بجلی کے نئے منصوبوں کی تکمیل کے باوجود لوڈشیڈنگ کیوں؟
11 جون 2018 2018-06-11

چند ماہ قبل حکومت (مسلم لیگ ن کی سبکدوش حکومت) کی طرف سے ضرورت سے زائد (سرپلس) بجلی پیدا کرنے کے خوش کن اعلانات اور اس کے ساتھ کئی برسوں سے مسلسل جاری بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے تقریباً خاتمے کی برسرِ زمین صورتحال سے یہ اُمید بندھ چلی تھی کہ اب کی بار گرمیوں میں بھی جب بجلی کی طلب معمول سے بڑھ جاتی ہے لوڈ شیڈنگ سے نجات ملی رہے گی لیکن بسا آرزو کہ خاک شُد کے مصداق مئی کے مہینے میں نہ صرف بجلی کے دو بڑے ملک گیر بریک ڈاؤن ہوئے اور رمضان المبارک کے دوران بھی بجلی کے تعطل کا سلسلہ جاری چلا آ رہا ہے ۔پچھلے ڈیڑھ دو ہفتوں سے جب سے نگران حکومت قائم ہوئی ہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ یا تعطل میں اضافہ ہو چکا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہوا ہے؟ کیا مسلم لیگ ن کی حکومت کے بجلی کی پیداو ار میں اضافے اور تقریباً10 ہزار میگا واٹ اضافی بجلی قومی نظام میں شامل کرنے کے دعوے سچ نہیں ہیں یا بجلی کی پیداوار اور پھر بجلی کی ترسیل اور تقسیم کے نظام میں کوئی ایسی خامی ہے جس کی وجہ سے بجلی کے تعطل اورلوڈشیڈنگ کے دورانیے میں اضافہ ہو چکا ہے؟ وجہ کیا ہے اس بارے میں متعلقہ وفاقی وزارت بجلی و توانائی کی طرف سے کوئی اعلامیہ یا مصدقہ خبر سامنے نہیں آئی ہے تاہم کل پیر کو ایک قومی معاصر میں یہ خبر چھپی ہے کہ ملک بھر میں بجلی کا شارٹ فال 5470 میگا واٹ تک پہنچ گیا ہے ۔ بجلی کی طلب 23720 میگا واٹ اور بجلی کی فراہمی (ترسیل ) 18250 میگا واٹ ہے۔ دو دن قبل نیپرا کی طرف سے یہ وضاحت بھی چھپی ہے کہ بجلی کی ترسیل کانظام بہتر نہ ہوا تو لوڈ شیڈنگ مزید بڑھے گی۔ آیسکو (اسلام آباد الیکٹرک سپلائی کمپنی ) کا بھی کہنا ہے کہ 8 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کا شیڈول ملا ہے۔ بجلی کی پیدا وار ، ڈیمانڈ ، ترسیل اور شارٹ فال کے حوالے سے یہ اطلاعات اور خبریں کچھ حوصلہ افزا نہیں ہیں ۔ یہ صورتحال کیوں وجود میں آئی ہے اور کونسے عوامل ہیں جو اس صورتحال کو وجود میں لانے کاباعث بنے ہیں اس کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پہلے مسلم لیگ ن کی سبکدوش حکومت کے اس دعوے کو لیتے ہیں کہ کیا اس کی پانچ سالہ حکومت کے دورانیے میں بجلی کی پیدا وار کے لیے لگائے اور مکمل کیے جانے والے منصوبوں سے واقعی اب تک 10ہزار میگا واٹ اضافی بجلی قومی نظام میں شامل کی جا چکی ہے ۔ اس ضمن میں سبکدوش وزیرِ اعظم جناب شاہد خاقان عباسی کی 29 مئی کو توانائی کے حوالے سے منعقدہ پریس کانفرنس کا حوالہ دیا جاتا ہے جس میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا چیلنج پورا کر دیا۔ہماری حکومت نے 2013 ؁ء میں اقتدار سنبھالا تو بجلی پیدا کرنے کی استعداد 18750 میگا واٹ تھی ۔ 2018 ؁ء میں ہماری حکومت کے اختتام پر بجلی پیدا کرنے کی استعداد 28704 میگا واٹ کی حدوں کو چھو رہی ہے۔ ہم نے 10000 میگا واٹ بجلی قومی نظام میں شامل کر کے ناممکن کو ممکن کر دیکھایا۔
سبکدوش وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بجلی کی پیداوار کے حوالے سے جو کچھ کہا ہے یا جو دعوے کیے ہیں بلا شبہ بڑی حد تک درست ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف نے جون 2013 ؁ء میں حکومت سنبھالنے کے بعد بجلی کی پیداوار میں اضافے اور 16 سے 18 گھنٹے پر محیط لوڈشیڈنگ کو ختم کرنے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر دن رات ایک کر کے کام کیا ۔ اس ضمن میں کابینہ کی توانائی کمیٹی تشکیل دی گئی جسے بجلی کی پیداوار کے لیے نئے منصوبوں کی تعمیر کی منصوبہ بندی کی ذمہ داری سونپی گئی ۔
