آئندہ مالی سال کا 8238 ارب دس کروڑ روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش
11 جون 2019 (22:29) 2019-06-11

اسلام آباد: وفاقی حکومت کا آئندہ مالی سال 2019-20ءکا 8238 ارب دس کروڑ روپے حجم کا وفاقی بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا گیا‘ آئندہ مالی سال کے لئے بجٹ خسارہ 3151 ارب روپے ہوگاجسے ٹیکس اصلاحات کے ذریعے پورا کیا جائے گا‘ چینی‘ خوردنی تیل‘ گاڑیاں‘ سگریٹ سمیت دیگر اشیائ پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کی تجویز ہے‘ 1 سے 16 گریڈ کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیئے جانے کی تجویز ہے جبکہ گریڈ 17 سے 20 تک کے ملازمین کو 5 فیصد ایڈہاک ریلیف دینے کی تجویز ہے‘ کم سے کم اجرت بڑھا کر 17500 کی گئی ہے‘ تنخواہ دار طبقے کے لئے 6 لاکھ روپے سالانہ اور غیر تنخواہ دار طبقے کے لئے 4 لاکھ روپے سے زائد پر انکم ٹیکس لاگو ہوگا‘ آئندہ مالی سال کے لئے ٹیکس ریونیو کا ہدف5555 ارب روپی مقرر کیا گیا ہے‘ عالمی مالیاتی فنڈ سے چھ ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیا ہے‘ آئی ایم ایف کے بورڈ سے اس کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا.

سول حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم ہوکر 437 ارب روپے کئے جارہے ہیں جبکہ عسکری بجٹ موجودہ سال کی سطح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔منگل کو قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2019-20ئ کا وفاقی بجٹ وزیر مملکت برائے ریونیو حماد اظہر نے ایوان میں پیش کیا ۔اپنے خطاب میں انکا کہنا تھا کہ میں جمہوری حکومت کا پہلا سالانہ بجٹ پیش کرتے ہوئے اللہ رحمن و رحیم کا شکر گزار ہوں۔ وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ایک نئے سفر کاآغاز ہوا ہے۔ تحریک انصاف نئی سوچ، نئی کمٹمنٹ اور ایک نیا پاکستان لائی ہے۔ 22سال کی جدوجہد اور پاکستان کے لوگوں کی مرضیآج ہمیں یہاں لائی ہے۔ اب وقت ہے لوگوں کی زندگی بدلنے کا، عوامی عہدوں سے کرپشن ختم کرنے کا، اداروں میں میرٹ لانے کا، معیشت کو مضبوط کرنے کا اور جو لوگ بھلا دیئے گئے، ان پیچھے رہ جانے والوں کوآگے لانے کا وقت ہے۔

1947ءمیں ہمارے بڑوں نے اقبال کے خواب کو حقیقت دی اور پاکستان بنایا۔1973ءمیں ہم پھر ایک ساتھ مل گئے اور اس ملک کاآئین بنا۔ اب ہم سب اس ملک اور اسآئین کے محافظ ہیں۔ آیئے اس حکومت کے منتخب ہونے کے وقت پائی جانے والی معاشی صورتحال کو یاد کریں تاکہ پتہ چلے کہ اگر ہم ایک مشکل وقت میں کھڑے ہیں توآخر یہ کیوں ہوا؟ یہ ایک مالی بحران کے دہانے پر کھڑی ہوئی معیشت تھی۔ مجھے کچھ حقائق بتانے کی اجازت دیجئے۔پاکستان کا مجموعی قرضہ اور ادائیگیاں تقریباً 31,000 ارب روپے تھیں۔ ان میں سے قریباً97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ جات اور ادائیگیاں تھیں۔ بہت سے کمرشل قرضے زیادہ سود پر لئے گئے تھے۔ گزشتہ دو سال کے دوران اسٹیٹ بینکآف پاکستان کے18Reserves ارب ڈالر سے گرتے گرتے10 ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے تھے۔عالمی سطح پر پاکستان کے جاری کھاتوں کا خسارہ (Current Account Deficit) تاریخ کی بلند ترین سطح پر20 ارب ڈالر جبکہ تجارتی خسارہ32 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔ پانچ سال میںExports میں کوئی اضافہ نہیں ہوا یعنی اضافے کی شرح صفر تھی۔ حکومت کے محصولات اور اخراجات کا فرق یعنی مالیاتی خسارہ2,260 ارب روپے کی خطرناک حد تک پہنچ گیا تھا۔ اتنا بڑا خسارہ الیکشن کے سال میں مالیاتی بدنظمی کی وجہ سے ہوا۔

بجلی کے نظام کا گردشی قرضہ1200 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا اور38 ارب روپے ماہانہ کی شرح سے بڑھ رہا تھا۔سرکاری اداروں کی کارکردگی1300 ارب روپے کے مجموعی خسارے سے ظاہر تھی۔پاکستانی روپے کی قدر بلند رکھنے کے لئے اربوں ڈالر جھونک دیئے گئے۔ اس مہنگی حکمت عملی سے exports کو نقصان پہنچا، imports کو سبسڈی ملی اور معیشت کا نقصان ہوا۔ ایسے زیادہ دیر تک نہیں چل سکتا تھا اور یوں دسمبر2017ءمیں روپیہ گرنے لگاترقی کا زور ٹوٹ رہا تھا۔ چیزوں کی قیمتوں پر دباﺅ بڑھ رہا تھا اور افراط زر6 فیصد کو چھو رہا تھا۔ وزیر مملکت ریونیو کا کہنا تھا کہ حکومت وقت کی ذمہ داری تھی کہ وہ مناسب اقدامات سے صورتحال کو قابو میں لاتی۔ ہم نے فوری خطرات سے نمٹنے اور معاشی استحکام کے لئے اقدامات کئے جن میں سے چند یہاں پیش ہیں ،امپورٹ ڈیوٹی میں اضافے سے جولائی اپریل کے دوران در آمدات 49 ارب ڈالر سے کم ہوکر45 ارب ہوگئیں اور تجارتی خسارہ4 ارب ڈالر کم ہوا۔

وزیراعظم کے سمندر پار پاکستانیوں کو اعتماد دلانے سےمحصولات میں2 ارب ڈالر اضافہ ہوا۔ 38ارب روپے ماہانہ کے حساب سے بڑھنے والے بجلی کے گردشی قرضے میں12 ارب روپے ماہانہ کی کمی کرکے اسے26 ارب روپے ماہانہ پر لایا گیا۔ چین، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے9.2ارب ڈالر کی امداد ملی۔ میں اس امداد پر دوست ممالک کا شکر گزار ہوں۔ وزیر مملکت نے بجٹ تقریر میں کہا کہ بر آمدات میں اضافے کے لئے حکومت نے یہ اقدامات کئے صنعتی اور برآمدی شعبے کو رعایتی نرخوں پر بجلی اور گیس کی فراہمی۔کم سود پر قرضوں کی فراہمی۔ خام مال پر ڈیوٹی امپورٹ میں کمی کے ذریعے مجموعی طورپر10ارب ڈالر کی رعایت۔ برآمدی شعبہ کیلئے وزیراعظم کے پروگرام میں تین سال تک توسیع۔چین سے313 اشیاءکی ڈیوٹی فری ایکسپورٹ کا معاہدہ۔ ان اقدامات کی بدولت موجودہ سال میں بر آمدات کے حجم میں اضافہ ہوا ہے۔ نٹ ویئر کی بر آمد میں16 فیصد، بیڈ ویئر میں10 فیصد، ریڈی میڈ گارمنٹس میں29 فیصد، پھلوں اور سبزیوں میں بالترتیب11اور18 فیصد جبکہ باسمتی چاول کی مقدار میں22 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایم ایف سے6 ارب ڈالر کے پروگرام کا معاہدہ ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف کے بورڈ کی منظوری کے بعد اس معاہدے پر عملدرا?