کیا سیاست اسٹیبلشمنٹ کی گرفت سے نکل سکے گی؟
11 جون 2018 2018-06-11

ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چاروں صوبوں میں نگراں حکومتوں کا قیام متنازع رہا، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں نگراں ویزراعلیٰ کی نامزدگی میں رکاوٹیں پیدا ہوئیں۔ جبکہ سندھ میں حکمراں جماعت اور اپوزیشن نے اتفاق رائے سے نگراں وزیراعلیٰ تو نامزد کردیا گیا لیکن صوبائی کابینہ کی تشکیل میں اس وقت رکاوٹ پیش آئی جب تجویز کردہ وزراء کی فہرست عین آخری وقت میں گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کی فرمائش پر روک دی گئی۔ اگرچہ نگراں وزراء کے نام اپوزیشن اور حکمران جماعت کے مشورے سے تجویز کئے گئے تھے۔ آئینی طور پر گرینڈ الائنس کے اعتراض یا فرمائش کی کوئی گنجائش نہیں تاہم اس فرمائش کو تسلیم کیا گیا۔ اس فرمائش کے تسلیم ہونے سے پیپلزپارٹی کو دھچکا لگا۔ عوام میں اس سے پیغام گیا کہ سب کچھ پیپلزپارٹی کی فرمائش پر نہیں ہوگا۔ اس قدم سے پیر پگارا کی قیادت میں قائم گرینڈ الائنس کو پیپلزپارٹی کے متبادل کے طور پر مان لیا گیا۔ صوبے میں بظاہر پیپلزپارٹی کے متبادل کا دعویٰ کرنے والے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ تعجب کی بات ہے کہ نگرانوں کی بھی نگرانی کی جارہی ہے۔ وہ نہ تو اپنی پسند سے کابینہ بنا سکتے ہیں اور نہ ہی مرضی سے اپنا اسٹاف مقرر کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے اقدامات سے ایک بار پھر یہ تاثر مضبوط ہوا کہ مقتدر حلقے انتخابات پر اثرانداز ہونا چاہتے ہیں۔
2018ء کے انتخابات کے لئے پارٹی ٹکٹ کا اجراء سیاسی جماعتوں کے لئے امتحان رہا۔ پیپلزپارٹی جوسندھ میں بلاشرکت غیرے مقبول ہونے کا دعویٰ کرتی رہی ہے۔ وہ بھی تھرپارکر اور بعض دیگر اضلاع میں کئی نشستوں پر تاحال فیصلہ نہیں کرسکی۔ یہاں پر ہر نشست پر تین تین امیدوار وں کی درخواستیں ہیں۔ پارٹی کو خیرپور، مٹیاری، ٹھٹھہ، قمبر شہدادکوٹ میں سمجھوتہ کرنا پڑا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پارٹی کو ٹھٹھہ میں شیرازیوں اور مٹیاری اور ہالہ میں مخدوم خاندان کے سامنے جھکنا پڑا اور ان کی تمام فرمائشیں قبول کرنا پڑیں پیپلزپارٹی خود ہلکی سی غیر یقینی کا شکار ہو گئی ہے۔ اور وہ کوئی رسک لینا نہیں چاہتی۔
ہر انتخاب اہم ہوتا ہے ۔حالیہ انتخابات زیادہ ہی اہم ہیں۔ ان انتخابات کے نتیجے میں ملکی سیاسی نظام ، اختیارات وغیرہ کے معاملات طے ہونے ہیں۔ ایک میاں نواز شریف کا بیانیہ ہے ، جو سویلین بالادستی اور پارلیمنٹ کی بالادست ہونے اور پڑوسیوں کے ساتھ بہتر تعلقات کا ہے۔ پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس کے مخالف بیانیے کو دوسرا بیانیہ کرپشن کے خاتمے کے بیانیے کی شکل دے دی گئی ہے۔ ابھی تک جو صورت حال سامنے آئی ہے اس سے نہیں لگتا کہ یہ انتخابات اس ضمن میں کوئی فیصلہ دے پائیں گے۔ تین سیاسی جماعتوں کا رول اہم سمجھا جارہا ہے۔ مسلم لیگ نواز واضح طور پر سویلین بالادستی کے بیانیے پر کھڑی ہے۔ تحریک انصاف مکمل طور پر نواز شریف کے مخالف بیانیے پر ہے، پیپلزپارٹی بھی فی الحال وہی مؤقف اختیار کئے ہوئے ہے جو پی ٹی آئی کا ہے۔ لیکن ضرورت پڑنے پر پیپلزپارٹی کامسلم لیگ
نواز کا ساتھ دینا خارج از امکان نہیں۔ پیپلزپارٹی کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ حالیہ ڈیل کو عارضی سمجھا جارہا ہے، کیونکہ پیپلزپارٹی بنیادی طور پر عوام کے ووٹوں کی وجہ سے ہی اہم ہے۔ اور اسکو بطور پارٹی جمہوری عمل ہی سوٹ کرتا ہے۔ سیاسی پنڈتوں کا خیال ہے کہ انتخابات کے نتائج غیر فیصلہ کن آئیں گے۔ قوی امکان یہ ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کو تنائج کے معاملے میں مساوی ’’ ٹریٹ‘‘ کیا جائے گا۔ تاکہ کوئی بھی جماعت ناانصافی کا شورکہ نہ کر سکے ۔ یعنی ایک معلق پارلیمنٹ وجود میں آنے جارہی ہے۔ اس میں فیصلہ کن کردار ایم کیو ایم، فاٹا اور آزاد امیدواروں کا ہوگا۔ لہٰذا کوئی بھی بیانیہ واضح طور پر اکثریت حاصل نہیں کر سکے گا۔ اور حکومت بننے کے بعد کوئی واضح لائن بھی اختیار نہیں کر پائے گا۔ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان عام انتخابات کے نتیجے میں ملک کے اندر کوئی کیفیتی تبدیلی ہونے نہیں جا رہی۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک ایسی حکومت تشکیل پائے جس پر اسٹیبلشمنٹ کا سایہ زیادہ حاوی ہوگا۔ لیکن وہ بیانیہ جو نواز شریف اختیار کئے ہوئے ہیں ، وہ ختم نہیں ہو پائے گا۔
