عمرہ نامہ ! ....(دوسری قسط)
11 جون 2019 2019-06-11

عمرہ کی سعادت مجھے تیسری بار نصیب ہورہی ہے، پہلی بار مجھے یہ سعادت جس طرح نصیب ہوئی یہ واقعہ بڑادلچسپ اور یادگار ہے، میں اُن دنوں نوائے وقت میں کالم لکھتاتھا، میرا کالم نیوز پیج پر شائع ہوتا اور جناب مجید نظامی اِس کی مقبولیت پر اتنا خوش تھے جناب ارشاد احمد عارف گواہ ہیں ایک بار اُنہوں نے مجھے پیغام دیا کہ نظامی صاحب کی یہ خواہش ہے آپ ہفتے میں تین کالم لکھنے کے بجائے روزانہ کالم لکھیں، پہلے تو میں سمجھا کہ جناب ارشاد احمدعارف مذاق کررہے ہیں، کیونکہ نظامی صاحب کو سوائے اپنے کسی کی حوصلہ افزائی یا تعریف وغیرہ کرنے یاسننے کی عادت ہی نہیں تھی، خیر جب مجھے احساس ہوا یہ مذاق نہیں ہے تو مجھے اپنے لیے یہ بڑے اعزاز کی بات اس لیے بھی لگی کہ چند ہی روز قبل نوائے وقت میں لکھنے والے ایک مشہور کالم نگار نے نظامی صاحب کو خط لکھا تھا کہ آپ میری تنخواہ بڑھا دیں، اس پر نظامی صاحب نے ان سے کہا ”ٹھیک ہے میں آپ کی تنخواہ زیادہ کردیتا ہوں پر میری شرط یہ ہے آپ کالم کم کردیں“ ،.... اِن حالات میں مجھے زیادہ کالم لکھنے کے لیے کہا جارہا تھا تو مجھے اِس کی یقیناً بڑی خوشی ہورہی تھی، مگر میرے لیے ایسا کرنا ممکن نہیں تھا، کیونکہ ایک تو میں نے روزانہ دوکلاسیں پڑھانی ہوتی تھیں، پھر کچھ نجی مصروفیات کے باعث مجھے لگا میں یہ ذمہ داری نہیں نبھا سکوں گا، روزانہ لکھا تو جاسکتا ہے مگر روزانہ اچھا نہیں لکھا جاسکتا، سو مجھے ایک خدشہ یہ بھی تھا نظامی صاحب کی خواہش یا حکم پر میں نے زیادہ کالم لکھنے شروع کردیئے تو کہیں یہ نہ ہوکسی اور نظامی صاحب کی طرف سے حکم مِل جائے آپ کالم لکھنا ہی بند کردیں ،سو میں نے اِس ضمن میں جب ارشاداحمد عارف صاحب کو اپنے خدشات یا جذبات سے آگاہ کیا وہ فرمانے لگے ”نظامی صاحب نے بڑے مان سے آپ سے کہا ہے لہٰذا آپ اُن کی بات رد نہ کریں“،....میں نے عرض کیا ”اچھا میں کوشش کرتا ہوں“۔ ....میں نے ابھی کوشش شروع ہی کی تھی کہ میرے ایک کالم سے شہباز شریف اچانک اتنا ناراض ہو گئے کہ اُس اخبار نے میرے کالم شائع ہونے پر پابندی لگادی جس کی پیشانی پر لکھا ہوتا تھا ”جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا جہاد ہے“ ....میں نے جب یہ جہاد جاری رکھنے کی کوشش کی تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ یہ ”جہاد“ جابر سلطان سے پوچھ کر بلکہ اُس کی باقاعدہ اجازت لے کر کرنا پڑے گا۔ خیر اس ”جہاد“ کے نتیجے میں تقریباً چار ماہ تک میرا کالم بند رہا، پھر اک روز اِس پابندی کے دوران میں نے نظامی صاحب کو اُن کی عزت آبرو، اُن کے اخبار کی ساکھ اور اپنی عزت آبرو کا بذریعہ ایک خط احساس دلایا تو میرا کالم دوبارہ شائع ہونا شروع ہوگیا، یہ بھی ہوا کہ میں اپنا بند کالم ”کھلوانے“ کے لیے نظامی صاحب سے مِلنا چاہتا تھا اور مجھ سے کہا جاتا تھا آپ شہباز شریف سے مل لیں، ظاہر ہے یہ میں کرنہیں سکتا تھا، بہرحال چارماہ بعد خود نظامی صاحب کو ہی احساس ہوگیا اُن کا فیصلہ غلط ہے، اُس سے پہلے ایک اور واقعہ ہوا تھا، اُس وقت کے صدر آصف زرداری خصوصاً اُن کے بعض قریبی دوست بھی میرے کالموں سے بڑا تنگ تھے، وہ یہ چاہتے تھے اب جبکہ وہ صدر پاکستان بن چکے ہیں تو اُن کا ماضی ڈسکس نہ کیا جائے، خصوصاً اُنہیں ”مسٹرٹین پرسینٹ“ نہ کہا جائے۔ اِک روز اُن کے دوقریبی اور مخلص ساتھی جناب احمد ریاض شیخ اور ان کے پولیٹیکل سیکرٹری ڈاکٹر قیوم سومرو میرے گھر تشریف لائے اور بذریعہ ایک ”وزنی لفافہ“ میری ”خدمت“ کی کوشش کی اور فرمایا یہ ”صدر زرداری کی طرف سے ”پہلا سلام“ ہے“ ،....میں نے صدر زرداری کا ”پہلا سلام“ قبول کرنے سے نہ صرف انکار کردیا بلکہ اِس حرکت پر جتنے سخت الفاظ سے اُن کی ”خدمت“ کرسکتا تھا، وہ بھی کی، اُنہوں نے اس پر بڑی معذرت کی اور واپس چلے گئے....اُن کے جانے کے فوراً بعد میں نے نظامی صاحب کو فون کیا، یہ واقعہ انہیں سنایا، ان سے کہا ”میں