مد شروع ہو جائیگا جسکے یہ فوائد ہونگے۔ اس پروگرام کی وجہ سے ہمیں انتہائی کم سود پر2سے3ارب ڈالر کی اضافی عالمی امداد بھی میسرآئے گی۔مالیاتی نظم و ضبط اور بنیادی اصلاحات کے لئے حکومت کی سنجیدگی نظرآئے گی جس سے عالمی سرمائے کا اعتماد حاصل ہوگا۔سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر3.2 ارب ڈالر سالانہ کا تیل درآمد کرنیکی سہولت حاصل کی گئی تاکہ عالمی کرنسی کے ذخائر پر دباﺅ کم ہو۔ اس کے علاوہ حکومت نے اسلامی ترقیاتی بینک سے1.1ارب ڈالر کی فوری ادائیگی کے بغیر تیل درآمد کرنیکی سہولت چالو کردی ہے۔ ان اقدامات کی بدولت اس سال کرنٹ اکاﺅنٹ خسارے میں 7ارب ڈالر کی کمیآئے گی جبکہآئندہ سال مزید6.5 ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔ بیرونی استحکام کے علاوہ حکومت نے بعض دیگر اقدامات بھی کئے۔ میں ان میں سے چند اقدامات پر روشنی ڈالوں گا۔

اثاثہ جات ڈکلئیریشن سکیم پر عمل جاری ہے جس سے ٹیکس کا دائرہ وسیع ہوگا اور بے نامی اور غیر رجسٹر شدہ اثاثے معیشت میں شامل ہونگے۔ 95 ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کیلئے فنڈز جاری کئے گئے۔ احتساب کے نظام، اداروں کے استحکام اور طرز حکمرانی بہتر بنانے کے لئے خصوصی اقدامات کئے گئے جن کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کو مزید خود مختاری دی گئی ہے۔ افراط زر کو مانیٹری پالیسی کے ذریعے کنٹرول کیا جارہاہے۔ ٹیکس پالیسی کو ٹیکس انتظامیہ سے الگ کیا گیا ہے تاکہ دونوں کام بہتر طورپر ہوسکیں۔ایک Treasury Single Account بنایا گیا ہے اور اب حکومت کی رقم کمرشل بینک اکاﺅنٹ میں رکھنا ممنوع ہے۔پاکستان بناﺅ سرٹیفکیٹ کا اجراءکیا گیا تاکہ سمندر پار پاکستانی6.75 فیصد کے منافع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے وطن میں سرمایہ کاری کر سکیں۔ایف بی آر نے سرمائے کی کمی دور کرنے کے لئے پچھلے سال کے 54 ارب روپے کے مقابلے میں 145 ارب روپے کے ری فنڈجاری کئے۔ وزیر مملکت نے بجٹ تقریرمیںپیچھے رہ جانے والوں کو امداد اور سہولت دینے کیلئے اقدامات کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان گرین اینڈ کلین اور بلین ٹری سونامی سرفہرست ہیں ۔سابقہ فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے خیبر پختونخوا کا حصہ بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔وزیر مملکت نے کہا کہ

اب میں سال 2019-20 کے بجٹ کا تذکرہ کروں گا۔

یقیناً بجٹ بناتے وقت حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی فلاح اور خوشحالی ہے۔ اس بجٹ کی تیاری کے دوران ہم نے جن رہنما اصولوں کو مدنظر رکھا ہے وہ یہ ہیں۔بیرونی خسارے میں کمی کے حوالے سے در آمدات میں کمی جاری رکھتے ہوئے بر آمدات میں اضافے کے ذریعے بیرونی خسارے کو کم کیا جائیگا۔ مقصد یہ ہے کہ کرنٹ اکاﺅنٹ کا خسارہ رواں مالی سال کے13 ارب ڈالر سے کم کرکے سال 2019-20ءمیں6.5 ارب ڈالر تک محدود کیا جائے۔ ایکسپورٹس میں اضافے کیلئے حکومت خام مال اور Intermediate Goods کے ڈیوٹی سٹریکچر کے حوالے سے سپورٹ کرے گی۔ ٹیکس ری فنڈ کا نظام بہتر بنائے گی۔ مقابلے کی سستی بجلی اور گیس فراہم کریگی۔آزادانہ تجارتی معاہدے کو دوبارہ دیکھا جائے گا اور پاکستان کو بین الاقوامی Value Chain کا حصہ بنایا جائے گا۔ ایف بی آر کے ریونیو کے لئے5,500 ارب روپے کاچیلنجنگ ہدف رکھا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اخراجات میں کمی پر خصوصی توجہ دی جائیگی تاکہ بنیادی خسارہ0.6 فیصد تک رہ جائے۔ سول اور عسکری حکام نے اپنے اخراجات میں مثالی کمی کا اعلان کیا ہے۔ وزیر مملکت حماد اظہر نے کہا کہ بجٹ 2019-20ءمیں ہماری بنیادی اصلاح ٹیکس میں اضافہ ہوگا۔ پاکستان میںTax to GDP کی شرح 11 فیصد سے بھی کم ہے جو علاقے میں سب سے کم ہے۔

صرف20 لاکھ لوگ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے ہیں جن میں سے6 لاکھ ملازمین ہیں۔ صرف380 کمپنیاں کل ٹیکس کا80 فیصد سے بھی زیادہ ادا کرتی ہیں۔ کل3لاکھ39ہزار بجلی اور گیس کے کنکشن ہیں جبکہ صرف چالیس ہزار سیلز ٹیکس میں رجسٹر ہیں۔ اسی طرح کل 31 لاکھ کمرشل صارفین میں سے صرف 14 لاکھ ٹیکس دیتے ہیں۔ بینکوں کے مجموعی طور پر تقریباً 5 کروڑ Account ہیں جن میں سے صرف 10 فیصد ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ ایس ای سی پی (SECP) میں رجسٹر ایک لاکھ کمپنیوں میں سے صرف 50 فیصد ٹیکس دیتی ہیں۔ بہت سے پیسے والے لوگ ٹیکس میں حصہ نہیں ڈالتے۔ نئے پاکستان میں اس سوچ کو بدلنا ہو گا۔ جب تک ہم اپنا ٹیکس کا نظام بہتر نہیں کریں گے پاکستان ترقی نہیں کر سکتا۔ تاریخی طور پر ہم نے صحت، تعلیم، پینے کے پانی، شہری سہولیات اور لوگوں سے متعلق کسی بھی چیز پر مطلوبہ اخراجات نہیں کئے۔ اب ہم اس مقام پرآ چکے ہیں جہاں ہمیں قرضوں اور تنخواہوں کی ادائیگی کے لئے بھی قرض لینا پڑتا ہے۔ اس صورتحال کو بدلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ سول اور عسکری بجٹ میں کفایت شعاری کے ذریعے بچت کی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں سول حکومت کے اخراجات 460 ارب روپے سے کم کر کے 437 ارب روپے کئے جا رہے ہیں جو کہ پانچ فیصد کی کمی ہے۔