ماضی کے انتخابات پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چلتا ہے کہ 1970ء کے انتخابات نئے آئین اور ملک میں ایوب خان کی طویل آمریت کے خاتمے کے بعد جمہوریت کے قیام کے لئے تھے۔ اس کے پیچھے عوامی سطح پر بے چینی اور بڑی عوامی تحریک موجود تھی۔ 1988ء کے انتخابات کا بھی تقریبا یہی پس منظر اور مطمع نظر تھا۔حالیہ انتخابات کے موقع پر عوامی سطح پر کوئی بے چینی نہیں ہے، جو کسی بڑی تبدیلی یا کا پیش خیمہ بن سکے ۔ یہ درست ہے کہ کرپشن کا سوال اپنی جگہ پر موجود ہے۔ لیکن اس بے چینی کے ساتھ جو قوتیں جڑی ہوئی ہیں، عوامی تاثر میں وہ جمہوری عمل کے حق میں نہیں ہیں۔اس کے مقابلے میں اتنی ہی بڑی بے چینی اور تحریک موجود ہے جو اس بیانیے اور عوامی بے چینی کی نفی کرتی ہے۔ بلکہ یہ بیانیہ کرپشن کے خلاف جنگ کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہے۔ یہ صورت حال 1970ء اور 1988ء کے انتخابات کے موقع پر نہیں تھی۔
مسلم لیگ (ن) نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف وہ سخت سیاسی بیانیہ اختیار کر لیا ہے، ایسا بیانہ ماضی میں صرف میں ترقی پسند اور جمہوری قوتوں کا ہی تھا۔ جو منطقی ہونے کے ساتھ ساتھ فکری حد تک مقبول تو تھا لیکن اس کو قبولیت نہیں ملی۔
بادی النظر میں کہا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف نے عوامی اجتماعات اور احتجاج کرکے خود کو بڑی پارٹی منوا لیا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ وہی لوگ ہیں جو ماضی میں ہر دور میں اقتداری جماعتوں میں رہے ہیں۔ تحریک انصاف کے اصلی کارکنان یہ آسرا لگائے بیٹھے ہیں کہ چاہے پارٹی میں کیسے ہی لوگ آئیں، پارٹی لیڈر عمران خان وزیر اعظم بن کرسب ٹھیک کردے گا۔ ریحام خان کی کتاب نے یہ خواب چکنا چور کر دیئے ہیں۔ ابھی وہ یہ زخم چاٹ ہی رہے تھے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری عمران خان کی سیتا وائیٹ کے بطن سے جنم لینے والی بیٹی ٹیریان کا معاملہ سامنے لے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان ملک سے باہر ٹیریان کو بیٹی مانتے ہیں لیکن ملک کے اندر انہوں نے اپنی اولاد میں صرف دو بیٹے ظاہر کئے ہیں۔ سابق چیف جسٹس کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے کو ریٹرننگ افسر سے لیکر الیکشن کمیشن اور سپریم کورٹ تک لے جائیں گے۔ اگر یہ سب کچھ ہوتا ہے تو پی ٹی آئی کی طاقت اوررول کم ہو جائے گا۔
مختلف انتظامات کی وجہ سے نواز لیگ اکثریت نہیں حاصل کر پائے گی۔ اب بینظیربھٹو بھی نہیں رہیں۔ پیپلزپارٹی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی ہے۔ اب پہلے والی پارٹی نہیں رہی جو ملک میں کوئی بڑی تبدیلی لا سکے ۔ مذہبی جماعتوں کے ساتھ ساتھ سنی یا بریلوی اور اہلحدیث مسلک کے ووٹر کو بھی متحرک کیا گیا ہے۔ ایم کیو ایم پہلے والی پوزیشن میں نہیں ہے اور وہ کئی دھڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے۔ لیکن کوئی بھی دھڑا اسٹیبلشمنٹ کی پہنچ سے دور نہیں۔ اس منظر نامے میں نہیں لگتا کہ اسٹیٹس کو ٹوٹ پائے گا۔لگتا ہے کہ معاملات ان انتخابات میں طے کرنے کے بجائےآئندہ کسی وقت پر اٹھا کے رکھے جارہے ہیں۔ بہرحال اچھی بات یہ ہے کہ جمہوری عمل جاری رہنا چاہئے۔ آخر جنرل ضیاء الحق نے بھی غیر جماعتی انتخابات کرائے تھے، محمد خان جونیجو جیسے سادہ اور شریف النفس آدمی کو وزیراعظم بنایا تھا۔ ملکی اور خطے کے حالات نے صرف تین سال کے اندر سب کچھ تبدیل کر دیا تھا۔


ای پیپر