اِس پر کالم لکھنا چاہتا ہوں“، .... وہ بولے ” بہتر تو یہی ہے آپ اس واقعے کو نظرانداز کردیں یعنی اس پر مٹی ڈال دیں، لیکن آپ اس پر کچھ لکھ کر بھجوائیں گے تو میں دیکھ لوں گا“، .... خیر اگلے روز میں نے ”صدر زرداری کا پہلا سلام“ کے عنوان سے کالم لکھ کر نظامی صاحب کو بھجوا دیا، نوائے وقت میں شائع ہونے والے مختلف کالمز اکثر ارشاد احمدعارف صاحب ہی دیکھتے اور کانٹ چھانٹ کرتے تھے، وہ ان دنوں ادارتی صفحے کے انچارج اور اخبار کے ڈپٹی ایڈیٹر بھی تھے، البتہ کوئی کالم اگر وہ سمجھتے کسی حوالے سے متنازعہ ہوسکتا ہے، یا اخبار کی پالیسی سے متصادم ہے تو وہ اسے نظامی صاحب کو بھجوا دیتے تھے، جو کانٹ چھانٹ کرنے کے بعد یا تو کالم شائع کردیتے یا روک لیتے، عام طورپر ہمارے ایڈیٹرز اپنا یہ خصوصی اختیار استعمال کرتے ہیں کہ ایڈٹ کرتے ہوئے وہ بعض جملے یا پیراگراف حذف کردیتے ہیں، نظامی صاحب نے خود کو خودبخودیہ اختیار بھی دے رکھا تھا کہ جہاں وہ کالم کے کچھ جملے حذف کردیتے تھے وہیں کچھ جملے اپنی طرف سے بھی کالم میں ڈال دیتے تھے جس سے بعض اوقات کالم نویس کو بہت ہی عجیب وغریب صورت حال کا سامنا کرنا پڑ جاتا تھا، نظامی صاحب کی اس عادت سے اُن کے بہت سے کالم نویس بڑے تنگ تھے مگر اپنی اس ”تنگی“ کا اظہار بھی اُن بے چاروں کو ان کی خوشامدہی کی صورت میں کرنا پڑتا تھا، نظامی صاحب میں بہت سی خوبیاں تھیں اور وہ غیر ضروری طورپر اپنی تعریف سننے کو بھی اپنی ایک ”خوبی“ ہی سمجھتے تھے، بہرحال وہ ایک بڑے انسان تھے، اب ہمیں اُن کی کمی بڑی محسوس ہوتی ہے، اُنہوں نے ہر ”جابر سلطان“ کے سامنے کلمہ¿ حق کہا، وہ آج زندہ ہوتے تو ایک ایسے حکمران کا انہیں سامنا کرنا پڑ جاتا جو کلمہ حق اور کلمہ ناحق میں کوئی فرق ہی محسوس نہیں کرتا، خیر نظامی صاحب نے بے شمار کانٹ چھانٹ (ایڈیٹنگ ) کے بعد میرا کالم ” صدر زرداری کا پہلا سلام“ شائع کرنے کی اجازت دے دی۔ اب تو مجھے پتہ نہیں نوائے وقت کتنا بڑا اخبار ہے اور شائع بھی ہوتا ہے یا نہیں، نظامی صاحب کی زندگی میں یہ دوسرا بڑا قومی اخبار تھا جسے کچھ لوگ پہلا بڑا قومی اخبار بھی سمجھتے تھے، خصوصاً نظریہ پاکستان سے والہانہ محبت کرنے والے لوگوں کے نزدیک تو نوائے وقت صرف پاکستان کا نہیں پوری دنیا کا سب سے بڑا اخبار تھا ۔ (جاری ہے)


ای پیپر