عسکری بجٹ موجودہ سال کی سطح یعنی 1150 ارب روپے پر مستحکم رہے گا۔ بچت کے ان مشکل فیصلوں کے لئے میں وزیراعظم عمران خان کے تدبر اور عسکری قیادت خصوصاًآرمی چیف کی سپورٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ میں یہاں واضح کرنا چاہوں گا کہ پاکستان کا دفاع اور قومی خود مختاری ہر شے پر مقدم ہے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اپنے وطن اور لوگوں کے دفاع کے لئے پاک فوج کی صلاحیت میں کمی نہ آئے۔ کمزوروں کے تحفظ کے حوالے سے میں چار پالیسی تجاویز کا ذکر کروں گا۔ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے لئے سبسڈی،بجلی کے صارفین میں تقریباً 75 فیصد ایسے ہیں جو ماہانہ 300 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرتے ہیں۔ حکومت ایسے صارفین کو لاگت سے بھی کم نرخوں پر بجلی فراہم کرے گی۔ اس کے لئے 200 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ احساس حکومت نے غربت کے خاتمے کے لئے ایک نئی وزارت قائم کی ہے جو ملک میں سماجی تحفظ کے پروگرام بنائے گی اور ان پر عملدر آمد کرے گی۔ احساس سے مدد حاصل کرنے والوں میں انتہائی غریب، یتیم، بیوائیں، بے گھر، معذور اور بے روزگار شامل ہیں۔ دس لاکھ مستحق افراد کو صحت مند خوراک فراہم کرنے کے لئے ایک نئی راشن کارڈ سکیم شروع کی جا رہی ہے۔ ماﺅں اور نوزائیدہ بچوں کو خصوصی صحت مند خوراک مہیا کی جائے گی۔ 80,000 مستحق لوگوں کو ہر مہینے بلا سود قرضے دیئے جائیں گے۔ 60 لاکھ خواتین کو ان کے اپنے سیونگ اکاﺅنٹ میں وظائف کی فراہمی اور موبائل فون تک رسائی۔ 500 کفالت مراکز کے ذریعے خواتین اور بچوں کو فریآن لائن کورسز کی سہولت میسر کی جائے گی۔ معذور افراط کو وہیل چیئر اور سننے کےآلات فراہم کئے جائیں گے۔ تعلیم میں پیچھے رہ جانے والے اضلاع میں والدین کو بچے سکول بھیجنے کےلئے خصوصی ترغیبات دی جائیں گی۔ عمر رسیدہ افراد کے لئے احساس گھر بنانے پر کام شروع کر دیا گیا ہے۔ احساس پروگرام کے تحت BISP کے ذریعے 57 لاکھ انتہائی غریب گھرانوں کو 5 ہزار روپے فی سہ ماہی نقد امداد دی جاتی ہے جس کے لئے 110 ارب روپے کا بجٹ مقرر ہے۔ افراط زر کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے سہ ماہی وظیفے کو 5,000 روپے سے بڑھا کر 5,500 روپے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ غریبوں کی نشاندہی کرنے کے لئے سماجی اور معاشی ڈیٹا کواپ ڈی کیا جا رہا ہے۔ یہ کام مئی 2020 تک مکمل کر لیا جائے گا اور اس دوران 3 کروڑ 20 لاکھ گھرانوں اور 20 کروڑآبادی کا سروے کیا جائے گا۔ 50 اضلاع میں بی آئی ایس پی سے مدد حاصل کرنے والے خاندانوں کے 32 لاکھ بچے 750 روپے فی سہ ماہی وظیفہ حاصل کرتے ہیں جس کا مقصد سکول چھوڑنے والے بچوں کی تعداد کم کرنا ہے۔ اس پروگرام کو مزید 100 اضلاع تک توسیع دی جا رہی ہے اور بچیوں کے وظیفے کی رقم 750 روپے سے بڑھا کر 1000 روپے کی جا رہی ہے۔صحت سہولت کے حوالے سے وزیر مملکت نے بتایا کہ اس پروگرام کے تحت غریبوں کو صحت کی انشورنس مہیا کی جاتی ہے۔ مستحق افراد کو صحت کارڈ فراہم کئے جاتے ہیں جن سے وہ پورے پاکستان سے منتخب کردہ 270 ہسپتالوں میں سے کسی میں بھی 720,000 روپے سالانہ تک علاج کروا سکتے ہیں۔ پہلے مرحلے میں پاکستان کے 42 اضلاع میں 32 لاکھ غریب خاندانوں کو یہ سہولت مہیا کی جا رہی ہے۔ اگلے مرحلے میں اس پروگرام کو ڈیڑھ کروڑ انتہائی غریب اور پسماندہ خاندانوں تک پھیلایا جائے گا۔ اس پروگرام کا اطلاق پاکستان کے تمام اضلاع بشمول ضلع تھرپارکر اور خیبرپختونخوا کے نئے اضلاع اور معذوروں اور ان کے خاندانوں پر ہو گا۔ ا?ئندہ مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں حکومت صحت، غذائیت، تعلیم، پینے کے صاف پانی کی فراہمی اور حفظان صحت وغیرہ کیلئے 93 ارب روپے مختص کرے گی۔ سستے گھروں کے حوالے سے

ک مآمدن افراد کو سستے گھر بنا کر دینے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ موسمی تبدیلی کی تلافی کرنے کیلئے بلین ٹری سونامی اور کلین اینڈ گرین پاکستان پروگرام شروع کئے گئے ہیں۔ افراط زر میں کمی،ہم کوشش کریں گے کہ قیمتوں میں کم سے کم اضافہ ہو۔ لیکن اگر عالمی منڈیوں میں قیمتیں اوپر جانے کی وجہ سے ہمیں قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑے تو ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ صارفین کو ہر ممکن تحفظ دیا جائے گا۔ اس وجہ سے ہم نے کمزور طبقات کو سماجی تحفظ کی فراہمی کیلئے بجٹ مقرر کیا ہے۔ قیمتوں میں استحکام ہمارے لئے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ہم مالیاتی پالیسی اور مانیٹری پالیسی کے ذریعے اور صوبائی حکومتوں کے تعاون سے اتنظامی اقدامات کی بدولت قیمتوں میں اضافے کا مقابلہ کریں گے۔ اس حوالے سے حکومت 2019-20ءمیں مندرجہ ذیل اقدامات کرے گی ۔بجٹ خسارہ پورا کرنے کیلئے اسٹیٹ بینکآف پاکستان سے قرض حاصل کرنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوتا ہے۔ حکومت اب یہ سہولت استعمال نہیں کرے گی۔ افراط زر کیلئے ہمارا وسط مدتی ہدف 5 سے 7 فیصد ہے۔اس کے علاوہ ہم اچھی حکمرانی پر توجہ دیں گے اور بدعنوانی کے مقابلے کیلئے پرعزم ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو خود مختاری دیں گے، ان کی صلاحیت میں اضافہ کریں گے اور ان کی قیادت کا انتخاب قابلیت کی بنیاد پر کریں گے۔2019-20ءمعیشت کے استحکام کا سال ہو گا۔ تبدیلی کا یہ مشکل مرحلہ ہم کم سے کم وقت میں پورا کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کوشش کر رہے ہیں کہ عوام پر مشکل فیصلوں کے اثرات کم سے کم ہوں۔ترقیاتی بجٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا اب میں ترقیاتی بجٹ پیش کرتا ہوں جس کے ذریعے معاشی ترقی میں مدد دینے والے انفراسٹریکچر کے بڑے منصوبوں کی تعمیر، معاشی ترقی، علاقائی ربط اور ملازمتوں کے نئے مواقع پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس سال قومی ترقیاتی پروگرام کیلئے 1,863 ارب روپے رکھے گئے ہیں جن میں سے 951 ارب روپے وفاقی ترقیاتی پروگرام کیلئے رکھے گئے ہیں جبکہ موجودہ سال میں یہ بجٹ 500 ارب روپے تھا۔ ترقیاتی بجٹ کی ترجیحات میں پانی کا نظام، Knowledge economy کا قیام، بجلی کی ترسیل و تقسیم بہتر بنانا، کم لاگت پن بجلی کی پیداوار CPEC، انسانی اور سماجی ترقی میں سرمایہ کاری اور متعلقہ شعبوں میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری شامل ہیں۔ ان میں درج ذیل اہم ہیں ۔ آبی وسائل کے بہتر استعمال کیلئے وفاقی ترقیاتی پروگرام کی بنیادی توجہ بڑے ڈیموں اور نکاسیآب کے منصوبوں پر مرکوز ہے۔ اس غرض سے بجٹ میں 70 ارب روپے مختص کئے جا رہے ہیں۔ دیامر بھاشا ڈیم کیلئے زمین حاصل کرنے کیلئے 20 ارب روپے اور مہمند ڈیم ہائیڈل پاور کیلئے 15 ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں۔ سڑک اور ریل۔ان میں سے کچھ منصوبے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا بھی حصہ ہے۔ اس غرض سے تقریباً 200 ارب روپے تجویز کئے گئے ہیں جن میں سے 156 ارب روپے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ذریعے خرچ کئے جائیں گے۔ ترقیاتی بجٹ میں جو اہم منصوبے شامل ہیں وہ یہ ہیں۔ حویلیاں۔تھاکوٹ سڑک کیلئے 24 ارب روپے۔ برہان۔ہکلا موٹروے کیلئے 13 ارب روپے۔ پشاور کراچی موٹروے کے سکھر۔ملتان سیکشن کیلئے 19 ارب روپے۔اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت سوات ایکسپریس وے کو چکدرہ سے باغ ڈھیری تک توسیع دی جائے گی، سمبڑیال۔کھاریاں موٹروے تعمیر کی جائے گی اور میانوالی تا مظفر گڑھ روڈ کو دو رویہ کیا جائے گا۔ توانائی کے حوالے سے 80 ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں۔ داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کیلئے 55 ارب روپے رکھے جا رہے ہیں۔ آئندہ سال کے بجٹ میں انسانی ترقی کیلئے 58 ارب روپے تجویز کئے جا رہے ہیں۔ صحت، تعلیم، ترقیاتی اہداف کا حصول اور موسمی تبدیلی کے حوالے سے انتظامات ان اہم ترین ترجیحات میں شامل ہیں جن کیلئے سال 2019-20ءمیں فنڈز خرچ کئے جائیں گے۔ اعلیٰ تعلیم کیلئے 43 ارب روپے کے ریکارڈ فنڈز رکھے گئے ہیں۔ زراعت صوبائی محکمہ ہے اور اس شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کے ساتھ ملکر کام کر رہی ہے۔ وفاقی ترقیاتی پروگرام میں اس مقصد کیلئے 12 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ بلوچستان کی ترقی کیلئے حکومت نے 10.4 ارب روپے سے ??کوئٹہ ڈویلپمنٹ پیکیج?? کے دوسرے مرحلے کاآغاز کیا ہے۔ یہ رقم 30 ارب روپے کے پانی اور سڑکوں کے وفاقی منصوبوں کے علاوہ ہے۔ کراچی کے 9 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 45.5 ارب روپے فراہم کئے جا رہے ہیں۔ روزگار پیدا کرنا ہماری اولین ترجیح ہے۔ یہ نوجوانوں کا ملک ہے۔ روزگار تلاش کرنے والے نوجوان مرد عورتوں کی تعداد ہر سال بڑھ رہی ہے۔ ہمیں ان کی توقعات پر پورا اترنا ہو گا۔ اس سلسلے میں اٹھائے گئے چند اقدامات یہ ہیں۔ اپنا گھر کے تحت وزیراعظم کے 50 لاکھ گھروں کی تعمیر کے پروگرام سے 28 صنعتوں کو فائدہ ہو گا اور بیروزگاروں کیلئے کام نکلے گا۔ اس مقصد کیلئے لاہور، کوئٹہ، پشاور، اسلامآباد اور فیصلآباد میں زمین حاصل کر لی گئی ہے اور سرمایہ کاری کے انتظامات مکمل کئے جا رہے ہیں۔ اب یہ سلسلہ ملک بھر میں پھیلے گا۔ اس سے کمآمدنی والے لوگوں کو چھت میسرآئے گی، معیشت کا پہیہ چلے گا، متعلقہ انفراسٹریکچر بنے گا اور بیرونی سرمایہ کاریآئے گی۔ پہلے مرحلے میں وزیراعظم نے راولپنڈی اور اسلامآباد میں 25000 اور بلوچستان میں 110,000 ہاﺅسنگ یونٹس کا افتتاح کیا ہے جس میں ماہی گیروں کیلئے کم قیمت ہاﺅسنگ سہولیات بھی شامل ہیں۔ کامیاب جوان پروگرام کے تحت نیا کاروبار کرنے اور موجودہ کاروبار کو مزید پھیلانے کیلئے سستے قرضے دیئے جاتے ہیں۔ اس سکیم کے تحت 100 ارب روپے کے قرضے دیئے جائیں گے۔ صنعتی شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے حکومت صنعتی شعبے کو بہت سی مراعات اور سبسڈی دے رہی ہے۔ ان میں مندرجہ ذیل اقدامات شامل ہیں۔ بجلی اور گیس کیلئے 40 ارب روپے کی سبسڈی برآمدنی شعبے کیلئے 40 ارب کا پیکیج کے تحت حکومت لانگ ٹرم فنانسنگ ٹریڈ کی سہولت برقرار رکھے گی۔ اس سال زرعی شعبے میں 4.4 فیصد کمی ہوئی ہے۔ زرعی شعبے کو اوپر اٹھانے کیلئے صوبائی حکومتوں سے ملکر 280 ارب روپے کا پانچ سالہ پروگرام شروع کیا جا رہا ہے۔ اس پروگرام کے چند اہم نکات یہ ہیں ، پانی سے زیادہ پیداوار کیلئے پانی کا Infrastructure بنایا جائے گا جس میں پانی کی کفایت کے منصوبے بھی شامل ہوں گے۔ اس کے تحت 218 ارب کے منصوبوں پر کام ہو گا۔ گندم، چاول، گنے اور کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کیلئے 44.8 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ مچھلی کے Potential سے استفادہ کرنے کیلئے کیکڑے اور ٹھنڈے پانی کی ٹراﺅٹ کی فارمنگ کے منصوبوں کیلئے 9.3 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کسانوں کیلئے گھریلو مرغ بانی اور بھینس کے بچے کو پالنے کی حوصلہ افزائی کیلئے 5.6 ارب روپے فراہم کئے جائیں گے۔ اس کے علاوہ بجٹ 2019-20ءمیں مندرجہ ذیل تجاویز شامل ہیں۔زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے سبڈی?زرعی ٹیوب ویلوں پر 6.85 روپے فی یونٹ کے حساب سے رعایتی نرخ دیئے جائیں گے۔ بلوچستان کے کسانوں کیلئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے 40:60 کے تناسب سے مشترکہ سکیم شروع کی ہے جس کے تحت کسان سے صرف 10,000 روپے مہینہ بل وصول کیا جاتا ہے اور 75000 روپے تک کا اضافی بل دونوں حکومتیں اٹھا رہی ہیں۔ چھوٹے کسان کیلئے فصل خراب ہونے کی صورت میں نقصان کی تلافی کیلئے انشورنس سکیم مہیا کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے بجٹ 2019-20ءمیں 2.5 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ ہر سال ہمارے حکومتی اداروں میں زبردست گھاٹا پڑتا ہے اور یہ نقصان معیشت کی پیداواری صلاحیت، جدت طرازی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں رکاوٹ ہے۔آنے والے برسوں میں یہ شعبہ حکومت کے اصلاحی پروگرام کا اہم جزو ہو گا۔ اس سلسلے میں کارپورائزیشن Corporatization، پرائیویٹائزیشن اور ری سٹریکچرنگ پر مبنی ایک تفصیلی پروگرام پیش کیا جائے گا۔ اس سال LNG سے چلنے والے دو بجلی گھروں اور چند چھوٹے اداروں کی نجکاری کی جائے گی جس سے 2 ارب ڈالر حاصل ہوں گے۔ پاکستان سٹیل ملز کو چلانے کیلئے بیرونی سرمایہ کاروں سے رابطے کئے گئے ہیں اور موبائل فون کے لائسنس سے 1 ارب ڈالر تک متوقع ہیں۔ اس وقت بجلی کا گردشی قرضہ 1.6 کھرب روپے ہے۔ اسی طرح گیس کا گردشی قرضہ 150 ارب روپے ہے۔ گردشی قرضہ بلوں کی وصولی نہ ہونے اور ترسیل و تقسیم کے دوران ضائع ہونے والی توانائی کی بنا پر جمع ہوتا ہے۔ گردشی قرضے کی وجہ سے حکومت مہنگا قرض لے کر ان Inefficient companies کو چلانے پر مجبور ہوتی ہے۔ اس مسئلے کے حل کیلئے موجودہ حکومت نے کئی ایک اقدامات کئے ہیں جن میں سے کچھ مندرجہ ذیل ہیں۔ بجلی اور گیس کے صرف پر نظرثانی کی گئی تاکہ صارف پر اس کا اثر کم سے کم ہو۔2۔ بجلی کے بل ادا نہ کرنے اور بجلی چوری کرنے والوں کے خلاف ایک منظم مہم شروع کی گئی جس کی بدولت پچھلے 6 ماہ میں 80 ارب روپے کی وصولیاں کی گئیں۔3۔ تقریباً 3 ہزار میگاواٹ بجلی کی ترسیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے ذریعے 80 فیصد فیڈرز پر لوڈ شیڈنگ ختم کر دی گئی۔4۔ مالی مشکلات دور کرنے کیلئے حکومت سبسڈی کے بقایا جات کی ادائیگی کر رہی ہے۔ اوپر بیان کئے گئے اقدامات کی بدولت گردشی قرضے میں اضافہ 38 ارب ماہانہ سے کم ہو کر 24 ارب تکآ گیا ہے۔ اگلے چوبیس ماہ میں ایسے مزید اقدامات سے گردشی قرضے کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش کی جائے گی جس کی بدولت توانائی کا نظام یکسر بدل جائے گا۔ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا میں نئے شامل ہونے والے قبائلی اضلاع کے جاری اور ترقیاتی اخراجات کیلئے 152 ارب روپے فراہم کے گی۔ اس میں 10 سالہ ترقیاتی منصوبہ بھی شامل ہے جس کیلئے وفاقی حکومت 48 ارب روپے دے گی۔ یہ دس سالہ پیکیج ایک کھرب روپے کا حصہ ہے جو وفاقی اور صوبائی حکومتیں مہیا کریں گی۔ وزیر مملکت نے کہا چین پاکستان اقتصادی راہداری ہماری مستقل ترجیح ہے۔ CPEC کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے اس میں نئے شعبے شامل کئے گئے ہیں جن میں اقتصادی ترقی، زراعت اور خصوصی اکنامک زونز بنانے کے ذریعے صنعتی ترقی کا حصول شامل ہیں۔ ریلوے کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے ML-1 منصوبے کیلئے رقوم مختص کی گئی ہیں۔ منی لانڈرنگ ایک لعنت ہے۔ اس سے ملک کی بدنامی ہوتی ہے اور معاشی نقصان بھی ہوتا ہے۔ منی لانڈرنگ کی بنیاد پر تجارت کے خاتمے کیلئے ایک بالکل نیا نظام تجویز کیا جا رہا ہے۔ سٹیٹ بینکآف پاکستان کو افراط زر کو قابو میں رکھنے کیلئے مانیٹری پالیسی بنانے میں وسیع تر خود مختاری دی جا رہی ہے۔ سنگل ٹریژری اکاﺅنٹ بنایا گیا ہے اور حکومت رقوم کمرشل بینک اکاﺅنٹ میں رکھنے کی ممانعت کر دی گئی ہے۔ وفاقی حکومت کے ملازمین اور پنشنرز کیلئے درج ذیل ریلیف اقدامات تجویز کئے گئے ہیں۔ سول حکومت کے گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین اور افواج پاکستان کے تمام ملازمین کو 2017ءکے BPS کے مطابق running basic pay پر 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا۔ گریڈ 17 سے 20 تک کے سول ملازمین کو 5 فیصد ایڈہاک ریلیف الاﺅنس دیا جائے گا۔ گریڈ 21 اور 22 کے سول ملازمین کی تنخواہو ں میں کوئی اضافہ نہیں ہو گا کیونکہ انہوں نے ملکی معاشی صورتحال میں بہتری کی خاطر یہ قربانی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کے تمام سول اور فوجی پنشنرز کی پنشن میں 10 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔ معذور ملازمین کا خصوصی کنونس الاﺅنس 1000 روپے ماہانہ سے بڑھا کر 2000 روپے ماہانہ کیا جا رہا ہے۔ وزراء،وزرائے مملکت، پارلیمانی سیکرٹری، ایڈیشنل سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری کے ساتھ کام کرنے والے سپیشل پرائیویٹ سیکرٹری، پرائیویٹ سیکرٹری اور اسسٹنٹ پرائیویٹ سیکرٹری کی سپیشل تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ کم از کم اجرت بڑھا کر 17,500 روپے ماہانہ کی جا رہی ہے۔ مالی سال 2019-20ءکے بجٹ تخمینے کے حوالے سے وزیر مملکت نے کہا اب میں مالی سال 2018-19ءکے لئے بجٹ تخمینے پیش کرنا چاہوں گا۔ مالی سال 2019-20ءکے لئے بجٹ تخمینہ 7,022 ارب روپے ہے جو کہ جاری مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ 5,385 ارب روپے کے مقابلے میں 30 فیصد زیادہ ہے۔ مالی سال 2019-20ءکے لئے وفاقیآمدنی کا تخمینہ 6,717 ارب روپے ہے جو کہ 2018-19ءکے 5,661 ارب روپے کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔ ایف بی آر کے ذریعے 5,555 اربآمدن متوقع ہے جس کے مطابق شرح نمو 12.6 فیصد ہے۔ وفاقی ریونیو کے حصوصل میں سے 3,255 ارب روپے ساتویں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو جائیں گے جو کہ موجودہ سال کے 2,465 ارب روپے کے مقابلے میں 32 فیصد زیادہ ہیں۔ مالی سال 2019-20ءکے لئے Net Federal revenues کی مد میں 3,462 ارب روپے کا تخمینہ ہے جو کہ جاری مالی سال کے 3,070 ارب روپے کے مقابلے میں 13 فیصد زیادہ ہے۔ اس طرح وفاقی بجٹ خسارہ 3,560 ارب روپے ہو گا۔ مالی سال 2019-20ءکے لئے صوبائی سرپلس کا تخمینہ 423 ارب روپے ہے۔ مالی سال 2019-20ءکے لئے مجموعی مالی خسارہ 3,137 ارب یا جی ڈی پی کے 7.1 فیصد ہو گا جو کہ 2018-19ءکے مالی سال میں جی ڈی پی کے 7.2 فیصد پر تھا۔ وزیر مملکت نے کہا کہ انکی تقریر کا دوسرا حصہ ٹیکس تجاویز پر مشتمل ہے۔اس سال پاکستان نے سابقہ حکومتوں کی طرف سے متعارف کروائی گئی ناقص ٹیکس پالیسیوں کے بدترین اثرات کا سامنا کیا، ان پالیسیوں کو پاکستانی عوام کی تائید حاصل نہ تھی۔ پچھلی حکومت نے اضافی ٹیکس ریلیف فراہم کیا جس سے ٹیکس بیس میں 9 فیصد کمی واقع ہوئی۔ پچھلے پانچ سال کے دوران حکومت نے ٹیکس محصولات میں اضافہ کے لئے صرف ٹیکس ریٹ میں اچانک تبدیلیوں کی اپروچ کا سہارا لیا اور زیادہ مستعد، مساویانہ اور مضبوط ٹیکس نظام کے قیام میں ٹیکس بیس میں اضافہ کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا اور اس کے تباہ کن نتائج بر آمد ہوئے۔ نتیجتاً ا س وقت 22 کروڑ کی آبادی میں صرف 19 لاکھ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں اور ان میں بھی ٹیکس جمع کروانے والوں کی تعداد 13 لاکھ ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی تشویشناک ہے کہ سیلز ٹیکس فائلرز کی تعداد صرف ایک لاکھ 41 ہزار ہے، ان میں سے صرف 43 ہزار اپنے گوشواروں کے ساتھ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں جی ڈی پی کے لحاظ سے ٹیکس کی شرح 12 فیصد ہے جو نہ صرف خطے بلکہ دنیا میں کم ترین شرحوں میں سے ایک ہے جبکہ موجودہ اخراجات کے لحاظ سے ضروری ہے کہ ٹیکس کی شرح جی ڈی پی کا 20 فیصد ہو۔ اسی تناظر میں موجودہ حکومت نے ٹیکس اصلاحات کا ایسا ایجنڈا ترتیب دیا ہے جس کے ذریعے سخت فیصلے کئے جائیں گے، جو نہ صرف میکرواکنامک استحکام بلکہ آنے والی نسلوں کی خاطر قومی یکجہتی کو یقینی بنانے کے لئے ضروری ہیں۔ میںآغاز میں، اس معزز ایوان کو مالی سال 2019-20ءکے مجوزہ ٹیکس اقدامات کے بنیادی اصولوں کے بارے میں مختصر طور پر بریف کرنا چاہوں گا، یہ اقدامات حکومت کے درمیانی مدت پالیسی فریم ورک کا حصہ ہیں۔ اس فریم ورک کی بنیادی توجہ اس بات پر مرکوز ہے کہ درمیانی مدت کے دوران جمع ہونے والے محصولات اور حقیقی پوٹیشنل میں فرق کو کم کیا جائے۔ مالی سال 2018-19ءمیں حکومت نے ٹیکس اخراجات کی حد 972.4 ملین ?972 ارب 40 کروڑ? روپے کی ٹیکس سہولیات دیں۔ یہ اخراجات ان بے شمار ٹیکس استثنیات ?exemptions? اور رعایتوں کا نتیجہ ہیں جو معیشت کے مختلف شعبوں کو مہیا کی جا رہی ہیں۔ جہاں ان استثنیٰ ور رعایتوں کے نتیجہ میں ایک طرف تو ترغیب ملتی ہے تو دوسری طرف ان کے نتیجہ میں رکاوٹ بڑھ جاتی ہے اور ٹیکس محصولات کا ایک بڑا حجم ضائع ہو جاتا ہے۔ ان استثنیات اور رعایتوں میں کمی سے نہ صرف محصولات میں اضافہ ہو گا بلکہ ٹیکس نیٹ میں بھی اضافہ ہو گا۔ ٹیکس کے خلاءکو کم کرنے کی کوششیں دو حصوں پر مشتمل ہیں? ?1? استثنیات اور رعایتوں میں مرحلہ وار کمی، ویلیو ایڈڈ ٹیکس کی شرح کو مرحلہ وار مساویانہ بنانا اور خصوصی طریقہ کار پر نظرثانی کرنا، ہماری توجہ موثر اور خوف سے پاک ٹیکس تعمیل کو یقینی بنانا ہے۔ ٹیکس گزار اور ٹیکس کلکٹر کے مابین انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے رابطہ کاری کو متعارف کروایا جائے گا تاکہ دونوں میں بالمشافہ رابطے کی جگہوں کو virtual ذرائع اختیار کرکے کم سے کم کیا جائے۔ اس سے ٹیکس گزار اور ٹیکس کے محکمے کے مابین اعتماد کا فقدان کم ہو گا اور ٹیکس compliance کی لاگت بھی کم ہو گی۔ ٹیکس کے نظام میں جمود توڑنے کے لئے فرضی ٹیکسیشن کی بجائے حقیقیآمدن پر ٹیکسیشن اور غیر ضروری ود ہولڈنگ ٹیکسز کے خاتمے جیسے اقدامات تجویز کئے جا رہے ہیں، اس کا فطری نتیجہ کاروبار کرنے میںآسانی کے انڈیکس میں پاکستان کی رینکنگ بہتر ہونے کی صورت میں انشاء نکلے گا۔آنے والے سالوں میں ٹیکس بیس میں اضافے کے لئے معیشت کو دستاویزی شکل دینا سب سے اہم ہو گا جس کے لئے حکومتی اداروں کے پاس موجود ڈیٹا اور جمع کرائے گئے گوشواروں میں موجود ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا جائے گا۔ حکومت نے ایسیٹ ڈکلیئریشنآرڈیننس، 2019ءکے نفاذ کے ذریعے اصلاحات کا پیکیج متعارف کروا دیا ہے تاکہ غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نظام میں شامل کیا جائے اور ٹیکس تعمیل کی حوصلہ افزائی سے معاشی بحالی و نمو economic revial and growth? کے مقاصد پورے ہوں۔ اب میں اس ایوان کے سامنے ریلیف اور ٹیکس کے اقدامات پیش کرنا چاہتا ہوں جو اس بجٹ میں تجویز کئے گئے ہیں، ان کاآغاز کسٹم ڈیوٹی سے کروں گا۔ ماضی میں ملکی ٹیکسوں سے ملنے والے کم ریونیو کی وجہ سے کسٹم ٹیرف کو درآمدات سے ریونیو حاصل کرنے کے لئے بے دردی کے ساتھ استعمال کیا گیا تھا۔ فی الوقت پاکستان میں اوسطاً کسٹمز ٹیرف اور درآمدات کے مرحلے کے حوالے سے ریونیو بہت زیادہ ہیں جبکہ درآمدات سے حاصل ہونے والے ریونیو میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ درآمد شدہ خام مال کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں ملکی اور برآمدی دونوں صنعتوں کی مسابقت پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔ حکومت کو یہ مکمل یقین ہے کہ ایکسپورٹس اور ملکی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے لئے کسٹمز ٹیرف کی ریشنلائزیشن ایک بنیادی ضرورت ہوتی ہے۔ اس مقصد کے لئے 1600 سے زائد ٹیرف لائنز پر ڈیوٹی، خام مال کے ضمن میں اس بجٹ میں مستثنیٰ کی جا رہی ہے۔ اس اقدام سے تقریباً 20 بلین روپے کے ریونیو کا نقصان ہوگا لیکن صنعتی ترقی کے بدلے میں بہت زیادہ فوائد کی توقع ہے۔ حکومت کسٹمز ٹیرف کے اصلاحاتی منصوبے کو حتمی شکل دے رہی ہے جسے مرحلہ وار لاگو کیا جائے گا۔ ٹیکسٹائل کا شعبہ اہم ہے اور حکومت کی پالیسی ہے کہ اس شعبے کو ٹیکسٹائل مشینری کے پارٹس اور آلات پر ڈیوٹی سے استثنیٰ دے کر معاونت فراہم کی جائے۔ اسی طرح لچکدار دھاگے اور غیر بنے کپڑے پر ڈیوٹی بھی کم کی جائے گی۔ -4 ملک کے تعلیمی شعبے میں کاغذ کا استعمال انتہائی اہم ہے کیونکہ اس کی قیمت سے تعلیم کی مجموعی لاگت پر اثر پڑتا ہے۔ کاغذ کی پیداوار کے لئے استعمال ہونے والے بنیادی خام مال جیسے برادہ اور کاغذ کے سکریپ کو کسٹم ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے اور مختلف اقسام کے کاغذ پر ڈیوٹی 20 فیصد سے 16 فیصد تک کم کی جائے گی۔ اس سے ملک میں کاغذ اور کتابوں کی قیمتوں میں کمی آئے گی اور پرنٹنگ کی صنعت کی حوصلہ افزائی ہوگی۔ قرآن کی اشاعت کے لئے خصوصی اقدامات کئے جا رہے ہیں۔-5 غیر روائتی برآمدات میں اضافے کے لئے لکڑی کے فرنیچر اور ریزر کی پیداوار میں استعمال ہونے والی کچھ اشیاءپر ڈیوٹی کم کی جا سکتی ہے، مقامی جنگلات کو بچانے

