بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں نہتے کشمیریوں کی شہادت
11 جون 2018

بھارتی فوج کے ظالم سپاہی رمضان کے مقدس مہینے میں بھی نہتے کشمیریوں کا خون بہانے سے باز نہیں آئے اورچھ کشمیریوں کی ایک ٹولی پر فائرنگ کھول دی۔ بھارتی فوج کی فائرنگ کی زد میں آنے والے کشمیریوں میں سے کوئی زندہ نہیں بچ سکا۔ مذکورہ کشمیری نہتے تھے۔
بھارتی میڈیا مذکورہ کشمیریوں کو در انداز دہشت گرد قرار دینے پر تْلا ہوا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق چھ کشمیری جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں کیرن سیکٹر پر بھارت کی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ بھارتی حکام نے اسے حالیہ مہینوں میں سب سے بڑی در اندازی قرار دیا جسے بھارتی فوج نے بزعم خود ناکام بنایا۔ کشمیر میڈیا کے مطابق نہتے کشمیری در انداز نہیں تھے۔
دو دن قبل کیرین سیکٹر میں مجاہدین نے گھات لگا کر ایک بھارتی فوجی کو مار دیا تھا جب کہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا تھا، جس کے بعد بھارتی فوج نے علاقے کی سرچنگ شروع کردی تھی۔ جنگلات سے ڈھکے اس علاقے میں گھات لگائے مجاہدین اور قابض بھارتی فوج کے درمیان آئے دن جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں، تاہم بھارتی فوجیوں نے نہتے کشمیریوں پر فائر کھول کر غصہ اتارا۔
گزشتہ ماہ مقبوضہ کشمیر میں چند گھنٹوں کے دوران 14 کشمیریوں کی شہادت کے بعد کٹھ پتلی انتظامیہ نے غم و غصہ کا شکار کشمیریوں کے احتجاج پر بھی پابندی عائد کردی ۔ بھارتی مظالم کے خلاف حریت قائدین کی جانب سے مارچ کے اعلان کے بعد سری نگر کے سات علاقوں میں نقل و حرکت پر پابندی عائد کی گئی ۔ بھارتی قابض فورسز کے ہاتھوں شہید کئے گئے پروفیسر ڈاکٹر محمد رفیع بٹ کی نماز جنازہ کے اجتماع میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔
حریت رہنما میر واعظ عمر فاروق نے بھارتی بربریت کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی فورسز نے ظلم و جبر کی تمام حدیں پار کرلی ہیں۔ کشمیریوں کی نسل کشی کے خلاف عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی خاموشی کب ٹوٹے گی۔
کشمیری حریت پسند رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشال ملک نے بھی ویڈیو پیغام میں کہا کہ بھارت سمیت دنیا کو جلد یا بدیر کشمیریوں کی آواز سننا پڑے گی۔ بھارتی فوج دنیا کی سب سے بزدل فوج ہے جو نہتی قوم سے ڈرتی ہے۔ اسلحے کا بے دریغ استعمال کرنے کے باوجود اس تحریک کو دبایا نہیں جاسکا۔
مئی میں مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید 10کشمیریوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپردخاک کر دیا گیا۔ شہداء کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔شہداء کے جسد خاکی پاکستانی پرچم میں لپیٹے گئے تھے۔شہداء کو مجاہدین کی جانب سے بھی سلامی پیش کی گئی۔ شہید برہان الدین وانی کے ساتھی صدام حسین پڈر کو ان کے آبائی علاقے ہفت شیرمال میں سپرد خاک کیا گیا۔ان کی نماز جنازہ کئی بار ادا کی گئی اور مجاہدین نے نماز جنازہ میں شریک ہو کر ہوائی فائرنگ کر کے سلامی پیش کی ۔ بھارتی فورسز کے مطابق ایک عدم شناخت نوجوان کی تدفین گانٹا مولہ میں شہداء کے قبرستان میں دفن کیا گیا ہے۔ مذکورہ جنگجو کی لاش کو رات کے دس بجے بارہمولہ کے مظافاتی دیہات گانٹہ مولہ میں غیر ملکی جنگجوؤں کیلئے بنائے گے قبرستان پہنچایا گیا۔جس کے بعد مقامی لوگوں اور پولیس تھانہ سے وابستہ اہلکاروں نے مذکورہ جنگجو کو رات کی تاریکی کے دوران پہلے سے ہی تیار کردہ قبر میں سپرد خاک کیا۔
