ایک مختصر مگر سہانی سی شارٹ بریک
11 جون 2018 2018-06-11

آج کل الیکٹرانک میڈیا کا دور ہے جس میں ٹیلی ویژن سر فہرست ہے۔ بیسیوں چینل ہیں اور سینکڑوں پروگرام ۔ آپ کوئی بھی پروگرام کسی بھی چینل پر دیکھ رہے ہوں اس میں شارٹ بریک کا در آنا لازمی امر ہے۔آجکل کے پروگراموں میں شارٹ بریکس (short brakes) کچھ زیادہ ہی ہوتی ہیں جو بعض اوقات طبع نازک پر گراں بھی گزرتی ہیں لیکن ان کے بغیر چارہ ہی نہیں کیونکہ چینل مالکان کی آمدن کا سارا دار ومدار انہی پر ہوتا ہے۔آپ بھی سوچتے ہونگے مجھے کونسی شارٹ بریک سہانی لگ گئی ہے۔ دراصل دو تین دن ہوئے ہیں اپنے ملک میں نام نہاد جمہوری حکومتیں اپنا عرصہ مکمل ہونے پر فارغ ہوئی ہیں اور ان کی جگہ کیئر ٹیکر حکمران آگئے ہیں۔یوں لگا جیسے اتنے لمبے عرصہ یعنی پانچ برس کے بعد شارٹ بریک ہوئی ہے۔یہ شارٹ بریک سہانی اس لیے لگی کہ اس ملک میں حکمرانی کے لیے کتنے خوبصورت اور صاف ستھرے لوگ آگئے ہیں ورنہ یہاں تو جمہوریت کے نام پر چند خاندانوں کی لوٹ کھسوٹ جاری تھی۔
ایک بات بالکل واضح ہونی چاہیے کہ کون کمبخت جمہوریت کے خلاف ہو سکتا ہے، لیکن جمہوریت بھی تو ہو ناں۔کیا یہ جمہوریت ہے جہاں غریب قوم پر پورے کے پورے خاندان دہائیوں سے سوار ہوں اور ان سے جان چھڑانا ناممکن نظر آتا ہو۔ ایسے میں اگر وہ لوگ آجائیں جن کی دیانت ، شرافت اور غیرجانبداری کی گواہی ان کا ماضی دے رہا ہو توکیا پورا سماں سہانا نہیں لگے گا ۔آپ صوبہ پنجاب کے کئیر ٹیکر (caretaker ) وزیراعلیٰ ہی کو دیکھ لیں۔ محترم ڈاکٹر حسن عسکری صاحب ۔ جن کی ساری زندگی درس وتدریس ہی میں گزر گئی ۔ شرافت اور ان کی دیانتداری پر کون انگلی اٹھا سکتا ہے، لیکن افسوس ہوا کہ مسلم لیگ(ن) کی سرکردہ لیڈر شپ نے ان کے خلاف بھی الیکشن کمیشن میں ریویو اپیل دائر کر دی۔الیکشن کمیشن نے ان ریماکس کے ساتھ یہ اپیل خارج کر دی کہ انہیں مقرر کرنے کا فیصلہ پورے کمیشن کا متفقہ تھا۔ محترم عسکری صاحب نے پہلے دن ہی پروٹوکال واپس کر دیا اور وزیراعلیٰ ہاوس کی بجائے اپنی پرائیویٹ رہائش گاہ میں ہی رہنا مناسب جانا ۔ یہاں سابق وزیراعلیٰ میاں شہباز شریف کے چار پانچ گھر سرکاری خرچہ پر چلتے یاد آئے کیونکہ وہ چیف منسٹر کے کیمپ آفسز کے طور پر اعلان شدہ تھے۔ آپ کا دل کیا کہتا ہے کہ عسکری صاحب لوٹ کھسوٹ کریں گے۔ کیا وہ اپنی اولاد اور رشتہ داروں کو لوٹ مار کے مواقع فراہم کریں گے۔اسی طرح صوبہ سندھ پر نظر ڈال لیں ۔ فضل الرحمان صاحب نے وزیراعلیٰ سندھ کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ وہ صوبہ سندھ کے دو دفعہ چیف سیکرٹری رہ چکے ہیں۔پورا سندھ ان کی شرافت ، دیانتداری اور غیر جانبداری کی گواہی دیتا ہے۔ خیبرپختونخواہ کی وزارت اعلیٰ کے لیے الیکشن کمیشن نے محترم جسٹس ( ریٹائرڈ) دوست محمد کو چنا۔ کیا وہ عوا م کی دولت سے کھلواڑ کریں گے ،اورملکی قوانین کو پس پشت ڈال کراپنے او ر اپنے خاندان کے لیے باہر کے ملکوں میں دولت کے ڈھیر جمع کرنے میں مشغول ہو جائیں گے۔اسی طرح بلوچستان کے کئیر ٹیکر محترم علاوالدین مری بھی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی طرف سے مقرر کیے گئے ہیں ۔ ان کی ذات پر کسی نے انگلی نہیں اٹھائی۔ان سب کے اوپر کئیر ٹیکر وزیراعظم جناب چیف جسٹس ( ریٹائرڈ) ناصرالملک براجما ن ہیں ۔ قوم کو کوئی اندیشہ نہیں ہے کہ وہ کسی سفارتکاری سے نابلد اپنے کسی بزنس پارٹنر اور کرپشن پر نیب کی انکوائری بھگتنے والے کو دنیا کے کسی اہم ملک میں سفیر بناکر روانہ کر دیں گے، یا کسی کمپنی سے ایل این جی کا معاہدہ کرکے اس کمپنی کو کروڑوں کا فائدہ پہنچائیں گے۔ نہیں نہیں ،ان لوگوں کے متعلق تو اس قسم کی گھناؤنی حرکتوں کا سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ اب آپ اس ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ کی کارکردگی پر نظر ڈال لیں۔کیا خوش قسمتی کا دور آ یا ہوا ہے۔ اس کے چیف جسٹس بارہ بارہ گھنٹے روزہ کے ساتھ بیٹھ کر عوام کی فریادیں سنتے ہیں۔طاقت کے طوفانوں کو عدالت میں بلا کر ان کی یوں باز پرس کرتے ہیں جس کا اس ملک میں تصور نہیں کیا جاسکتا تھا۔ہسپتالوں کے چکر لگا لگا کر غریب مریضوں کے حالات بہتر کرنے کے لیے دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔آجکل تو انھوں نے اس ملک کے تگڑے ڈاکووں کے کیسز سننے کے لیے بھی تاریخ مقرر کر دی ہے جنھوں نے غریب عوام کی دولت کو قرضوں کی صورت میں لوٹا اور پھر ان قرضوں کو ظالم حکمرانوں سے مل کر معاف کروا لیا۔ اس ملک کے تمام طاقتور لٹیرے آجکل محترم چیف جسٹس ثاقب نثار کے درپے ہیں ۔ اللہ انہیں اپنی حفاظت میں رکھیں ، غریب عوام کی یہی دعائیں ہیں۔قارئین ، محترم ثاقب نثار کے دور کو بھی ایک خوبصورت اور سہانی شارٹ بریک ہی جانیں کیونکہ انھوں نے اپنا یادگار دور گزار کر جلد ہی چلے جانا ہے۔ اور پھر اس ملک کے جابر اور لٹیرے حکمرانوں نے ایک نیا ’’ جسٹس قیوم ‘‘ تلاش کرلینا ہے۔
کیونکہ بدقسمتی سے اس ملک میں ’’ قیوم ‘‘ تو آسانی سے اور بافراط مل جاتے ہیں لیکن بڑی مشکل سے ثاقب نثار پیدا ہوتے ہیں۔یہاں مجھے اپنے قومی شاعر محترم علامہ اقبال کا خوبصورت شعر یا د آ رہا ہے۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ باقتدار لوگوں کی کرپشن ہے۔یہاں باقتدار لوگ امیر سے امیر تر ہو جاتے ہیں اور غریب غریب تر ۔