بجلی کی پیداوار میں اضافے کے حوالے سے سابقہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کی کوششوں اور کاوشوں کا ذکر نہ کرنا زیادتی ہوگی۔ انہوں نے پوری استقامت، عزمِ صمیم اور شفافیت کے ساتھ پنجاب میں لگائے جانے والے بجلی کی پیداوار کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے دن رات ایک کیے رکھا۔ ان منصوبوں میں 1320 میگا واٹ کا ساہیوال کول پاور پلانٹ ، 1000 میگا واٹ کا قائد اعظم سولر پارک پراجیکٹ بہاولپور، 1230 میگا واٹ کا حویلی بہادر شاہ جھنگ ایل این جی پاور پلانٹ ، 300 میگا واٹ کا بھکی پاور پلانٹ شیخوپورہ ہی شامل نہیں ہیں جو مسلم لیگ ن کی حکومت کے دور میں مکمل ہوئے اور اب قومی گرڈ میں 10000 میگا واٹ اضافی بجلی مہیا کرنے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں بلکہ نندی پور کا پاور پلانٹ بھی شامل ہے جسے پیپلز پارٹی کے دورِ حکومت میں بوجہ سرد خانے کا شکار کر کے اس کے لیے منگوائی گئی مشینری بھی کوڑے کے ڈھیر میں تبدیل ہونے کے قریب پہنچا دی گئی تھی۔یہ نیلم جہلم ہائیڈرل پراجیکٹ ہے اس منصوبے کی تعمیر کے لیے بجلی کے بلوں میں نیلم جہلم سرچارج کب سے وصول کیا جا رہا تھا لیکن اس پر کام کی رفتار نہ ہونے کے برابر تھی۔ 969 میگا واٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت رکھنے والے اس منصوبے کی بروقت تکمیل کے لیے سابق وزیرِ اعظم میاں محمد نواز شریف ذاتی دلچسپی لیتے رہے ۔ کچھ عرصہ قبل سبکدوش وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے اس منصوبے کاافتتاح کیا ہے ۔
مسلم لیگ ن کی حکومت کے دور میں لگائے گئے بجلی کی پیداوار کے ان منصوبوں اور ان کی پیداواری صلاحیت کی تفصیل ظاہر کرتی ہے کہ مسلم لیگ ن اپنے دورِ حکومت میں 10000 میگاواٹ اضافی بجلی قومی گرڈ میں شامل کرنے کا دعویٰ کرنے میں حق بجانب ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے سے بھی بجلی پیدا ہو رہی تھی اور جیسا سبکدوش وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مئی 2013ء میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 18750 میگا واٹ تھی اور اس میں مسلم لیگ ن کے دور میں مزید 10000 میگا واٹ کے اضافے کے بعد 28704 میگا واٹ بنتی ہے توا س کے باوجود جب بجلی کی موجودہ ضرورت یا کھپت 24000 میگا واٹ کے لگ بھگ ہے (جو موجودہ پیداواری استعداد سے 4000 میگا واٹ کم ہے )تو پھر اس کے باوجود لوڈشیڈنگ کیوں ہو رہی ہے۔یقیناًیہ سمجھنے کی بات ہے کہ پیداواری استعداد اپنی جگہ لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس کے مطابق بجلی پیدا بھی ہو رہی ہو۔ جیسا سبکدوش وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے بجلی کی ہائیڈل پیداوار میں 3000 میگاواٹ کمی کا سامنا ہے۔ اس کے ساتھ بجلی کی ترسیل کے نظام میں بھی کئی طرح کے مسائل ہیں جن سے بجلی کے بحران ، بریک ڈاؤن پیدا ہو جاتے ہیں۔ یقیناًیہ صورتحال پریشان کن ہے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے پانی کے ذخائر کو وسعت دیں تربیلا اور منگلا سے جو ہمارے پن بجلی (ہائیڈرو پاور ) کے بڑے منصوبے ہیں اس وقت صرف 1270 میگا واٹ بجلی حاصل ہو رہی ہے۔ ان منصوبوں سے پوری استعداد سے تقریباً 4000 میگا واٹ کم بجلی کی پیداوار ایک المیہ ہے اور یہ محض ان ڈیموں میں پانی کے ذخیرہ کے کم ہونے کی بنا پر ہو رہا ہے۔ ہمارا فرض بنتا ہے کہ بھاشا ڈیم جس پر کام شروع ہے اُس کو جلد از جلد مکمل کرنے کی کوشش کریں تو اس کے ساتھ دریائے سندھ پر ایک اور بڑے ڈیم دُکھ کے ساتھ کہنا پڑتا ہے یادش بخیر کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی قومی سطح پر ٹھوس منصوبہ بندی کریں۔ 3500 میگا واٹ بجلی کی پیداوار اور 6.5 ملین ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ اس سے بڑھ کر اور ہمیں کیا چاہیے۔


ای پیپر