اور فرنیچر کے پیدا کنندگان کی حوصلہ افزائی کے لئے لکڑی پر ڈیوٹی 3 فیصد سے کم کر کے 0 فیصد اور لکڑی کے مصنوعی پینلز پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کر کے 3 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔ ریزر کے exports کے لئے اسٹیل کی پٹیوں پر ڈیوٹی 11 فیصد سے کم کر کے 5 فیصد کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے۔ - گھریلو اشیاءکی صنعت، پرنٹنگ پلیٹ کی صنعت، سولر پینلز کے اسمبلرز اور کیمیکل انڈسٹری کے مداخل کی لاگت کو کم کرنے کے لئے ان کے مداخل پر ڈیوٹیز جیسا کہ گھریلو اشیاءکے پارٹس اجزائ، ایلومینیم کی پلیٹوں، دھاتی سطح والی اشیاءاور ایسیٹک ایسیڈ (ascetic acid) پر ڈیوٹی کم کرنے کی تجویز ہے۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی غرض سے تیل صاف کرنے والے ہائیڈرو کریکر پلانٹس کی تنصیب کے لئے استعمال ہونے والے پلانٹ اور مشینری پر ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔ -7 زرمبادلہ کے ذخائر کو بچانے کے لئے prohibitive regulatory duties کے استعمال سے در آمدات تو کم ہوئیں لیکن ان میں کچھ اشیاءٹرانزٹ ٹریڈ میں چلی گئیں اور پھر انہیں واپس سمگل کیا گیا۔ تجویز ہے کہ ٹائر، وارنش اور خوراک کی صنعت میں خوراک کی تیاری کے حوالے سے ڈیوٹی کے ڈھانچے کو منطقی بنایا جائے تاکہ ان اشیاءکو سمگلنگ میں منتقل ہونے سے بچایا جائے اور ضائع ہونے والے محصولات کو حاصل کیا جائے۔

روزہ مرہ ضروریات کی اشیاءب کی ڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث عام آدمی کا گزارہ بہت مشکل ہو گیا ہے۔ عام آدمی کے لئے ادویات کی قیمتوں میں کمی کی غرض سے دوائیوں کی پیداوار میں استعمال ہونے والے خام مال کی 19 بنیادی اشیاءکو تین فیصد امپورٹ ڈیوٹی سے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔ ایکسپورٹس کی حوصلہ افزائی کے لئے برآمدی سہولیات کی مختلف سکیموں ک سادہ اور خودکار بنایا جا رہا ہے تاکہ انسانی عمل دخل کم سے کم ہو اور تیز رفتار عمل شفاف طریقے سے انجام پائے۔ یہاں یہ تذکرہ کرنا انتہائی اہم ہے کہ رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران را مٹیریل کی امپورٹ پر ایکسپورٹس کو سہولیات فراہم کرنے کی مختلف سکیموں کے تحت برآمد کنندگان کو ڈیوٹی کی مد میں 124 ارب روپے کی رعایتیں دی گئیں۔ ایکسپورٹرز کے وقت کی بچت کے لئے تجویز ہے کہ ان کی طرف سے فراہم کی جانے والی اشیاءاور پیداوار کی شرحوں کو حتمی تصدیق کی شرط کے ساتھ عارضی طور پر قبول کیا جائے اور ان کے امپورٹ آرڈرز کی تکمیل میں تاخیر نہ کی جائے۔ منی لانڈرنگ ایک لعنت اور بری شہرت کا باعث ہے نیز اس سے معاشی نقصان ہوتا ہے۔ تجارتی بنیاد پر منی لانڈرنگ کے خاتمے کے لئے ایک مکمل نیا نظام تجویز کیا جا رہا ہے۔ منی لانڈرنگ اور کرنسی کی اسمگلنگ کے خلاف قانونی اقدام کرنے کے لئے ایک نیا علیحدہ ڈائریکٹوریٹ آف کراس بارڈر کرنسی موومنٹ قائم کر کے FATF کے منصوبہ عمل کو پورا کرنے کے لئے پاکستان کے عزم کی عکاسی کی گئی ہے۔ سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ کے خلاف اقدام کو مزید مضبوط بنانے کے لئے کراچی، پشاور اور کوئٹہ میں اس کی روک تھام کے لئے علیحدہ سے کلکٹریٹس قائم کئے گئے ہیں۔-11 حکومت کو اپنے اخراجات پورا کرنے کے لئے بعض سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اس حقیقت کا احساس کرتے ہوئے کہ امپورٹس کے مرحلے میں ڈیوٹی اور ٹیکس میں کئے جانے والے کسی بھی اضافے کا صارفین پر بوجھ پڑتا ہے اس لئے ہم نے امپورٹ مرحلے کے حوالے سے محصولات کے ضمن میں کم از کم اقدامات برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ یہ تجویز کیا جا رہا ہے کہ اضافی کسٹمز ڈیوٹی کی شرح موجودہ شرح سے بالترتیب 2 فیصد سے 4 فیصد اور 6 فیصد اور 20 فیصد کے ٹیرف سلیبز پر 7 فیصد اضافہ کیا جائے جو بنیای طور پر لگژری آئٹمز سمیت پرتعیش اشیاءپر مشتمل ہیں۔ فی الوقت ایل این جی کو کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے چونکہ ایل این جی نے فرنس آئل کی جگہ لے لی ہے جس پر سات فیصد کسٹم ڈیوٹی عائد ہے اس لئے اب ایل این جی کی امپورٹ پر پانچ فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔سیلز ٹیکس کے حوالے حکومت نے غریب طبقے کی بڑی اکثریت کے فائدے کے لئے محصولات اکٹھا کرنے کی غرض سے جنرل سیلز ٹیکس کے ریٹ کو 17 فیصد تک بڑھانے کا آپشن اختیار نہیں کیا۔ ریلیف کے کچھ اقدامات حسب ذیل ہیں ۔ اس وقت اینٹوں کے بھٹوں سے 17 فیصد کے ریٹ سے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ تجویز ہے کہ سیلز ٹیکس کے ریٹ کو 17 فیصد سے کم کر کے صلاحیت اور جگہ کے حساب سے فکس کیا جائے۔ یہ دیہی علاقوں کی صنعت ہے جہاں دستاویزی تقاضے کو پورا کرنا مشکل ہے۔ اس لئے اس اقدام سے کم لاگت پر compliance کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ریستورانوں اور بیکریز کی طرف سے سپلائی کی جانے والی غذائی اشیاءپر سیلز ٹیکس کی کم کردہ شرح ، کھانے اور دیگر اشیائے خوردونوش کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیاءجیسے گوشت، سبزیاں، آٹا وغیرہ کو دستاویزی شکل میں لانا مشکل ہے اور اس کاروبار کے لوگوں میں ٹیکس چوری کا رجحان بڑھتا ہے اس لئے ٹیکس اتھارٹیز کی طرف سے کم سے کم اخراجات کے ساتھ Compliance کی حوصلہ افزائی کے لئے تجویز ہے کہ ریستوران اور بیکری میں فراہم کی جانے والی چیزوں پر سیلز ٹیکس کی شرح کو 17 فیصد سے کم کر کے 7.5 فیصد پر لایا جائے جس میں سے ان پٹ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس وقت خشک دودھ کی متعدد اقسام کے لئے سیلز ٹیکس کے ریٹ یکساں نہیں ہیں۔ ایک جیسی مصنعات پر ٹیکس کی شرحیں عائد ہیں، اس لئے اس فرق کو ختم کرنے کے لئے تجویز ہے کہ دودھ اور کریم، خشک اور بغیر فلیور والے دودھ پر یکساں 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔ PMC اور PVC کی افغان ایکسپورٹ پر پابندی کے خاتمے کے لئے تجویز ہے کہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ریاستوں کو زیرو ریٹ پر یہ اشیاءایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس اقدام سے متذکرہ بالا اشیاءکی ملک میں مقامی طور پر پیداوار کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ایکسپورتس میں بھی اضافہ ہوگا۔ اس وقت متعدد اشیاءپر معیاری سیلز ٹیکس کے علاوہ 2 فیصد اضافی ٹیکس بھی عائد ہے جیسا کہ بجلی اور گیس کے آلات، فوم، کنفیکشنری، اسلحہ اور ایمونیشن، لبریکنٹس، آٹو پارٹس، ٹائرز?