گھبرانا نہیں !
11 جون 2019 2019-06-11

چلتے لمحے میں حکومتی اتحاد کے سیاسی چیف عمران خان کا کہاہوا کہ گھبرانا نہیں سوشل میڈیا پر عام ہے۔ وطن عزیز کے حکمرانوں کی یہ ریت رہی ہے کہ جانے کا وقت قریب آئے تسلیاں تقریروں میں نمایاں سنی جاتی ہیں اور مخالفین کو دبایا جاتا ہے۔میاں صاحب نے بھی اپنی ایک حکومت کے آخری ایام میں راوی چین ہی چین لکھتا والی بات کی اور مخالفین کو آڑے ہاتھوں لیا جس پر زرداری صاحب نے کہا کہ جب ہماری حکومت بھی جانے والی تھی تو ہم ایسی باتیں کیا کرتے تھے۔ ہمارے ہاں بد نصیبی ہے کہ عوامی حکومتوں کے قائم ہوتے ہی ان کی الٹی گنتی شروع ہو جاتی ہے اور مخالفین حکمرانوں کے جانے کی تاریخیں دینا شروع کر دیتے ہیں مگر جہاں جمہوریت ہے وہاں ٹرمپ جیسے صدر کے لیے بھی کسی نے تاریخ نہیں دی کہ یہ جا رہے چاہیے وائٹ ہائوس کا انتظام سکیورٹی اداروں نے اپنے ذمہ لے لیا کیونکہ وائٹ ہائوس کی باتیں باہر آنا شروع ہو گئی تھیں،کل مواخذہ ہو جائے الگ بات ہے۔

وطن عزیز میں سیاسی میدان میں سوچ بچار اور بحث میں نئی شامل ہونے والے عوام جن کی زیادہ تعداد حکمران جماعت سے ہمدردی رکھتی ہے اور پھر ایسے اینکرزجن کے متعلق دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ انہوں نے شاید دوران تعلیم کوئی ایک نصابی کتاب بھی مکمل نہ پڑھی ہو گی جبکہ کسی عمرانی اور سیاسی نظریہ یا تاریخ سے واقفیت تو دور کی بات ہے جنہوں نے سچائی کے دعوے کے باوجود جھوٹ بول کر عوام کو گمراہ کرنے میں نام، مال اور شہرت پائی اور ایسی شہرت کہ جس پر نادم ہوئے بغیر موقف بدلتے وقت سابقہ شہرت کو بد نامی کہنے پر غصہ کرتے ہیں۔

اپوزیشن کے اتحاد کے خوف سے شہباز شریف کی زرداری صاحب کے خلاف بولی گئی زبان، زرداری صاحب کی میاں صاحب کے متعلق کی گئی باتیں، میاں صاحب کی بی بی کے خلاف توہین آمیز گفتار اور الزامات کا حوالہ دیتے ہیں اور ٹی وی چینلز بھی پر دکھایا جاتا ہے ،مریم نواز وحمزہ شہباز اور بلاول بھٹو کی ملاقات پر تو لکھ لکھ کر صفحے کالے اور بیان دے دے کر کہرام مچانے والے یہ محسوس نہ کر پائے کہ تاریخ ان کے اپنے چہرے سیاہ کر چکی ہے۔ میں اپنے قارئین اور احباب کی صرف یاد دھانی کے لیے ماضی کے دریچے کھولنے کی دعوت دیتا ہوں کچھ زیادہ دور کی بات نہیں یہ چند عشرے کی بات ہے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف1977-78 ء میں متفرق اور ایک دوسرے کے برعکس نظریات کی حامل نو سیاسی جماعتوں کا اتحاد بنا بانیوں میں مولانا مودودی (جماعت اسلامی) مولانا نورانی ( جمیعت علمائے پاکستان، اصغر خان تحریک استقلال چوہدری، ظہور الٰہی، پیر پگاڑا بیگم نسیم ولی خان ، شیر باز مزاری نہ جانے کون کون لوگ معتبر ہوئے جو جنوری 1977 ء کو بنا اور بھٹو صاحب کی حکومت گرانے کے بعد 1978 ء میں تحلیل ہو گیا!

بعد ازاں جنرل ضیا الحق کے ساتھ مفتی محمود کی زیر قیادت بات چیت چلی نئے انتخابات اور عارضی حکومتی سیٹ اپ کی۔ قومی اتحاد میں دراڑ آنے لگی کہ ہماری نمائندگی وزارتوں میں زیادہ ہو اس پر ضیاالحق نے مداخلت کی اور کہا کہ میں ہر جماعت کو حصہ بقدر جثہ دوں گا یہ تھی اوقات اس قومی اتحاد کی جو سیاسی نعرے سے بدل کر نظام مصطفی کے نعرے میں بدلا اور 5 جولائی کو مارشل لاء کے بعد عارضی حکومت پر ہی بھٹو صاحب کا کہا سچ ہوا کہ جوتیوں میں دال بٹے گی بہر حال ضیا الحق کی کابینہ میں قومی اتحاد کے 24 لوگ شامل ہو گئے۔

