’’جب مورّخ اپنے لکھے پر شرمندہ ہوگا‘‘ …؟
11 جون 2019 2019-06-11

اس دور میں … ’’انسان اور لوٹے میں فرق ثابت کرنا مشکل تھا‘‘ … ’’ انسان کو جھوٹ بولنے کا عادی کر دیا گیا تھا‘‘ … ’’انسان بھول جاتا کہ اُسے ماں باپ اور اولاد کے ساتھ جھوٹ نہیں بولنا ہوتا‘‘ … ’’انسانوں نے اپنی تھوڑی سی ضرورت کو پورا کرنے کے لئے اربوں روپے فراڈ اور دھوکہ دہی سے لوٹے … محض ہوس کی خاطر لیکن بعد میں وہ اُن لوٹے ہوئے نوٹوں کو سنبھالنے کے چکر میں ذہنی توازن کھو بیٹھا‘‘ … ’’لوگوں کا بس چلتا تو وہ … ڈبل روٹی کی جگہ نوٹ چائے میں ڈبو ڈبو کر کھاتے‘‘ …؟؟

’’لوٹ کا مال کچھ عرصہ بعد ردی اخبار جیسا ہو گیا … جو بعد میں انسانوں نے اپنے ہاتھوں سے آگ میں جھونک دیا‘‘ … وغیرہ وغیرہ اور … وغیرہ…!

یہ وہ فقرے ہیں جو آج سے پچاس سال بعد جب ہماری تاریخ لکھی جائے گی تو تاریخ دان اپنی کتابوں میں لکھیں گے …؟؟؟ تاریخ لکھنے والے خود بھی سٹپٹا جائیں گے کے 20 مارچ 2019 ء کو بلاول بھٹو زرداری عمران خان کومحبت سے بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا اور 20 جون 2019ء کواُسی عمران خان کو قہر آلود نظروں سے گھورتے دکھائی دیتے … سال میں بیس بیس دفعہ وفا داریاں بدلی جاتیں … ’’محبت‘‘ نامی لفظ کو ڈکشنری سے نکال دیا جاتا پھر یہی تاریخ دان لکھے گا … کہ انسانوں کو کتابوں سے حاصل کردہ علم ’’بیکار‘‘ لٹریچر معلوم ہونے لگا … سیاسیات کے طالب علم میکاوّلی روسو، بقراط، افلاطون،اگست کائونٹ کوتو پڑھتے مگر جب عملی سیاست میں آتے تواُنہیں یہ سب ’’علوم‘‘ بے وقعت دکھائی دیتے …!! وہ ان قابل قدر تھیوریوں کو بھول جاتے اور ’’مطلب پرستی‘‘ جیسے مکارانہ علوم سے مستفید ہونے کو ترجیح دیتے …!! میری موجودہ سیاستدانوں سے ادب کے ساتھ (مکاّرانہ) التماس ہے کہ وہ اپنی اپنی تاریخ اپنی اپنی مرضی کے فنکاروں (سوری مورخوں) سے خود اپنی نگرانی میں ’’لفافے‘‘ کے زور پر لکھوائے اور فلاح پائیں … اِس کام کے لئے کچھ کالم نگار موجود ہیں جو سیاہ کو سفید اور ’’چٹے کو کالا‘‘ … ثابت کرنے میں ماہر ہیں … نہ یقین آئے تو کالم پڑھ کر دیکھ لیں … آپ نام پوچھ رہے ہیں …؟؟!! وہ بھی مجھ سے … ’’حضور میں بیوقوف ہوں جس کا اندازہ آپ نے میری طنز و مزاح کی کتاب ’’بونا نہیں بیوقوف‘‘ کے نام سے لگایا ہوگا لیکن یہ جان لیں میں بھی اِسی صدی کا انسان ہوں … جس نے گائوں میں دوکان سے گندم کے بدلے میں ’’گچّک‘‘ لے کر کھائی … ٹاٹ پر بیٹھ کر … ’’اِک دونی دونی دو دونی چار‘‘ … کو رّٹا لگایا اور اسکولوں میں اقوام متحدہ سے آیا خشک دودھ پیا … (آدھا ہمیں ملتا اور آدھا ماسٹر جی بچوں کو ڈرا دھمکا کر پی جاتے) اور پھر ہم نے کمپیوٹر اور Tik Tok کو بھی انجوائے کیا … یعنی ہم بھی تو اِسی دور کے ہیں جس میں قدرت خدا کی دیکھئے … ’’عالم پناہ‘‘ وزیراعظم پاکستان ہیں اور ریاست مدینہ کی بات بھی ہو رہی ہے … ہاں تو … میں کہہ رہا تھا مورّخ موجود ہیں اُن کو منہ مانگے دام دیں … چینل سے یا اخبار سے Casual Leave لے کر دیں اور تاریخ لکھوائیں … تا کہ وہ ’’لفافے‘‘ کے زور پر سب اچھا ہے بلکہ بہت اچھا ہے … لکھیں اور آنے والے سالوں بلکہ صدیوں میں لوگ آپ کو اچھا حکمران سمجھیں اور آپ کے گُن گائیں … تاریخ دان سے یہ واقعہ ضرور لکھوائیے گا کہ حکمران صاحب ہاتھی پر مینار پاکستان کے پاس سے گزر رہے تھے کہ اُن کو اِک نو عمر فنکارہ (سوری … بھکارن) نظر آئی … اُنہوں نے ہاتھی کو سیٹی بجا کر روکا … بھکارن کو بہت سے نوٹ دیئے اور اپنے عقد میں لے لیا … تاریخ پڑھنے والے ایسے واقعات سے محظوظ ہوں گے … اور بوریت محسوس نہ کریں گے … تحریر کی خوبصورتی کے لئے ایسے چٹکلے ضروری ہوتے ہیں۔ ایک دفعہ ہٹلر جب موت کے بعد بڑی عدالت میں پیش ہوا اور اس کا اعمال نامہ بائیں ہاتھ میں پکڑایاگیا تو … ہٹلر نے … بہت ادب سے درخواست کی اے ’’جہانوں کے مالک میں نے تو دنیا میں بہت سے اچھے کام کئے تھے انسانی فلاح کے لئے … مجھے دوزخ میں کیوں بھیجا جا رہا ہے‘‘ …؟؟