اب تو اس ملک کے لٹیروں نے ایک نیا وتیرہ اختیار کر لیا ہے، انھوں نے مع اپنے خاندانوں کے ترقی یافتہ مما لک کی شہریت حاصل کرنی شروع کر دی ہے۔ وہ مما لک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جو کسی غیر ملکی کو شہریت نہیں دیتے تو ان لٹیروں نے وہاں سے اپنے اور اپنے خاندانوں کے لیے ’’ اقامے ‘‘ حاصل کر رکھے ہیں ۔ اقامہ کیا ہوتا ہے! کسی غیر ملکی کو اپنے ملک میں کام کرنے کی اجازت ۔ پاکستان کے جن امراء نے ان ممالک کے اقامے لے رکھے ہیں یہ وہاں کوئی کام نہیں کرتے بلکہ اقامہ جاری کرنے والی کمپنیوں کو پلے سے رقم دیتے ہیں۔اقامہ کی وجہ سے یہ لوگ ان ملکوں میں اپنے بینک اکاونٹس کھول سکتے ہیں اور وہاں اپنی لوٹی ہوئی دولت محفوظ کرتے ہیں۔لیکن ان سب مایوس کن عوامل کے باوجود یوں لگتا ہے کہ اپنا ملک صحیح سمت میں رواں ہو چکا ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ سپریم کورٹ نے اس ملک کے احتساب کے ادارے نیب(NAB ) کو مردہ قراردے دیا تھا۔لیکن جسٹس ( ریٹائرڈ ) جاوید اقبال نے اس ادارے میں نئی روح پھونک دی ہے ۔ یہ ادارہ اب اس ملک کے کرپٹ لوگوں اور لٹیروں کے خلاف بلا تفریق رات دن کام کر رہا ہے۔ کرپٹ اور اس ملک کو لوٹنے والے بھاگے پھرتے ہیں۔جس طرف دیکھیں روشنیوں اور امیدوں کی کرنیں پھوٹ رہی ہیں۔لیکن ہمارے سیاستدانوں کو اقتدار سے دوری بہت کھل رہی ہے۔ ہر ایک کی نظریں اقتدار پر ہیں۔
انہیں ملک میں کام کرتے ادارے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ انصاف کا علم بلند کیے سپریم کورٹ، کرپٹ لوگوں کے گرد شکنجہ کسنے والی نیب تو انہیں ایک آنکھ نہیں بھا رہی۔میاں نواز شریف کے نا قابل فراموش تحفہ جناب خاقان عباسی نے تو اسمبلی کے آخری ایام میں بھی پیپلز پارٹی کو التجا کی تھی کہ آج بھی ایک نکتہ پر اکٹھے ہو جائیں اور نیب کا قلع قمع کر دیں۔ نیب کا ادارہ 1999 ء سے اس ملک میں کام کر رہا ہے لیکن جب سے اس نے سیاستدانوں کی بازپرس شروع کی ہے ، سیاستدان اب اس کے وجود کو ہی ختم کرنے کے درپے ہو گئے ہیں۔انھوں نے اسے اب کالا قانون کا نام دے دیا ہے۔اب ان کا ٹارگٹ اس ملک کی فوج، سپریم کورٹ اور نیب ہیں ۔ اللہ ان اداروں کو ان سے محفوظ رکھے۔چلیں آپ اس دو مہینے کی شارٹ بریک کوتو انجوائے کریں ۔صاف ستھرے وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ، دلیر ، متحرک اور غریبوں کا درد رکھنے والے چیف جسٹس، کسی سے نہ ڈرنے والے چیئرمین نیب اور جمہوریت پر لازوال یقین رکھنے والے آرمی چیف۔امید ہے آنے والے الیکشن بھی دیانت دار اور بے لوث لیڈر شپ قوم کے حوالے کریں گے۔اچھی امید باندھنے میں توکوئی حرج نہیں۔
قوموں کے دن پھر بھی جاتے ہیں ۔آپ اس بات کو تشکیک بھری نگاہوں سے کیوں دیکھ رہے ہیں۔


ای پیپر