسوس ہوتا ہے فی الحال کرونا پر فوکس نہ رکھا جس سے پاکستان میں اور دنیا بھر میں لاکھوں لوگ روزانہ متاثر ہورہے ہیں اور بے شمار موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔ تو یہ ایک ایسا گناہ ہوگا جس کی معافی یہاں سے تو کیا کہیں سے نہیں ملے گی۔ کچھ قارئین کی طرف سے دباﺅ ہے، خصوصاً ایسے دوستوں کی طرف سے بہت دباﺅ ہے جنہیں سیاست کا چسکا پڑا ہوا ہے اور وہ اس موضوع سے ہٹ کر کسی اور موضوع پر کچھ پڑھنا ہی نہیں چاہتے کہ میں ایک امریکی خاتون کے ان الزامات پر لکھوں جو چند روز قبل اس نے پیپلز پارٹی کے کچھ اہم رہنماﺅں پر لگائے ہیں جن میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، سابق وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیر داخلہ رحمن ملک وغیرہ شامل ہیں۔ میں سوچ رہا تھا یہ امریکی خاتون کوئی بہت ہی تیز طرار اور چالاک بلکہ ”چالاکو ماسی“ ہے کہ اس نے بلاول بھٹو زرداری پر ایسا کوئی الزام نہیں لگا دیا۔ ممکن ہے اس نے سوچا ہو وہ ان پر ایسا کوئی الزام لگا بھی دیتیں، کسی نے اس کا یقین نہیں کرنا تھا بلکہ ان پر لگائے جانے والے الزام کی صورت میں باقیوں پر جو الزامات اس نے لگائے ان کی حیثیت بھی مشکوک ہوجاتی لہٰذا اس نے یہ الزامات بڑے سوچ سمجھ کر پیپلز پارٹی کی صرف ان ہی شخصیات پر لگائے جن پر لوگ آنکھیں بند کرکے یقین کرسکتے ہیں۔ البتہ اس میں حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکی خاتون کو اتنے برسوں بعد الزامات لگانے کی اچانک ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ ممکن ہے اس میں بھی ویسا ہی کوئی معاملہ ہو جیسا کسی اور موضوع کے حوالے سے گزشتہ کالم میں، میں عرض کر چکا ہوں کہ ایک خاتون اپنے ساتھ ہونے والی ”زیادتی“ کی شکایت لے کر ایس ایچ او کے پاس گئیں۔ ایس ایچ او نے اس سے پوچھا ”بی بی تمہیں پتہ کب چلا تمہارے ساتھ زیادتی ہوچکی ہے؟‘’‘۔ وہ بولی ”سر مجھے اس وقت پتہ چلا جب میرا چیک باﺅنس ہوا“۔ سو ممکن ہے امریکی خاتون کا ”چیک“ کسی ایسی صورت میں اب ”باﺅنس“ ہورہا ہو کہ کچھ قوتوں نے سابقہ حکمرانوں کی کردار کشی کیلئے اسے کوئی نیا چیک دے دیا ہو۔ اب اللہ کرے وقت آنے پر یہ چیک کیش ہوجائے کیونکہ ایسی عورتیں کسی کے خلاف کسی بھی وقت استعمال ہوسکتی ہیں۔ شریف عورتوں کے معاملات ذرا مختلف ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ کوئی ”زیادتی“ ہو بھی جائے اس کی شکایت کے لئے وہ ایسا ”نمائشی کردار“ ادا نہیں کرتیں جیسا نمائشی کردار امریکی عورت کررہی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوا ہے سابق حکمرانوں کی کردار کشی کی ضرورت کیوں محسوس ہونے لگی ہے؟ ممکن ہے اس ملک کی اصل قوتیں اپنے کچھ لاڈلوں کی ناقابل فراموش نااہلیاں چھپانے کیلئے یا ان کی شہرت کچھ کم کرنے کیلئے سابقہ گڑھے مردے اکھاڑنے کی ضرورت محسوس کرنے لگی ہوں۔ میرے خیال میں اس عمل کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا، جو نقصان گزشتہ دو برسوں میں نااہلی سے ہوچکا ہے اب موازنے کا وقت ہے کہ وہ چالیس برسوں کی کرپشن سے زیادہ ہے یا کم ہے؟۔ امریکی خاتون نے پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں پر جو الزامات لگائے اور اس کیلئے خصوصاً جس ”ٹائمنگ“ کا اس نے انتخا ب کیا اس سے خود اس خاتون پر کئی سوالات اور انگلیاں اٹھیں گی جس سے ممکن ہے اس تاثر کو تقویت ملے، ایسی خواتین ایسے بے شمار کارنامے صرف مشہور ہونے کیلئے کرتی ہیں۔ ہم نے تو پہلے کبھی اس خاتون کا نام نہیں سنا تھا۔ حتیٰ کہ بنی گالہ میں بھی کبھی کسی نے اس کا تذکرہ نہیں کیا۔ اب ہر زبان پر اس کا نام ہے اور اس کی زبان کہاں کہاں استعمال ہوئی؟ یہ وہی بہتر بتا سکتی ہے۔ ویسے سچ پوچھیں مجھے یوں محسوس ہوتا ہے یہ ”ایشو“ کسی اور اہم ایشو کو دبانے کیلئے کھڑا کیا گیا ہے ورنہ اس وقت ایسا ماحول ہرگز نہیں تھا اس ”ایشو“ کو اہمیت دی جاتی۔ اس دوران شوگر مافیا کا مرکزی کردار جہانگیر ترین ملک سے فرار ہوگیا اور ہم امریکی خاتون کے الزامات کے تذکرے کرتے رہ گئے۔ اس وقت حکومت اور اپوزیشن کی مشترکہ اور بھرپور توجہ صرف اور صرف کرونا پر ہونی چاہئے۔ سب کو مل بیٹھ کر سوچنا چاہئے اس عذاب سے نمٹنے کیلئے کون کون سے جدید اور ایسے طریقے اختیار کرنے ہیں جو دنیا کے بے شمار ممالک نے اختیار کئے اور اس وبا پر کسی حد تک قابو پالیا۔ ضروری نہیں کہ اپوزیشن انتظار کرتی رہے کہ سرکار اس ضمن میں باقاعدہ ان سے کوئی تعاون، تجاویز یا مدد طلب کرے، موجودہ حکمران اس حوالے سے اگر اپنی ”روایتی کم ظرفی“ کا مظاہرہ کررہے ہیں اس کا خمیازہ وہ بھگت لیں گے بلکہ انہوں نے کیا بھگتنا ہے عوام بھگت لیں گے اور بھگت بھی رہے ہیں، پر اپوزیشن کی اس حوالے سے اپنے طور پر کوئی ذمہ داری بنتی ہے یا نہیں؟ پچھلے کچھ عرصے سے اپوزیشن نے اس حوالے سے اپنی کیا ذمہ داریاں پوری کیں؟ سوائے حکمرانوں کی نااہلیوں پر کھپ وغیرہ ڈالنے کے اپنے طور پر انہوں نے کیا کیا؟ اور کچھ نہیں تو تمام اپوزیشن جماعتیں مل بیٹھ کر یہ فیصلہ ہی کرلیتیں جب تک کرونا متاثرین کو قابل ذکر ریلیف نہیں مل جاتا ہمارے ارکان پارلیمنٹ اپنی تنخواہیں کرونا متاثرین کی مدد کیلئے وقف کردیں گے۔ جہاں تک امریکی خاتون کے الزامات کا تعلق ہے پیپلز پارٹی کے رہنماﺅں کیلئے اس میں گھبرانے یا شرمانے کی کوئی بات اس لئے نہیں ان کی شہرت پہلے کون سی ”فرشتوں“ جیسی ہے؟۔ پیپلز پارٹی میں اس طرح کا کلچر عام ہے۔ یہ ایک ”روشن خیال“ جماعت ہے جو روشن خیالی میں کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔ سو اس کے کچھ رہنما اگر ایسی چھوٹی موٹی شرمناک حرکتیں کر بھی لیں اس سے ان کی اہمیت میں اضافہ ہی ہوگا۔ موجودہ حکمران جماعت کی اپنی اخلاقی پوزیشن بھی تقریباً ایسی ہی ہے لہٰذا یہ سوچنا کہ پیپلز پارٹی کے کچھ رہنماﺅں کے خلاف ایسی سازش پی ٹی آئی کی جانب سے تیار کی گئی ہوگی یہ ٹھیک نہیں۔ کیونکہ بے حیائی کے حمام میں دونوں جماعتیں بلکہ سوچ پوچھیں تو اکثر سیاسی جماعتیں ایک ہی پوزیشن میں کھڑی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے اس ”حمام“ میں بلکہ اس ”گندے نالے“ میں سب ننگے ہیں۔ تقریباً پورا معاشرہ بے حیا ہے۔ میرے سمیت ہر کسی کے اندر کوئی نہ کوئی یوسف رضا گیلانی، کوئی نہ کوئی مخدوم شہاب الدین، کوئی نہ کوئی رحمن ملک، کوئی نہ کوئی سنتھیا رچی چھپی ہوئی ہے۔ سو یہ غلط فہمی ہے کہ ایسے الزامات یا سکینڈلز سے عزت خراب ہوتی ہے۔ بے شرم معاشرہ میں ایسے الزامات عزت پیدا کرتے ہیں، عزت بڑھاتے ہیں۔


ای پیپر