چین: پاکستان کا حقیقی اور سچا دوست
11 جون 2018 2018-06-11

ہر نیا طلوع ہونے والا سورج پاک چین دوستی کو مزید توانا اور مستحکم بنانے کا پیغام لے کر آ تا ہے۔یہ ایک کھلا راز ہے کہ گذشتہ کئی عشروں سے پاک چین تجارتی تعلقات میں استحکام کے واضح آثار دکھائی دئیے ہیں۔ ہمسایہ ممالک کے مابین جہاں خیر سگالی کے تعلقات اور جذبات کا موجود ہونا ناگزیر ہوتا ہے وہاں دونوں کو ایک دوسرے کی معیشت اور دفاع کو مستحکم بنانے کے لئے اشتراک عمل کے دائروں کو بھی وسعت دینا پڑتی ہے۔ چین اس لحاظ سے پاکستان کاوہ منفرد ترین دوست ملک ہے جس کی قیادت نے شروع ہی سے پاکستانی معیشت، تجارت اور دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے جملہ مساعی اور تعاون بروئے کار لانے میں کبھی کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا ۔جب بھی بین الاقوامی سفارتی محاذ پر پاکستان نے مبنی بر حق کسی موقف کی علمبرداری کی ہے تو چین نے اصولی بنیاوں پر پاکستان کے موقف کی تائید و پشتبانی کو اپنا فریضہ جانا ہے۔ وطن عزیر میں پاک چین دوستی کی ان گنت لازوال ااور روشن یادگاریں موجود ہیں،ان میں سے ہر ایک مینارہ نور کی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان میں شاید ہی کوئی شعبہ زندگی ایسا ہو، جس میں ترقیاتی کاموں کو بامِ تکمیل تک پہنچانے کیلئے حکومت پاکستان نے چین سے مدد مستعار لینا چاہی ہو اور چینی حکام نے اس میں کبھی پس و پیش سے کام لیا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شاہراہِ قراقرم سے گوادر پوٹ تک پھیلے ہوئے جہازی سائز ترقیاتی منصوبے چین کی مدد سے مکمل کئے گئے اور کئے جا رہے ہیں۔وطن عزیز کے شہری پاک چین دوستی کو عظیم اور مثالی اہمیت کی حامل دوستی جانتے ہیں ، بڑے قومی منصوبوں پر مسلسل امدادنے اس دوستی کو مزید مضبوط اور مستحکم بنا دیا ہے۔ چین کے ساتھ پاکستان کی دوستی کی تاریخ کی جڑیں زمین اور تاریخ میں انتہائی گہری ہیں۔
پاک چین دوستی بارے بین الاقوامی سطح پر یہ کہاوت زبان زدِ عام ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی بحر الکاہل کی پاتال سے زیادہ گہری اور ہمالیہ کی چوٹیوں سے بھی بلند تر ہے۔ طویل دوستی کی یہ سنہری تاریخ پاکستان کے 21 کروڑ شہریوں کے نزدیک ایک عظیم سرمائے اور بیش قیمت اثاثے کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ دوستی اٹوٹ رشتوں میں بندھی ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے ہر کڑے اور آڑے وقت میں ایک دوسرے کا بھائیوں کی طرح ساتھ دیا ہے۔60 ء کے عشرہ سے پاک چین دوستی مائل بہ استحکام ہونا شروع ہوئی اور آج یہ دوستی عالمی برادری میں ایک ضرب المثل کا روپ دھار چکی ہے۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ چین تیزی سے اُبھرتی ہوئی دنیا کی ایک بڑی اقتصادی طاقت ہے۔ چینی حکومت نے ہر مشکل اور آڑے وقت میں پاکستان کا کھلے بندوں ساتھ دیا۔ 1965ء کی جنگ کے دوران چین نے پاکستان کی ہمہ جہتی امداد کی۔ 1971 ء کی جنگ کے دوران بھی چین پاکستان کی ہمہ جہتی امداد کیلئے آمادہ اور تیار تھا لیکن بد قسمتی سے پاکستان کے ارباب حکومت اور ارباب سیاست نے چینی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دیا اور وہ حصول اقتدار کی جنگ میں ایک دوسرے سے نبرد آزمارہے۔ مسئلہ کشمیر پر چینی مؤقف ہمیشہ حکومت پاکستان کے مؤقف کی تائید و حمایت کا آئینہ دار رہا۔ یہ ایک الگ بحث ہے کہ مختلف ادوار میں پاکستان کے ارباب حکومت نے اس مسئلہ کے حل کیلئے بھی اپنے بنیادی مؤقف میں جوہری تبدیلیاں تک لانے سے دریغ تک نہ کیا۔ اکتوبر 2005ء کے ہولناک زلزلہ کے دوران بھی چین پہلا ملک تھا جو پاکستان کی مدد کیلئے سب سے پہلے مطلوبہ امدادی سامان لے کر پہنچا۔ اس موقع پر چین نے 62 کروڑ ڈالر اور ریسکیو عملہ کے ساتھ متاثرین زلزلہ کی بھر پور امداد کی۔ چو این لائی کے دور سے لیکر شی جنگ پنگ کے عہد تک پاک چین دوستی لمحہ لمحہ مضبوطی اوراستحکام کا استعارہ ہے۔ شاہراہِ ریشم ، چشمہ کا ایٹمی بجلی گھر، سی پیک اورگوادر کی ڈیپ سی پورٹ کی تعمیر نیز پاکستان کے طول و عرض میں کئی میگا پراجیکٹس چین کے پاکستان کے ساتھ لائقِ رشک اور مثالی تعاون کے جیتے جاگتے، لازوال انمٹ نقوش ہیں۔ پاک چین دوستی کے مابین دراڑیں ڈالنے کی مذموم مساعی ہمیشہ ناکام رہیں۔ پاکستان کے عام شہریوں کے دلوں اور ذہنوں کی لوح پر یہ بات نقش ہو چکی ہے کہ اس بھری دنیا میں چین ہی پاکستان کا حقیقی اور سچا دوست ہے۔
پاکستان اور چین کا عالمی امور پر موقف ایک جیسا ہے ،پاک چین دوستی مزید مستحکم ہونے سے خطے میں
استحکام آئیگا اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ، اقتصادی اور ان گنت شعبوں میں تعلقات فروغ پذیر ہیں۔ پاکستان اپنے دیرینہ اور قریبی دوست چین سے باہمی تعلقات میں مزید استحکام چاہتاہے ۔پاکستانی حکومت نے چینی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا ہمیشہ بھر پور خیر مقدم کیا ہے۔ چینی کمپنیوں کی جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری ملک کی سرمایہ کار دوست فضاء کی مظہر ہے، حکومت غیر ملکی و مقامی سرمایہ کاروں کو یکساں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کرنے کیلئے نئی پالیسیاں تشکیل دے گی تاکہ مقامی صارفین بہترین سروسز سے مستفید ہو سکیں۔چینی حکمران بھی سمجھتے ہیں کہ ’ پاکستان میں سرمایہ کاری کے بہترین مواقع موجود ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت کا عمل برس ہا برس سے جاری ہے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ چینی مصنوعات کے لئے پاکستان ایک پر کشش منڈی کی بھی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پاکستانی صارفین چینی مصنوعات کو پائیداری اور حسن کارکردگی کے استعارے سے تعبیر کرتے ہیں۔ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کی تیار کردہ اشیا ء کو دیگر ممالک کی بہ نسبت زیادہ اشتیاق سے خریدنے کے خواہاں اور متمنی ہیں۔ خطے میں رونما ہونے والے حالیہ موثر و مثبت سفارتی تغیرات بھی چین کے ساتھ تجارتی حجم کو بڑھانے میں مزید معاون اور مددگار ثابت ہونگے ۔ اسی طرح چین بھی پاکستان سے مختلف اشیاء درآمد کرتا ہے۔ جو وہاں ہاتھو ں ہاتھ لی جاتی ہیں۔ پاکستان اور چین کے درمیان سالانہ تجارتی حجم میں توسیع و اضافہ دونوں ممالک کے مابین بہترین تعلقات کا عکاس ہے ۔ گزشتہ برسوں میں چین کے لئے پاکستانی لیدر، لیدر گڈز ، سی فوڈز اور کیمیکلز کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا جبکہ چینی کمپنیوں کی مالی اور تکنیکی مدد سے پاکستان میں کئی ترقیاتی منصوبے بھی مکمل کئے گئے ۔
دریں چہ شک کہ ایشیاء دنیا کا ایک فعال اور متحرک خطہ ہے لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ اس خطے کے شہریوں کو بعض اہم ترین چینلجوں سے عہدہ بر آ ہونا پڑ رہا ہے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ ایشیائی ممالک مستقبل میں ممکنہ پیش آمدہ بحرانوں اور چیلنجوں کا مشترکہ مقابلہ کرنے کیلئے باہمی سیاسی اعتماد میں اضافہ کے ساتھ فراخدلانہ پالیسیوں کے تسلسل کو برقرار و استوار رکھیں۔ ایشیائی ممالک کو اپنے تمام فروعی و جزئی اختلافات کو مطلوبہ مقاصد کے حصول کیلئے بالائے طاق رکھنا ہو گا اور ان کے حل کیلئے مکالمے کے در وا رکھنا ہو ں گے ۔
