سر سے پائوں تک
11 جون 2019 2019-06-11

سر سے پائوں تک ‘ جملے کی بناوٹ ، وزن ، کاٹ اور استعمال سے ایسا لگ رہا ہے جیسے ناچیز چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے وابستہ جملے پر چل رہی سوشل میڈیا مہم پر طبع آزمائی کرنے جا رہا ہے ۔لیکن ایسا نہیں ہے ۔گو کہ چیئرمین نیب سے وابستہ اس جملے نے مجھ جیسے طفل مکتب پر گہرے اثرات چھوڑے ہیں لیکن اس کا اثر شاید دیگر لوگوں پر ہونے والے اثرات سے قطعی مختلف ہے ۔ سر سے پاوں تک ۔۔ہم شرمسار ہیں۔۔ کیوں کہ تضحیک آمیز جملوں اور رویوں کی دوڑ میں ہم بھول جاتے ہیں کہ نجی زندگی اور دفتری معاملات میں فرق ہوتا ہے ۔ سر سے پاوں تک ۔۔ ہم شرمسار ہیں ۔۔ کیوں کہ ہم سیاسی وابستگی اور ذاتی دشمنی میں اتنے گر جاتے ہیں کہ ایک مبینہ’ کال گرل‘ کو ہیرو بنا کر پیش کرتے ہیں اور انتہائی نفیس و دیانت دار شخص کے سامنے لا کھڑا کرتے ہیں ۔ ۔۔ سر سے پاوں تک ۔۔ ہم شرمسار ہیں ۔۔ کیوں کہ ہم صحافت کے منہ پر کلنک کی ٹیکے کی مانند ڈھٹائی کے ساتھ ایک اسٹنگ آپریشن میںمشن کے طور پر بنائی گئی ویڈیو کو بنیاد بنا کر قومی میڈیا پر ’رنگ رلیاں ‘منانے جیسے الفاظ استعمال کرتے ہیں ۔ سر سے پاوں تک ۔۔ ہم شرمسار ہیں کیونکہ ہم خود کو حاجی اور دوسرے کو شیطان سمجھتے ہوئے ذاتیات پر اترتے ہیں اور بیچ مجمع میں پتھر برسانے تک سے گریز نہیں کرتے ۔ اور اس سے زیادہ شرمساری اور کیا ہوگی کہ ہم’ سر سے پاوں تک ‘اخلاقی گراوٹ کی اتھاہ گہرائیوں میں ہوتے ہوئے بھی فخریہ طور پرکسی کو تختہ مشق بناتے ہیں ، آوازے کستے ہیں ، تنقید کرتے ہیں ، اس کے خاندان کو برا بھلا کہتے ہوئے ۔۔گڈیا بیڈ مین۔۔ کے فتوے جاری کرتے ہیں ، جنت اور جہنم جیسے اخروی معاملات پر تکیہ کرتے ہیں ۔ کس کو کس درجے پر رکھنا ہے فیصلہ صادر کرتے ہیں اور قبل از روز محشر۔۔ خودساختہ عدالت لگا گر ٹکٹ کاٹ دیتے ہیں کہ کون پارسا ہے اور کون گنہگار ۔۔ کہہ رہا تھا ناں ۔۔ کہ ناچیز کا قطعی کوئی موڈ نہیں کہ چئیرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال سے منسوب اس جملے کی کھال اُتاروں لیکن یہ جملہ چونکہ ان سے منسوب ہے تو تھوڑی سی بات کرکے مدعے کی طرف آتا ہوں۔۔کیا کسی نے ایک لمحے کے لئے بھی قیاس کیاہے کہ جاوید اقبال صاحب جتنی بڑی پوزیشن پر ہیں کیا انہیں لڑکیوں کی کمی ہوگی ۔۔ قطعی نہیں ۔۔کیا کسی کو یہ خیال آیا کہ اگر یہ’ اسٹنگ آپریشن‘ کسی چالاک یا عادی مجرم کے خلاف ہوتا تو کیا مبینہ ’مظلوم لڑکی‘ اپنے مقصد میں کامیاب ہو پاتی ۔۔۔ قطعی نہیں۔۔ کیا کسی نے ایک لمحے کو بھی سوچا کہ بڑے بڑے مگر مچھوں کو تگنی کا ناچ نچا دینے والے شخص کی عزت کا فالودہ بنا دینے کے لئے کتنی ماڈلز اور کال گرلز کو ٹاسک دئیے گئے ہوں گے ۔۔ ان گنت ۔۔اس میں کوئی شک نہیں کہ جاوید اقبال صاحب نے فل ٹاس کرائی ہے تو یہ سکسر لگا ہے ، قصور ان کا بھی ہے لیکن ہم حقائق کو قطعی نظر انداز نہیں کرسکتے ۔۔ حقائق یہ ہیں کہ ایک نفیس شخص کی زندگی کو تہہ تیغ کرنے میں میڈیا اور سوشل میڈیا نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ۔۔ یہ جو سب حاجی نمازی بن رہے ہیں ذرا چند لمحوں کے لئے اپنے اپنے گریبانوں میں نظر دوڑائیں ، اپنی نجی زندگی ٹٹولیں اور اپنے ہی وضع کردہ اصول و ضوابط پر اپناتذکیہ کریں ، شاذو نادر کوئی ایک آدھ ہی ہوگا جسے پارسائی کا سرٹیفیکیٹ مل پائے گا ،’حمام میں سب ننگے ہیں‘کے مصداق دودھ کا دھلا کوئی نہیں

ہوگا ۔توپھر تمام توپوں کا رخ ایک ایسے شخص کی جانب کیوں ۔۔ جس سے متعلق حقیقت سے ثابت ہے کہ ان کے پاس کوئی غیر قانونی جائیداد نہیں ، صرف تنخواہ پر گزارا کرتا ہے اور لوٹی ہوئی دولت لانے کے لئے پرعزم ہے ۔ اسٹنگ آپریشن اور میڈیائی اور سوشل میڈیائی احتساب کا نشانہ وہی کیوں ۔۔ تو جناب ۔۔ آپ نے فلموں میں تو دیکھا ہوگا کہ جس علاقے کا ایس ایچ ایماندار ہوتا ہے ۔۔ قابو میں نہیں آتا ۔۔ اسے ہٹانے کے لئے دو حربے استعمال کئے جاتے ہیں ۔ ایک یاتو رشوت لینے کا ثبوت پیداکیا جائے اور دوسرا ۔۔ بن پائے تو کسی عورت کو اس کے پیچھے لگا دیا جائے۔۔۔ اور چئیرمین صاحب کو پتہ ہی نہیں چلا کہ کس نے کس کو ان کے پیچھے لگا یا ہے ۔۔۔ اس کارروائی میں ساٹھ فیصد قصور خود چئیرمین نیب کا ہے کیونکہ انہوں نے موقع دیا تو ہی کاروائی ہوئی ۔۔ لیکن ان کی مٹی پلید کرنے ، فتوے جاری کرنے اور عدم پارسائی کے سرٹیفیکیٹ جاری کرنے میں ہمارے پڑھے لکھے طبقے نے جوکردار ادا کیا ہے ۔ اس پر ہم سر سے پاوں تک شرمسار ہیں ۔ کبھی فرصت ملے تو سوچئے گا کہ ایک شخص کی کل کمائی عزت ہو ۔۔ اس کی فیملی ہو ۔۔ اس کی بیٹیاں ہوں ۔۔ اس کے اہل خانہ ہوں ۔۔ اس شخص کی زندگی تضحیک آمیز جملوں سے خود کشی کی نہج تک جا پہنچی ہو ۔۔ اس شخص کی بیٹیوں کو ۔۔ سر سے پاوں تک ۔۔ کے آوازے کسے جاتے ہوں ۔۔ لوگ اس خاندان سے ملنا ملانا چھوڑ دیں کیوں کہ اس شخص سے ایک مبینہ کال گرل کو جوڑ دیا گیا ہو ۔۔ اس شخص کی بیٹیوں کے لئے رشتے آنا بند ہوگئے ہوں ۔۔ اہلیہ شرم سے منہ چھپائے پھرتی ہوں ۔۔ اسٹنگ آپریشن سے جنم لینے والی ویڈیو کے باعث ان کے خاندان کا سوشل بائیکاٹ ہوچکا ہو ۔۔ اور بعد میں پتہ چلے کہ ویڈیو کی اصلیت پر اسٹنگ آپریشن کے ٹیگ نے کئی ابہام پیدا کر دئیے ہیں ۔۔بعد میں پتہ چلے کہ ویڈیو کی خالق کو ایک خاص سیاسی جماعت سے وابستہ شخصیت کی جانب سے انٹرویو کیا گیاہے ۔۔ بعد میں پتہ چلے کہ اس طرح کے اسٹنگ آپریشن کرنے والے لوگ چاہے وہ صحافی ہوں یا عام افراد ۔۔ قانون کے کٹہرے میں لائے جاتے ہیں ۔۔اورقانون نام کی چیز مغرب کے لئے ہے شاید مغرب زدہ معاشروں کے لئے نہیں ۔۔ اگر آپ کو یاد ہوکہ مظہر مجید اور ہمارے تین کرکڑز کے درمیان ڈیل سے جنم لینے والی ویڈیو نے دنیائے کرکٹ میں بھونچال بپا کردیا تھا ۔۔ تینوں کھلاڑیوں کا کرئیر تو ختم ہوا ہی ۔۔ ساتھ ہی ساتھ اسٹنگ آپریشن کرنے والے کو سزا اور بھاری جرمانہ ادا کرنا پڑا۔ رائیٹس ٹو پرائیویسی نام کا کوئی قانون ہے جو شاید مملکت خداداد میں رائج نہیں تبھی ایک مبینہ کال گرل کاا نٹرویو کرکے اسے ہیرو بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔۔ کیا ہراسگی کے معاملے پر اس خاتون کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں بنتی ۔۔ توپھریہ یک طرفہ پری پلانڈ ہیرو گیری کیوں ۔۔ چئیرمین نیب کو بحال رکھ کے حالیہ حکمراں جماعت کی جانب سے درست فیصلہ کیاگیا ہے ۔ کیونکہ یہ قوم کے وسیع تر مفاد میں بہتر ہے ۔ حکومتی ٖ فیصلے سے قطع نظر ہمیں اپنی اخلاقیات کی قدروں میںبھی ریفارمز لانے کی ضرورت ہے ۔ حد سے زیادہ تضحیک ہماری سطحی سوچ کی عکاسی کرتی ہے ، یہ کسی کی جان بھی لے سکتی ہے ۔ اس سے اجتناب کیجئے ۔۔ ناں چاہتے ہوئے بھی جملے کی کھال تار دی اب مدعے کی طرف آتا ہوں ۔۔اداروں کو اسٹنگ آپریشن کرنا ہے تو’ سر سے پاوں تک ‘ بدعنوانی کے جال میں جکڑی بیوروکریسی کے اوپر کریں ۔۔ جو ڈیموکریسی کی جڑوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے ۔۔ ۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے اور ایک اندازے کے مطابق ادارہ جاتی کرپشن کا ستر فیصد بیوروکریٹس سے جڑا ہوا ہے ۔۔برطانوی سامراج کا دیا ہوا تحفہ تہتر سال سے ملک کو ناسور کی طرح گھیرے ہوئے ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ایسا’ بلند پایہ‘ بیوروکریٹک نظام صرف تیسری دنیا کے ممالک کی زینت ہی بن سکتا ہے ۔ ورنہ اس نظام کے خالق یعنی تاج برطانیہ کے ورثا کو اس نظام سے مستفید ہونے میں کیا قباحت تھی ۔کبھی کسی نے سنا ہے کہ انگلینڈ میں کمشنر یا چیف سیکریٹری نام کی کوئی بلا بھی پائی جاتی ہے ۔۔ قطعی نہیں ۔۔ یہ تجربے مستقبل بنیادوں پر صرف تیسری دنیا میں ہی ہوسکتے ہیں ۔۔ماضی کے ڈی ایم جی اور حالیہ پی اے ایس کی کرپشن کا کس کو معلوم نہیں ۔ اتنی کم تنخواہ اور مراعات پر کسی کم بخت کا گزارہ نہیں ہوتا تو پھر اتنے لیوش انٹرنیشنل ٹورز ، مہنگی ترین شاپنگ اور ہائی فائی لائف اسٹائیل ۔۔ کے پیچھے راز کیا ہے ۔ بیورو کریسی میں اصلاحات کی باتین تو سب کرتے ہیں ۔ اصل اصلاحات کہاں پر مطلوب ہیں ۔ حکومت کو اس مد میں کونسے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔


ای پیپر