کیا ہم نے کبھی سوچا !
11 جون 2019 2019-06-11

میں مسلسل سوچ رہا ہوں کہ ان دویہودی نوجوانوں کو داد دوں جو سات ارب انسانوں کے مستقبل کی پلاننگ کر رہے ہیں یا پچاس کروڑمسلم نوجوانوں کی حالت زار کا نوحہ لکھوں ۔دنیا کی آبادی اس وقت سات ارب انسانوں تک پہنچ چکی ہے ، اس وقت دنیا میں دس بڑے مذاہب موجود ہیں ، دنیا کا سب سے بڑا مذہب عیسائیت ہے اور اس وقت دنیا میں 2.5بلین عیسائی موجود ہیں ، دوسرے نمبر پرمذہب اسلام ہے اور اس وقت دنیا میں 1.9بلین مسلمان ہیں ۔ تیسرا بڑامذہب سیکولرزم ہے اور اس وقت دنیا میں 1.3بلین سیکولر انسان موجود ہیں ۔ چوتھا نمبر ہندو مت ، پانچواں نمبر بدھ مت ، چھٹا اور ساتواں نمبر چین اور افریقہ کے روایتی مذاہب ہے، آٹھواں نمبر سکھ مت ، نوواں نمبر سپیریٹیزم اور دسواں نمبر یہودیت کا ہے ۔آپ امت مسلمہ کی صورتحال ملاحظہ کریں اس وقت دنیا میں سب سے ذیادہ ظلم و ستم مذہب اسلام کے پیرو کاروں پر ہو رہا ہے ،اکسیویں صدی کے آغاز سے اب تک دنیا کے مختلف خطوں میں تقریبا پندرہ سے بیس لاکھ مسلمانوں کو شہید کیا جاچکا ہے اور یہ تعداد دنیا کے تمام مذاہب کے مقابلے میں کہیں ذیادہ ہے ۔ اکسیویں صدی میں دنیا کے تمام مذاہب کے مرنے والے افراد کی تعداد اتنی نہیں جتنی صرف مذہب اسلام کے پیرو کاروں کی ہے ۔اس وقت بھی دنیا کے سات آٹھ مسلم ممالک مستقل حالت جنگ میں ہیں اور یہ جنگ خود اختیار کردہ نہیں بلکہ یہ عالمی استعمار کی طرف سے ان پر مسلط کی گئی ہے ۔ کیا ہم نے کبھی سوچاکہ ایسا کیوں ہے؟اس وقت دنیا میںصرف مسلمان ہی ظلم وستم کا شکار کیوں ہیں ، صرف مسلم ممالک پر ہی جنگیں کیوں مسلط کی جا رہی ہیںا ور اس سب سے بڑھ کر یہ کہ دنیا کے اٹھاون اسلامی ممالک کے پچاس کروڑ نوجوانوں نے کبھی اپنی حالت پر غور کیا ، کیا انہوں نے اس ذلت و رسوائی سے نکلنے کی کوشش کی اور کیا انہوں نے امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے بارے میں کبھی سوچا ۔ آپ کو جان کر حیرت ہو گی کہ دنیا میں اس وقت سب سے کم تعداد یہودی مذہب کے پیرو کاروں کی ہے لیکن یہ لوگ ساری دنیا کو لیڈ کر رہے ہیں ، دنیا کی ساری اکانومی، ساری دنیا کا میڈیا ، انٹرٹینمنٹ انڈسٹری اور دنیا کی ساری سیاست یہودیوں کے کنٹرول میں ہے ۔ میں یہاں آپ کو صرف دو یہودی نوجوانوں کی مثال دینا چاہتا ہوں ، میں نے کچھ دن پہلے یوٹیوب پر ایک پروگرام سنا ، یہ پروگرام فیس بک کے بانی مارکزکر برگ اور اکسیویں صدی کے نامور مؤرخ یووال نوح ہراری کے درمیان تھا، پروگرام کا موضوع اکسیویں صدی ، انسانی دنیا کے مستقبل، گلوبل ازم اورمستقبل میں سات ارب انسانوں کو درپیش مسائل کے بارے میں تھا۔ مارک زکر برگ کسی تعارف کے محتاج نہیں ،2004میںہارورڈ یونیورسٹی کے ہاسٹل کے ایک چھوٹے سے کمرے میں بیٹھ کر فیس بک کا آئیڈیا پیش کرنے والا یہ یہودی نوجوان آج دنیا کی طاقتور ترین شخصیات میںشامل ہے۔دنیا کے سارے میڈیا ہاؤسزمل کر شاید وہ کچھ نہ کر سکتے ہوں جو اکیلا مارک زکر برگ سوشل میڈیا کے ذریعے کر سکتا ہے ۔آپ فیس بک اور سوشل میڈیا کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اب مین اسٹریم میڈیا بھی اس کے ہاتھوں یرغمال بن چکا ہے،لاکھوں کرورڑوں لوگ اپنے اکاؤنٹس اور چینل بنا کر اپنے مرضی کی ویڈیوز اور پیغامات شیئر کرر ہے ہیں۔جو بات مین اسٹریم میڈیا میں ایک گھنٹے بعد آتی ہے وہ سوشل میڈیا کے ذریعے پانچ منٹ میں ساری دنیا میں پھیل جاتی ہے۔اس کے علاوہ مین اسٹریم میڈیا کی کچھ اپنی مجبوریاں اور مصلحتیں ہوتی ہیں لیکن سوشل میڈیا ان تمام پابندیوں سے آزاد ہے ۔دنیا بھر میں اس وقت 2.38بلین لوگ فیس بک استعمال کر رہے ہیں ، 1.56بلین لوگ روزانہ فیس بک پر لاگ آن ہوتے ہیں ، سو میں سے پچھتر فیصد خواتین اور سو میں سے چھیاسٹھ فیصد مرد فیس بک استعمال کرتے ہیں،روزانہ تین سو ملین تصاویر فیس بک پر اپلوڈ کی جاتی ہیں ، ہر یوزر تقریبا بیس منٹ روزانہ فیس بک استعمال کرتا ہے ،ہر ایک منٹ میں تقریبا پانچ لاکھ دس ہزار کمنٹس پوسٹ کیے جاتے ہیں ، دو لاکھ ترانوے ہزار اسٹیٹس اپلوڈ کیئے جاتے ہیں اور ایک لاکھ چھتیس ہزار تصاویر اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔ان اعداد و شمار سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ صرف ایک یہودی نوجوان نے کس طرح دنیا کے کروڑوں اربوں دماغوں کو اپنے ساتھ انگیج کیا ہوا ہے اوردنیا کے کروڑوں اربوں انسان آج مارک زکر برگ کے محتاج ہیں۔

