پرویز مشرف کی شناخت بحال کر کے پاکستان لایا جائے: سپریم کورٹ
11 جون 2018 (22:01)

لاہور: سپریم کورٹ آف پاکستان نے سابق صدرِ مملکت اور آل پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بحال کرنے اور ٹرائل کے لیے 2 روز میں خصوصی عدالت قائم کرنے کا حکم دیدیا۔


گزشتہ روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں پرویز مشرف کی تاحیات نااہلی کے خلاف درخواست پر سماعت سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں میں ہوئی ۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ پرویز مشرف کی وطن واپسی کیوں نہیں ہورہی ۔جس پر چیئرمین نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) عثمان مبین نے عدالت کو بتایا کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کی واپسی ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کے بلاک ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں ہے۔جس پر عدالت عظمیٰ نے پرویز مشرف کے ٹرائل کے لیے 2 روز میں ٹریبیونل قائم کرنے اور ان کی وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے ان کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو بحال کرنے کا حکم دے دیا۔


چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے پرویز مشرف کو واپسی کے لیے تحفظ دیا تھا، کارڈ بلاک کرکے پرویز مشرف کی واپسی میں کیوں عذر پیدا کیا جارہا ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پرویز مشرف واپس آئیں اور اپنے مقدمات کا سامنا کریں، انہیں ایئرپورٹ سے عدالت تک گرفتار نہیں کیا جائے گا۔واضح رہے کہ رواں ماہ 7 جون کو چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے تاحیات نااہلی کیس میں سابق صدر پرویز مشرف کو 13جون کو لاہور رجسٹری میں طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیئے تھے کہ پرویز مشرف میرے سامنے پیش ہوجائیں، انہیں گرفتار نہیں کیا جائیگا۔


ای پیپر