ٹیوبز وغیرہ۔ ٹیکس کی مکمل پوٹینشل کے ساتھ وصولی کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تجویز ہے کہ ان اشیاء?ماسوائے آٹو پارٹس? کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990ءکے تیسرے شیڈول ?ریٹیل پرائس ٹیکسیشن? میں منتقل کر دیا جائے۔ آٹو پارٹس جو کہ درمیانی نوعیت کی حامل ہیں اور صنعتوں میں اتعمال ہوتی ہیں۔ تجویز ہے کہ ان پر عائد اضافی ٹیکس کو واپس لے لیا جائے تاکہ مقامی صنعت کی لاگت پیداوار میں کمی آئے۔ فاٹا اور پاٹا کے انضمام کے بعد سپلائیز کے حوالے سے استثنیات میں پانچ سال کی توسیع دی گئی تھی تاکہ معاشی سرگرمیاں بڑھیں۔ تجویز ہے کہ صنعتی خام مال اور پلانٹ و مشینری کی امپورٹ پر بھی ٹیکس استثنیٰ کو ان علاقوں تک وسعت دی جائے۔ مزید برآں ان علاقوں میں تمام گھریلو اور کاروباری صارفین اور 31 مئی 2018ءسے پہلے قائم ہونے والی صنعتوں کو بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کے لئے استثنیٰ دینے کی تجویز ہے۔ اس استثنیٰ کا اطلاق ان علاقوں میں واقع اسٹیل ملوں اور گھی ملوں پر نہیں ہوگا۔ اس وقت کاروباری امپورٹ پر تین فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس عائد ہے جس کی وجہ سے ٹیکس کے بوجھ میں غیر ضروری طور پر اضافہ ہو گیا ہے۔ اس کے لئے تجویز ہے کہ موبائل فونز کی امپورٹس پر تین فیصد ویلیو ایڈیشن ٹیکس ختم کر دیا جائے۔ اس سے مبائل فونز کی امپورٹ پر عائد ٹیکس میں کمی آئے گی۔ اس وقت ویلیو ایڈیشن ٹیکس سے استثنیٰ OMCs کی طرف سے امپورٹ کی جانے والی صرف ان اشیاءپر موجود ہے جن کی قیمتیں ریگولیٹ کی جاتی ہیں۔ تجویز ہے کہ OMCs کی طرف سے امپورٹ کی جانے والی تمام پٹرولیم مصنوعات جیسے فرنس آئل پر بھی استثنیٰ دی جائے۔کئی سالوں سے سیلز ٹیکس قانون میں کئی سطحوں پر مشتمل ٹیکسیشن اور اس کے تحت قانون سازی کی شمولیت سے یہ ایک پیچیدہ شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے بغور مطالعے کے بعد سپیشل پروسیجر رولز کو ختم کر کے سیلز ٹیکس ایکٹ کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ اسی طرح سے چند بے حد ضروری ایس آر اوز کو چھوڑ کر تمام SROs اور STGOs کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ SRO1125(I)/2011 کے ذریعے پانچ برآمدی شعبوں یعنی ٹیکسٹائل، چمڑے، کارپٹس، کھیلوں کے سامان اور سرجیکل سامان کی پیداوار اور ان کی تیاری میں استعمال ہونے والی اشیاءپر سیلز ٹیکس کو زیرو ریٹڈ کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد ریفنڈ کی ادائیگی میں تاخیر کا خاتمہ کرنا تھا۔ تاہم زیرو ریٹنگ کی وہ سے ملکی پیداوار اور صنعت کا ایک بڑا حصہ ہونے کے باوجود ان اشیاءکی ملکی فروخت میں ٹیکس کی مقدار صرف چھ ارب روپے ہے جو کہ 1200 ارب روپے کی پیداوار کا ایک فیصد بھی نہیں۔ تیار شدہ اشیاءپر کم کردہ شرحوں سے بھی محصولات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ ان نقائص کو دور کرنے اور محصولات کی مد میں ہونے والے نقصان کو روکنے کے لئے مندرجہ ذیل اقدامات تجویز کئے گئے ہیں: SRO 1125 کو منسوخ کر دیا جائے، اس طرح 17 فیصد کی معیاری شرح کو بحال کر دیا جائے۔ٹیکسٹائل اور چمڑے کی تیار شدہ اشیاءاور تیار شدہ کپڑے کی مقامی سپلائز پر سیلز ٹیکس کو 17 فیصد تک بڑھا دیا جائے تاہم ایسے پرچون فروش جو رئیل ٹائم میں اکاﺅنٹنگ کا انتخاب کریں گے، انہیں ریٹ میں رعایت دی جا سکتی ہے جو 15 فیصد تک ہو سکتی ہے۔یوٹیلٹیز کی مد میں زیرو ریٹنگ کا خاتمہ، دوسری طرف ان شعبوں میں سیلز ٹیکس کے ریفنڈ کو خودکار بنایا جائے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان پٹس پر ادا کیا گیا سیلز ٹیکس فوری طور پر ریفنڈ ہو۔ ریفنڈ پے منٹ آرڈرز (RPOs) کو فوری طور پر ادائیگی کے لئے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھیجا جائے گا۔ جہاں اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ برآمدات کی رقم وصولی کے ساتھ ہی اس ریفنڈ کو ادا کر دیا جائے۔ روئی کو اس وقت سیلز ٹیکس سے استثنیٰ حاصل ہے تجویز ہے کہ اس پر 10 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے۔ اس وقت سٹیل کے شعبے سے سیلز ٹیکس بجلی کے بلوں پر 13 روپے کلو واٹ ہاور کے حساب سے اکٹھا کیا جا رہا ہے۔ billet بنانے کے لیے استعمال ہونے والے سکریپ پر 5600/MT کے حساب سے سیلز ٹیکس وصول کیا جاتا ہے جو adjustable ہے۔ شپ بریکرز کے لیے ا مپورٹ کیے جانے والے جہاز سیلز ٹیکس کی ادائیگی سے مستثنیٰ ہیں۔ تاہم جہاز توڑ کر حاصل کی جانے والی شپ پلیٹس پر 9300/MT کے حساب سے ٹیکس نافذ ہے۔ مزید برآں قبائلی علاقوں میں قائم سٹیل انڈسٹری سیلز ٹیکس سے مستثنیٰ ہے اور دیگر علاقوں کے سٹیل یونٹس ان کا مقابلہ کرنے کی سکت نہیں رکھتے۔ ان پیچیدہ قوانین سے چھٹکارا پانے اور اس شعبے سے پوٹینشل ریونیو حاصل کرنے کے لیے? تجویز ہے کہ سپیشل پروسیجر کا خاتمہ کیا جائے اور ان اشیاءکو نارمل ٹیکس قانون کے تحت لایا جائے۔ rods, ingots, Billet شپ پلیٹس اور دیگر ایسی اشیاءپر سیلز ٹیکس کی صورت میں 17 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی فیڈ عائد کی جائے۔ ن اشیاءپر FED لگانے کی وجہ سے فروخت پر سیلز ٹیکس کا خاتمہ کیا جا رہا ہے۔ 4۔ بجلی کے استعمال کی بنیاد پر پیداوار کے حوالے سے کم سے کم معیارات کا بھی تعین کیا جا رہا ہے۔ اوگرا کی جانب سے سی این جی قیمتوں کی ڈی ریگولیشن کے بعد سے CNG کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم اس تناسب سے ٹیکس کی شرحوں کو متناسب نہیں کیا گیا۔ اس لیے تجویز ہے کہ CNG ڈیلرز کے لیے ویلیو ریجن Iکے لیے 64.80 روپے فی کلو گرام سے بڑھا کر 74.04روپے فی کلو گرام اور ریجن IIکے لیے 57.69 روپے فی کلوگرام سے بڑھا کر 69.57 روپے فی کلوگرام کردیا جائے۔ واضح رہے کہ اس اقدام سے سی این جی کی قیمت میں بہت معمولی اضافہ ہوگا کیونکہ سی این جی کی مارکیٹ قیمت


ای پیپر