عمران خان: پیراشوٹرز کے نرغے میں
11 جون 2018 2018-06-11

خبروں کے مطابق تحریک انصاف کی ٹکٹوں کی تقسیم کیخلاف سابق وفاقی وزیر داخلہ میاں زاہد سرفراز کے صاحبزادے میاں محمد علی سرفراز، بریگیڈئر (ر) ممتاز اقبال کاہلوں، سابق وفاقی وزیر راجہ نادر پرویز، راجہ اسد نادر، رانا مبشر علی خاں نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا’ تحریک انصاف کے اندر میر جعفر اور میر صادق نکالیں گے، پی ٹی آئی کے ٹکٹوں کی غیر منصفانہ تقسیم کا ردعمل پورے پاکستان میں ہوا ، ٹی وی پر قسمت کے فیصلے اس طرح سنے جیسے میٹرک کے نتائج کا اعلان ہو، حلف کے باوجود ٹکٹوں کے فیصلے ایک ہفتہ پہلے کیسے سامنے آئے؟ ہمارے حلقہ میں افسوس ایسے شخص کو ٹکٹ دیا جس کا حلقہ سے تعلق نہیں، تحریک انصاف میں اس لئے شامل ہوئے کہ عمران خان کا پیغام عام کرسکیں، کہا گیا تبدیلی آئے گی، آج لوگ دو نمبر تبدیلی پر مبارکباد دے رہے ہیں‘‘۔ناراض رہنماؤں نے کہا’’ پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹر شپ ہے جمہوریت نہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ پی ٹی آئی میں میرٹ کی بالادستی کیلئے پارٹی میں شامل ہوئے تھے۔ ملک بھر میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں کے ٹکٹوں کی تقسیم کے خلاف جاری مظاہروں اور سخت ردعمل کے بعد چےئرمین عمران خان نے13 جون کو پارلیمانی ریویو بورڈ کا اجلاس طلب کرلیا جو ٹکٹوں سے محروم رہنے والوں کی طرف سے بھجوائی گئی
شکایات کی سماعت کرے گا۔ ریویو بورڈ میں متاثرہ رہنماؤں اور کارکنوں کی شکایات پر انہیں مطمئن کیا جائے گا۔ ادھر اتوار کو چھٹی کے روز بھی خیبر پی کے پنجاب کے مختلف علاقوں سے ٹکٹ حاصل کرنے سے محروم رہنے والے بنی گالہ کے باہر احتجاج کرتے رہے وہ ٹکٹ لینے والوں کے خلاف زیادہ تر یہ نعرہ بلند کرنے میں مصروف رہے ’’ چےئرمین کا ٹکٹ دینے میں میرٹ کہاں گیا ، پیرا شوٹر نامنظور۔کارکنوں نے بنی گالہ کے سامنے دھرنے دئیے۔
گرگٹ کے رنگوں کی طرح ہمارے بعض سیاستدانوں کے فیصلے ، اعلانات اور ترجیحات بدلتے رہتے ہیں۔ بد قسمتی سے ہمارے سیاستدان آج بھی نفسیاتی اور ذہنی طور پر برطانوی عہد کے سیاسی دور میں زندگی بسر کر رہے ہیں اور اُس دور کے غیر ملکی حکمرانوں کی طرح 21 ویں صدی میں بھی اُن کا نقطہ نظر یہ ہے کہ ’’عوام کا حافظہ کمزور ہوتا ہے‘‘ جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔وطن عزیز کے عوام کو برطانوی استعمار سے جغرافیائی اور جسمانی آزای حاصل کئے 7 عشرے بیت چکے ہیں۔ ان 7 عشروں میں پلوں کے نیچے سے جہاں بہت سا پانی بہہ چکا ہے، وہاں بہت سے رجعت پسندانہ سیاسی نظریات و تصورات بھی غرق ہو چکے ہیں۔دنیا کہاں سے کہاں پہنچ چکی لیکن ہمارے ہاں سیاست پر تسلط اور اجارہ رکھنے والی سیاسی جماعتیں اور قیادتیں آج بھی قومی و صوبائی حلقوں میں خاندانی اور موروثی سیاست کو جمہوریت کے نام پر رائج کئے ہوئے ہیں۔ یہ ہر انتخاب کے موقع پر اوپر کے اشارے کے منتظر ہوتے ہیں اور اشارا ملتے ہی سیاسی جماعت بدل لیتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ قدیمی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے والے سیاست دانوں نے ملک میں سیاست کو بدنام کیا ہے۔ ان کی وجہ سے عام باشعور آدمی بھی بامر مجبوری سیاست کو ڈرٹی گیم قرار دے رہا ہے ۔ عمران خان