ایشیاء کے عوام کی شدید ترین خواہش ہے کہ توانائی کے ذخائر کی تلاش اور علاقے کی ترقی کے لئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق صرف کاغذ بازی اور حرف سازی تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ ایشیائی ممالک کو گلوبلائزیشن کے ریلے کی متوقع لپیٹ میں آنے سے قبل حفظِ ماتقدم کے طور پر بہت سے اقدامات کرنے ہونگے۔ بہتر ہوتا کہ ایشیائی ممالک اپنے میں سے کسی ایک ترقی یافتہ اور صنعتی ، معاشی اور تکنیکی حوالوں سے مستحکم ملک کو اپنا لیڈر بنا لیتے۔ قیادت کے بغیر کوئی تحریک اور منصوبہ بامِ تکمیل تک بمشکل ہی پہنچا کرتا ہے۔ اس ضمن میں ایشیائی ممالک کو اپنی باہمی فروعی مخاصمتوں اور علاقائی رکاوٹوں کو خطے کے عوام کے بہتر، محفوظ تر اور وسیع تر مفاد کے لئے بالائے طاق رکھنا ہو گا۔ اس حقیقت سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ دنیا میں یک قطبی نظام کے ظہور کے بعد عالمی طاقت اپنی تمام تر توجہات ایشیائی ممالک کے قدرتی وسائل اور معدنیاتی ذخائر پر مرکوز کئے ہوئے ہے۔ حالیہ افغان اور عراق جنگوں کے لئے ’’جواز‘‘ خواہ کوئی بھی پیدا کیا گیا ہو لیکن پس پردہ اہداف و مقاصد سے یہ بات آشکارہوچکی ہے کہ عالمی طاقت معمولی سے خون کے بدلے خطے کے تیل پر قابض ہونا چاہتی ہے اور خطے کے عام شہریوں کو نا اہل، ناکارہ، تساہل پسند اور تعیش پسند بنانے کے لئے ثقافتی یلغار کے ساتھ ساتھ ڈرگز ٹریفکنگ کے فروغ کے لئے بھی کوشاں ہے۔ گو کہ یہ ایک کڑوی سچائی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ آنے والے حالات و حقائق پر نگاہ رکھنے والے صائب الرائے اربابِ بصیرت کی سوچی سمجھی رائے ہے کہ مستقبل کی دنیا کثیر قطبی اور کثیر التہذیبی دنیا ہو گی۔اگر خطے کے ممالک آنے والے خطرات کا ادراک کرتے ہوئے اس چشم کشا حقیقت کا ادراک کر سکیں تو انہیں باہمی معاصرتوں کو پہلی فرصت میں بالائے طاق رکھتے ہوئے چین کو اپنا قائد تسلیم کر لینا چاہیے۔ حقیقتِ نفس الامری یہی ہے کہ دنیا میں ’’تہذیبوں کے تصادم‘‘ کے نظرئیے کو فروغ دینے والی عالمی طاقت اور اس کے تھنک ٹینکس نہیں چاہتے کہ ایشیائی ممالک متحد و یکجان ہو سکیں۔یہی وجہ ہے کہ عالمی طاقت نے ایشیاء کے مختلف ممالک کو ان کے مقتدر طبقات کی عاقبت نا اندیشی اور مفاد پرستی کے باعث اپنی غیر تحریری ریاستوں کا درجہ دے رکھا ہے۔ امریکی و مغربی دنیا نہیں چاہتی کہ قوت و اقتدار کا مرکز ایشیا ء بنے۔ وہ چینی تہذیب،جاپانی تہذیب، ہندو تہذیب، اسلامی تہذیب اور کنفیوششی تہذیب کی اکائیوں میں ایشیاء کو منقسم کر کے اس کی قوت کو پارا پارا کر دینا چاہتی ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے کہ 1993ء میں ورلڈ بنک نے واضح الفاظ میں اربابِ عالم کو بتایا تھا کہ ’’ چین کا معاشی علاقہ امریکا، جاپان اورجرمنی کے ساتھ دنیا کا چوتھا ترقیاتی مرکز بن چکا ہے‘‘ بعد ازاں مختلف امریکی تھنک ٹینکس نے تواتر و تسلسل کے ساتھ اس قسم کے موہومہ اور مزعومہ افکار و تصورات بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے ذریعے عام کرنا شروع کئے کہ ’’21ویں صدی کے شروع میں چینی معیشت دنیا کی سب سے بڑی معیشت بن جائے گی‘‘ مزید برآں امریکا اور اس کے حلیف مغربی ممالک کو ’’انتباہی پیرائے ‘‘میں آگاہ کیا جاتا رہا ہے کہ ’’2020تک ایسا دکھائی پڑتا ہے کہ دنیا کی 5 سب سے بڑی معیشتوں میں سے4 اور10 سب سے بڑی معیشتوں میں سے 7کا حامل ایشیاء ہو گا‘‘ سیموئل پی ہینٹنگٹن نے اپنے شہرہ آفاق مقالے میں تو یہاں تک ’’نشاندہی‘‘ کی ’’ایشیائی معاشرے عالمی معاشی پیداوار میں 40فیصد کے حصہ دار ہوں گے، مسابقتی معیشتوں میں سے بھی زیادہ ایشیائی ہی ہونگے‘‘ ۔اندریں حالات اس حقیقت سے صرف نظر نہیں کیا جانا چاہیے کہ 2020ء تک ایشیا دنیا میں سب سے زیادہ توانائی استعمال کرنے والا خطہ بن جائے گا۔ توانائی کے کثرتِ استعمال سے یقیناًہمہ جہتی اقتصادی مسائل بھی پیدا ہوں گے۔اس کے لئے ضروری ہے کہ ایشیائی ممالک توانائی کے ذخائر کی تلاش اور علاقے کی ترقی کے لئے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔


ای پیپر