سیاسی تماشا۔۔۔ لوٹاازم کے سائے میں
11 جون 2018 2018-06-11

منظر اور نظارے خوب ہیں۔ ایسے منظر پہلے نہیں دیکھے کہ سیاسی جماعتیں ایسا کیا کرتی ہیں کہ بازار میں پڑی سیاسی جنس کو منہ مانگے اُٹھا لیا جائے۔ تصور نہیں کیا جا سکتا بکنے والے عہد اور وفاداریاں توڑنے والے ایک دم یوں خود کو رسوا کریں گے محمد عالم ’’لوٹا‘‘ کے قبیل سے تعلق رکھنے والے بے اوقات اس دور میں ہیں۔ سوال یہ ہے ایسا تو ہر الیکشن میں ہوتا ہے یا ہمارے پاس اتنے ہزار درخواستیں تھیں مگر کسی نے نہ سوچا۔ درخواست گزاروں کی پارٹی کے لیے کیا خدمات تھیں۔ پارٹی کے نظریے کو پھیلانے میں اپنا حصہ ڈال دیا۔ جواب مثبت نہیں اگر اطمینان ہوتا تو پنجاب سے اتنا شور نہ اٹھتا پارٹی کے پرانے لوگ بتا رہے کہ ہم نے پارٹی کے لیے کیا کیا۔ اب تو پردے چاک ہو رہے ہیں ہونے بھی چاہیں۔ ایسی جماعتیں ایسے ہی سلوک کی حق دار ہیں۔ نیا پاکستان بنانے کے لیے نیا نظریہ پیش کرنا پڑتا ہے۔ کارکنوں کو لالی پاپ دے دیا گیا اگر ایسا ہو گا تو یوں ہو گا یہاں تو دھرنے میں مرغیاں کھلانے والے بھی بول پڑے ہیں چھاتہ برداروں کی یہ فوج کدھر سے آ گئی ہے کل شامل ہونے والے اٹک کے میجر طاہر کو دو ٹکٹ دے دیئے گئے مگر امین اسلم کا کیا بنے گا پارٹی میں جہانگیر ترین کے بیٹے علی ترین سے شروع ہونے والی بحث تو بے معنی ہے خود جہانگیر ترین اپنی مختصر سی سیاسی زندگی میں تین بار وفاداریاں تبدیل کر چکے ہیں زندگی بھر کے لیے نا اہل ہونے کے باوجود اہم مقام اور مرتبے پر فائز ہیں۔ ان کی وجہ سے ہی پارٹی میں دھڑے بندی تناور درخت بن چکا ہے۔ حامد خان نے آواز اٹھائی کھڈے لائن لگ گئے۔ خود جہانگیر ترین کے سسر مخدوم حسن محمود ریاست بہاولپور کے وزیراعلیٰ رہے ۔ ایوب خان کے الیکشن میں فاطمہ جناح کے خلاف انتخابی حکمت عملی انہوں نے ہی ترتیب دی تھی۔ طاہر صادق بھی وہی ایک مہینہ پہلے کی بات ہے وہ پی ٹی آئی میں شامل ہوئے 25 سال پرانی اس جماعت کو اٹک کی زرخیز زمین میں کوئی ایک بھی بندہ نہیں مل سکا کہ طاہر صادق کو نیا پاکستان بنانے کے لیے بلا لیا۔ طاہر صادق وفاداریاں بدلنے کے بھی ماہر حتیٰ کہ کے انہوں نے اپنے رشتہ داروں کی جماعت کو بھی چھوڑ دیا یہاں بھی وہی قصہ موروثی سیاست والا۔ چوہدری شجاعت سابق وزیراعظم ،پرویز الٰہی سابق وزیراعلیٰ، خود دو مرتبہ ضلع ناظم رہے۔ والد اور والدہ بھی ایم پی تھے بیٹی ایم این اے تھی شوکت عزیز کو قومی اسمبلی کا ممبر بنوانے کے لیے اُن کی سیٹ خالی کر دی ۔ بیٹا گزری اسمبلی کا ایم این اے تھا۔ املک اللہ یار کا خاندان ایوب خان سے نواز شریف تک ہر جماعت کا وفادار، وفاداری بدلنے کے قصے تو ہر جگہ موجود ہیں۔ ضلع میاں والی کا نواب خاندان جس کو نواب امیر محمد خان کے گورنر بننے کے بعد شہرت ملی، اُن کی عمران خاندان سے گہری دشمنی تھی۔ اس زمانے کے جو بچے کچھے لوگ ہیں وہ نواب کے جبر کو نہیں بھولے مگر یوٹرن تو یہی ہے عائلہ ملک پی ٹی آئی میں آئی سب کچھ ختم ہو گیا اپنی چھوڑی ہوئی نشست عائلہ ملک کو دے دی مگر وہاں تو معاملہ جعلی ڈگری کا آگیا ۔ عائلہ ملک کھیل سے باہر ہو گئی تو یہ ٹکٹ نواب کالا باغ کے پوتے اور عائلہ ملک کے سمدھی ملک وحید کو چلا گیا مگر میاں والی کے لوگوں نے انہیں شکست سے دوچار کر دیا۔ 2002ء کے انتخابات میں سمیرا ملک خواتین نشست سے قومی اسمبلی کی رکن بن گئی۔ انہوں نے ملک نعیم کے بھانجے اور 1997ء میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے اپنے خاوند کے کزن کو شکست دی۔ جبکہ عائلہ ملک خواتین کی مخصوص نشست پر ایم این اے منتخب ہوئیں۔ ’’الٹرا‘‘ ماڈرن عائلہ ملک نے اچانک قومی اسمبلی کے اجلاس میں آنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے ایسا بلوچی روایات کے مطابق کیا ہے کیونکہ انہوں نے اُس وقت کے وفاقی وزیر یار رند سے دوسری شادی کر لی تھی یہ شادی زیادہ عرصہ نہ چل سکی جس کے بعد عائلہ ملک تحریک انصاف میں شامل ہو گئیں جبکہ ان کی بڑی بہن سمیرا ملک جنہوں نے اوپن مقابلے میں ہیٹ ٹرک کی تھی تینوں مرتبہ وہ مختلف جماعتوں کے پلیٹ فارم سے کامیاب ہوتی رہیں۔ اب سمیرا ملک مسلم لیگ (ن) میں شامل ہیں سپریم کورٹ نے 2013ء کے انتخاب کے بعد افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں بنچ نے جعلی ڈگری رکھنے پر انہیں نا اہل کر دیا تھا جس کی وجہ سے اُن کی خالی نشست سے اُن کے بیٹے عزیز ملک نے بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کی 2016ء کے بلدیاتی انتخاب میں سمیرا ملک ضلع کونسل خوشاب کی چیئرپرسن بنی تو سپریم کورٹ نے مئی 2018ء میں ایک حکم کے ذریعے چیئرمین ضلع کونسل کا انتخاب نئے سرے سے کرانے کا فیصلہ دیا ۔ مگر اس انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کا دوسرا دھڑا کامیاب ہو گیا۔ مگر عائلہ ملک کو قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ سمیرا ملک اپنے پرانے حریف کے مقابلے میں چوتھی بار الیکشن لڑ رہی ہیں۔ کپتان نے چوہدری نثار کے مقابلے میں دو نشستوں سے حصہ لینے والے سرور خان سے بھی قومی اسمبلی کی ایک نشست واپس لے لی ہے۔ سرداران چکوال سردار غلام عباس کو بھی پی ٹی آئی کا ٹکٹ جاری کر دیا گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ دوسری مرتبہ تحریک انصاف میں شامل ہوئے ہیں۔ سردار غلام عباس کا خاندان چکوال کی سیاست میں پرانا ہے۔ انہوں نے 85 میں صوبائی نشست جیت کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی مگر جنرل عبدالمجید ملک کا خاندان سرداران چکوال پر حاوی رہا۔ سردار غلام عباس بڑے جوش وجذبے سے (ن) لیگ میں شامل ہوئے تھے۔ چوہدری لیاقت کے انتقال کے بعد اُن کی خالی نشست پر تحریک انصاف کے امیدوار کو شکست دینے میں انہوں نے اپنا حصہ ڈالا اور تحریک انصاف کو ناکام بنایا۔ حالیہ
سیاسی تحریک میں وہ مشرف اور مسلم لیگ (ق) کے حامی تھے۔ بے پناہ اثر و رسوخ رکھنے کے باوجود چوہدری پرویز کو یہاں سے دونوں مرتبہ قومی نشست پر کامیاب نہ کرا سکے حتیٰ کہ ایاز امیر کے مقابلے میں ان کا بھائی سردار نواب بھی شکست کھا چکا ہے۔ فیصل آباد کے ساہی خاندان کو کپتان نے چپکے سے قومی اسمبلی کی ایک اور دو صوبائی نشستوں سے نوازا ہے۔ جن کے خلاف فیصل آباد سے ایک بڑا دھڑا بنی گالہ احتجاج کر چکا ہے۔ غلام رسول ساہی 2002ء میں کامیاب ہوئے مگر 2008ء میں (ق) لیگ کے ٹکٹ پر ناکام ہوئے بعد ازاں چپکے سے مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے کامیابی حاصل کی۔ 5 سال مسلم لیگ (ن) میں رہے۔ ترقیاتی کام کروائے۔ بے وفائی کرتے ہوئے تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ حد تو کی ہے جھنگ اور چنیوٹ کے سیاستدانوں نے، وہی جاگیردار ہر حکومت میں شامل ہونے کی آرزو رکھنے والے نذیر سلطان سینئر
پارلیمنٹیرین ہیں۔ 1970ء میں پہلی مرتبہ جمعیت علماء پاکستان کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے۔ بھٹو سے متاثر ہوئے۔ پیپلزپارٹی میں چلے گئے۔ 2018ء تک پارٹیاں بدلتے رہے۔ کپتان نے سلطان باہو کے خاندان کو قومی اسمبلی کے دو ٹکٹ دے کر نئے پاکستان کی بنیاد کو مضبوط کیا ہے۔ غلام بی بی بھروانہ نے سیاسی زندگی کا آغاز مسلم لیگ (ق) سے کیا پھر (ن) لیگ میں آئیں تیسری مرتبہ تحریک انصاف میں شامل ہوئی۔ دلچسپ حقیقت یہ ہے انہوں نے ہر مرتبہ پارٹی کو چھوڑا ہے۔ ان کے نانا بھی 1970ء میں جمعیت علماء پاکستان اور پیر قمر الدین سیالوی کی حمایت سے کامیاب ہوئے۔ انہوں نے بھٹو کو لیڈر مان کر پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کر لی۔ اب چنیوٹ سے غلام محمد لالی نے بھی تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ان کے معاملات کو بہت پہلے تحریک انصاف سے طے ہو چکے تھے۔ جھنگ اور چنیوٹ میں یہی خاندان نہیں اور بھی ہیں۔ فیصل صالح حیات نے خود کو احتساب سے بچانے کے لیے جمہوریت کا جھنڈا اٹھایا۔ پیٹریاٹ بنا کر بغاوت کی مشرف کے ہاتھ مضبوط کیے (ق) لیگ میں شامل ہوئے۔ پیپلزپارٹی کو برا بھلا کہا۔ اب وہ اس کے باوجود اپنے گھر واپس آ چکے ہیں (باقی آئندہ)


ای پیپر