نے نظریاتی سیاسی کارکنوں کو بری طرح مایوس کیا ہے۔ وہ پوچھ رہے ہیں کہ کیا اسی تبدیلی کے خواب وہ عوام کو دکھاتے رہے ہیں۔ خواب انتہائی خوبصورت تھے لیکن تعبیر ان کے نزدیک بد صورت ہے۔ عمران خان جنہیں الیکٹیبلز قرار دے رہے ہیں ، عوام ان کو لوٹے کہہ کرپکارتی ہے۔ مجھے کہنے دیں کہ میرا وطن وہ منفرد وطن ہے جہاں کسی سیاسی جماعت کے رہبر ، سربراہ اور قائد بارے یہ پیشین گوئی نہیں کی جا سکتی کہ اُس نے گزرے ہوئے کل کے کسی پہر جو بیان دیا تھا ، وہ اُس پر آج یا آنیوالے کل کے کس پہر منحرف ہو جائے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام سیاستدانوں کے کسی بھی اعلان اور بیان پر یقین نہیں رکھتے۔سیاستدان بھی ہر پریس کانفرنس ، میٹ دی پریس پروگرام ، پریس ریلیز اور عوامی جلسہ گاہ میں اپنے خطاب کے دوران یہ بات دہرانا نہیں بھولتے کہ’’ سیاست میں کوئی بات حرفِ آخر نہیں ہوتی‘‘ ۔بے اُصول اور مفاد پرست سیاستدانوں کے ہاں سیاسی تغیرات کا بھی کچھ پتا نہیں ہوتا کہ کب کس رنگ میں جلوہ گر ہوں۔ اس رویے کو عوام یو ٹرن کہتے ہیں۔ اس قسم کے فیصلوں کی حقیقی جمہوری اور اُصولی سیاست میں گنجائش نہیں ہوتی۔یہ ایک المیہ ہے کہ 21 ویں صدی کے دوسرے عشرے کے آخری برسوں میں بھی ہمارے ہاں بڑی جماعتوں کے قائدین 18 ویں
اور 19 ویں صدی کے فیوڈل لارڈ ازم کو اپنی اپنی جماعتوں میں رائج کئے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں حقیقی عوامی جمہوریت کے فروغ کی راہ میں فیوڈل سوچ اپروچ سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ یہاں چھوٹی بڑی تمام معروف سیاسی جماعتوں پر مخصوص خاندانوں اور بارسوخ افراد کا قبضہ ہے ۔ ان مخصوص خاندانوں کا کوئی بھی فرد جس بھی سیاسی جماعت کا قائد ، چیئر مین ، کو چیئر مین اور سربراہ ہے ، وہ اُس جماعت کو اپنی موروثی جاگیر سمجھتا ہے۔
جب کسی مملکت اور معاشرے میں کوئی ایک مخصوص سیاسی جماعت کسی ایک مخصوص خاندان کے کسی فرد کی ذاتی جاگیر بن جائے تو جماعت کے سربراہ/شریک سربراہ کی حیثیت سے وہ اُس جماعت کے ہر کارکن کو بھلے سے وہ رُکن پارلیمنٹ ہی کیوں نہ ہو ، اپنا مزارع اور ہاری سمجھتا ہے ۔ کسی ہاری اور مزارع میں کب اتنی سکت اور کہاں اتنی جرأت کہ وہ جاگیر دار کے ہونٹوں سے صادر ہونیوالے احکامات یا آراء سے اختلاف کر سکے۔ جاگیر دارانہ سوچ رکھنے والے سیاسی قائدین اپنی جماعت کے کسی بھی رکن یا کارکن کو اس امر کی اجازت دینے کو قطعاً تیار نہیں ہوتے کہ وہ اپنا اختلافی نوٹ جماعت کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی ریکارڈ پر لا سکیں۔ اصولوں کی سیاست کی باتیں کرنے والے سیاستدانوں کو زیب نہیں دیتا کہ وہ نظریاتی کارکنوں کے بجائے عادی لوٹوں کو پارٹی امیدار نامزد کرے۔ عمران خان کو پیراشوٹرز کے نرغے سے نکلنا ہوگا۔
سیاسی جماعتیں اور سیاسی رہنما در حقیقت ایک جمہوری معاشرے میں رجحان سازی اور کردار سازی کے فرائض ادا کرتے ہیں۔


ای پیپر