بھارتی فورسز کی فائرنگ سے زخمی ہونے والے 132کشمیری مختلف ہسپتال میں زیر علاج ہیں جبکہ مزید40افراد فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں زخمی ہوئے ہیں۔ صدر اسپتال سرینگر میں دوسرے روز بھی زخمیوں کے آنے کا سلسلہ جاری رہا جن میں پیشتر نوجوان پیلٹ لگنے کی وجہ سے زخمی ہوئے ہیں۔ ایک عینی شاہد نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے جھڑپ کے اختتام پر منی بس سٹینڈ ناگبل شوپیاں میں ریلی کے انعقاد کیلئے جمع ہورہے تولوگوں کو دیکھتے ہوئے فورسز اہلکاروں نے فائرنگ شروع کردی جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ہسپتال کے ذرائع نے بتایا اتوار کو 40 زخمی نوجوانوں کو صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا ہے۔ پیلٹ لگنے سے زخمی ہونے والے بیشتر نوجوانوں کی دائیں آنکھ میں پیلٹ لگے ہیں۔مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے قتل عام پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس کو حکومت ہندوستان اور ریاستی گماشتوں کی کھلی بربریت اور کشمیری عوام کیخلاف ایک خونریز جنگ چھڑنے کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خون ریزی کے کسی بھی طرح چشم پوشی نہیں کی جاسکتی اور ظلم و تشدد کیخلاف کشمیری عوام کا جو بھی شدید ردعمل سامنے آئیگا اس کے نتائج کی ذمہ داری حکومت ہندوستان اور کشمیر میں اس کے ریاستی اتحادیوں پر عائد ہوگی۔
دوسری طرف مزاحمتی خیمے کا احتجاجی پروگرام ناکام بنانے کیلئے بھارتی فورسز نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا اور سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق سمیت چوٹی کی قیادت گھروں میں نظر بند کر دی گئی جبکہ یاسین ملک اور ظفر اکبر بٹ سمیت کئی رہنماؤں کو ساتھیوں سمیت گرفتار کر کے تھانوں میں قید کر دیا گیا۔ وادی میں غیر اعلانیہ کرفیو کا سماں رہا۔فورسز نے خاردار تاریں لگا کر اور رکاوٹیں کھڑی کر کے اہم شاہرات کو بند کیا گیا۔ تمام تر سختیوں کے باوجود لوگوں کی بڑی تعداد نے باہر نکل کر احتجاج کیا اور مزاحمتی قیادت کی اپیل پر سول سیکرٹریٹ پہنچنے کی کوشش کی ۔اس دوران بھارتی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔اس دوران وادی میں مکمل ہڑتال کے باعث زندگی تھم کر رہ گئی۔ کپواڑہ میں مشتعل نوجوانوں نے جلوس نکلا اور اس دوران وہاں فوری طور دکانیں بند ہوئیں۔ علاقہ میں لوگوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ فورسز نے احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ٹائر گیس شیلنگ کی ۔ پائین شہر میں ایک مرتبہ پھر کرفیو جیسی بندشیں عائد کی گئی تھی۔ہڑتال کے بیچ وادی کے کئی علاقوں میں احتجاجی جلوس بھی برآمد ہوئے جبکہ سنگبازی کے واقعات بھی پیش آئے۔ سرینگر میں دن بھر سنگبازی و جوابی سنگبازی کا سلسلہ جاری رہا۔ مظاہرین میں خواتین بھی شامل تھیں۔ طرفین میں زبردست جھڑپیں بھی ہوئیں جس کے دوران فورسز اور پولیس نے پیلٹ بندوق اور ٹیر گیس شلنگ کا استعمال کیا۔


ای پیپر