دوسرا نوجوان اکیسویں صدی کا مشہور مؤرخ یووال نوح ہراری ہے ، ہراری اسرائیلی یہودی اور یروشلم کی حبرو یونیورسٹی میں تاریخ کا پروفیسر ہے ، ہراری کی کتاب سیپینز دنیا کی بیسٹ سیلر کتب میں شامل ہے اور اب تک اس کی لاکھوں کروڑوں کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں ۔ دنیا کی بیسیوں زبانوں میں اس کتاب کا ترجمہ ہے چکا ہے اور اس کتاب کو ریکمنڈ کرنے والوں میں بل گیٹس، باراک اوبامہ اور مارک زکر برگ جیسی شخصیا ت شامل ہیں ۔ ہراری نے اس کتاب میں انسانی آغاز و ارتقاء ، ستر سالہ معلوم انسانی تاریخ ، زرعی انقلاب، سائنسی انقلاب اور انسان کے مستقبل کو موضوع بنایا ہے۔اس کتاب نے لاکھوں کروڑوں انسانوں کو متاثرکیا اورانسانی آغاز و ارتقاء کے بارے میں از سر نو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ میں جب ان دو یہودی نوجوانوں کو دیکھتا ہوں اور دوسری طرف اٹھاون اسلامی ممالک کے پچاس کروڑ مسلم نوجوانوں کی صورتحال پر نظر دوڑاتا ہوں تو میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور پو جاتا ہوں ۔ کیا اپنا سب کچھ لٹانے کے باجود بھی ہمیں احساس نہیں ہو رہا ، کیا ہماری نوجوان نسل جو انڈین موویز ، ہم ٹی وی اور گیم آف تھرونز جیسی ڈرامہ سیریلز پر اپنا وقت ضائع کر رہی ہے اسے احساس ہے کہ اس کے کندھوں پر کتنی بڑی ذمہ داریاں عائد ہو رہی ہیں ۔ یہاں مجھے نبی اکرم کی حدیث یاد آ رہی ہے، نبی اکرم نے فرمایا تھا قیامت کے دن آدمی کا پاؤں اس کے رب کے سامنے سے نہیں ہٹے گا جب تک اس سے پانچ چیزوں کے بارے پوچھ نہ لیا جائے، اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں صرف کیا ، اس کی جوانی کے بارے میں کہ اسے کہاں کھپایا، اس کے مال کے بارے میں کہ اسے کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا اور اس کے علم کے بارے میں کہ اس پر کہاں تک عمل کیا ۔خدارا اپنی ذمہ داری کا احساس کریں ، آپ جس فیلڈ اور جس میدان میںبھی ہیں اپنے حصے کا کام کرتے رہیں ، اپنے حصے کی شمع جلاتے رہیں ۔ آپ یونیورسٹی کے اسٹوڈنٹ ہیں تو اپنے متعلقہ مضامین میں مہارت حاصل کرکے اسے امت مسلمہ کی نشاۃ ثانیہ کا زریعہ بنائیں ۔ آپ سماجیات ، ابلاغیات یا کسی اور سبجیکٹ کے طالبعلم ہیں تو اس میں کمال حاصل کریں، آپ مذہب کے طالب علم ہیں تو مذہب کو امت کو ایک بنانے کا ذریعہ بنائیں۔آپ کچھ تو کریں اور نہیںتو کم از کم مارک زکر برگ اور ہراری سے ہی عبرت حاصل کر لیں۔ اگر آج ہم نے اپنے حصے کا کام نہ کیا ، یونیورسٹیوں ، چوکوں چوراہوں ، ہالی وڈ ، بالی وڈ اور لالی وڈ کی فلموں اور گیم آف تھرونز جیسی ڈرامہ سیریلز پر اپنا وقت ضائع کرتے رہے تو کل ہم رب کے حضور اپنی عمر اور جوانی کے سوال کا جواب نہیں دے سکیں گے۔


ای پیپر