فرشتوں کو انکوائری کیلئے بھیجا گیا… فرشتوں نے آ کر اطلاع دی (رپورٹ) یہ ہٹلر بکواس کرتا ہے اِس نے ظلم کئے جبر کئے کوئی فلاحی کام نہیں کیا …’’ آپ میرے دور کے اخبار منگوائیں دودھ کا دودھ، پانی کا پانی ہو جائے گا‘‘ ۔

ہٹلر نے نہایت ادب سے کہا …

ہر اخبار کی شہ سرخی سے اوپر علامہ اقبال کے اقوال اور قائداعظم محمد علی جناح کے فرمودات نمایاں انداز میں لکھے ہوتے مگرنیچے سب اخباران اقوال اور فرمودات کے برعکس گفتگو اور بیانات سے بھرے پڑے ہوتے اور یوں لگتاجیسے اپنے ان عظیم مفکروں اور راہنمائوں کے اقوال و فرمودات کا مذاق اڑایا جانا مقصود ہو …؟!!

کتاب کے آخر میں مورّخ اِک نوٹ دے گا جو کچھ یوںہوگا…!

’’محترم قارئین آپ میری لکھی اس تاریخ کو نہ ہی پڑھیں تو بہتر ہے کیونکہ میری تو بطور مورّخ تاریخ لکھنا اِک مجبوری تھی مگر آپ پر تو یہ بیکار باتیںپڑھنا فرض نہ تھا … بہتر تھا آپ اس کتاب کی جگہ تین گھنٹے کی برہنہ رقص والی فلم دیکھ لیتے کیونکہ میری کتاب اور تین گھنٹے کی بے پردہ فلم … کا نتیجہ تو ایک ہی ہو گا … کیونکہ تاریخ تو سبق سیکھنے کے لئے ہوتی ہے … قیمتی وقت برباد کرنے کے لئے نہیں‘‘ …؟؟!!


ای پیپر