حمزہ شریف اور عائشہ احد میں مصالحت ہوگئی
11 جون 2018 (21:59) 2018-06-11

لاہور:سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب کے صاحبزادے حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے درمیان مصالحت ہو گئی جس کے بعد دونوں ایک دوسرے کے خلاف درج کرائے گئے کیسز واپس لے لیں گے جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے عدالتی فیصلے میں کہا ہے کہ فریقین ایک ودسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں گے جبکہ معاملات کو حل کرنے کے لیے جو شرائط طے پائی گئی ہیں انہیں میڈیا میں زیر بحث نہیں لایا جائے گا۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں عائشہ احد تشدد کیس سے متعلق سماعت کی ۔ عدالت کے طلب کرنے پر حمزہ شہباز شریف اور عائشہ احد ملک عدالت کے رو برو پیش ہو ئے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے دونوں جانب سے موقف سننے کے بعد ساتھی ججز کے ہمراہ اپنے چیمبر میں تقریباًایک گھنٹہ تک فریقین کو سنا۔ بعدازاں چیف جسٹس نے اوپن کورٹ میں واپس آکر حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے معاملے پر فیصلہ سنایا کہ حمزہ شہباز اور عائشہ احد کے درمیان معاملات طے پاچکے ہیں۔فریقین ایک دوسرے کے خلاف درج کرائے گئے کیسز واپس لے لیں گے ۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے حکم دیا کہ فریقین ایک ودسرے کے خلاف بیان بازی سے گریز کریں گے ۔ عائشہ احد اور حمزہ شہباز کے درمیان جن شرائط پر مفاہمت ہوئی ان پر وہ دونوں میڈیا پر بات نہیں کریں گے ۔قبل ازیں سماعت کے آغاز پر عائشہ احد ملک نے عدالت میں بتایا کہ میں حلفاً کہتی ہوں کہ میری حمزہ شہباز سے 2010ء میں نکاح ہوا ،ہم ہنسی خوشی رہ رہے تھے کہ بعد میں ہمار ے درمیان اختلافات ہو گئے ۔ میں اب بھی ان کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ۔ اگر یہ نہیں رکھنا چاہتے تو مجھے با عزت طریقے سے طلاق دیدیں مجھے اور کچھ نہیں چاہیے ۔جبکہ عدالت کے استفسار پر حمزہ شہباز نے عائشہ احد سے شادی سے صاف انکار کردیا۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ دونوں کہیں تو میں ثالث کا کردار ادا کرسکتا ہوں اور چیمبر میں موقف سنانے کا کہا ۔

ایک موقع پر حمزہ شہباز کے وکیل زاہد بخاری نے کہا کہ چیف جسٹس صاحب آپ کا بہت ادب اور احترام کرتا ہوں ۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ ادب نہیں کریں گے تو ہمیںکروانا آتا ہے ۔ چیف جسٹس نے حمزہ شہباز کے وکیل کو بولنے سے روکدیا اور کہا کہ میں دونوں فریقین کا موقف سننا چاہتا ہوں۔ اس موقع پر بینچ کے دیگر ججز نے حمزہ شہباز سے کہا کہ عائشہ احد کہتی ہیں کہ ان کا نکاح ہوا ہے اور ان کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں ۔ آپ با عزت سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، یہ نجی معاملہ ہے ہم نہیں چاہتے اس پر باہر بات ہو ۔ ججز صاحبان نے حمزہ شہباز اور عائشہ احد کو مشورہ دیا کہ چیف جسٹس کی بات مانیںاور چیمبر میں آکر بات کر لیں۔ چیف جسٹس نے حمزہ شہباز سے مکالمہ کیا کہ اگر آپ طلاق دینا چاہتے ہیں تو یہ آپ کا شرعی حق ہے،اگر آپ نے شادی نہیں کی ہے تو بھی آپ کو پورا حق ہے، اگر نکاح نامہ رجسٹرڈ نہیں بھی ہوا تو نکاح 2 گواہان کی موجودگی میں ہوجاتا ہے، بغیر کسی کو سنے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔ حمزہ شہباز کی جانب سے اوپن کورٹ میں ہی موقف سنانے کی کوشش پر چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خاتون کا کہنا ہے کہ آپ کے ساتھ شادی ہوئی اور آپ کا کہنا ہے کہ شادی نہیں ہوئی۔اگر الزام ثابت ہو گیا کہ آپ کی شادی نہیں ہوئی اور آپ ان کے ساتھ رہتے رہے ہیں تو ہم نہیں چاہتے کہ سیاسی با اثر خاندان کے ایک فرد کے ماتھے پر کوئی داغ نہ لگ جائے ۔

جسٹس ثاقب نثار نے حمزہ شہبازکو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہتے ہیں کہ شادی نہیں ہوئی تو میں پنجاب کے باہر کے افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دے دیتا ہوں، آپ پنجاب کے با اثر لوگ رہے ہیں اس لیے انویسٹی گیشن باہر کے لوگوں سے کرائی جائے گی، انویسٹی گیشن میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے لوگ بھی شامل ہوں گے۔چیف جسٹس نے عائشہ احد اور حمزہ شہباز کو چیمبر میں بلا لیا اور کہا کہ ایک باپ کی حیثیت سے آپ دونوں کو چیمبر میں آنے کا کہہ رہے ہیں، جو بات آپ کھلی عدالت میں نہیں بتانا چاہتے وہ چیمبر میں بتائیں۔چیف جسٹس نے ساتھی ججز کے ہمراہ چیمبر میں تقریباً ایک گھنٹے تک حمزہ شہباز اور عائشہ احد کا موقف سنا اور بعد ازاں اوپن کورٹ میں آکر اپنا فیصلہ سنایا۔عدالت کے فیصلے کے بعد عدالت سے باہر آنے پر صحافی نے حمزہ شہباز سے سوال کیا کہ کیا آپ عدالتی فیصلے سے مطمئن ہیں؟ اس پر حمزہ نے جواب دیا اللہ کا شکر ہے۔


ای پیپر