عام انتخابات جو 90 دنوں میں ہونا تھے وہ تو کیا ہوتے تھے جناب ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد یہ نظام مصطفی والے جناب بھٹو کو سولی چڑھانے کے بعد وزارتیں کرتے رہے۔ چوہدری ظہور الٰہی کے جاں بحق ہونے پر غلام دستگیر خان وزیر بنا دیے گئے۔ یہ وہی دور تھا جب ہزاروں لوگوں کو کوڑے، لاکھوں کو قید لاکھوں، جلا وطنی، جیلیں، قلعہ بندیاں، سیاسی بات کرنے والوں کا مقدر بنا دی گئیں، جناب بھٹو کی بیٹی کے ساتھ یہی جماعتیں نوابزادہ نصراللہ خان، ولی خان، مفتی محمود کا لخت جگر مولانا فضل الرحمن، رسول بخش پلیجو، فاضل راہو، جام ساقی، معراج محمد خان، اصغر خان، یہ سب وہ لوگ تھے جو 1977 ء میں بھٹو صاحب کے خلاف تھے۔ اتحاد برائے بحالی جمہوریت۔MRD ،8 فروری 1981 ء میں بنا اور 24 اگست 1988 ء تک قائم رہا۔ ایم آر ڈی میں راقم گوجرانوالہ میں ایم آرڈی کا کنویز رہا اور جمہوری جدو جہد میں شریک رہا۔ 1986 ء میں بے نظیر بھٹو صاحبہ پاکستان آتی ہیں۔تاریخی استقبال دیکھ کر جنرل حمید گل ( جو اقرار بھی کر چکے) نے مخالفت میں آئی جے آئی کی تشکیل دیا۔

جی وہی حمید گل جو عمران خان کو کر دشت سیاست میں لائے مگر اس وقت بات نہ بن سکی جب تک بی بی شہید نہ ہوئیں عمران خان اصغر خان ہی رہے۔ آئی جے آئی 88 میں کامیاب نہ ہوئی 93 نشستیں پیپلز پارٹی سنٹر میں لے گئی جبکہ آئی جے آئی 51 لے پائی۔ مگر پنجاب میں میاں صاحب، وفاق میں صدر اسحٰق اور جنرل بیگ کو سپہ سالار رہتے ہوئے بی بی کو اقتدار دیا گیا۔ میاں صاحب کے سیاسی کردار اسٹیبلشمنٹ جس کو اسحٰق خان کی آشیر باد حاصل تھی کی بدولت بی بی کا مینڈیٹ 5 سال کی بجائے 20 ماہ تک کر دیا گیا اور حکومت گرا کر جتوئی نگران بنا دیے گئے اور زرداری جیل میں۔اب نواز شریف آ گئے ۔1990 کے بعد نواز اور نصراللہ، حامد ناصر و دیگران محترمہ بی بی کے ساتھی ٹھہرے جن میں حضرت علامہ ڈاکٹر طاہر القادری بھی شامل تھے۔ پھر بی بی صاحبہ 1994 ء میں دوبارہ کامیاب ہوئیں ۔ پنجاب میں جیتنے کے با وجود قوتوں نے 13 سیٹوں والا وٹو وزرا اعلیٰ بنا دیا گیا۔ تین سال نہ ہوئے تھے کہ بی بی کی حکومت گرا کر زرداری جیل، لغاری ایوان صدر اور نواز شریف وزیر اعظم ہائوس پہنچ گئے۔ پھر مشرف آ گئے جن کے دور میں مسلم لیگ سے ق لیگ کشیدکی گئی چند لوگ پیپلز پارٹی سے لیے گئے۔ یوں ق تیار ہو گئی۔جب اقتدار کی دیگ دم پر ہو تو اقتدار کی تاریخ اس قدر تباہ کن، ضمیر کش تاریخ ہے کہ 72 سالوں کو تحریر کرنے میں 72 سال لگ جائیں۔ پرویز الٰہی ڈاکو، ایم کیو ایم نازی، شیخ رشید چپڑاسی سے بد تر، بابر اعوان بد عنوان Menoplation کو 22 سالہ جدو جہد کہا گیا چوہدری سرور نواز شریف کا گورنر نہ تھا یہ سب نئی نسل نے دیکھا۔ مریم بلاول ملاقات پر گھبرانہ نہیں ابھی شہباز زرداری ملاقاتیں بھی ہوں گی۔زرداری کے لیے جیل نئی بات نہیں ہے۔ غلام اسحق سے مشرف یہی رہا ہے۔ نئی بات ہو گی جب شیخ رشید سے منی ٹریل مانگی جائے گی۔

انقلاب کے لیے جس پستی کی ضرورت ہوتی ہے اس پستی سے پہلے آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور یہ بین الاقوامی معاشی گماشتے سیلاب زدگان کی طرح ہم جیسے ممالک کو دانہ ڈال دیتے ہیں کہ یہ کہیں دریا کی طرح نیا راستہ نہ بنا لیں۔ لہٰذا جس نالی میں بہہ رہے ہیں بہتے رہیں دشمن دوستوں اور دوست دشمنوں میں بدلتے رہتے ہیں لہٰذا ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے گھبرانا نہیں ۔


ای پیپر